کارخیر (دیامیر بھا ڈیم اور مہمند ڈیم) تحریر: ریاض حسین (چیچہ وطنی

(RIAZ HUSSAIN, Chichawatni)
ذرا سوچیں! سیاستدان ملک کے ساتھ کھیل نہیں رہے بلکہ کھلواڑ کر رہے۔ لہذا اپنا اپنا عطیہ ضرور جمع کروائیں اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر لوٹی ہوئی رقم کا بھی پریشر بلڈ اپ کریں تاکہ ہمارے ڈیمز بھی بن جائیں، روپیہ بھی واپس ہو جائے۔ کرپٹ لوگوں کو سزائیں بھی مل جائیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق فوجی جوان ایک دن کی تنخواہ، فوجی آفیسر دو دن کی تنخواہ اور بعض فوجی آفیسرز نے کہا ہے ہم ایک ماہ کی پوری تنخواہ قوم کے نام آنے والی نسل کے لیے دیتے ہیں۔ یہ وہ فوج ہے جو بارڈر پر آزادی جیسی نعمت کے درخت کو اپنا خون دے کر پروان چڑھاتی اور اس کا تحفظ کرتی ہے تو پھر وہ پیچھے کیسے رہ سکتی ہے۔

دیا میر بھاشا ڈیمر اور مہمند ڈیم

پانی کی اہمیت سے کوئی بھی باشعور غافل نہیں ہے اگر تو وہ کبوتر کی طرح اپنی آنکھیں موندے بیٹھا ہے۔ پانی کی قلت دن بدن زور پکڑتی جا رہی ہے۔ انڈیا نے اپنے پانی کے ذخائر بڑھانے کے لیے ڈیم در ڈیم تعمیر کیے اور کئے جا رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے پاکستان میں پانی کی کمی بڑی شدت سے محسوس ہو گی۔ بلکہ سائنسدانوں اور دیگر اداروں نے بھی پاکستان کے لیے ہائی الرٹ جار ی کر دیا ہے کہ پاکستان 2025میں پانی کی بوند بوند کو ترسے گا۔

پاکستان میں جتنے بھی ڈیمز تعمیر ہو ئے وہ فوجی آمر،ڈکٹیٹر کے دورحکومت میں ہوئے۔ یوں نے ہماری سول سیاسی قیادت بڑی بے شرمی سے فوج کے خلاف خود بھی اور اپنے مفاد پرستوں جیالوں کو بھی فوج کے خلاف بولنے کی تربیت کرتی ہے۔ لیکن قابل غور امر یہ ہے کہ اس وقت کے فوجی ڈکٹیٹر ایوب خاں کو اپنے ملک سے کس قدر محبت تھی اور پانی کی اہمیت کا ادراک تھا کہ اس نے اپنے دور حکومت میں ڈیمز تعمیرکیے۔

سیاسی جمہوری حکومتوں نے پانی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے لیا اقدامات اٹھائے یہ بات کسی سے بھی ڈھکی چھپی نہیں۔ ہاں یہ بات بھی ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ کس سیاستدان نے اپنی مالی ہوس کو پورا کرنے کے لیے ملکی خزانوں کو کس قدر لوٹا اور ان کی جائیدادیں کہاں سے کہاں پہنچ گئیں بلکہ کچھ کی تواولاد وں نے اتنا لوٹ لیا کہ وہ اب پاکستان کو اپنا ملک اور شائد اپنے باپ کو باپ ماننے سے بھی انکاری نظر آرہی ہے کیونکہ اگر انکاری نہ ہوتیں تو وہ اپنے سیاسی اور حقیقی باپ کو ووٹ کاسٹ کرنے ضرور پاکستان آتے۔

2018ء پانی کی کمی کی شدت کو شد ت کے ساتھ سوشل میڈیا پر اٹھایا گیا، اس ایشو کو اس قدر اٹھایا گیا کہ وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان جناب ثاقب نثار صاحب کو پانی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے نوٹس لینا پڑا۔ بات چلی تھی کالا باغ ڈیم کی وہ پھرکسی مصلحت کا شکار ہو کر رہ گیا البتہ اس کی جگہ دو نئے غیر متنازعہ ڈیمز (دیامیر بھاشا اور مہمنڈ ڈیمز) بنانے کا اعلان کیا گیا۔

پاکستان کے شہر شائد جہلم سے ایک ریٹائر فوجی جوان نے ان ڈیمز کی تعمیر کے لیے پانچ سو روپے چیف جسٹس ثاقب نثار کے نام بھیج کر تعمیر کرنے کا آغاز کیا۔ یہ بات بھی صحیح ہے کہ وہ پیسے شکریہ کے ساتھ اسے واپس کر دیئے لیکن ڈیمز کی تعمیر میں پہلی اینٹ اس فوجی جوان نے رکھی۔

ڈیمز کو تعمیر کرنے کی بات روز بروز زور پکڑتی گئی اس پر مختلف میٹنگز ہوئیں، وسائل کا احاطہ کیا گیا۔ ان کی تعمیر کے لیے ڈونیش/عطیہ کا بھی اعلان کیا گیا۔ یہ سب کچھ ٹھیک ہے۔ لیکن میں ڈونیشن اور عطیہ پر تنقید پہلو تحریر کرنے پر مجبور ہو ں۔ وہ اس طرح جب ڈکٹیٹر،آمر پرویز مشرف کا دور حکومت اختتام کو پہنچا تو اس وقت بین الاقوامی قرضوں کی شرح کیا تھی اور پاکستانی روپیہ ڈالر کے مقابلے میں کس سطح پر تھا۔

سول سیاسی، جمہوریہ دور آیا، گردشی قرضے ختم کرنے کے نام پر قوم سے بے بہا روپیہ بطور بھتہ وصول کیا گیا، لیکن گردشی قرضے پانچ سو ارب سے بڑھ کر تقریباً ایک ہزار ارب روپے ہو گیا۔ یہ سب کچھ کیسے ہوا اور کیونکر ہوا۔ گردشی قرضے کے نام پر وصول کیا جائے والا بھتہ واپس لایا جائے اور سے ڈیمز کی تعمیر میں استعمال کیا جائے۔

علاوہ ازیں ملک بچاؤ قرض اتارو اس کا حساب کون دے گا؟ مشروف دور کے بعد سے جو قرضے لیے گئے وہ ہمارے حکمرانوں کی جیب میں چلے گئے۔ اگر ان تمام قرضوں کو جمع کیا جائے اور جو کرپٹ سیاستدانوں کی جیب میں چلا گیا اور نیچے عہدیداران تک جا پہنچا ہے اس کو جمع کرو تو تقریباً وہ قرضہ برابر ہو جائے گا۔ اس کرپشن کو واپس ملکی خزانے میں جمع کرتے ہوئے ڈیمز پر لگایا جائے۔ اگر کہیں نہیں جی یہ پراسیس کافی لمبا اور مشکل ہے تو پھر ہمارے ادارے ایسا کرنا ہی نہیں چاہتے یا پھر ان اداروں کو جلدی انصاف اور ملک سے انس اور محبت نہیں ہے۔

اگر عدالت کے کیئے گئے فیصلے کو سابقہ کرپٹ خاندان کے لیے چند دنوں میں کمیٹی بٹھا کر فیصلے تبدیل کرتے ہوئے عدالت کے فیصلے کو سبوتاز کرتے ہوئے اس ایک خاندان کے لئے تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ تو پھر ملک کے لیے جلد بنیادوں پر ایسا کیوں ناممکن نظر آتا ہے۔ کرپٹ لوگوں کی جو کرپشن سامنے آئی ہے اس کی انٹرنیٹ سرچ کریں تو پورا بائیو ڈیٹا مل جائے۔ اس کے بعد اگر مزید گنجائش رہ جاتی ڈیمز کی تعمیر وترقی کے لیے تو پھر قوم سے ڈونیشن عطیہ، کار خیر کی بات کریں۔ پاکستانی قوم ایک زندہ دل قوم ہے۔ جب ان کو پتہ چل گیا کہ ہمارا لوٹا ہوا پیسہ واپس قومی خزانے میں آچکا ہے تو پھر یہی قوم دل کھول کر اور اداروں پر اعتماد کرتے ہوئے بے دریغ فنڈ ز دے گی۔

جہاں تک ڈیمز کی تعمیر کے لیے ڈونیش دینے کی بات ہے تو اس کے لیے قوم پھر بھی حاضر ہے۔ اس میں سب سے پہلے تحریری طور پر اس فوجی کے بعد چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب ہیں جنہوں نے دس لاکھ روپے عطیہ کیا۔ پھر اسی طرح کچھ اور سرمایہ دار یا مخیر حضرات بھی ہیں جنہوں نے اس نیک مقصد اور آنے والی نسل کے لیے پانی کی قلت کو دیکھتے ہوئے اپنا اپنا رول ادا کیا۔

قابل غور امر یہ ہے کہ اس میں فوج کا کیا کردار رہا ہے۔ فوجی دور میں ہی ڈیمز تعمیر کئے گئے، فوج نے ہی اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ (یہ مقصد نہیں کہ فوج پاکستان کا حصہ نہیں، معذرت کے ساتھ بیانیہ یہ ہے کہ فوج کس قدر اپنے ملک سے محبت رکھتی ہے)۔فوجی جوان اس ملک کے مستقبل کے لیے اپنا آج قربان کر دیتا ہے۔ خون دے کر اس کی حفاظت کرتا ہے۔ فوجی کے پاس دو ہی راستے ہیں شہادت یا غازی اس کی زندگی میں تیسرا آپشن موجود نہیں تو پھر فوج کیسے پیچھے رہ سکتی ہے۔

دیامیر بھاشا، مہمند ڈیمز کی تعمیر کی کارخیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق فوجی جوان ایک دن کی تنخواہ، فوجی آفیسر دو دن کی تنخواہ اور بعض فوجی آفیسرز نے کہا ہے ہم ایک ماہ کی پوری تنخواہ قوم کے نام آنے والی نسل کے لیے دیتے ہیں۔ یہ وہ فوج ہے جو بارڈر پر آزادی جیسی نعمت کے درخت کو اپنا خون دے کر پروان چڑھاتی اور اس کا تحفظ کرتی ہے تو پھر وہ پیچھے کیسے رہ سکتی ہے۔ اس کے برعکس کوئی بتا سکتا ہے کہ سیاستدان نے پانی کے اس ایشو پر کتنی خطیر رقم جمع کروائی ہے۔ یا صرف ملک کو دیوالیہ کرنے کا پلان ہی لے کر آتے ہیں۔ ایسا نہ ہو غریب کا کتا،کتا اور امیر کا کتا ٹومی۔

ذرا سوچیں! سیاستدان ملک کے ساتھ کھیل نہیں رہے بلکہ کھلواڑ کر رہے۔ لہذا اپنا اپنا عطیہ ضرور جمع کروائیں اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر لوٹی ہوئی رقم کا بھی پریشر بلڈ اپ کریں تاکہ ہمارے ڈیمز بھی بن جائیں، روپیہ بھی واپس ہو جائے۔ کرپٹ لوگوں کو سزائیں بھی مل جائیں اس کے ساتھ ہی کچھ نہ کچھ قرض بھی اتر جائے تاکہ ہماری آنے والی نسل پانی کی قلت نہ محسوس کرے اور قرض سے بھی نجات ملے جائے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا گو کہ ہم سب کو اپنے ملک سے محبت کی توفیق عطا فرمائے اور ملکی ایشوز پر ہم سب کو متحد کرے اور آنے والی نسلوں کے لیے کچھ بہتر منصوبہ بندی کرنے کی بھی توفیق عطا فرما ئے آمین۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: RIAZ HUSSAIN

Read More Articles by RIAZ HUSSAIN: 118 Articles with 66349 views »
Controller: Joint Forces Public School- Chichawatni. .. View More
20 Jul, 2018 Views: 434

Comments

آپ کی رائے