پاکستان کو ووٹ دیں

(Tahir Ahmad Farooqi, Muzaffarabad ajk)
آج کی دنیا چاند ستاروں سیاروں سے بہت آگے جاچکی ہے اور جیو اور جینے دو کا اصول اپنی بالادستی منوانے کی جانب گامزن ہے جسکا منبع جمہوریت ہے سعودی عرب سرکار نے بھی وہ سب آزادیاں اپنے عوام کو دے دی ہیں جنکا وہاں کے تصور کے حوالے سے دنیا بھر خصوصاً ایشیا ء اور ہمارے ملک کے عوام سوچ نہیں سکتے تھے

آج کی دنیا چاند ستاروں سیاروں سے بہت آگے جاچکی ہے اور جیو اور جینے دو کا اصول اپنی بالادستی منوانے کی جانب گامزن ہے جسکا منبع جمہوریت ہے سعودی عرب سرکار نے بھی وہ سب آزادیاں اپنے عوام کو دے دی ہیں جنکا وہاں کے تصور کے حوالے سے دنیا بھر خصوصاً ایشیا ء اور ہمارے ملک کے عوام سوچ نہیں سکتے تھے تو پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کرنے والوں کی حمایت میں چین ،سعودی عرب ،ترکی بھی تھے یعنی اب ساری دنیا خصوصاً مسلم ممالک کے عوام کو یہ سمجھ لینا چاہیے ہر ملک اپنے قومی مفاد کو دیکھتا ہے ہمارے ملک پاکستان کے معصوم عوام کو انکی زندگیوں میں خوشی کی لانے کے بجائے اسلام قومی مفاد صوبہ علاقہ، زبان ،مسلک ،برادری جسے نعروں میں الجھاء کر انکی سوچ فکر اور بہتری زندگی کے عوامل پر بیڑیاں ھتکیڑیاں لگائے رکھی گئیں اور نتیجہ یہ ہے کہ آزادی سے پہلے انگریز کے وفادار سیاستدان مولانا ،پیر، وڈیرے ،سردار ہوں یا ملازمت کی تعریف میں آنے والے ہوں یہ اور انکی آل اولاد پہلے کی طرح پھلتے پھولتے آرہے ہیں اختیار پر قابض ہیں مگر جسطرح سعودی عرب میں دیکھتے دیکھتے حکمران اپنے عوام کو وہ تمام ترآزادیاں دینے پر مجبور ہوگے جو وہ خود بھی سوچ نہیں سکتے تھے یہ مقام بھی آئے گا۔ تو یہاں پاکستان میں بھی رائے عامہ کے زرائع اسباب کے راوبط میڈیا بشمول سوشل میڈیا میں اظہار سے بہتری کی راہیں ہموار ہوئیں ہیں جسطرح قصور کی زینب کو انصاف دلانے میں سارا نظام اختیار وسائل فیل ہوگئے تو کافر کی ڈی این اے ٹیکنالوجی نے انصاف فراہم کیا اسطرح سوشل میڈیا بغیر جنگ وجدل کے یہاں کے عوام کے لیے اپنے جذبات کے اظہار آگاہی اور راوبط کا ذریعہ بن گیا ہے ڈائیلاگ (مکالمہ)سب سے بڑی قوت ہے جس کے ذریعے قوموں کے مسائل اُن کی اپنی فکر وتوجہ سے حل ہوتے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ قوم خصوصاً نوجوان میڈیا اور سوشل میڈیا کے استعمال اپنے رائے بنانے میں خیال رکھیں جس طرح خلق خدا کے حقوق سلب کرنیوالے دین ملک قومی مفاد مسلک زبان علاقہ برادری کے تعصبات کو بطور خنجر پیٹھ میں چھرا گھونپتے ہوئے استعمال کرتے رہے ہیں اس طرح سوشل میڈیا پر بھی اپنی مہم چلاتے ہیں اب ہر بات اور چیز کو سننے پڑھنے دیکھنے کے بعد فوری ردعمل اور رائے بنانے کے بجائے اس کی متبادل رائے موقف اور چیزوں سے موازانہ لازمی کریں ٹھیک ٹھنڈے دل ودماغ کیساتھ صرف اور صرف دلیل اور منطق حقائق کی بنیاد پر اپنی بات کا اظہار کریں ،کیوں کہ مکالمہ ہی بہترین ذریعہ نجات ہے جو رب العزت نے انبیاء کرام کے ساتھ کیا اور انبیا ء نے اپنی قوموں کے ساتھ کیا۔مکالمے کے ساتھ اپنی رائے ترتیب دیتے ہوئے اپنے ووٹ کا اختیار استعمال کریں یہ وہ اختیار ہے جو ملک قوم کی تقدیر بدلتا ہے اس کیلئے مذہب قومی مفاد مسلک علاقہ برادری زبان کے نعروں پر بیوقوف نہ بنیں بلکہ اپنے اندر سے اپنے جیسے اپنوں کو ووٹ دیکر کامیاب بنائیں یہ سچا اور حقیقی پر مبنی واقعہ ہے ایک ملک کے عوام دہلی گئے اور اچھا حکمران ڈھونڈتے ہوئے ایک خودساختہ نیک پرہیزگار کو لے آئے جس نے حکمران بنتے ہی ایک جنازہ رکواکر اس کی ناک خنجر سے کاٹ دی کہا کہ اس کی دہشت پھیل جائے اور کوئی اپنی رائے یا سامنے آکر سوال کی جرات نہ کرسکے جس کا نام چراغ گل تھا ملک کا مفاد استحکام مضبوطی قوم سے ہے اور قوم کی ترقی خوشحالی حقیقتاً ملک کی مضبوطی ہے ۔اکابرین علم کا فرمان ہے رب دنیا میں ہر انسان کا رزق بھجتا ہے مگر ظالم اس رزق پر قبضہ کرتے ہوئے حقداروں کو ان کی حق سے محروم کرتے ہیں ،یہی حال پاکستان کا ہے رب العزت نے سمندر ،دریا، پہاڑ،ندی ،نالے ،میدان ،صحرا،ہر طرح کے موسم اور وسائل واسباب دھرتی کی گود میں بھرے ہوئے ہیں مگر استحصال کرنیوالے ملت کو ان کے ثمرات سے محروم رکھتے ہیں جس کا ایک ہی حل ہے بڑے نام القابات اور محل کوٹھی پلازے قیمتی گاڑیوں شان وشوکت دکھا کر متاثرکرنے والے نااہل لوگوں کے بجائے امیر ہو یا غریب اپنے لیے سماج کے لیے اس کی زبانی نہیں بلکہ عملی کردار جرات کو معیار بنائیں بطور سماج کے کارآمد فرد یا آپ کے درمیان رہتا ہے آپ کے ساتھ آپ جیسا کھاتا ہے آپ جیسا پہنتا ہے آپ جیسی زندگی بسر کرتا ہے اور خود کو آپ کی طرح ایک انسان رہنے میں فخر محسوس کرتا ہے جس کا بہترین نمونہ ریاست مدنیہ کے بانیان اور رہنماؤں کا طرز زندگی اور نظام ہے ووٹ پاکستان کو دیں پاکستانی کو دیں اور جسکا سب کچھ پاکستان میں ہے جس کی صبح شام خوشی غمی اپنے عوام کے ساتھ عوام کے درمیان ہے اسے اپنا ووٹ دیں اور چراغ بیگ کردار وں سے نجات حاصل کریں گوکہ یہ ایک طویل سفر ہے مگر اس کا آغاز ہوچکا ہے جسے منزل سے ہمکنار کرنے کے لیے خودکو مضبوط بنائیں اور باجرات سماج کی تعمیر کی جانب قدم بڑھاتے چلے جائیں ۔ووٹ ایک امانت ہے اور امانت ایمانتدار کے حوالے کرنا اولین فرض ہے جو آپ کے سماج میں سماجی کام کاج یعنی عملی خدمت وکردار نبھانے والے کا حق ہے اور آپ کی مضبوطی ہے خود کو مضبوط بنائیں تو پاکستان مضبوط ہوگا ،حکمران سیاستدان جج جنرل بیوروکریٹ مولانا دانشور صحافی بیوروکریٹ سمیت کوئی مقدس نہیں ہے مقدس ملت کا ہر فرد اور ملک ہے جس کا وقار عام آدمی کی زندگی بہتری سے منسلک ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tahir Ahmad Farooqi

Read More Articles by Tahir Ahmad Farooqi: 205 Articles with 70659 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
20 Jul, 2018 Views: 281

Comments

آپ کی رائے