شریفین کا رقیب رسم الخط

(Tahir Ahmad Farooqi, Muzaffarabad ajk)
اقوال زریں اورضرب المثل زہنوں کی اختراع نہیں بلکہ انسانی زندگی بدلتے زمانے کے تجربات ،مشاہدات کا نچوڑ ہوتے ہیں۔ جیسا بوئے گے ویسا کا ٹوگے ۔نقل کے لیے عقل کی ضرورت ہے۔ یہ جبلت کے ایسے رنگ ہیں جن کا دھیان وہم گمان میں نہیں ہوتا ہے۔

اقوال زریں اورضرب المثل زہنوں کی اختراع نہیں بلکہ انسانی زندگی بدلتے زمانے کے تجربات ،مشاہدات کا نچوڑ ہوتے ہیں۔ جیسا بوئے گے ویسا کا ٹوگے ۔نقل کے لیے عقل کی ضرورت ہے۔ یہ جبلت کے ایسے رنگ ہیں جن کا دھیان وہم گمان میں نہیں ہوتا ہے۔ مگر جب سامنا کرنا پڑجائے تو اوسان خطا ء جاتے ہیں۔ ایک غلطی کس طرح آسمان کی بلندیوں سے زمین کی خاک میں پٹک کر رکھ دیتی ہے، اسکا اندازہ پانامہ تحقیق کے نتائج سے دنیا کے کتنے ہی ممالک میں ہلچل سے ہوتا ہے۔ جسکا زوربرصغیر پاک وہند میں زبان زدعام ہے، اسکے ہر پہلو پر بحث مباحثے جاری ہیں مگر بھارت کے ایک نیوز چینل کا اس تہمید کے ساتھ منفر دتبصرہ تھا ،

کرپشن کے سیکنڈلز کا ہنگامہ بھارت میں برپا ہے اور سزائیں پاکستان میں ہورہی ہیں جسکا عنوان نقل کے لیے عقل کی ضرورت ہوتی ہے۔ ضرب المثل کو بناتے ہوئے بتایا گیا ہے احتساب عدالت کے شریفین کو سزاکے فیصلے کی بنیاد ایک رسم الخط Calibri, fontبناہے شریفین کی طرف سے عدالت میں پیش کردہ اپنے حق میں ڈاکو منٹ Calibri, fontمیں ٹائپ /کیمپوز کیا گیا تھا مگر یہ فاونڈ بطور کمرشل سال 2006میں ریلیز نہیں ہوا تھا بلکہ 2007کے اوائل میں نمودار ہوا تھا۔

مگر شریفین کی طرف سے پیش کردہ ڈاکو منٹ 2006کی تاریخ میں ظاہر کیا گیا تھا اس طرح گھتی سلجھتی گی اور لندن لگژری ایپارٹمنٹس ،سعودی ملز فروخت کرکے خریدنے کا دعویٰ بھی حقیقت کا آئینہ دار بنانے کا علاج نہیں بن سکا۔

نہ یہ ثابت ہو سکا خرید تے وقت نوازشریف وزیرا عظم نہیں تھے بلکہ انکی خرید کا عرصہ تحقیقی شواہد کے مطابق 1990میں ثابت ہوا جب نوازشریف وزارت عظمیٰ پر فائز تھے۔

یہ ساری گتھی سلجھانے کا پہلا سراء Calibri, font تھا جسکا استعمال اسکے جلوہ گر ہونے سے پہلے کے سال تاریخوں میں ڈاکو منٹ کی تیاری ظاہر کرنا نقل کے لیے بھی عقل کی ضرورت ہوتی ہے ۔

ضرب المثل کو روشن تابندہ ثابت کرگیا مجھے بھی اتنی باریکی والے کرشمے کا ہر گز یقین ہوتانہ سمجھ آتی مگر ماضی کے ایک آنکھوں دیکھے تجربے نے لمحوں میں سمجھا دیا ’’جب ہمارے دفتر کیمپوٹر لیب سے ایک ای میل کا معاملے درپیش آیا تو ہمارا یقین تھا کمپیوٹر سسٹم میں 6ماہ سے زیادہ کا ڈیٹا نہیں ہوتا ہے مگر تحقیقی ادارے کی تحقیقات کے دوران (آئی ٹی)کیمپوٹر ٹیکنالوجی کے جدید سسٹم کی مدد سے ڈیڑھ عشرے پہلے کی کمپوزنگ میل سمیت یوٹیوب کا کمپیوٹر پر استعمال سامنے آتا دیکھتے رہے۔

یہ سب کچھ حیران کن تھا مگر صرف کانوں سے سن نہیں رہے تھے بلکہ آنکھوں سے سب کچھ دیکھ بھی رہے تھے جسکے حقائق نے ثابت کیا ہمارے دفتر کے کسی بھی کمپیوٹر سے میل نہیں ہوئی ہے بلکہ باہر چھت وغیر ہ سے لائن کا استعمال کیا گیا ہے۔

اسطرح کمپیوٹر ٹیکنالوجی کے انصاف نے بے گناہی ثابت کردی تو دوسری طرف اسکے ہی Calibri, font (رسم الخط)نے شریفین کو محلات سے نکال کر سڑکوں پر لاکھڑا کیا ۔

کہنا صرف یہ ہے کہ جب ہمارے دفتر روزاول کے پہلے لمحہ سے آخر تک کیمپوٹر سسٹم کے تمام استعمال کے حقائق سامنے آئے تو سوال کیا یہ سب کیسے ہورہا ہے کمپیوٹر ٹیکنالوجی ایکسپرٹ کاجو اب تھا اس کیمپوٹر کی باڈی میں سب کچھ محفوظ رہتا ہے جسے ہم محض جسم یا ڈھانچہ سمجھتے ہیں اور دماغ میںیہ آواز گونج رہی تھی ۔

روز حشر جب اعمال کا حساب پیش ہوگا تو انسانی جسم کا ہر حصہ اسکا جیسے استعمال کیا گیا ہے خود بولے گا اور گواہی دے گا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tahir Ahmad Farooqi

Read More Articles by Tahir Ahmad Farooqi: 204 Articles with 68416 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
20 Jul, 2018 Views: 190

Comments

آپ کی رائے