16 کروڑشہری عام انتخابات سے لاتعلق کیوں؟

(Khawaja Kashif Mir, )

یہ کیسے عام انتخابات ہو رہے ہیں جن میں عوام کی اکثریتی رائے کے بغیرہی قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ارکان اور حکمران لائے جا رہے؟ اکثریتی عوام توموجودہ پارلیمانی و جمہوری نظام کو ہی نہیں قبول کررہی اور نہ اس میں حصہ لے رہی، باقی کسر تو الیکشن کا یہ فرسودہ نظام پورا کررہا۔ بات پوری طرح سمجھنے کیلئے اعدادوشمار کو ذہن میں رکھیے گا۔25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات میں رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد 10 کروڑ 59 لاکھ 55 ہزار407 ہے جن میں مرد ووٹرز کی تعداد 5 کروڑ 92 لاکھ 24 ہزار262 ہے اورخواتین ووٹرزکی تعداد 4 کروڑ 67 لاکھ 31 ہزار145 ہے جو اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق پاکستان میں اس وقت 1 کروڑ 21 لاکھ 70 ہزارخواتین ایسی ہیں جن کے نام ووٹر فہرستوں میں اس لیے شامل نہیں کیے گئے کیونکہ ان خواتین کے شناختی کارڈ ہی نہیں بنے۔ اب جو اراکین اسمبلیوں کا حصہ بنیں گے ان کو سوا کروڑ خواتین کی رائے کے بغیر ہی لایا جائے گا۔ بیوروآف امیگریشن پاکستان کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق سمندرپار پاکستانیوں کی تعداد 1 کروڑ 10لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے انتخابات میں ان ایک کروڑ 10 لاکھ پاکستانیوں کو ووٹ ڈالنے کے حق سے محروم رکھا ہوا ہے۔ یعنی ایک کروڑ سے زائد سمندر پارپاکستانی جو بیرون ملک سے اربوں روپے کا زرمبادلہ پاکستان بھیجتے ہیں وہ اپنے ملک کا حکمران اور فیصلہ سازاراکین کو چننے میں شریک نہیں۔الیکشن کمیشن آف پاکستان نے دس کروڑ59 لاکھ رجسٹرڈ ووٹرزکو حق رائے دہی تو دیا ہے لیکن ان میں سے تقریبا 4 کروڑ ووٹرز ان الیکشنز میں کسی بھی سیاسی جماعت یا امیدوار کو اپنا ووٹ نہیں دیں گے یعنی حکمران اور فیصلہ سازممبران کوچننے میں ان کی رائے شامل نہیں ہو گی کیونکہ عام انتخابات کی ماضی کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ پاکستان میں ہونے والے گزشتہ 10 انتخابات میں ووٹ پڑنے کی اوسط شرح 43 فی صد ہے۔ انیس سو ستانوے کے انتخابات میں ووٹنگ کی شرح 35.2 فیصد رہی تھی۔ 1988ء سے سنہ 2008 ء تک ہونے والے پانچ انتخابات میں ووٹنگ کی یہ شرح 41 فیصد رہی جبکہ سال 2013 ء کو ہونے والے انتخابات میں ووٹ ڈالنے والوں کی شرح 60 فیصد رہی تھی۔پاکستان میں عام انتخابات کے دوران ووٹ ڈالنے کی شرح کو ذہن میں رکھ کراگرہم جنوبی ایشیاء کے چند دیگر ممالک میں ووٹنگ کی شرح پر نظر ڈالیں تومعلوم ہوتا ہے کہ بھارت کے 16 عام انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرح 63فیصد، نیپال کے 8 عام انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی اوسط شرح 72 فی صد، بنگلہ دیش کے 8عام انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرح 65 فی صد، مالدیپ کے 5 انتخابات میں 75 فی صد جبکہ انکے مقابلے میں پاکستان کے 10 عام انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرح 43فی صد رہی ہے۔ ترقی یا فتہ ملک کینیڈا اور فرانس میں ووٹ ڈالنے کی شرح 78فی صد اورجرمنی میں ووٹ ڈالنے کی شرح 84 فی صد ہے۔یہ بات ذہن میں رہے کہ الیکشن 2018 ئمیں 1 کروڑ 21 لاکھ 70 ہزارخواتین کے ووٹ درج نہیں، 1 کروڑ 10 لاکھ سمندر پار پاکستانیوں کوووٹ کے حق سے محروم رکھا گیا ہے۔ ساڑھے 10 کروڑ ووٹرز میں سے تقریبا 4 کروڑ ووٹرز اس پارلیمانی جمہوری نظام کا حصہ نہ نہیں بن رہے توان انتخابات کو کیسے صاف شفاف اورعوامی انتخابات کہا جا سکتا ہے؟ 22 کروڑ پاکستانیوں میں سے 6 کروڑلوگ اپنے ووٹ کا حق استعمال کریں گے تو ان میں سے بھی تقریبا 1 کروڑ ووٹ لینے والی پارٹی حکومت بنا لے گی اور کہا جائے گا کہ بھاری عوامی مینڈیٹ لیکر حکومت بنائی گئی ہے۔ اگر ایسا ہے تو 6 کروڑکے قریب پڑنے والے ووٹوں میں سے تو تقریبا 5 کروڑ ووٹ اس حکومتی جماعت کے خلاف پڑیں گے اوروہ جماعت مجموعی طور پر 22 کروڑ عوام میں سے 1 کروڑ لوگوں کے ووٹ لے پائے گی تو پھر یہ کیسی پارلیمانی جمہوریت ہے جہاں اکثریت یا تو اس انتخابی عمل سے لاتعلق ہے یا اس جماعت کی پالیسیوں کے خلاف اور پھر بھی اسے جمہوری حکومت قرار دینے پر اصرار کیا جائے۔ایک طرف پاکستان کے پارلیمانی جمہوری نظام کی خامیاں سامنے ہیں تو دوسری طرف 47 ء سے لیکر اب تک کے انتخابی نظام کی طرف نظر دوڑائیں تو سرمایہ دار اور جاگیردار ہی اس پورے نظام پر حاوی یا فوجی آمر سسٹم پرزبردستی قابض نظر آئے۔ اب جہاں ایک طرف اعدادوشمار کی روشنی میں موجودہ انتخابات کے مصنوعی چہرے سے نقاب اتر رہا ہے وہیں اس نظام میں موجود مزید خرابیاں ہم سب کے سامنے ہیں۔ انتخابی عمل میں شریک دو بڑی ملک گیرسیاسی پارٹیاں چیخ رہی ہیں کہ بااختیار طاقتیں اپنی مرضی کا انتخابی رزلٹ سامنے لانے کیلئے راستے ہموار کر چکی ہیں۔تمام صورتحال کو دیکھ کر یہی کہا جا سکتا ہے کہ یہ انتخابات محض ڈرامہ ہیں اور انکے ذریعے ملک میں عوام کیلئے بہتری لانا ممکن نہیں کیونکہ معاشرے کے 3 فیصد مراعات یافتہ طبقے نے جس طرح ملک کے 97 فیصد عوام پر حکمرانی قائم کررکھی ہے اس سے معاشرے میں مسلسل بگاڑو انتشار ہی پیدا ہورہاہے۔ ایسے انتخابات محض سرمایہ دار، جاگیردار، وڈیروں یا طاقتورقوتوں کی کٹھ پتلیوں تک محدود ہوتے ہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Kh Kashif Mir

Read More Articles by Kh Kashif Mir: 74 Articles with 39692 views »
Columnist/Writer.. View More
21 Jul, 2018 Views: 289

Comments

آپ کی رائے