آئیں نبی پاکﷺ کے امتی ہونے کا حق ادا کریں

(Ghulam Mustafa, )

سارے عالم اسلام میں انتشار و نفرت پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے پھر ملعون لوگ کہتے ہیں کہ مسلمان شدت پسند ہوتے ہیں یہ ذرا سی وضاحت تو فرمادیں کہ جب یہ ملعون لوگ کسی کی روح کھینچنے کی جسارت کریں گے تو ردعمل کیسا ہوگا؟ بس یہ ایک عالمگیر اور کائناتی حقیقت ہے کہ نبی اکرم ﷺفخر موجودات کی محبت ہی ہمارے مسلمانوں کی روح جاوداں ہے جس کی بدولت ساری دنیا کے مسلمان جسد واحد کی ماند ہیں اور جب حرمت رسولﷺ پر کوئی گستاخی کی جسارت کرتا ہے تو عالم اسلام کی روح بے چین و بے قرار ہوجاتی ہے اور کسی پل چین نہیں پاتی ۔جس حد تک ہم بھٹک چکے ہیں اور اک دوجے سے منتشر ہوچکے ہیں گر ایسے حالات میں ہم حرمت رسول ﷺ کی حفاظت بھی نہ کرسکے تو تف ہے ہم پہ (کیونکہ حرمت رسول کا دفاع ہی ہماری نجات ہے)۔ آج کل اسلامی اقدار تو ہمارے اسلامی معاشرے میں ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتی ہیں جس کی بدولت آئے روز ہم گناہوں کی دلدل میں دھنستے جارہے ہیں ہم چاہے گناہگار ہوں چاہے نیکو کار ہوں گر ہم حرمت رسول ﷺپہ مر مٹنے کا جزبہ نہیں رکھتے تو ہم مسلمان نہیں ہوسکتے۔جب میرے آقا ﷺ کو اﷲ پاک نے تخلیق کیا تو فرمایا،، میرا محبوب میری طرح لاجواب ہے،، پھر اﷲ پاک نے ہمارے آقا نبی مکرمﷺ کوہدائیت اور سچا دین دے کر بھیجا تاکہ اس دین کو سب دینوں پر غالب کردے اگرچہ دنیا بھر کے مشرک ناپسند کریں،مشرک جتنی چاہیں کوشش کرلیں اپنی تمام کوششوں میں ناکام و نامراد ہی رہیں گے اور حق نے غالب ہی آنا ہے اور غالب آکر رہے گااور اﷲ پاک ہمارے نبی پاک ﷺ کا نام اور بلند فرمائے گا۔

ہالینڈ میں پھر سے خباثت عروج پر ہے یہ لوگ ایک بار پھر سے ہمارے نبی مکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کا پلان کر رہے ہیں جس کے مطابق وہاں کی غلیظ سیاسی پارٹی جو کہ فریڈم پارٹی کے نام سے مقبول ہے اور
جس کا سربراہ ملعون گیر ٹ ویلڈر ہے نے ہمارے آقا ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کا پلان بنایا ہے یہ وہی ملعون شخص ہے جس نے نبی پاک ﷺ کی توہین پر مبنی کارٹون بنانے کا کام بذات خود2015سے شروع کیا تھاجس کے لیے اب وہ ایک عالمی سطح کا ایونٹ منعقد کرنے جارہا ہے (ان ملعونوں کا کام ہی مسلمانوں کی دل آزاری کرنا ہے) جس میں (نعوذ باﷲ) نبی پاک ﷺ کے خاکے بنائیں جائیں گے۔ فریڈم پارٹی کے سربراہ نے پھر سے گستاخانہ خاکے منگوائے ہیں جس سے اس رزیل کو اندازہ بھی ہوگا کہ پوری دنیا کا امن داؤ پر لگ جائے گا لیکن لگتا ہے یہودی لوگ اب کچھ پلان کرچکے ہیں ،مطلب اب یہودی مسلمانوں سے ٹکر لینے کے چکر میں ہیں یا پھر وہ بار بار ایسا کر کے مسلمانوں کے ایمان اور ضمیر کا نقطہ چیک کرنا چاہتے ہیں۔

ہر تین ،چار سال بعد یہودیوں کو کون سا پاگل کتا کاٹ لیتا ہے جو ایسی ناپاک جسارت کرنے کو یہ مچلنے لگتے ہیں یہ سلسلہ تھم کیوں نہیں رہا ،آخر کیوں یہ بار بار مسلمانوں کے جزبات سے کھیلتے ہیں اور ہماری روح کو ادھیڑتے ہیں ان کی ان ناپاک حرکتوں سے عاشقان رسولﷺ تڑپ تڑپ جاتے ہیں یہ ان ملعونوں کے لیے معمولی بات ہوگی لیکن آقاﷺ کے غلاموں کے لیے یہ جینے مرنے کا مقام ہے، ہر تین یا چار سال کے وقفے سے یہودی اور عیسائی مسلمانوں کو ٹیسٹ کررتے رہتے ہیں کیوں کہ یہ لوگ جانتے ہیں کہ اسلام کی روح نبی پاک ﷺ سے محبت ہے اور ان کا مقصد اس روح کو ختم کرنا ہے تاکہ یہ ناپاک لوگ اسلام کو ختم کرسکیں لیکن ان کے سب پلان اور بندوبست ہمیشہ ضائع ہوجاتے ہیں اور یہ ملعون ہمیشہ منہ کی کھاتے ہیں شائد یہ جانتے نہیں کہ مسلمان چاہے جتنے بھی فرقوں میں بٹ جائیں لیکن ان سب مسلمانوں کی نسبت نبی مکرمﷺ کی ذات اقدس سے ہے جس کے لیے وہ کٹ بھی سکتے ہیں اور مر بھی سکتے ہیں اور یہی تو ایک واحد نسبت ہے جسے مسلمان کبھی بھی ضائع نہیں کرسکتا اس نسبت پہ ایک مسلمان دنیا جہاں کی نسبتیں قربان کرسکتا ہے (یہی تو ایک نسبت روز محشر ہمارا دفاع کرے گی جب ساری اولاد کو ،ماں اور باپ کو غرض کے سب کو اپنی ہی فکر پڑی ہوگی کہ میرا کیا بنے گا تو پھر آقائے دوجہاں رمت اللعالمینﷺ ہی واحد سہارا ہونگے اورہماری سفارش کریں گے)۔ جب یہ ناپاک ملعون اسلام کی روح کی تڑپ کا مشاہدہ کرتے ہیں تو ان ملعونوں کو اپنی جان کے لالے پڑجاتے ہیں ،اسلام ہی وہ دین ہے جو تا قیامت زندہ رہے گا۔

اﷲ تعالی آپﷺ کی شان اقدس میں فرماتے ہیں کہ ،، اے محبوب گر آپ نہ ہوتے تو ہم کائنات ہی تخلیق نہ کرتے،، ایک اور جگہ اﷲ پاک فرماتے ہیں کہ ،، ہم نے اپنے ذکر کے ساتھ آپ کا ذکر بلند کردیا،، اب چاہے ملعون و غلیظ لوگ جتنی بھی کوشش کرلیں آپ کا ذکر بلند ہے اور بلند ہی ہوتا رہے گا اور آپ ﷺ کی شان بلند ہے اور بلند ہی رہے گی۔ہمیں ہر چیز و نعمت نبی پاک ﷺ کے صدقے میسر ہے آپ ﷺ نہ ہوتے تو کچھ نہ ہوتا ،تف ہے ایسی زندگی پہ جو نبی پاک ﷺ پہ درود پاک پڑھے بغیر گزرے ،تف ہے اس زندگی پہ کہ سانس چل رہی ہو اور ہم مسلمان حرمت رسول ﷺ کا حق ادا نہ کرسکیں اور تف ہے ایسی زندگی پر کہ ہم امتی ہونے کا حق ادا نہ کرسکیں جبکہ ہمارے پیارے آقاﷺ اﷲ پاک سے امتی امتی پکار کے ہماری بخشش کے لیے روتے رہے۔ساری کائنات سے افضل ،سارے انبیاء رسولوں سے اعلی وبرتر و سارے جہانوں کے لیے رحمت اور محبوب کائنات ، ہمارے لیے آخری پیغمبر چنے گئے اور اس عظیم ترین ہستی ﷺ نے ہمارے لیے بخشش مانگ مانگ کر اپنی آنکھیں تر کیے رکھیں پر ہم نے بحثیت امت اپنے آقاﷺ کے لیے کیا کیا؟ سوچئے اور اپنے امتی ہونے کا حق ادا کئجے کہیں دیر نہ ہو جائے یہی وقت ہے طاغوتی طاقتوں کو پسپا کرنے کا نبی پاک ﷺ کی امت ہونے کا حق ادا کرنے کا جبکہ ایسا موقع صرف خوشنصیب لوگوں کے حصے میں ہی آئے گایہ ایک جنگ ہے نبی پاک ﷺ کی ناموس کے لیے، اس جنگ میں شریک ہو جائیں۔ عوام کی اکثریت ہی نبی پاکﷺ کی سیرت اور دعوت سے غافل ہے اس لیے نعت شریف کو عام کیا جائے سیرت کی کتابوں کے حوالے اور سیرت پر پی ڈی ایف فائلیں نیٹ پہ شیئر کی جائیں آپ سوشل میڈیا کو دن رات استعمال کرتے ہیں اسے آپ ناموس رسالتﷺ کے دفاع کے لیے مورچہ بنا کر اپنے سچے امتی ہونے کا حق ادا کریں جس طرح آپ کو آسانی ہو نبی پاک ﷺ کی شان کے دفاع میں ڈٹ جائیں۔ ہمارا ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان ، اسلام کے نام پر وجود میں آیا ہے اس لیے ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے ایوان اقتدار کو بھی اپنی پوسٹس کی وساطت سے یہ احساس کروائیں کہ وہ ہالینڈ کے ناپاک ارادوں پر مزمتی بیان ریکارڈ کروائیں اور ڈچ ایمبیسی کو پاکستان میں بند کیا جائے جس سے طاغوتی طاقتوں کو بھی ہماری ناراضگی اور شدت غم کا اندازہ ہوسکے اور وہ ایسی ناپاک جسارت سے باز رہیں گر پاکستان ایسا اقدام کرے گا تو کچھ بعید نہیں کی ترکی اور دوسرے اسلامی ممالک بھی اس کی تقلید کریں گے لب لباب یہ کہ ہمیں نبی پاکﷺ کی شان میں سوشل میڈیا و پرنٹ میڈیا کو بھر دینا ہے تا کہ ملعین اپنی گھٹیا جسارتوں میں ناکام و نامراد ہوں ۔ آمین

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulam Mustafa

Read More Articles by Ghulam Mustafa: 12 Articles with 4344 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Jul, 2018 Views: 894

Comments

آپ کی رائے
جناب یہ بات تو درست ہے کہ ناموس رسالت کے لئے اگر ہمیں اپنی جانیں بھی قربان کرنی پڑیں تو ہراول دستہ میں سب سے آگے ہم ہی ہوں گے۔لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آج کل جاہل ملا اور جاہل مسلمان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس کی بات تو کرتے ہیں ۔لیکن خود اپنے کردار۔اخلاق کو نہیں دیکھتے جو آنحضرت کی سنت اور اخلاق اور ان کے اعلی عملی کردار کے مخالف ہیں۔ایک دوسرے پر کفر کے فتوےلگانا۔جنت اور دوزِ خ کے سرٹیفکیٹ بانٹنا۔دوسرے کے عقائد کو اپنی ذہنی اختراع کے مطابق قرار دے کرو تم کا فتوی دینا کیا یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس پر سب سے بڑھ دھبہ نہیں ہے۔سب سے بڑھ جھوٹ بولناکیا یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تو ہین نہیں ہے۔جس کو دیکھ اس قسم کے غیر مسلم ملعون کو ہم موقع فراہم کرتے ہیں
ان ملعونوں کو تو اللہ خود سزا دے گا۔سب سے پہلے ہمیں عملی رنگ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے رحمت کے عملی کردار کی پیروی کرنی ہوگی۔ان اقتدار کی ہوس رکھنے والے جھوٹے ناموس رسالت کے دعویداروں سے دور رہنا ہوگا۔اپنے پیارے خاتم النبیین آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقی پیروی کرنی ہوگی ۔گرحسن کردار سے تو مجسم قرآن ہوجائے
تجھے شیطان بھی دیکھے تو مسلمان ہوجائے
کی عملی تصویر بننا پڑے
ورنہ سب سے بڑھ کر ہم خود ہی ناموس رسالت کا کھوکھلا نعرہ لگا خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نعوذباللہ تو ہین کررہے ہوںگے
By: Sajid Naseem, Frankfurt Germany on Jul, 24 2018
Reply Reply
0 Like

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ