اسلام آباد کا ووٹر کیا چاہتا ہے

(Ghulam Ullah Kiyani, Islamabad)

وفاقی دارالحکومت میں قومی اسمبلی کی تین نشستیں ہیں۔ این اے 52,53,54۔تینوں نشستوں پر مجموعی طور پر کل 73امیدوار میدان میں ہیں ۔ جن میں سے آزاد امیدواروں کی تعداد 36ہے۔ مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف سمیت یہاں کی تینوں نشستوں سے تحریک لبیک اسلام نے بھی اپنے امیدوار کھڑے کئے ہیں۔ جس کا انتخابی نشان توپ ہے۔ تحریک لبیک پاکستان نے بھی تینوں حلقوں سے اپنے امیدوار کھڑے کئے ہیں۔ جس کا نشان کرین ہے۔ ایم ایم اے بھی تینوں نشستوں سے الیکشن لڑ رہی ہے۔ تینوں حلقوں سے جیپ، کوٹ اور کمپیوٹر کے نشان پر امیدوار انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ جیپ کا نشان چوہدری نثار علی خان کو ملا تو سمجھا گیا کہ جہاں سے بھی جیپ کے نشان پر کوئی امیدوار الیکشن لڑ رہا ہے اس کا تعلق چوہدری صاحب سے ہو گا۔ یہی کوٹ اور کمپیوٹر کے نشان والوں کے متعلق بھی کہا جاتا ہے۔ اسلام آباد کی دو نشستوں این اے 53اور این اے54سے پی ٹی آئی (گلالئی)میدان میں ہے۔ عائشہ گلالئی وزیر این اے 53سے عمران خان کا مقابلہ کر رہی ہیں۔ اس حلقہ میں 34امیدوار میدان میں ہیں جن میں سے 18آزاد ہیں۔ عمران خان کا مقابلہ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، پیپلز پارٹی کے سید سبط الحیدر بخاری، ایم ایم اے کے میاں محمد اسلم سے ہو گا۔ مسلم لیگ ن کے ووٹ بینک میں شگاف ڈالنے کے لئے سید ظفر علی شاہ ، ایم ایم اے ، تحریک لبیک پاکستان اور تحریک لبیک اسلام کے لوگ میدان میں ہیں۔ جیپ، کمپیوٹر اور کوٹ گروپ بھی سرگرم ہیں۔ عائشہ گلالئی پی ٹی آئی ووٹر کو متاثر کریں گی۔ اے پی ایم ایل کا عقاب گروپ اور پہاڑگروپ بھی دوڑ دھوپ کر رہا ہے۔ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق شیر، تیر، بلا، کتاب آمنے سامنے ہیں۔ ان کے درمیاں سخت مقابلہ ہے۔ مرکز میں جس کا پلڑا بھاری ہو گا۔ وہ ملک بھر کی سیاست پر اثر انداز ہو گا۔ میاں نواز شریف اور مریم نواز کی وطن واپسی نے مسلم لیگ ن کے ووٹر کے حوصلے بلند کئے ہیں۔ پارٹی کے امیدواروں کا ووٹ کاٹنے کے لئے کئی امیدوار مہم چلا رہے ہیں۔ انھیں معلوم ہے کہ وہ اس اکھاڑے میں زیادہ کرتب نہ دکھا سکیں گے ۔ اس کے باوجود وہ کارنر میٹنگز کر رہے ہیں۔ چند امیدوار اپنے نشان کے بجائے بلے پر مہر لگانے کا آپشن دے رہے ہیں۔ آبپارہ، سوپر، جناح سوپر، ایف ٹین، ای الیون، کراچی کمپنی جیسے مراکز میں پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ن کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ سب کہتے ہیں میٹرو نے راولپنڈی اسلام آباد کی شہری زندگی کی کایا پلٹ دی ہے۔ اسے جنگلا بس کہنے والوں کو عوام 25جولائی کو جواب دیں گے۔ اب کسی ایمپائر کی انگلی غلط فیصلہ نہ کرے گی۔ مگر ایسے لوگ بھی ہیں جو مسلم لیگ ن کو کرپشن کا گڑھ قرار دیتے ہیں۔ وہ پاکستان سے کرپشن ختم کرنے کے دعویدار ہیں۔ چونکہ اسلام آباد کی آبادی پورے پاکستان سے یہاں آ کر بسی ہے ، اس لئے یہاں لوگوں کا ملا جلا ردعمل ہے۔ زیادہ آبادی کشمیری ہے۔ جو تمام پارٹیوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ سب سے اہم پیش رفت یہ ہے کہ لوگ اب اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ اس لئے کسی برادری اور تعلق کے بجائے میرٹ کی بالا دستی پر یقین رکھتے ہیں۔ میرٹ ہی سب سوالات کا جواب ہے۔ تعصب ، نفرت اور انتشار کی سیاست کی کوئی گنجائش نہیں۔ ملک کی تعمیر و ترقی کے لئے بالغ نظری اور سنجیدہ قیادت کی ضرورت ہے جو سب کو ساتھ لے کر چلے اور تمام اداروں کی تعاون سے ملکی پالیسیاں تشکیل دے۔ پاکستان کو ترکی اور ملیشیا بنانے کے لئے ترقی یافتہ قوموں کی حکمت عملی اور منصوبہ بندی کو سامنے رکھا جا سکتا ہے۔ بنیادی ڈھانچے کے ساتھ یہاں بے روزگاری اور مہنگائی کا خاتمہ عوام کی خواہشات اور ترجیحات میں سر فہرست ہے۔ اس کے لئے ملکی پیداوار کی طرف متوجہ ہوئے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا۔
25جولائی کو عوام دو ووٹ ڈالیں گے۔ ایک قومی اسمبلی اور دوسرا صوبائی اسمبلی کے لئے۔ 272نشستوں پر قومی اسمبلی کے لئے براہ راست ووٹنگ سے امیدوار منتخب ہوں گے۔ 60خواتین اور 10اقلیتوں کے لئے مختص ہیں۔ 2017کی مردم شماری کے بعد اسلام آباد میں قومی اسمبلی کی ایک نشست کا اضافہ ہوا ہے۔ نئی حلقہ بندیوں کے بعد 15نئے حلقے تشکیل پائے۔ پنجاب کی نشستیں 148سے کم ہو کر141رہ گئیں۔ کے پی کے کی چار اور بلوچستان کی دو نشستوں کا نئی حلقہ بندیوں کے تحت اضافہ ہوا۔ سندھ کی61نشستیں برقرار رہی ہیں۔ 342کی قومی اسمبلی میں کسی پارٹی کو حکومت تشکیل دینے کے لئے 137نشستوں کی ضرورت ہو گی۔ علاوہ ازیں بلوچستان کی 51، کے پی کی کی 99، پنجاب کی 297اور سندھ کی130صوبائی نشستوں کے لئے براہ راست انتخاب ہو گا۔ 2013کے بعد2018کے انتخابات کی خاص بات یہ ہے کہ ان میں خواتین اور نوجوان ووت ڈالنے کے لئے پر جوش ہیں۔ جن کی پہلی پسند عمران خان ہیں۔ مگر اصولوں اور اخلاقیات کی سیاست کا جنازہ اٹھ رہا ہے۔ پاکستان میں دو پارٹیوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن میں اب تیسری پارٹی تحریک انصاف نمودار ہوئی ہے۔ جو اس بار تیار ہے۔ اس کے پولنگ ایجنٹ تربیت یافتہ ہیں۔ پی ٹی آئی سمجھتی ہے کہ ایمپائر بھی اب اسی کے ہیں۔ عمران خان پی پی پی اورمسلم لیگ ن کے بغیر سبھی سے مل کر حکومت بنانے کے حق میں ہیں۔ یوں فضا سازگار ہے۔ میاں نواز شریف کا ووٹ بینک ان کی قید کی وجہ سے متزلزل ہے۔ہمدردی کا ووٹ اپ سیٹ کر سکتا ہے۔ اسلام عمران خان پی پی پی اورباد کے ووتر مطمئن ہیں کہ الیکشن کے دن فوج کے تعاون سے مثبت نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ فوج پولنگ بوتھ کے باہر اور اندر موجود ہو گی ۔ جس سے انتخابی شفافیت یقینی بنے گی۔ وہ فضا سازگار بنا رہی ہے۔ توقع ہے کہ نگران حکومتیں ، الیکشن کمیشن اور سبھی ادارے ووٹ ڈالنے والوں کی تسلی کے لئے ووٹ گنتی کرنے والوں پر بھی کڑی نظر رکھیں گے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 574 Articles with 219477 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More
21 Jul, 2018 Views: 390

Comments

آپ کی رائے