عوامی منڈیٹ کا احترام کیا جائے

(Ghulam Ullah Kiyani, Islamabad)

پاکستان کے عوام کی اکثریت نے عمران خان پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ انتخابات مجموعی طور پر پر امن اور شفاف تھے۔ الیکشن کمیشن کی پالیسی کے فقدان نے فارم 45پر تنازعہ پیدا کیا۔ اگر ہر ایک پولنگ سٹیشن پر پارٹی ایجنٹوں کو فارم 45پر نتائج فراہم کر دیئے جاتے یا سٹیشنز کے باہر ضابطے کے تحت آویزاں کئے جاتے تو بات نہ بگڑتی۔ اس طرح ساری محنت پر پانی نہ پھرتا۔ انتخابی عمل ایک تکنیکی کوتاہی یا ناقص پالیسی سے مشکوک بن گیا۔ تا ہم پولنگ سٹیشنز سے ایجنٹوں کو باہر نکالنے کی اطلاعات بھی شکوک و شبہات پیدا کرتی رہیں۔ اس کوتاہی کو کسی منظم دھاندلی سے تعبیرکیا جا رہا ہے۔ الیکشن کمیشن کے اس عمل کو ہدف تنقید بنایا جا سکتا ہے ۔کہ کیوں فارم 45پولنگ ایجنٹوں کو فراہم نہ کیا گیا اور قومی خزانے سے 20ارب روپے سے بھی زیادہ رقم خرچ کرنے کے باوجود سارا ملبہ ٹیکنالوجی پر کیوں ڈالا گیا۔ اس ٹیکنالوجی کے پیچھے انسانوں کی کوتاہی کو تسلیم کرنے سے گریز کیوں کیا گیا۔ مگر اس کی آڑ میں انتخابات کو ہی مسترد کر دینا یا دھاندلی کی نذر کرنا عوام کی رائے کو مسترد کرنے کے مترادف ہو گا۔اب اگر اپوزیشن پارٹیاں کوئی تحریک چلاتی ہیں۔ مظاہرے کئے جاتے ، دھرنے لگتے ہیں، اس سے ملک کو ہی نقصان ہو گا۔ عدم استحکام سے لاقانونیت اور انتشار بڑھے گا، سیاسی خلفشار سے روپے کی قدر مزید کم ہو گی۔ مہنگائی کا طوفان آئے گا۔ بے روزگاری بڑھے گی۔ قومی پیداوار بھی کم ہو گی۔ ترقی کا سست روی سے گھومتا پیہہ رک جائے گا۔ اس سے فائدے میں کون رہے گا اور نقصان کسے ہو گا۔ ہارنے والوں کو عوام کے فیصلے کو صدق دل سے قبول کرنا چاہیئے۔ یہ غور کرنا چاہیئے کہ لوگ نیا تجربہ کرنا چاہتے ہیں۔ وہ تبدیلی چاہتے ہیں۔ اس لئے اپوزیشن پارٹیاں عمران خان کو موقع ضرور دیں۔اور تعاون بھی کریں۔ لوگ عمران خان کو آزمانا چاہتے ہیں۔ انھوں نے گزشتہ دو دہائیوں سے بہت وعدے کئے ہیں۔ دیکھتے ہیں کہ وہ کیسے وفا ہوں گے۔ جس طرح کے پی کے کے عوام نے عمران خان کو بھاری تعداد میں ووٹ دیئے اور دیگر تمام پارٹیوں کا صفایا کر دیا۔ اس سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ عمران خان کی تعلیم، صحت اور انسانی وسائل کی ترقی کے لئے صوبے میں کئے گئے اقدامات کو عوام نے قبول کیا ہے۔ وہ تحریک انصاف کی پالیسیوں کا تسلسل چاہتے ہیں۔ عمران خان پانچ کی پانچ نشستوں پر کامیاب ہوئے ہیں۔ انھوں نے ان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہے ۔ دیگر پر ضمنی الیکشن ہو گا۔ قومی خزانے سے مزید کروڑوں روپت خرچ ہوں گے۔ یہ نظام بھی ناقص ہے کہ ایک امیدوار ایک سے زیادہ حلقوں سے انتخاب لڑے۔ ایک امیدوار کو ایک ہی حلقہ سے الیکشن لڑنے کی اجازت ہونی چاہیئے۔ اس بارے میں قانون سازی ہو تو زیادہ مناسب ہو گا۔

عمران خان وزارت عظمیٰ کی کرسی کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ انتخابات کے پرامن عمل کی سب تعریف کرتے ہیں۔ مسلم لیگ ن کے خلاف عدلیہ کے پے در پے فیصلوں پر بھی بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں۔ اس کے لئے بھی قانونی جنگ جاری ہے۔ سب چاہتے ہیں کہ انصاف سب کے لئے برابر ہو۔ کسی کے ساتھ نا انصافی نہ ہو۔ جس طرحپولنگ سٹیشنز سے پولنگ ایجنٹوں کو بے دخل کیا گیا اور دو دن گزرنے کے بعد بھی حتمی نتائج کا اعلان سرکاری طور پر نہ کیا جا سکا ۔ اس نے بلا شبہ کئی نکات اٹھائے ہیں۔ یہ قانونی مسلہ ہے۔ جسے سڑکوں کے بجائے قانونی طور پر حل کیا جا سکتا ہے۔ اس سب کی جوڈیشل تحقیقات کی ضرورت ہے کہ کیا یہ کسی منظم دھاندلی کا حصہ ہے یا صرف تکنیکی کوتاہی یا ٹیکنالوجی کا قصور ہے۔ مسلم لیگ ن نے قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کے پنچوں پر بیٹھنے کا درست فیصلہ کیا ہے۔ شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں بھر پور احتجاج کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔علاوہ ازیں الیکشن نتائج چیلنج کئے جا سکتے ہیں۔ اس کا اشارہ بھی مسلم لیگ ن کے صدر اور دیگر نے دیا ہے۔ سڑکوں پر نکلنا، دھرنے، جلوس، تشدد مسائل کا حل نہیں۔ اس سے ملک کی معاشی ھالت مزید خراب ہو گی۔ دھاندلی کے ثبوت متعلقہ فورمز کو فراہم کرنے کے بعد اگر کارروائی نہ ہوئی اور انصاف یا داد رسی نہ ملی تو دیگر آپشن کھلے ہوں گے۔

عمران خان نے کامیابی کے بعد اپنے پہلے خطاب میں اہم اور بنیادی ایشوز کا احاطہ کیا ہے۔ مسلہ کشمیر کو کور ایشو قرار دے کر بھارت کو بات چیت کی پیشکش کی ہے۔ ان کے خطاب سے جیت کا تکبر یا غرور نہیں بلکہ عاجزی و انکساری جھلکتی تھی۔ امید ہے کہ وہ اپنے دعوؤں اور وعدوں کو عملی جامہ پہنانے میں سنجیدگی سے کام کریں گے۔ سب کو ساتھ لے کر چلیں گے۔ اداروں کے ساتھ محاز آرائی کی گنجائش نہیں بلکہ ہر کو اپنے حد اور اختیار سے تجاوز نہ کرنے کی ضرورت ہے۔ دوسرے کے کام میں بے جا مداخلت اور منڈیٹ کا احترام ہر کسی پر لازم ہے۔ توقع ہے کہ عمران خان عوام کی توقعات پر پورا اترنے کے بھر پور کوشش کریں گے اور عوام ان کے ساتھ بھرپور تعاون کریں گے۔ جو سیاستدان اور پارٹیاں کامیاب نہ ہو سکیں وہ عوام کے فیصلے کو تسلیم کر لیں تو یہ سب کے لئے بہتر ہو گا کیوں کہ عوام کے منڈیٹ کا احترام ہی ملک کو متحد ہو کت آگے بڑھنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 585 Articles with 229323 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More
30 Jul, 2018 Views: 307

Comments

آپ کی رائے