جیل کے دن جیل کی راتیں (قسط ۱)

(Quayyum Raja, )

جب کبھی کسی نجی محفل میں اپنی اسیری کے دوران پیش آنے والے واقعہ کا ضمنی طور پر زکر ہو جائے تو دوست کہتے ہیں کہ آپ نے اپنی جیل کی زندگی پر لکھی جانے والی کتابوں کو تفصیل سے لکھنا چائیے تھا ۔ راولپنڈی میں مقیم میرے آبائی شہر کھوئیرٹہ سے تعلق رکھنے والے ہمارے دوست اور نامور کالم نگار ۔ درجن سے زائد کتابوں کے مصنف اور راحمہ اسلامی ریلیف کے چہیرمین صغیر قمر صاحب نے داستان عزم کے مسودہ پر نظر ڈالتے ہیں کہہ دیا تھا کہ میں نے بہت ہی اختصار سے کام لیا ہے لیکن میرا مسلہ یہ تھا کہ پاکستان میں اپنے اخراجات پر کتاب شائع کروانی پڑتی ہے حالانکہ اسی کتاب کی انگریزی میں اشاعت کے لیے مجھے دوران اسیری برطانیہ کے چند ایک پبلشرز نے بھاری معاوضہ کے عوض شائع کرنے کی پیشکش کی تھی لیکن شرط یہ تھی کہ میں کسی راز کو راز نہ رکھوں اور اگر میں ایسا کرتا تو جموں کشمیر لبریشن فرنٹ برطانیہ میں بینڈ ہو جاتی اور کئی ایسے لوگ جنکو مہاترے کیس نے سیاسی پہچان دی وہ بھی ریاض ملک۔ صدیق بھٹی اور میری طرح سرکاری مہمان بن جاتے۔ یورپ میں انسانی تجربات کی بڑی قدر کی جاتی ہے جیل میں ایک دفعہ مجھ سے ایک مختصر انٹرویو کیا گیا جس کا مجھے چالیس پونڈ معاوضہ ملا۔ برطانوی رکن پارلیمنٹ میکس میڈن نے مجھ سے ملاقات کر کے وکلیلوں کے لیگل میگزین کے لیے ایک مضمون لکھا جس کا تین سو پونڈ معاضہ ملا لیکن بد قسمتی سے ہمارا پبلشنگ کلچر ابھی تک اس حد تک ترقی نہیں کر سکا جسکی وجہ سے مجھ جیسا ۲۲ سال پابند سلاسل رہنے والا ادمی ۲۲ سالہ طویل اسیری کے انگنت حالات و واقعات پر مبنی کتاب اپنے اخراجات پر بھلاکیسے شائع کروا سکتا ہے اور جو چھوٹی چھوٹی کتابیں اب تک میں نے لکھی ہیں وہ بھی لوگ بک شاپ سے خریدنے کے بجائے میرے پاس گھر آ کر مانگتے ہیں اس تذکرے کا مطلب صرف یہ ہے کہ ہمارے ہاں کتاب خرید کر پڑھنے کا رحجان نہیں۔ لوگ چائے کی میز پر شاید ہزاروں روپے خرچ کر دیں لیکن دنیا کی طاقتور ترین چیز علم اور معلومات مفت حاصل کرنا چاہتے ہیں جسکی وجہ سے علم کا پھیلاؤ ایک مشکل کام ہے۔ میرے دوست محمد صغیر قمر صاحب نے حال ہی میں ایک شادی میں ملاقات کے دوران جیل کے تجربات پر مبنی تفصیلی کتاب تصنیف کرنے کا مشورہ دیا۔ سابق برطانوی رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر برائن ایڈن نے سائنس اور سیاست کے عنوان سے ایک کتاب لکھی ہے جس میں ایک مضمون جموں کشمیر کی تحریک اور ہماری اسیری پر بھی ہے۔ اس میں ڈاکٹر ایڈن لکھتے ہیں کہ انہوں نے کسی بڑے ہوٹل یا پارلیمنٹ کے بجائے اس سکول میں تقریب رونمائی کا فیصلہ کیا جس میں انہوں نے ابتدائی تعلیم حاصل کی تھی کیونکہ اگر کسی ایک طالب علم نے بھی انکی کتاب سے انسپریشن حاصل کر لی تو وہ سمجھیں گے کہ انکا کتاب لکھنے کا مقصد پورا ہو گیا ہے۔ اسی جذبہ کے تحت میں بھی جموں کشمیر کی وحدت کی بحالی کے حامی نوجوانوں کے لیے جیل کی یادوں کا قسط وار سلسلہ شروع کر رہا ہوں۔

۲۲ فروری سن چراسی میری زندگی کو ہمیشہ کے لیے بدل دینے والا دن تھا۔ اس روز میں برطانیہ سے براستہ آئرلینڈ پیرس جاتے ہوئے ہولی ہیڈکی بندگاہ پر گرفتار ہوا تھا۔ اگلے ۲۲ سال کے لیے مجھے جیل میں رہنا پڑا۔ کسی بھی عدالت نے مجھے ۲۲ سال سزا نہیں دی تھی بلکہ بھارتی و برطانوی حکومتوں کے خفیہ معاہدے کے تحت مجھے اور میرے ساتھی ریاض ملک کو تاحیات جیل میں رکھنے کا خفیہ فیصلہ کیا گیا تھا جسے برطانوی حکومت نے یہ سوچ کا منظر عام پر نہ لایا کہ اس طرح حکومتی فیصلہ کے خلاف سیاسی و قانونی جنگ شروع ہو جائے گی۔ ہولی ہیڈ کا راستہ امان اﷲ خان کے مشورہ پر اختیار کیا گیا تھا جنکا کہنا تھا کہ انکے برادر نسبتی آئرلینڈ میں پریکٹس کرتے ہیں جہاں امان اﷲ خان آتے جاتے رہتے ہیں اور ان کے مطابق ہولی ہیڈ کی بندرگاہ پر امیگریشن نہیں ہوتی تھی۔ یہ درست تھا لیکن جب میں ۲۲ فروری سن چراسی دن کے پچھلے پہر بذریعہ ٹرین وہاں پہنچا تو میں واحد مسافر تھا جسے سمندری جہاز پر بیٹھنے کے لیے لگی قطار میں سے سپیشل برانچ کے ایک افسر نے بائر نکالا۔ مجھ سے آئی ڈی مانگی گئی۔ میں نے جیکٹ کی جیب سے وزٹر پاسپورٹ نکال کر اسے دیا جس پر تصویر میری تھی لیکن نام میرے کزن محمد اسحاق کا تھا۔ میرا اپنا پاسپورٹ ویزے کی تجدید کے لیے ہوم آفس میں تھا۔ ویسے بھی میری تصویر برطانیہ کے تمام ٹی وی چینلز پر ایک مطلوب شخص کے طور پر بار بار دکھائی جا رہی تھی جسکی وجہ سے اپنے پاسپورٹ پر سفر کرنا نا ممکن تھا۔ ایک بند کمرے میں لے جا کر میری جامہ تلاشی کے لیے مجھے کپڑے اتارنے کے حکم دیا گیا۔ میں نے وجہ پوچھی تو سپیشل برانچ کے افسران مسکرانے لگے۔ جب میں کھڑا رہا اور کپڑے نہ اتارے تو انہوں نے دباؤ ڈالنا شروع کیا۔ میں نے کہا ٹھیک ہے مجھے کوئی چادر دیں جس سے میں بدن ڈھانپ لوں ۔ مجھے ایک پتلون اور قمیض دی گئی۔ فروری کی سخت سردی اور بندرگا کی تیز ہوائیں اپنا اثر دکھانے لیگیں لیکن جوانی تھی تو کوئی زیادہ فکر لاحق نہ ہوئی۔ میری شناخت پیشے اور تعلیم کے علاوہ سوال جواب کے بجائے مینٹل گیمز کا آغاز ہوا۔ ایک افسر میرے کمرے میں رہا اور باقی تین بائر نکل گے۔ دوران گفتگو بڑی حکمت عملی کے ساتھ اس افسر نے اپنی پستول میرے سامنے میز پر رکھ دی۔ باتیں کرتے کرتے وہ بھی کمرے سے بائر نکل گیا۔ میں نے سوچا یہ لوگ پاگل تو نہیں ہو سکتے کہ پستول میرے سامنے رکھ کر خود چلے جائیں۔ مجھے شبہ ہوا کہ یہ پستول خالی ہو گی اور وہ چاہتے ہونگے کہ میں اسے اٹھا کر انہیں دھمکی دوں کہ مجھے چھوڑ دو۔ اس طرح میں بھاگ بھی نہ سکونگا اور پستول پر میری انگلیوں کے نشانات بھی آ جائیں گے۔ کچھ دیر بعد دو افسر واپس آئے اور ایک نے ہیجانی حالت میں پستول اٹھا لی۔ رات کو مجھے بندرگاہ پر ہی ایک ایسے سیل میں رکھا گیا جہاں کوئی کمبل تکیہ اور گدا نہ تھا۔ کمبل مانگنے پر کہا گیا اپنی مدد آپ کرو۔ رات کو صرف بریڈ کے دو پیس دئیے گے۔ دوسرے دن صبح نو بجے تک صرف ایک دفعہ لیٹرین استعمال کرنے کی اجازت ملی۔ پیشاب روکنے کی وجہ سے پیٹ اور نلوں میں سخت درد ہونے لگا۔ سردی کی وجہ سے پیاس کم لگی۔ گھڑی مجھ سے لے لی گئی تھی۔ وقت کا اندازہ نہ تھا زمین دوز سیل سے دوسری منزل پر لے جایا گیا جہاں ایک چھ فٹ سے زیادہ قد کے مالک ایک افسر نے اپنا نام ایس ایس پی سپیک اور دوسرے نے چیف انپکٹر جان براؤن بتاتے ہوئے کہا وہ بھارتی سفارکار روندر مہاترے کے اغواء اور قتل کی انکوائری کر رہے ہیں اس موقع پر اندازہ ہوا کہ صبح ہو چکی ہے سپیک نے کہا پولیس کے پاس میرے ملوث ہونے کے شوائد ہیں بہتر ہے میں تعاون کروں ورنہ پولیس اپنا ہاتھ دکھائی گی۔ (جاری)

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Quayyum Raja

Read More Articles by Quayyum Raja: 48 Articles with 21863 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 Jul, 2018 Views: 441

Comments

آپ کی رائے