عمران خان کے منشورپر عمل کا وقت آگیا

(Ghulam Ullah Kiyani, Islamabad)

عمران خان کی کرشماتی شخصیت نے 2013میں تحریک انصاف کو ملک کی تیسری بڑی پارٹی کے طور پر منوا یا۔آج یہ ملک کی سب سے بڑی پارٹی بن چکی ہے۔ اس لئے اس کی اہمیت بڑھ رہی ہے۔ پارٹی کا منشور کیا ہے، کیا پروگرام ہیں، کیسے انتخابی وعدے اور دعوے کئے گئے، اس بارے میں باخبر رہنا ضروری ہے۔ مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ ق، اے این پی ، ایم کیو ایم کی طرح تحریک انصاف نے بھی اپنا انتخابی منشور پیش کیا۔ عوام پارٹی کی پالیسیوں کی جانکاری کے لئے اس منشور سے رجوع کر سکتے ہیں۔دیکھنا ہے کہ اب عمران خان اس پر عمل در آمد کے لئے کیسی حکمت عملی اپناتے ہیں اورسیاسی انتقام کی روایت کو کیسے دفن کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔

’’انشاء اﷲ نیا پاکستان، انصاف، امن ، خوشحالی‘‘ کے زیر عنوان منشور میں مختلف امور کا احاطہ کیا گیا ۔سکیورٹی و دفاع اس میں فہرست ہے۔ قومی ایمرجنسی کے تحت توانائی، ادارتی اصلاحات(انٹی کرپشن، احتساب، گورننس)، اخراجات میں اصلاحات، ریوینیو جمع کرنے بارے اصلاحات، انسانیسرمایہ کی ترقی(صحت، تعلیم، ہنر مندی)، اکانومک پالیسی کے تحت گراؤتھ،انڈسٹریل، زرعی، پانی کی سکیورٹی، ہاوئسنگ، کرمنل جسٹس سسٹم، معلومات کا حق، نوجوانوں کو با اختیار بنانا، سمندر پار پاکستانی، ٹرانسپورٹیشن، ماحولیات کا تحفظ ، حقوق نسواں، اقلیتیں، لیبر پالیسی، معذور افراد کے لئے پالیسی اور آرٹ و کلچر کو منشور کا موضوع بنایا گیا ہے۔ منشور کا آغاز علامہ اقبال ؒکے اس شعرسے کیا گیا ہے۔
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

مسئلہ کشمیر کے حل کوملک کی خارجہ سکیورٹی پالیسی میں رکھا گیا ہے۔ پاک بھارت تعلقات کا مرکز تنازعات کا حل اور تعاون(انرجی میں خاص طور پر تعاون) قرار دیا گیا ہے۔ اضراجات کم کرنے کی بات کی گئی ہے۔ گورنر ہاؤسز، وزیر اعظم ہاؤس کو تعلیمی ادارے یا لائبریری یا لیبارٹری میں تبدیل کرنا یا کسی عوامی استعما ل کی جگہ بنا دینے کا وعدہ کیا جا رہا ہے۔ ایوان صدر کے اخراجات نصف کم کر دئیے جائیں گے۔ وفاقی وزارتوں کی تعداد 65سے کم کر کے 17کر دی جائے گی۔ وزراء، ایم این ایز، ایم پی ایز، سول و ملٹری بیوروکریٹس کی مراعات محدود کر دی جائیں گی۔ آزاد اور سبسڈی پر پلاٹ دینے کی پالیسی ختم ، دفاع سمیت تمام اداروں کو اخراجات کم کرنا ہوں گے۔ایک اہم بات یہ ہے کہ ارکان پارلیمنٹ کوترقیاتی فنڈزدینے کے بجائے بلدیاتی نمائیندوں کودینا منشور میں شامل ہے۔تعلیم کے لئے خود مختار پاکستانی، یکساں تعلیمی نظام کا اعلان کیا گیا ہے۔ ہر صوبے کو اردو یا مقامی زبان کو گریڈ 8تک لازمی بطور میڈیم منتخب کرنا ہو گا ۔ منشور میں زراعت کو صنعت کا درجہ دینے، پٹواری راج کے خاتمے کا اعلان ہے۔

سمندر پار پاکستانیوں کے لئے ووٹ کا حق، بڑے شہروں میں عوامی ٹرانسپورٹ نظام، سرکاری ملازمتوں میں خواتین کا 20فی صد کوٹہ، کرپشن کا 90دن میں خاتمہ، لوڈ شیڈنگ کا تین سال میں خاتمہ، دہشتگردی کے خلاف اتھارٹی کا قیام، دو ماہ میں بلدیاتی انتخابات، 50ایکڑ سے زیادہ اراضی رکھنے والے بڑے زمینداروں پر ٹیکس، ملک کو اسلحہ سے پاک کرنے کا عزم، ہر سال 20لاکھ ملازمتیں، دفاعی بجٹ پارلیمنٹ میں زیر بحث لانا، ٹیکس شرح بڑھانے کے بجائے ٹیکس نیٹ میں اضافہ،ہر ایک شناختی کارڈکی بینک اکاؤنٹ میں تبدیلی، وزارت ریلوے کا خاتمہ، پی آئی اے کو وزارت دفاع کے کنٹرول سے نکالنے، قوم کو امریکی جنگ اور غلامی سے نجات دلاناقابل زکر ہے۔تحریک انصاف نے پاکستان کو فلاحی ریاست بنانے کا خواب دکھایاہے۔ جس کا عمراں خان صاحب مسلسل ذکر کر رہے ہیں۔

تحریک انصاف نے امیر اور غریب کا فرق مٹانے کی بات کی ہے۔ اگر اس ایک وعدے پر ہی عمل کیا گیا تو ملک کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ کئی خاندان ایسے ہیں جن کے پاس لاکھوں اور ہزاروں کنال زمینیں ہیں۔ اس کے بر عکس کئی خاندانون کے پاس ایک کنال بھی زمین نہیں ہے۔ دولت کی مساوی تقسیم کا یہ مطلب نہیں کہ جس نے خون پسینے سے دولت کمائی اس کی کمائی کو ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیھٹے رہنے والوں میں تقسیم کر دیا جائے ۔ بلکہ بڑی زمینوں پر قبضے کرنے والوں سے اضافی زمینیں واپس لی جائیں۔ وہ واپس تو نہیں کریں گے۔ البتہ واپسی کے بجائے زمینیں حکومت کی جانب سے چھین لینا زیادہ بہتر جملہ ہے۔ جن لوگوں کے پاس بڑے رقبے ہیں، وہ اقتدار میں آکر اس میں اضافہ کریں گے۔ وہ اس میں کمی کا سوچ بھی نہیں سکتے اور اس طرح کی قانون سازی بھی ان سے متوقع نہیں ہے۔ ایسا صرف غریبوں کا حکومت میں آنے سے ہی ممکن بن سکتا ہے۔ تب ہی امیر اور غریب میں فرق ختم ہو سکتا ہے۔ آج تحریک انصاف کے اقتدار میں آنے دو بڑی وجوہات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔وہ الیکٹیبلز کے بل بوتے اور دولت کے زور پر اقتدار میں آئی ہے۔ تحریک انصاف امریکہ سے تعمیری تعلقات چاہتی ہے۔بھارت سے لے کر مشرق وسطٰی تک ثالث کا کردار ادا کرنے کی حامی ہے۔ اصولی طور پر پوری دنیا سے تعمیری اور برابری کی سطح کے تعلقات ضروری ہیں۔

تحریک انصاف 22سال سے ملک میں موجود ہے۔ لیکن اسے پہلی بار زبردست پذیرائی ملی ہے۔ تمام پارٹیوں کے لوگ اس میں شامل ہوئے ہیں۔ 31اکتوبر 2011اس جماعت کے لئے سنگ میل ثابت ہوا۔ اس دن مینار پاکستان کے جلسے نے تحریک انصاف کی کایا پلٹ کر رکھ دی۔ آج سات سال بعد اس کے ثمرات سامنے آنے لگے ہیں۔اس پارٹی کا منشور بھی اطمینان بخشش اور پر کشش ہے۔ تحریری طور پر ایسا ہی ہے۔ لیکن ہر کام عمل سے پورا ہوتا ہے۔ نوجوانوں اور خواتین میں تحریک کی مقبولیت زیادہ ہے۔ توقع ہے کہ عمران خان اور پارٹی جیت یا ہار دونوں صورتوں میں منشور کو ہمیشہ مد نظر رکھے گی۔ عمران خان نے منشور میں جو وعدے کئے، ان پر من و عن عمل در آمد کا وقت آ چکا ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 589 Articles with 230729 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More
30 Jul, 2018 Views: 279

Comments

آپ کی رائے