علیم خان یا پرویز الٰہی…… وزارت اعلیٰ کا امیدوار کون ؟

(Hafeez Usmani, )

جاوید ملک /شب وروز
خبر یہ ہے کہ تحریک انصاف کے اندرونی اجلاسوں میں تخت لاہور کے حوالہ سے گرما گرم بحث جاری ہے پارٹی ابھی تک کسی حتمی امیدوار پر اتفاق رائے قائم نہیں کرسکی ہے جبکہ دوسری طرف میاں شہباز شریف نے حمزہ شہباز کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو آزاد امیدواروں اور دیگر سیاسی جماعتوں سے رابطے کررہی ہے اور با خبر ذرائع کے مطابق اُنہیں بعض آزاد امیدواروں کی طرف سے حوصلہ افزاء جواب بھی ملا ہے جس کے بعد مسلم لیگ (ن) کی بھی پنجاب میں میدان مارنے کی امید زندہ ہوگئی ہے میں نے کل بھی اپنے کالم میں لکھا تھاکہ تخت لاہور مسلم لیگ (ن) کیلئے موت زندگی ہے پنجاب کا اقتدار وہ واحد پھکی ہے جو اس پارٹی کا ہاضمہ برقرار رکھے گی اور سابق حکمران جماعت ٹوٹ پھوٹ سے بچ جائے گی ورنہ تو حشر بپا ہونے والا ہے کیونکہ لیگیوں کی حزب اختلاف کی کڑوی گولی نگلنے کے معاملہ میں تاریخ انتہائی بری ہے وہ اپوزیشن کے بنچوں پر بیٹھنے کے بجائے وفاداریاں بدلنے کو ترجیح دیتے ہیں اور ان مشکل حالات میں مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو پنجاب بھی ہاتھ سے نکل جانے کی صورت میں پیدا ہونے والے حالات کا مکمل ادراک ہوگا اسی لیئے زور بھی پورا لگ رہا ہے ۔

تحریک انصاف شاہ محمود قریشی کی صوبائی نشست گنوانے کے بعد علیم خان کے نام پر سنجیدگی سے غور کررہی ہے ۔ علیم خان کو ترجیح دینا اس لیئے بھی سمجھ میں آتا ہے کہ ان کا تعلق لا ہور سے ہے جسے مسلم لیگ ہمیشہ سے اپنا مضبوط اور ناقابل تسخیر قلعہ قرار دیتی رہی ہے اور اس قلعہ میں پہلی بار شگاف پڑا ہے لاہور کا مضبوط وزیر اعلیٰ آئندہ انتخابات میں مسلم لیگ (ن)کو مزید زک پہنچانے کی پوزیشن میں ہوگا اور جب تک مسلم لیگ(ن) کا یہ مرکزی قلعہ کمزور نہیں ہوتا میاں برادران پنجاب میں کسی کو آسانی سے پھلنے پھولنے نہیں دیں گے ۔ علیم خان کو ترجیح دینے کی دوسری بہ ظاہر وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ وہ قومی اسمبلی کی نشست کھوچکے ہیں فواد چوہدری یا کسی دیگر ایسے شخص کو پنجاب کی وزارت اعلی کیلئے نامزد کرنا کہ جس نے صوبائی کے ساتھ ساتھ قومی اسمبلی کی نشست بھی جیتی ہو تحریک انصاف کیلئے انتہائی مشکل بلکہ ناممکن ہوگا کیونکہ قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کو سادہ اکثریت حاصل نہیں ہے عمران خان کو ابھی چار نشستیں چھوڑنی ہیں اٹک سے میجر (ر) طاہر صادق اور ٹیکسلا سے سرور خان بھی دو دو نشستوں پر کامیاب ہوئے ہیں انہیں بھی ایک ایک نشست چھوڑنا ہوگی میرے علم میں نہیں لیکن شایداس طرح کی کچھ دیگر مثالیں بھی موجود ہوں ان حالات میں تحریک انصاف کے پاس علیم خان کے علاوہ مجھے کوئی دوسرا راستہ دکھائی نہیں دیتا۔

میرے بعض صحافی دوستوں کا خیا ل ہے کہ وزارت اعلی کیلئے علیم خان اس لیئے اچھا انتخاب نہیں ہے کہ ان کیخلاف نیب میں کئی انکوائریاں چل رہی ہیں میری ذاتی رائے میں یہ کوئی اچھی دلیل نہیں ہے کیونکہ ایک تو نیب کا خمیر ہی سیاسی انتقام سے اُٹھا تھا اور ایک سابق آمر کا مقصد نیب کے ذریعے احتساب نہیں بلکہ اپنے مقاصد کا حصول تھا اس ادارے کا ماضی اس حوالہ سے اس قدر داغدار ہے کہ کوئی بھی سنجیدہ جماعت نیب کے مقدمات اور انکوائریوں کی بنیاد پر فیصلہ ہر گز نہیں کرے گی دوسری اہم بات یہ ہے کہ اگر اس اصول کو ہی مد نظر رکھا جائے تو پھر عمران خان کیخلاف بھی نیب کی انکوائری جاری ہے اور انتخابی مصروفیت کی بناء پر انہوں نے درخواست کرکے 25جولائی تک استثنیٰ لیا ہوا ہے ۔ سابق وزیر اعلی پرویز خٹک سمیت بعض دیگر اہم ذمہ داران بھی نیب کی پیشیاں بھگت چکے ہیں یا بھگت رہے ہیں ۔

تحریک انصاف کے اتحادی چوہدری برادران نے بھی پنجاب میں اپنی سرگرمیاں تیز کردی ہیں ۔ چوہدری پرویز الہی اکھاڑ بچھاڑ کے ماہر ہیں قیاس کیا جارہا ہے کہ وہ ایک دو دن میں آزاد امیدواروں کا جم غفیر اکھٹا کرلیں گے وہ مسلم لیگ (ن) کی جماعت میں نقب لگا کر فارورڈ بلاک بنوانے کی اہلیت بھی رکھتے ہیں اس لیئے ان کو بھی آسانی سے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ میری اطلاعات کے مطابق تحریک انصاف کے اجلاس میں ان کے نام پر بھی غور ہوا بعض ارکان معترض تھے کہ وزیر اعلیٰ تحریک انصاف سے ہونا چاہیے دوسری جماعت کو سر پر بٹھانا درست نہیں ہے لیکن یہ ارکان شاید بھول گئے کہ پرویز الہی کے کئی قریبی رشتہ دارتحریک انصاف میں بھی ہیں اگر چوہدری برادران راجہ بشارت یا میجر (ر)طاہر صادق کا نام دے دیتے ہیں تو اس سے انکار مشکل ہوجائے گا ۔ اٹک سے دوقومی اور ایک صوبائی نشست سے منتخب ہونے والے میجر(ر)طاہر صادق کو عمران خان دل سے پسند بھی کرتے ہیں ۔

تحریک انصاف کو اپنے اندرونی انتشار پر قابو پاتے ہوئے پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے امیدوار کا جلد فیصلہ کرنا ہوگا علیم خان اور پرویز الہی دونوں انتہائی موزوں امیدوار ہیں لیکن نامزدگی میں تاخیر مسلم لیگ(ن) کو فائدہ پہنچارہی ہے پنجاب کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے تحریک انصاف کو اب فی الفور فیصلہ لے لینا چاہیے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Hafeez Usmani

Read More Articles by Hafeez Usmani: 56 Articles with 23183 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
31 Jul, 2018 Views: 247

Comments

آپ کی رائے