وطن کی مٹی عظیم ہے تو

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر: انیلہ افضال، لاہور
سردار ایوب اپنے کمرے میں سر جھکائے بیٹھے تھے پیشانی پر سوچ کی گہری لکیریں نمایاں تھی ابھی ابھی ان کا جوان بیٹا انہیں اپنے فیصلے سے آگاہ کر کے گیا تھا کہ وہ پاکستان میں نہیں رہنا چاہتا تھا اس نے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے برطانیہ میں مقیم ہونے کا فیصلہ کر لیا تھا۔

ابا جی ! آخر یہاں ہے ہی کیا ؟ سردار ایوب کے کانوں میں بیٹے کی آواز گونجی۔ اوئے یہ وطن ہے ہمارا ، یہاں جو کچھ بھی ہے ہمارا ہے اور کیا نہیں ہے یہاں ؟ تجھے اس قابل بھی اسی وطن نے بنایا ہے کہ غیر تجھے موٹی رقم کا لالچ دے کر اپنے پاس بلا رہے ہیں اور تو ہے کہ اس مٹی کا قرض اتارنے کی بجائے ان فرنگیوں کے تلوے چاٹنے جا رہا ہے جنہوں نے ایک صدی تک ہمارے گردنوں میں غلامی کا طوق ڈالے رکھا ہے۔ سردار کی آواز رندھ سی گئی ۔

جو بھی ہو ابا جی! میں نے فیصلہ کر لیا ہے اور بہتر ہو گا کہ آپ مجھے مجبور نا کریں۔ سردار قیوم یہ کہتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا اور سردار ایوب سر جھکائے بیٹھے رہ گئے۔

آخر وہ دن بھی آگیا جب سردار قیوم برطانیہ میں اپنے دفتر میں بیٹھا خود سے ہمکلام ہوا، ابا جی تو یونہی پریشان ہو رہے تھے پاکستان میں کہاں یہ سب میسر آتا زیادہ سے زیادہ دو تین لاکھ ماہانہ کما رہا ہوتا پھر بھی اتنی پر تعیش زندگی نا ہوتی۔ آخر کو میرا فیصلہ ہی درست ثابت ہوا نا۔ اسے برطانیہ آئے 20 سال ہو چکے تھے اب تو یہی اسے اپنا وطن لگتا تھا بچے بھی جوان ہو چکے تھے۔ ایک دن و ہ فیملی کے ساتھ شاپنگ کے ارادے سے گھر سے نکلا، گاڑی مال کے پارکنگ ایریا میں لگا ہی رہا تھا کہ ایک ادھیڑ عمر برطانوی نے گاڑی سے گردن نکال کر اسے ایک موٹی گالی سے نوازا ۔ سردار قیوم کے تن بدن میں آگ لگ گئی آخر کو وہ بھی اب برطانوی شہری تھا۔ اس نے اپنے حقوق کا استعمال کرتے ہوئے اس بندے کو عدالت میں طلب کر لیا تھا۔

کمرہ عدالت میں سردار قیوم کی آواز گونج رہی تھی محترم جج صاحب! میں برطانیہ کا ایک معزز شہری ہوں اور گزشتہ بیس برس سے دل و جان سے اس ملک کی خدمت کر رہا ہوں، قانون کا احترام کرتا ہوں، سارے ٹیکس بر وقت ادا کرتا ہوں، میں نے کسی کو کوئی تکلیف نہیں پہنچائی مگر اس آدمی نے مجھے بلا وجہ گالی دی ہے اور میری عزت نفس کو مجروح کیا ہے میں عدالت سے اس کے لیے سزا اور ہرجانے کا مطالبہ کرتا ہوں۔

جج صاحب نے سردار کی پوری بات سنی اور برطانوی شہری مسٹر سمتھ کی طرف دیکھا اور انہیں اپنا موقف بیان کرنے کو کہا ۔ مسٹر سمتھ نے کہنا شروع کیا، محترم جج صاحب! میں مانتا ہوں کہ میں نے مسٹر قیوم کو گالی دی ہے مگر جناب ! جب میں نے ان کو ایک پر تعیش کار سے اترتے دیکھا تو میں اپنے جذبات پر قابو نا رکھ سکا کہ آج اگر یہ غیر ملکی، دوسرے درجے کا شہری ، یہاں کے بجائے اپنے ملک میں ہوتا تو یہ جاب، یہ گاڑی، یہ عیش و آرام میرے کسی برطانوی بھائی کے پاس ہوتے۔ جج صاحب! یہاں ور اس جیسے نا جانے کتنے لوگ اپنے ملک کو چھوڑ کر یہاں آ جاتے ہیں اور ہم برطانوی شہریوں کو ان کے جائز حقوق سے محروم کر دیتے ہیں مگر یہ لوگ اس چیز کو نہیں سمجھ سکتے کیوں کہ نا تو یہ اپنے وطن سے محبت کرتے ہیں اور نا ہی اپنے ہم وطنوں سے، یہ دوسرے درجے کے شہری ہمارے ملک پر بوجھ بنتے ہیں اور ہمارے وسائل ہڑپ کرنے کے ساتھ ساتھ ہمارے اپنے شہریوں کو ان کے حقوق سے محروم بھی کرتے ہیں۔ ان کو اگر یہاں رہنا ہے تو انہیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہو گا کہ یہ کبھی بھی ہماری برابری نہیں کر سکتے ، یہ غاصب لوگ ہیں۔ بہتر یہی ہے کہ یہ اپنے ملک لوٹ جائیں اور جن باتوں کی دہائی یہ ہمیں دے رہے ہیں وہ سب کچھ اپنے وطن کے لیے کریں ، اپنے وطن کی خدمت کریں ، قانون کا احترام کریں اور اپنے تمام ٹیکس بروقت ادا کریں تو میرے خیال میں انہیں کسی بھی دوسرے ملک میں دوسرے درجے کا شہری بن کر رہنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔

سردار صاحب اس سے آگے کچھ نہی سن سکے تھے ان کو چکر آگیا تھا، دوسرے درجے کے شہری، غاصب، یہ سب تو انہوں نے سوچا ہی نا تھا ان کی دانست میں تو وہ اس ملک کی خدمت کر رہے تھے تو اس ملک کے وسائل پر ان کا حق بنتا تھا مگر یہ کیا ، دوسرے درجے کے شہری، اسپتال سے واپسی پر وہ ایک فیصلہ کر چکے تھے، بیس سال پہلے والا فیصلہ، جس میں تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔

آج پورے بیس سال کے بعد وہ اپنے وطن میں، اپنی سر زمین پر، اپنی مٹی پر کھڑے تھے۔ ان کی آنکھوں میں فخر جھلک رہا تھا کہ یہاں وہ درجہ اول کے شہری ہیں ، کوئی انہیں گالی نہیں دے سکتا، کوئی انہیں دورے درجے کا نہیں کہہ سکتا کیونکہ ان کے پیروں تلے کی زمین ان کی اپنی تھی۔ جو ان کا فخر تھی۔ جہاں وہ مسٹر قیوم نہیں سردار قیوم تھے، ایک باعزت شہری۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1227 Articles with 500853 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
05 Aug, 2018 Views: 240

Comments

آپ کی رائے