حج عاشقانہ سفر

(Ansar Usmani, Karachi)

حج اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک ہے ،جن پر اسلام کی بنیاد ہے۔ حج کی فرضیت قرآن کریم، حدیث شریف اور اجماع امت سے ایسے ہی ثابت ہے، جیسا کہ نماز، روزہ اور زکوٰۃ کی فرضیت ثابت ہے۔ اس لیے جو شخص حج کی فرضیت کا انکار کرے، وہ کافر ہے۔ اﷲ تعالی کا ارشاد ہے: ’’وَلِلہِ عَلَی النَّاسِ حِجّْ البَیتِ مَنِ استَطَاعَ اِلَیہِ سَبِیلًا وَمَن کَفَرَ فَِانَّ اﷲَ غَنِیّ عَنِ العَالَمِینَ‘‘ (سورہ آل عمران، آیت:۷۹) ترجمہ: ’’اور اﷲ کے واسطے لوگوں کے ذمہ اس مکان کا حج کرنا ہے، یعنی اس شخص کے جو کہ طاقت رکھے وہاں تک کی سبیل کی اور جو شخص منکر ہو؛ تو اﷲ تعالی تمام جہاں والوں سے غنی ہیں‘‘۔ یہ آیت کریمہ حج کی فرضیت کے حوالے سے نصّ قطعی ہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ان پانچوں ارکان کو ایک حدیث شریف میں بیان فرمایا ہے۔ترجمہ: ’’اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے۔ اس بات کی گواہی دینا کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمدصلی اﷲ علیہ وسلم اﷲ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا ، زکوٰۃ دینا، حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا‘‘۔(بخاری شریف، حدیث نمبر:۸)

انسانی طبیعت یہ تقاضہ کرتی ہے کہ انسان اپنے وطن، اہل و عیال ، دوست و رشتہ داراور مال و دولت سے انسیت ومحبت رکھے اور ان کے قریب رہے۔ جب آدمی حج کے لیے جاتا ہے؛ تو اسے اپنے وطن اور بیوی و بچے اور رشتے دار و اقارب کو چھوڑ کر اور مال و دولت خرچ کرکے جانا پڑتا ہے۔ یہ سب اس لیے کرنا پڑتا ہے کہ حج کی ادائیگی شریعت کا حکم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شریعت نے حج کے حوالے سے بہت ہی رغبت دلائی ہے،۔انسان کوکعبہ مشرفہ کے حج و زیارت پر ابھارا، مہبط وحی و رسالت کے دیدار کا شوق بھی دلایا ہے اورسب سے بڑھ کر شریعت نے حج کا اتنا اجر و ثواب متعین فرمایا ہے کہ سفر حج ایک عاشقانہ سفر بن جاتا ہے۔حضرت ابو ہریرہ -رضی اﷲ تعالی عنہ- بیان کرتے ہیں: ’’نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ کون سے اعمال اچھے ہیں؟ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اﷲ اور اس کے رسول پر ایمان لانا۔‘‘ پوچھا گیا پھر کون؟ فرمایا: ’’اﷲ کے راستے میں جہاد کرنا۔‘‘ پوچھا گیاپھر کون ؟ ارشاد فرمایا: ’’حج مبرور۔‘‘(بخاری شریف، حدیث نمبر:۱۵۱۹)

حج مبرور کیا ہے؟ وہ حج جس کے دوران کوئی گناہ کا ارتکاب نہیں ہوا ہو۔ وہ حج جو اﷲ کے یہاں مقبول ہو۔ وہ حج جس میں کوئی ریا اور شہرت مقصود نہ ہو، اور جس میں کوئی فسق و فجور نہ ہو۔ وہ حج جس سے لوٹنے کے بعدگناہ کی تکرار نہ ہو ،اور نیکی کا رجحان بڑھ جائے۔ وہ حج جس کے بعد آدمی دنیا سے بے رغبت ہوجائے اور آخرت کے سلسلہ میں دلچسپی دکھا ئے۔حج مبرور کی فضیلت پر حدیث مبارکہ جنت کی مہر ثبت کرتی ہے ۔حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ایک عمرہ دوسرے عمرہ تک ان(گناہوں)کا کفارہ ہے،جو ان دونوں کے درمیان ہوئے ہوں، اور حج مبرور کا بدلہ صرف جنت ہے۔‘‘(بخاری شریف، حدیث:۳۷۷۱، مسلم شریف، حدیث(۹۴۳۱)۷۳۴-)حج مبرورپچھلے سارے گناہوں کو مٹادیتا ہے ۔ابن شِماسہ فرماتے ہیں کہ ہم حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، جب کہ وہ قریب المرگ تھے۔ وہ کافی دیر تک روئے، پھر انھوں نے اپنا چہرہ دیوار کی طرف کرلیا۔ اس پر ان کے صاحبزادے نے چند سوالات کیے۔ پھر انھوں نے (اپنے اسلام قبول کرنے کی کہانی سناتے ہوئے) فرمایا: جب اﷲ نے میرے قلب کو نور ایمان سے منور کرنا چاہا؛ تو میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوا اورعرض کیا: آپ صلی اﷲ علیہ وسلم اپنا داہنا دست مبارک پھیلائیں؛ تاکہ میں بیعت کروں۔آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے پھیلایا۔ پھر میں نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا : اے عمرو!تجھے کیا ہوا؟ میں نے کہا: میری ایک شرط ہے۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری کیا شرط ہے؟ میں نے کہا: میری مغفرت کردی جائے۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کیا تمہیں نہیں معلوم کہ اسلام (قبول کرنا) پہلے (کے تمام گناہوں)کو مٹا دیتا ہے؟ ہجرت گزشتہ گناہوں کو مٹادیتی ہے اور حج پہلے(کے کیے ہوئے گناہوں)کو مٹا دیتا ہے ‘‘۔ (مسلم شریف، حدیث: ۱۲۱- ۲۹۱)

علامہ ابن حجرعسقلانی رحمہ اﷲ فرماتے ہیں: ’’کسی گناہ کے بغیر، اس کا ظاہری مطلب صغائر و کبائر (چھوٹے اور بڑے) سارے گناہوں کا معاف کیا جانا ہے‘‘ (فتح الباری۳۸۳-۲۸۳/۳) ہر سال کی طرح امسال بھی لاکھوں مسلمان فریضہ حج کے لئے اﷲ کے حضو ر جمع ہو چکے ہیں۔بچے ، بوڑھے ، کمزور ، عورت، مرد سب ہی اس عاشقانہ سفر میں اپنی مقبول حاضری کے لئے مجتمع ہیں۔اور جنت کی طلب نے انہیں دنیا سے ،گھر سے بے رغبت کر دیا ہے۔وہاں کی رونقیں ہی اس قدر دل آویز ہیں کہ کوئی بھی اپنے عشق کو چھپا نہیں سکتا ۔


 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ansar Usmani

Read More Articles by Ansar Usmani: 98 Articles with 45433 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
05 Aug, 2018 Views: 330

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ