صدائے تکبیر۔۔۔پروفیسر ہزاروی کے کالموں کا مجموعہ

(Mian Muhammad Ashraf Asmi, Lahore)

برطانیہ میں مقیم جناب پروفیسر مسعود اختر ہزاروی ایک اُستاد، ایک صحافی، ایک عالم دین ہیں۔ برطانیہ جانے سے قبل پنجاب پبلک سروس کمیشن سے لیکچرار سیلیکٹ ہوئے اور ایک عرصہ تک پاکستان میں گورنمنٹ کالجز میں پڑھاتے رہے۔ برطانیہ میں رہ کر پوری دُنیا کے مسلمانوں کی راہنمائی کے لیے تگ و تاز جاری رکھے ہوئے ہیں۔صدائے تکبیر پروفیسر ہزاروی کے روزنامہ جنگ لندن میں شائع ہونے والے کالموں کا مجموعہ ہے۔ 16 جولائی2018 کو لاہور کے فلٹیز ہوٹل میں اِس کتاب کی تقریب رونمائی ہوئی۔ اِس تقریب کا انعقاد ورلڈ کالمسٹ کلب نے کیا تھا۔ ورلڈ کالمسٹ کلب کے چئرمین جناب محمد دلاور چوہدری نے اِس تقریب کی صدارت کی۔ جبکہ مہمانان خصوصی میں مجیب الرحمان شامی، اوریا مقبول جان، سجاد میر، سلمان غنی، سلمان عابد، حافظ عامر سعید، انجم سعید بٹ، ذاہد سعید و دیگر شامل تھے۔ تقریب رونمائی میں نظامت کے فرائض ورلڈ کالمسٹ کلب کے مرکزی سیکرٹری جنرل ممتاز کالم نگار محمد ناصر اقبال خان نے انجام دئیے۔ راقم بھی اِس تقریب میں شریک ہوا۔ پروفیسر مسعود اختر ہزاری نے اپنے کالموں میں اُمت مسلمہ کی دینی و سماجی مسائل میں رہنمائی کا فریضہ ادا کرنے کی زبردست سعی کی ہے۔سچی بات ہے کہ اِن کے کالموں کو پڑھنے کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اِن کا ہر ہرکالم خاص موضوع پر ایک مکمل دستاویز ہے۔ اِن کے کالموں میں نہ صر ف مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے بلکہ اِن مسائل کا حل بھی پیش کیا گیا ہے۔پروفیسر ہزاروی کو دینی و دنیاوی علوم پر ملکہ حاصل ہے۔ صاحب نظر ہیں اور اولیائیکرام سے نسبت کے حامل ہیں۔''استحکام پاکستان کا منتظر یوم آزادی'' کے عنوان سے سب سے پہلا کالم سب محب وطن پاکستانیوں کے دل کی آواز ہے اِس کالم میں پاکستان کے سماجی سیاسی اور معاشی مسائل کا دُکھ واضع نظر آتا ہے۔آئین پاکستان کے ساتھ جو کھلواڑ ہوتارہاہے اُس کی جانب جناب پروفیسر صاحب نے نشان دہی کی ہے۔ پروفیسر مسعود ہزاروی نے ''پروفیسر انٹونی بلیک'' کی کتاب مسلم دُنیا کے سیاسی نظریات پر ایک سیر حاصل کالم لکھا ہے۔ پروفیسر مسعود کے کالموں کی کتاب ''صدائے تکبیر'' میں خرد کی گتھیاں اور اہل جنوں کے نام سے باکمال تحریر شامل ہے۔اِس کالم میں پروفیسر مسعود صاحب نے پاکستان میں نبی پاک ﷺ کی ختم نبوت کے قانون کو ترمیم کرنے کی کوشش کرنے والوں کو آڑئے ہاتھوں لیا ہے۔ اِس کالم میں پروفیسر صاحب کا عشق رسول ﷺ کی شمع فروزاں کرنے کا مشن حاوی ہے۔ ''تصوف اور پیری مریدی کا موجودہ ڈھانچہ'' اِس حوالے سے موصوف نے دو کالم لکھے ہیں اور تصوف کے حوالے سے نام نہاد دنشوروں کی جانب سے تصوف کو دین سے کوئی علحیدہ شے ثابت کرنے کی کوشش کا جواب دیا ہے آپ نے بڑے واضع انداز میں لکھا ہے کہ جب زندگی کے ہر شعبے میں زوال آگیا ہے تو پھر تصوف میں بھی ایسے لوگ گھس گئے ہیں جن کا دین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ماہ رمضان کے متعلق ''اے ماہ رمضان۔۔ مرحبا'' کے نام سے کتاب میں شامل ہے۔اِسی طرح عشق رسولﷺ سے بھر پور ''باب جبریل میرا پتہ ہے'' کے عنوان سے کالم ہے جس میں ذکر ہے کہ پروفیسر صاحب نے باب جبریل سے داخل ہو کر قدمین شریفین کے پاس نماز عصر ادا کی۔اور وہاں بیٹھ کر نبی پاک ﷺ کی خدمت اقدس میں گزارشات کا تزکرہ کیا گیا ہے۔

صدائے تکبیر میں صفحہ نمبر اکتیس پر بلوچستان کی اہمیت اور عالمی سازشیں کے عنوان سے کالم موجود ہے یہ کالم ایک سچے اور پکے پاکستانی کے دل کی آواز ہے۔ اِس کالم میں پروفیسر صاحب نے بلوچستان کی اہمیت اور اِس کے حوالے سے ہونے والی سازشوں کا پردہ چاک کیا ہے۔ نواز حکومت کی جانب سے حلف نامہ اور اقرار نامہ کے حوالے سے جو لایعنی کوشش کی تھی جو درحقیقت ختم نبوت کے قانون کے خلاف ایک سازش تھی اُس کے حوالے سے زوردار کالم لکھا ہے۔اِسی طرح مسلم معاشرے کے ستون مسجد، مسکن، مکتب پر ایک کالم ہے معاشرے کی اہمیت اور معاشرے میں بھلائی کے فروغ کے لیے مسجد گھر اور مکتب کو جو کردار ہے اِس پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے۔جناب پروفیسر مسعود ہزاروی صاحب کے کالموں کا مجموعہ اپنی مثال آپ ہے اِس میں شامل کالم آپ کی زندگی کا نچوڑ ہیں۔

جناب پروفیسر مسعود اختر ہزاروی کی تحریریں بندے اور اُسکے خالق کے تعلق کا مُرقع ہے۔ جب راستے کی رکاوٹیں منزل کو دور کرتی چلی جاتی ہیں تب اﷲ کی ربوبیت پر یقین محکم ہوتا چلا جاتا ہے کہ کوئی ایسی ہستی ہے کہ جس کی منشا کے بغیر منزل کا حصول ممکن نہیں۔ مخلوق کی مرضی اور خالق کی مرضی کے ایک ہونے کے عمل کے کچھ تو لوازمات ہیں۔ ورنہ پھر خالق کی ربوبیت کو صدق دل سے کوئی کیونکر مانتا۔ جب ہر کسی کی اپنی اپنی خواہشوں کا خود سے ہی پورا ہوجانا ممکن ہوتا تو پھر تو رب کا رب ہوناکیسے مانا جاتا۔دل و دماغ میں یہ راسخ ہونا کہ بندے کا ایک ایک فعل اُس کے رب کی عطا سے ہی وقوع پذیر ہوتا ہے تو یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب رب کی عطا کا یقین کامل ہوجاتا ہے۔ جب رب کی عطا کا یقین کامل ہوتا ہے تو پھر بندے کی جانب سے اپنے رب سے مانگے جانے کا عمل انتہائی عجز و انکساری لیے اُس شدت تک پہنچ جاتا ہے کہ ربِ کائنات اپنے بندے کی دُعا ر د نہیں فرماتا۔ ربِ کائنات کو اپنے رب ہونے اور اپنے بندے کی جانب سے اُسی سے مانگے جانے کا عمل اتنا پسند آتا ہے کہ رب اپنے بندے کی التجاء کو لوٹانا اپنی شان ربوبیت کے خلاف سمجھتا ہے اور بندے کو نوازتا چلا جاتا ہے۔ مخلوق اپنے خالق سے اپنی حاجات کو پورا کرنے کے لیے فقط مانگنے کا ڈھنگ سیکھ لے۔رب تو ہر ساعت اپنے بندے کی صدا سننے کے لیے تیار ہے۔ پروفیسر مسعود ہزاروی کے کالم ہمیں اِس بات کا درس دیتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ رب تو عطا ہی عطا ہے۔ جس رب نے اپنے بندے کی خاطر کائنات تخلیق فرمائی ہو جس رب نے اپنے بندے کو اپنا نائب قرار دیا ہو اُس رب کی رحمتیں بے حساب ہیں۔ جب بندہ اپنے سارے دکھ ساری تکلیفیں اپنے رب کے حوالے کر دیتا ہے اور اُسے یہ یقینِ کامل ہوتا ہے کہ اُس کے ہر غم کا علاج اُسکے رب کے پاس ہے تو پھر رب اپنے بندے کی اِس امید کو پورا کرتا ہے اور بندے کی تکالیف کو دور کردیتا ہے۔ بات صرف اتنی سی ہے کہ کامل یقین۔پھر رب پکار اُٹھتا ہے کہ بندہ مومن کی آنکھ میری آنکھ ہے۔بندہ مومن کا ہاتھ میرا ہاتھ ہے۔صدائے تکبیر میں اوریامقبول جان، پیر طریقت خواجہ غلام قطب الدین فریدی مدظلہ العالی، سہیل وڑائچ کی اِن کالموں کے حوالے سے آراء شامل ہیں۔

حقیقت میں پروفیسر مسعود ہزاروی سے ملاقات میں یہ احساس جاگزیں ہوا کہ پروفیسر صاحب مجاہدانہ کردار ادا کر رہے ہیں۔ تقریب رونمائی میں شریک اوریاء مقبول جان، مجیب الرحمان شامی،سلمان غنی، سلمان عابد،سجاد میر، دلاور چوہدری، محمد ناصر اقبال خان،ڈاکٹر نبیلہ طارق، ممتاز اعوان، شہزاد عمران رانا، کامران رفیق، اعظم صابری، راشد علی، برگیڈیر(ر) سید غضنفر علی شاہ،برگیڈیر (ر) حامد سعید اختر، جناب ےٰسین وٹو، ناصف اعوان، ریاض احمد احسان اور دیگر قلم کاروں نے جناب پروفیسر مسعود ہزاروری صاحب کی کتاب کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا یقینی طور پر صدائے تکبیر ایک انتہائی قیمتی دستاویز ہے جو کہ ہر گھر میں ہونی چاہیے۔ پروفیسر مسعود اختر ہزاری صاحب کے کالم برائے کالم نہیں ہیں بلکہ کالم برائے تربیت ہیں۔ جناب پروفیسر ہزاروی کی کتاب میں جو کالم ہیں اِن کے حوالے سے میرا سب سے پہلا تاثر یہ ہے کہ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی اولاد کو یہ کالم ضرور پڑھائیں۔درحقیقت زندگی کو موجودہ دور میں کیسے گزارہ جائے یہ سب کچھ تو جناب پروفیسر صاحب نے انتہائی دردمندی کے ساتھ بیان فرما دیا ہے۔ جب صدائے تکبیر لے کر میں اپنے گھر پہنچا تو سب سے پہلے میں نے اپنے بیٹے پیر زادہ محمد عمر کو کہا کہ یہ کتاب پڑ ھو۔ انشا اﷲ تمھیں اپنے گردو پیش کا ادراک ہو جائے گا۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ صدائے تکبیر میں جو کالم شامل ہیں وہ عام انسانوں کے لیے بالعموم اور نوجوانوں کے لیے بالخصوص انتہائی کا رآمد ہیں۔ اجتہادی نقطہ نظر سے لکھے گئے کالم پاکستانیت و اسلامیت سے بھر پور ہیں۔ قوم کے ہر طبقہ کی راہنمائی کے لیے اﷲ پاک پروفیسر مسعود اختر ہزاروی کو عمر خضر عطا فرمائے(آمین)

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: MIAN ASHRAF ASMI ADVOCTE

Read More Articles by MIAN ASHRAF ASMI ADVOCTE: 445 Articles with 228902 views »
MIAN MUHAMMAD ASHRAF ASMI
ADVOCATE HIGH COURT
Suit No.1, Shah Chiragh Chamber, Aiwan–e-Auqaf, Lahore
Ph: 92-42-37355171, Cell: 03224482940
E.Mail:
.. View More
07 Aug, 2018 Views: 455

Comments

آپ کی رائے