آس کو چر خو

(Malik Muhammad Azam, )

منیر احمد زاہد سے برس ہا برس سے شناسائی ہے ۔ان کا آبائی تعلق مقبوضہ جموں و کشمیر سے ہے ۔ان کے بھائی عابد شہید سے بھی یادگارملاقاتیں اور ان سے جڑی باتیں ہیں۔عابد بڑا ذہین نوجوان تھا۔ایک ملاقات میں راقم اس سے مقبوضہ کشمیر کی معاشرت ٗثقا فت ٗ سیاست اور دیگر امور کے حوالے سے استفسارات کر ر ہا تھا۔وہ میرے ہر سوال کا بڑا جامع مگر مختصر جواب دیتا تھا۔ پاس ہی بیٹھے ہوئے
برادر مکرم ! عطا الرحمان چوہان نے کہا کہ ملک صاحب ! ۔ یہ نوجوان کشمیر کا انسائیکلو پیڈیا ہے ۔1990 کی دہائی کے شروع میں جب سیز فائر لائن کے اُس پاروادی میں نوجوان ایک نئے جذبے اور عزم کے ساتھ اُٹھ کھڑے ہوئے ۔کشمیر جنت نظیر پر بھارت کے غاصبانہ قبضے کے خلاف گویا اعلان جنگ کردیا گیا۔ عابد بھی اپنے ہم وطنوں کی پکار پرسیز فائر لائن عبور کرکے جہاد کی وادی میں اُتر گیا تھا۔ وہاں اس نے کئی ایک معرکوں میں داد شجاعت دی ۔ پھر ایک دن یہ خبرسماعت سے ٹکرائی کہ عابد شہادت کے مرتبہ پر فائز ہو گیا ہے ۔ کشمیر کا بیٹا اپنے وطن کی آزا دی کی تحریک کو گرم گرم خون سے سینچ گیا تھا۔ان کے بڑے بھائی چوہدری نذیر احمد اصلاحی سے بھی یاد اﷲ ہے ۔عجز و انکسار کا مجسمہ ہیں۔ بڑ ی محبت اور اپنائیت سے ملتے ہیں ۔دینی ٗسیاسی اور سماجی میدان میں سر گرم عمل رہتے ہیں ۔

منیر احمد زاہد کو اﷲ تعالیٰ نے بے شمار خوبیوں اور صلاحیتوں سے نوازا ہے ۔ شاعری اور ادب سے طالب علمی کے زمانے سے ایسا رشتہ استوار ہوا کہ جو دن بدن مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا جا رہا ہے ۔ صدا کار بھی ہیں ۔اچھا لہجہ اور خوبصورت دلنشین آواز بھی عطیہ خداوندی ہے۔تحریک آزادی کشمیر کے حدی خواں ٗ ممتاز شاعر اور صداکار سلیم ناز بریلوی (مرحوم)کے شاگرد ہیں۔سلیم ناز بریلوی کشمیر کے جہادی ترانوں ٗ نغموں اور شاعری کے حوالے سے ایک ممتاز نام اور معتبر حوالہ ہیں۔ان کے جہادی ترانوں کے بارے میں ایک بھارتی جرنیل نے کہا تھا کہ یہ ترانے اگر مردے بھی سُن لیں تو قبروں سے باہر نکل آئیں۔منیر احمد زاہد ریڈیو صدائے کشمیر سے عرصہ دراز تک بچوں کا ایک مقبول پروگرام بھی کرتے رہے ہیں ۔اُردو ٗ گوجری اور پہاڑی زبان کے شاعر ہیں۔کچھ عرصہ قبل ایک اخبار میں گوجری خبروں کا سلسلہ شروع کرنے پر بھی خوب داد وصول کر چکے ہیں ۔آج کل ایک ٹی وی چینل پرنیوز کاسٹر اور ایکر پرسن کے فرائض خوش اسلوبی سے ادا کر رہے ہیں ۔گویا جامع صفات اور کمالات شخصیت ہیں۔انتھک اور متحرک انسان ہیں۔سراپا محبت اور ہنس مکھ انسان ہیں۔

منیر احمد زاہد نے کچھ عرصہ قبل ایک ایسا کام کیا کہ جس پر علم دوست اور ادب شناس حلقوں کی طرف سے انہیں زبردست خراج تحسین پیش کیا گیا ہے ۔انہوں نے اپنے نانا جان میاں عبدالرحمان صفدر (مرحوم)کے گوجری ٗپہاڑی ٗ ہندکو اور پنجابی کلام کو بڑی جانفشانی سے مرتب کرکے :آس کو چرغو :کے نام سے شائع کر دیا۔آس کو چرغو میں پوری تاریخ سمو دی گئی ہے ۔جس میں صرف کشمیر کے حسن و جمال کے تذکرے ہی نہیں ہیں ٗ بلکہ کشمیریوں کی حالت زار کو بھی کھول کھول کر بیان کیا گیا ہے ۔ ان کے خوابوں اور ارمانوں کا بھی نقشہ کھینچا گیا ہے ۔ذاتی دُکھ اور دردکے ساتھ ساتھ اجتماعی غموں اور پریشانیوں کو بھی اپنے اشعار کا موضوع بنایا گیا ہے ۔ گیسو و کاجل کے علاوہ ہجرت اور جدائی کے قصے بھی پہلو بہ پہلو ملتے ہیں۔ اگر یہ کہوں تو بے جا نہ ہوگا کہ آس کو چرغو کی اشاعت سے میاں عبدالرحمان صفدر بھی امر ہوگئے ہیں ۔منیر احمد زاہد نے میاں عبدالرحمان صفدرکے علمی ذخیرے کو ضائع ہونے سے بچا کر آنے والی نسلوں ٗ تاریخ دانوں اور شا عری سے دلچسپی رکھنے والے افراد کے لئے ایک خزانہ محفوظ کر دیا ہے ۔ اس طرح نہ صرف منیر احمد زاہد اپنے نانا جی کے علمی وارث ٹھہرے ہیں ٗ بلکہ اس علمی وراثت کو مزیدبڑھا یا اور پھیلا دیا ہے ۔منیر احمد زاہد کی اہلیہ محترمہ صفورہ منیر بھی شاعرہ ہیں۔راقم کو ان کے گوجری کلام کو بھی دیکھنے کا موقع ملا ہے ۔بلا شبہ وہ ایک قادر الکلام شاعرہ ہیں۔اس پر مستزاد یہ کہ علمی اور ادبی جراثیم اب نئی نسل میں بھی سرایت کر گئے ہیں ۔ منیر احمد زاہد کا صاحبزادہ ثاقب منیربھی شعر کہنے لگا ہے۔گویا یہ گھرانہ :ایں خانہ ہمہ آفتاب است :کا مصداق بن گیا ہے ۔

گوجری ایک قدیم اور عوامی زبان ہے ۔جو گردش ایام کے تھپیڑوں سے نبرد آزما ہوتی اور نا موافق حالات کا مقابلہ کرتی چلی آ رہی ہے ۔سرکاری سرپرستی کے بغیر اور کسی قسم کی منصوبہ بندی نہ ہونے کے باوجود گوجری زبان کا صدیوں سے زندہ رہنا اس کی عوامی پذیر ا ئی اور اثر انگیزی کا واضح ثبوت ہے ۔ گوجری حد درجہ میٹھی ٗ عام فہم اور دلوں پر اثر کرنے والی زبان ہے۔ گوجری کشمیر کے دونوں حصوں کے علا وہ راجھستان ٗہزارہ ٗسوات ٗگلگت بلتستان ٗافغانستان ٗچین اورچیچنیا سمیت دیگر کئی ممالک اور خطوں میں تھوڑے لفظی اختلاف کے ساتھ بو لی اورسمجھی ہی نہیں بلکہ لکھی اور پڑھی بھی جاتی ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں سرکاری سرپرستی میں گوجری کے کئی ایک رسائل و جرائد کی اشاعت کے ساتھ ساتھ علمی ٗ ادبی اورتاریخی موضوعات پر تحقیقی اور معیاری کتب کی اشاعت کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے ۔ خونی لکیر کے اُس پار گوجر ی زبا ن کی ترویج و اشاعت کے حوالے سے ٹھوس بنیادوں پر ماہرین اور اساتذہ کی رہنمائی اور سرپرستی میں لائق تحسین کام ہو رہا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر سے شائع ہونے والی گوجری لغت اور دیگر علمی و ادبی موضوعات اور شاعری کی متعدد کتابیں دیکھنے کا موقع ملا ہے۔وہ معنوی اور صوری ہر لحاظ سے معیاری اور مستند کتابیں ہیں۔ مگر افسوس کہ آزاد خطے میں سرکاری طور پر گوجری زبان کی سرپرستی کے حوالے سے کوئی قدم نہیں اُٹھایا گیا۔محبان گوجری اپنی ذاتی حیثیت میں جیب سے خرچ کرکے اپنی تصانیف شائع کرواتے رہتے ہیں۔آزادکشمیر حکومت کو اس طرف توجہ کرنی چاہیے ۔اب تک کی غفلت اور بے حسی کا ازالہ بھی کرنا چاہیے ۔آزاد جموں و کشمیر کی حکومت کوتمام مقامی زبانوں میں لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی اور سرپرستی کرنی چاہیے ۔غنیمت ہے کہ پاکستان ٹیلی ویژن (ptv) پر چند منٹ کی گوجری خبریں سننے کو ملتی ہیں۔جبکہ ریڈیو تراڑکھل ٗ مظفرآباد اور میرپور سے بھی گوجری پروگرام جاری ہیں۔چند سال پہلے ایک پرائیویٹ ریڈیو چینل کی طرف سے ایبٹ آباد سے بھی گوجری زبان میں پروگرام شروع کیا گیا تھا۔ اس سلسلے میں یہ امر خوش آئند ہے کہ گوجری کے چاہنے والے کچھ احباب کی طرف سے گوجری مشاعروں کا اہتمام کیا جانے لگا ہے ۔ اردو اور دیگر زبانوں کے شاعروں کے ساتھ گوجری کے شاعروں کو بھی مشاعروں میں بلوایا جانا لائق تحسین ہے ۔
112 صفحات پر مشتمل اس کتاب کا انتساب :اپنا پیاراں تے خونی لکیر کے دوئے پاسے بچھڑیا وا لوکاں کے ناں :کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر صابر آفاقی نے :صفدر ۔۔ درد بچھوڑا کو شاعر : کے عنوان سے اور رانا فضل حسین راجوروی نے بھی اپنے انداز میں میاں عبد الرحمن صفدر کی شخصیت اور ان کے کلام کے حوالے سے ا ظہار خیال کیا ہے ۔صغیر قمر نے بھی اپنے مخصوص انداز میں شاعر کو خراج تحسین پیش کیا ہے ۔منیر احمد زاہد نے صاحب کتاب کا بڑی تفصیل کے ساتھ تعارف کروایا ہے ۔انہوں نے اپنے نانا مرحوم کی حیات مستعار کے ماہ و سال کا تذکرہ دلنشین انداز میں کیا ہے ۔منیر احمد زاہد نے اپنی ایک نظم میں میاں عبدالرحمان صفدر کو خوبصورت الفاظ میں خراج تحسین بھی پیش کیا ہے ۔
مٹھی گوجری ہے مہاری ماں بولی ٗ اس کو مان ٗنالے ذیشان صفدر
سوہنی صورت تے نالے گل پیاریں ٗعلم حلم تے خُلق کی شان صفدر
چنگی گل دسیں پُھلاں جئی سوہنیں ٗعلم آلا خزانہ کی کان صفدر


گوجری کلام کے اس مجموعہ کے جملہ حقوق قاری محمد صدیق ( پسر شاعر)محفوظ ہیں ۔جبکہ کتاب کے حصول کے لئے موبائل نمبر 03005148044 پر منیر احمد زاہد سے رابطہ کیا جا سکتا ہے ۔ ٭ ٭ ٭ ٭

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Malik Muhammad Azam

Read More Articles by Malik Muhammad Azam: 48 Articles with 26419 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 Jul, 2018 Views: 604

Comments

آپ کی رائے