کیا ضیاء الحق کو قتل کیا گیا ہے؟

(Aslam Lodhi, Lahore)

یہ خصوصی رپورٹ سانحہ بہاولپور پر ریڈرز ڈائجسٹ میں شائع ہونے والی ایک کہانی سے اخذ کی گئی ہے ۔ جسے من و عن قارئین کی نذر کیاجارہاہے -
**********************
’’آپ کی جان خطرے میں ہے۔ خدا کے لئے آپ حفاظت کا معقول بندوبست کریں۔‘‘ جون 1988ء میں کابینہ کے ایک خفیہ اجلاس میں سینیٹر محمد اسلم خاں خٹک نے صدر ضیاء الحق کو یہ انتباہ کیا۔ صدر کو یہ انتباہ کرنے سے چند گھنٹے قبل اسلم خٹک کو افغانستان میں اپنے خصوصی ذرائع سے یہ اطلاع ملی تھی کہ افغانستان کی خفیہ تنظیم ’’خاد‘‘ نے جو روسی سراغرساں تنظیم کے جی بی کی نگرانی میں کام کرتی ہے‘ پاکستان کے چند سرکردہ رہنماؤں کو قتل کرنے کے لئے خصوصی دستے مامور کئے ہیں اور اس میں سرفہرست جنرل ضیاء الحق کا نام ہے۔ یہ بات ممتاز جریدے ریڈرز ڈائجسٹ نے سانحہ بہاولپور پر ایک خصوصی رپورٹ میں بتائی ہے۔

جن لوگوں کے قتل کا پروگرام بنایا گیا تھا ان میں جنرل اختر عبدالرحمن کا نام بھی شامل تھا جو ضیاء الحق کے ممکنہ جانشین بھی ہو سکتے تھے۔ افغانستان کے معاملے میں جنرل اختر عبدالرحمن کی کامیابیوں سے جنرل ضیاء الحق کے علاوہ کوئی دوسرا شخص زیادہ باخبر نہ تھا۔ جولائی 88ء کی بات ہے کہ ایک ذاتی ملاقات میں جنرل اختر عبدالرحمن سے ضیاء الحق نے کہا ’’تم نے معجزہ کر دکھایا ہے۔ میں تمہارے اس شاندار کارنامے پر تمہیں کیا انعام دے سکتا ہوں۔ تمہارا انعام تو بس خدا ہی کے پاس ہے۔‘‘ ضیاء الحق اور اختر عبدالرحمن نے بلاشبہ اپنی مشترکہ مساعی سے ایک معجزہ کر دکھایا تھا۔ افغانستان میں روس کی پسپائی اور روس کی اس شکست کو اگر اب بھی روکنا کسی طرح ممکن تھا تو بس اسی طرح کہ ان دونوں کو راستے سے ہٹا دیا جائے۔ 1979ء میں جب روس نے افغانستان پر حملہ کیا تو جنرل ضیاء نے افغان تحریک کی مدد کے لئے اختر عبدالرحمن کو نامزد کیا۔ جنرل اختر عبدالرحمن نے انتہائی دانش مندی اور اہلیت کا ثبوت دیا۔ اس نے مجاہدین کو اسلحہ کی فراہمی کا ایک انتہائی خفیہ اور موثر نظام قائم کیا۔ ان کے لئے تربیتی مراکز اور پناہ گاہیں بنائیں اور سب سے بڑی بات یہ کہ مناسب جدید اسلحہ سے محروم چالیس سے زائد چھاپہ مار گروپوں کے اختلافات کو ختم کر کے انہیں سات تنظیموں کے ایک متحدہ محاذ کی شکل دے دی۔

جنرل اختر عبدالرحمن کی قائم کردہ سپلائی لائن موثر طور پر کام کرنے لگی اور جدید امریکی اسلحہ بھی اس کے ذریعہ مجاہدین کو ملنا شروع ہو گیا تو جنگ کا نقشہ ہی بدل گیا۔ روسیوں کے پاؤں اکھڑنے لگے تو جنرل اختر نے مجاہدین کو ایسے جنگی معرکوں کے نقشے بنا کر دیئے جن کے ذریعے مجاہدین میدان جنگ میں روسیوں کو بڑی تعداد میں ہلاک کرنے میں کامیاب ہوئے۔ ضیاء الحق کو اس طرح مجاہدین کی امداد سے روکنے کے لئے روسیوں نے پاکستان میں تخریب کاری کا منصوبہ بنایا اور مختلف علاقوں میں پے در پے بموں کے دھماکوں سے بے شمار معصوم شہری ہلاک کئے جانے لگے۔ صرف 1987ء میں ’’خاد‘‘ کی ان تخریبی سرگرمیوں کے نتیجہ میں 234 پاکستانی ہلاک اور 12 سو سے زائد زخمی ہوئے کہ اس عرصہ میں تمام دنیا میں تخریبی کارروائیوں اور دہشت گردی سے ہلاک ہونے والے جانی نقصان کی نصف سے زائد تعداد بنتی ہے لیکن ضیاء الحق نے قدم پیچھے نہ ہٹائے۔ مجاہدین کو اسلحہ کی فراہمی تیزی سے بڑھتی رہی اور اسی اعتبار سے ان کی کامیابیوں میں اضافہ ہوتا رہا۔ بالآخر گورباچوف نے 88ء میں افغانستان سے روسی فوجوں کی واپسی شروع کر دی۔ سوال صرف یہ تھا کہ کسی طرح مجاہدین کو اسلحہ کی سپلائی اور مدد بند ہو جائے تو پھر روسی فوجوں کے بعد کابل کی کمیونسٹ حکومت کو بچایا جا سکتا ہے۔ اس لئے سوویت یونین نے ضیاء الحق اور پاکستان کے خلاف اپنی دھمکیوں اور منصوبوں میں اضافہ کر دیا۔ ضیاء الحق بھی ان دھمکیوں کی خطرناک اہمیت سے بخوبی واقف تھے۔ 1981ء کے بعد سے کم ازکم چار مرتبہ ان کی جان لینے کی کوشش کی جا چکی تھی۔ جنرل ضیاء کے ایک ساتھی کے بقول گزشتہ سال موسم گرما میں ایک اعلیٰ روسی نمائندے نے ضیاء الحق کو خطرناک نتائج کے بارے میں انتباہ کیا تھا اور ضیاء الحق نے جواب دیا تھا ’’آپ کی دھمکیاں مجھے خوفزدہ نہیں کر سکتیں۔ ایک مسلمان کی حیثیت سے میرا عقیدہ ہے کہ موت کا دن مقرر ہے اور میں کسی طریقے سے اس کو بدل نہیں سکتا۔‘‘
اگست 1988ء کے آغاز میں ضیاء الحق نے وہ فیصلہ کیا جو بالآخر ان کے خاتمہ پر منتج ہوا۔ کافی دنوں سے ان کا ایک معتمد ماتحت فوجی افسر ضیاء الحق پر زور دے رہا تھا کہ وہ 17 اگست کو ملک کے مشرقی حصہ کے ایک فوجی اڈے پر امریکی ٹینک کے آزمائشی مظاہرے کا معائنہ کریں۔ اگرچہ ضیاء الحق نے اہل خانہ اور رفقاء کے ساتھ بات چیت میں اس شخص کے اصرار پر حیرت کا اظہار کیا لیکن بالآخر وہ اس سفر پر راضی ہو گئے اور اس بات کو مان لیا کہ اس مظاہرے پر ان کی موجودگی سے مسلح افواج کا حوصلہ بلند ہو گا اور بعد میں جو کچھ ہوا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بہت کامیابی سے بچھایا گیا جال تھا۔

جنرل اختر کا اس مظاہرے میں شرکت کا کوئی پروگرام نہ تھا لیکن 16 اگست کی شام جنرل اختر عبدالرحمن کے ایک قابل اعتماد ساتھی نے ان کے ساتھ کچھ ایسی بات چیت کی جس کے بعد انہوں نے صدر ضیاء الحق کو ٹیلی فون کیا اور بتایا کہ انہیں بعض انتہائی اہم معلومات حاصل ہوئی ہیں اور صدر ضیاء الحق نے جنرل اختر سے کہا کہ وہ 17 اگست کو ان کے ساتھ بہاولپور چلیں اور راستہ میں انہیں ان باتوں سے آگاہ کریں۔ اس طرح جنرل اختر عبدالرحمن کو ان کے ایک رفیق کار کی فراہم کردہ معلومات کی وجہ سے وہ بھی 17 اگست کی صبح سفر پر جانے والے صدر کے طیارے میں سوار ہو گئے۔ پاکستان ایئرفورس کی طرف سے عام طور پر جنرل ضیاء الحق کے سفر کے لئے دو لاک ہیڈ سی 130 طیاروں کا انتظام کیا جاتا تھا اور کسی ممکنہ سازش کے اندیشے کو ختم کرنے کے نقطہ نظر سے سکیورٹی حکام عین پرواز کے وقت ہی یہ اعلان کرتے تھے کہ ان میں سے کس طیارے میں صدر کو سوار ہونا ہے۔ 17 اگست کو راولپنڈی کے نزدیک چک لالہ کے ہوائی اڈے پر دونوں سی 130 طیارے کھڑے تھے۔ صدر ضیاء الحق‘ جنرل اختر عبدالرحمان‘ امریکی سفیر رونلڈ رافیل‘ بریگیڈیئر جنرل ہربرٹ واسم اور دوسرے سینئر پاکستانی جنرل جب ان میں سے ایک طیارے میں سوار ہو گئے تو ضابطہ کے مطابق ان کا نام ’’پاک ون‘‘ ہو گیا۔ یہ سی 130 طیارہ امریکی ٹینک کے مظاہرے کی جگہ سے قریب واقع ملتان کے فوجی ہوائی اڈے پر اتر سکتا تھا لیکن اسے بہاولپور لے جایا گیا جہاں ہوائی اڈا اتنا چھوٹا تھا کہ دو سی 130 طیارے وہاں نہیں اتر سکتے اور نہ ہی پرواز کر سکتے تھے۔ اس طرح ’’پاک ٹو‘‘ چک لالہ ایئرپورٹ پر ہی کھڑا رہا۔ اس طرح یہ بات واضح طور پر متعین اور معلوم ہو گئی کہ واپسی سفر پر صدر پاکستان کس طیارے میں سفر کریں گے۔ صدر ضیاء الحق اور ان کے رفقاء جب ٹینک مظاہرہ دیکھ رہے تھے اس وقت وہاں موجود بعض افراد کے بیان کے مطابق ایئرپورٹ پر تین مختلف تنظیموں نے نگرانی اور کارکردگی سنبھال رکھی تھی۔ ریگولر ایئرپورٹ اور ملٹری پولیس ہوائی اڈے کی طرف جانے والے راستوں کی نگرانی کر رہے تھے۔ ایک فوجی دستہ ’’پاک ون‘‘ سے چار سو گز کے فاصلہ پر حفاظتی حصار بنائے ہوئے تھا اور مقامی سول پولیس طیارے کی نگرانی کر رہی تھی۔ اس خلاف معمول صورت حال کی وجہ سے وہاں احکامات اور اختیار کی مرکزیت مفقود تھی۔ ایک پولیس افسر کے بیان کے مطابق دو سویلین افراد غالباً مرمت کے کسی کام کے لئے طیارے میں داخل ہوئے۔ اس کا کہنا تھا کہ ان افراد کا طیارے میں داخل ہونا میرے نزدیک ایک غلط حرکت تھی‘ لیکن میں انہیں روک نہیں سکا کیونکہ میرے پاس ایسا کوئی اختیار نہ تھا۔

طیارے کا کپتان ونگ کمانڈر مشہود فرخ معاون ہواباز ساجد چوہدری ایک انجینئر اور ایک نیوی گیٹر پرواز کے لئے تیاری کے سلسلے میں ضروری چیکنگ میں مصروف تھے۔ صدر پاکستان اور ان کی پارٹی کے افراد ساڑھے تین بجے ایئرپورٹ پہنچ گئے۔ صاف اور پرسکون فضائی ماحول میں پاک ون 3 بج کر 46 منٹ پر فضا میں بلند ہوا۔ بہاولپور ایئرپورٹ کے کنٹرول ٹاور سے ایئرپورٹ منیجر شاہین فاضل نے پاک ون کے پائلٹ سے رابطہ قائم کرنا چاہا لیکن کوئی جواب نہ ملا۔ اس دوران دوسرا طیارہ ’’پاک ٹو‘‘ کے ہوا باز سے کہا کہ وہ ’’پاک ون‘‘ سے رابطہ قائم کرے۔ ’’پاک ٹو‘‘ کے پیغام کے جواب میں معاون ہواباز ساجد نے جواب دیا ’’سٹینڈ بائی‘ سٹینڈ بائی‘ پاک ٹو‘‘ کے پائلٹ اور دوسرے ایک طیارے کو جو پاک ون کے بعد بہاولپور کے ہوائی اڈے سے پرواز کے لئے تیار تھا ایک نحیف سی آواز ’’پاک ون‘‘ سے سنائی دی۔ ان لوگوں کے خیال میں یہ جنرل ضیاء الحق کے ملٹری سیکرٹری بریگیڈیئر نجیب احمد کی آواز تھی‘ جنہوں نے کہا ’’مشہود‘ مشہود‘ تم کیا کر رہے ہو؟‘‘ یہ آخری الفاظ تھے جو صدر کے طیارے کی طرف سے سنے گئے۔

پرواز کے تقریباً دو منٹ بعد زمین پر موجود لوگوں نے دیکھا کہ ’’پاک ون‘‘ عجیب وغریب انداز سے حرکت کر رہا ہے۔ پائلٹ اور معاون ہواباز دونوں کے پاس مائکرو فون تھے اور گراؤنڈ کنٹرول سے بات کر سکتے تھے لیکن بعد کے دو منٹ کے عرصہ میں جبکہ طیارہ قلابازیاں کھاتا رہا انہوں نے ایک لفظ بھی نہ کہا۔ ٹھیک 3 بج کر 51 منٹ پر طیارے نے 65 درجہ زاویہ پر غوطہ لگایا اور آٹھ میل کے فاصلہ پر زمین سے آ ٹکرایا‘ طیارے میں سوار تمام افراد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔ امریکی قانون کے تحت ایف بی آئی کا یہ فرض ہے کہ اگر کوئی امریکی شہری تخریب کاری کے حادثے میں ہلاک ہو جائے تو اس کی تحقیقات کرے۔ اس قانونی ذمہ داری کے تحت ایف بی آئی نے فوری طور پر ماہرین کی ایک ٹیم پاکستان بھیجنے کے لئے تیار کی۔ 21 اگست کو امریکی دفتر خارجہ نے زبانی طور پر اس کی منظوری بھی دے دی تھی لیکن پھر چند گھنٹے بعد بعض ’’اضافی اسباب‘‘ کی بناء پر یہ منظوری واپس لے لی گئی۔ اس کے بعد تین ہفتہ تک ایف بی آئی کے ایگزیکٹو اسسٹنٹ ڈائریکٹر الیورایول دفتر خارجہ اور امور خارجہ کی بیورو کریسی میں بار بار درخواست کرتے رہے کہ وہ ایف بی آئی کو اپنی قانونی ذمہ داری کی تکمیل کے لئے اقدام کی اجازت دیں لیکن انہیں ہر بار ناکامی ہوئی اور مسٹر الیورایول کا کہنا ہے کہ آج تک مجھے اس سوال کا کوئی تسلی بخش جواب نہیں مل سکا کہ ہمیں اس کام سے کیوں روکا گیا اور ہمیں یہ بھی معلوم نہیں ہوا کہ یہ فیصلہ کس نے کیا تھا؟

حادثہ کے اگلے روز ایف بی آئی اور ڈیفنس ڈیپارٹمنٹ کے ماہرین کے مطابق جنہوں نے حادثہ کے مقام کا معائنہ کیا تھا‘ یہ حادثہ طیارے میں کسی فنی خرابی کا نتیجہ نہیں تھا لیکن بعد میں سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور دوسرے امریکی حکام کے حوالہ سے کسی کا نام ظاہر کئے بغیر یہ غیرمصدقہ خبریں گشت کرتی رہیں کہ امریکی ماہرین کا خیال ہے کہ حادثہ فنی خرابی کی وجہ سے ہوا۔ ان خبروں کا مقصد ظاہر کرنا تھا کہ یہ محض ایک حادثہ ہے۔ بلکہ ایک اعلیٰ پاکستانی ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں امریکی سفارت خانہ کی طرف سے پاکستانی حکام کو یہ کہا گیا تھا کہ اس حادثے کے حوالے سے وہ سوویت روس کی پوزیشن کو خراب کرنے کی کوشش نہ کریں۔ اس مشورے کے الفاظ کچھ یوں تھے کہ ’’آپ بلاوجہ (روسی) ریچھ کی دم مروڑنے کی کوشش نہ کریں۔‘‘

دریں اثناء پاکستانی حکام نے اس حادثہ کے اسباب کی تحقیقات کے سب سے اہم ذریعہ یا شہادت کو دفن کر دیا۔ حادثہ کے مقام سے بعض لاشیں خاص طور پر عملے کے ارکان کی لاشیں کافی حد تک صحیح تھیں۔ بہاولپور ملٹری ہسپتال میں انہیں پوسٹ مارٹم کے لئے بھیجا گیا اور ڈاکٹروں نے ابتدائی طور پر ان میں سے بعض کے ’’ٹشو‘‘ علیحدہ کر کے ریفریجریٹر میں محفوظ بھی کر لئے تھے بلکہ امریکی فوجی اتاشی بریگیڈیئر جنرل واسم کی لاش کا پوسٹ مارٹم بھی کیا گیا لیکن ہسپتال کے ذرائع کے مطابق بعد میں ایک سرکاری حکم موصول ہوا جس میں پوسٹ مارٹم کرنے سے روک دیا گیا حالانکہ ہوابازوں کی لاش کے پوسٹ مارٹم سے یہ معلوم ہو سکتا تھا کہ واقعی ان کیمیکلز کی وجہ سے جن کی نشاندہی طیارے کے ڈھانچہ کے بعض اجزاء پر کی گئی تھی ہواباز مرنے سے قبل مفلوج یا بیہوش ہو گئے تھے۔

پاکستان کی حالیہ وزیراعظم بے نظیر بھٹو کھلے عام جنرل ضیاء الحق کے متعلق اپنی نفرت کا اظہار کرتی تھیں کیونکہ جنرل ضیاء نے پہلے ان کے والد ذوالفقار علی بھٹو کو اقتدار سے برطرف کیا اور پھر انہیں پھانسی دے دی۔ ضیاء الحق کی موت کے بعد بے نظیر بھٹو نے کہا ’’یہ بلاشبہ خدائی فعل ہے۔‘‘ بہاولپور پولیس نے لوگوں سے جنہوں نے بعض غیرمعمولی باتیں سنی تھیں‘ کوئی پوچھ گچھ نہیں کی گئی۔ حفاظتی انتظامات کی نگرانی کرنے والے حکام نے بتایا کہ خود ان سے یا اس موقع پر موجود دوسرے افراد سے قطعاً کوئی پوچھ گچھ نہیں ہوئی۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اور امریکہ دونوں حکومتوں نے صدر ضیاء الحق‘ جنرل اختر عبدالرحمن‘ امریکی سفیر رافیل اور بریگیڈیئر جنرل واسم کی موت کو ایک معمولی واقعہ قرار دے کر بھلا دیا۔ تاہم ایف بی آئی نے اس قصہ کو ختم نہیں سمجھا۔ ڈائریکٹر ولیم سیشن اور مسٹر ریول کی ہدایت پر تخریب کاری کی روک تھام کے ماہرین نے پاکستان بورڈ آف انکوائری کی رپورٹ کا بغور جائزہ لیا۔ طیارے کے تباہ شدہ ڈھانچے کے کچھ حصے امریکہ لائے گئے اور امریکی لیبارٹریز میں ان کا جائزہ لیا گیا اور ایف بی آئی کے ایجنٹوں نے امریکی فضائیہ کے ان تمام ماہرین سے سوالات کئے جنہوں نے پاکستانی بورڈ کی تحقیقات میں مدد دی تھی۔ ان امریکی افسروں کا کہنا ہے کہ اگر طیارے کے فنی خرابی سے تباہ ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا تو اس کا لازماً یہ مطلب نہیں لیا جا سکتا کہ ایسا نہیں ہو سکتا تھا لیکن اس کے باوجود تحقیقات میں شامل تمام افراد کا یہی خیال تھا کہ یہ حادثہ مجرمانہ تخریب کاری کی وجہ سے ہواہے۔ ایف بی آئی کے ایگزیکٹو اسسٹنٹ ڈائریکٹر مسٹر ریول نے ایف بی آئی کے دوسرے حکام اور اٹارنی جنرل رچرڈ تھورن برو کی مدد سے اس بات کا تہیہ کیا ہوا ہے کہ ایف بی آئی کو اس معاملہ کی کھوج لگانے کے لئے مزید تحقیقات کرنی چاہئے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایسے لوگ موجود تھے جو ضیاء الحق کو ختم کرنے میں گہری دلچسپی رکھتے ہوں گے۔

کابل حکومت جس نے پہلے بھی ضیاء الحق کو ہلاک کرنے کی کوشش کی اور اس کے علاوہ خود روس کو جنرل ضیاء الحق اور اختر عبدالرحمن کے قتل سے بہت فائدہ پہنچ سکتاتھا لیکن اس طیارے کو تخریبی کارروائی کے ذریعے تباہ کرنا ایک ایسا پیچیدہ اور دشوار عمل تھا جسے کوئی دہشت گرد تنظیم اور افغان ایجنٹ پایہ تکمیل تک نہیں پہنچا سکتے تھے۔

یہ تو پاکستان ہی کے کچھ لوگوں کے لئے ممکن تھا جنہوں نے ضیاء الحق کو بہاولپور جانے پر آماددہ کیا اور جنرل اختر عبدالرحمن کو اس کے ساتھ سفر کرنے کی ترغیب دلا سکے۔ یہ انتظام کسی پاکستانی ہی کے بس میں تھا کہ صدر ضیاء الحق کا طیارہ ایک ایسے چھوٹے ہوائی اڈا پر اتارا جائے جہاں دوسرے متبادل حفاظتی سی 130 طیارے کے لئے گنجاش نہ ہو اور کسی کو اس بات کا اہتمام کرنا تھا کہ حفاظتی انتظامات وہاں اتنے نرم ہوں کہ ایک متعین ایجنٹ طیارے میں داخل ہو کر وہاں حادثہ کا سبب بننے والا کوئی آلہ (بم وغیرہ) رکھ سکے اور کسی کو اس بات کا فیصلہ کرنا تھا کہ ہوابازوں کی لاش کا پوسٹ مارٹم نہ ہونے پائے جس سے پتہ چل سکتا کہ حادثہ سے قبل ہواباز اور معاون ہواباز کیوں خاموش ہو گئے تھے بالآخر ایف بی آئی حکام اس بات میں کامیاب ہو گئے کہ انہیں اس معاملہ میں تحقیقات کا موقع فراہم کیا جائے لیکن اس دوران میں کانگریس کی کرائم سب کمیٹی نے اس سوال کی تحقیقات شروع کر دی کہ اتنے عرصہ تک ایف بی آئی کو حادثہ کے مقام پر پہنچنے اور تحقیقات کرنے سے روکنے والا کون تھا؟ سب کمیٹی کے چیئرمین ولیم ہیوگز کا کہنا ہے کہ سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کا یہ فعل انتہائی احمقانہ تھا؟ کمیٹی کے ایک اجلاس میں سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ایک افسر نے اس کا اعتراف کیا اور کہا ’’اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایک غلط فیصلہ تھا۔‘‘ ایوان نمائندگان کے رکن بل میک کالم کا کہنا ہے کہ میں نہیں سمجھتا کہ اب اتنے عرصہ کے بعد ایف بی آئی اس بات کا سراغ لگا سکے کہ پاکستان میں فی الواقع کیا ہوا تھا لیکن ہم اس بات کا ضرور پتہ چلانا چاہتے ہیں کہ یہاں سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میں کیا ہوا تھا اور کیوں؟ اس معاملے کا انتہائی شرمناک پہلو یہ ہے کہ پاکستان میں (اس معاملہ کی بروقت چھان بین نہ کرنے کی وجہ سے) اصل معاملہ کی کھوج لگانے کے احکامات کو معدوم کر دیا گیا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Aslam Lodhi

Read More Articles by Aslam Lodhi: 561 Articles with 281382 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
07 Aug, 2018 Views: 302

Comments

آپ کی رائے