مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت بدلنے کی بنیا کوشش

(Prof Dr Shabbir Ahmed Khursheed, Karachi)

 تقسیمِ ہندوستان کے فار مولے تحت ہندوستان کی کسی ریاست کو یہ حق حاصل نہ تھا کہ اُس کا حکمران یا کوئی اور جغرافئے کو بدلنے کی کوشش کرے یا عوام کی مرضی کے بغیر ہندو ستان یا پاکستان میں،کوئی ریاست اپنی مرضی سیآذادی یاکہیں شمولیت کا اعلان کر دے ،یا ؂ خود مختاری کا اعلان کر دے۔جبکہ آزادی کے بعد ریاست جمو و کشمیر کا پاکستان سے stand still agreement بھی موجو د تھا۔ماؤنٹ، بیٹن ،گاندھی یا نہرو کو یہ حق کس قانون نے دیا کہ وہ مہاراجہ کشمیر کو گھیر کر ور غلائیں؟ اور زبردستی مسلم اکثریتی علاقے جمووکشمیر کو ہندوستان کا غیر قانونی حصہ بنا کر ساری دنیا کو دھوکہ دیتے پھریں!اس حقیقت سے کیا کوئی انکار کرے گا کہ جغرافیائی لحاظ سے جموں و کشمیر پاکستان کا حصہ ہے ۔کیونکہ کوئی ایک راستہ بھی آزادی کے وقت ہندوستان سے کشمیر کو نہیں جاتا تھا۔مگر اس کے باوجود لارڈ ماؤنٹ بیٹن سے ساز باز کر کے27،اکتوبر1947کوہندوستان نے اپنی غاصب فوجیں رات کے اندھیرے میں سرینگر کے ہوئی اڈے پر ہوائی جہازوں کے ذریعے جموں و کشمیر میں اتاری دیں۔جن کے ذریعے جموں کشمیر کے ساڑھے 6ہزار مربع کلو میٹر سے زیادہ رقبے پر رات کی تاریکی میں ہندوستان کے ساڑھے 7لاکھ سے زیادہ فوجیوں کونا صرف تا رگیابلکہ نہتے کشمیریوں پرمظالم کا آغاز کر دیا اور لاکھوں نہتے کشمیریوں کو نا کردہ گناہوں کی پاداش میں گذشتہ 71 سالوں کے دوران شہید کردیا گیاہے۔ اس پر عالمی ضمیر کی خاموشی مسلمانوں سے تعصب کے سوائے کچھ اور نظر نہیں آتا ہے۔

بانیِ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح واضح الفاظ میں کہہ چکے ہیں کہ ’’کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے۔جس کو ہم دشمن کی تلوار کے نیچے نہیں دے سکتے!‘‘ 1948میں پاکستان کے بازوئے شمشیر زن قبائل سے مل کر پاکستان نے کشمیر کے بڑے حصے کو ہندو غاصبیت سے آزاد کرالیا اور جب پاکستانی کشمیر میں مزید آگے بڑھتے چلے جا رہے تھے تو پنڈت جواہر لال نہرو بھاگے ہوئے گئے اوراقوامِ متحدہ کے دروازے پر پہنچ کرکشمیر میں جنگ بندی کرانے میں کامیاب ہوگئے ۔مگر اقوام متحدہ نے اس وقت ایک قرار داد کے ذریعے کشمیر میں استصوابِ رائے کرانے کا ہندوستان وعدہ لیاتھا۔ مگرآج بد قسمتی سے 71سال گذرجانے اور اقوام متحدہ کی چار مرتبہ پاس کی گئی مختلف قراردادوں میں، 17،اپریل 1948 ۔13اگست 1948۔5جنوری1949اور 23دسمبر 1952کو کشمیریوں کو حقِ خود ارادیت دلانے کا کہااورمذکورا قرار دادیں منظور کی گئیں،مگر ان تمام قرار دادوں پر ہندوستان نے آج تک عمل نہیں کیا اواس حوالے سے اقوام ِمتحدہ بھی خاموش دکھائی دیتی ہے۔

ہندوستان نے اپنے آئین میں جموں وکشمیر کو ظالمانہ طریقے پرہندوستان کا حصہ تو بنا لیا تھا ۔جس کی مزاحمت ابتدا سے ہی جاری ہے۔مگر اب ہندوستانی سُپریم کورٹ کے ذریعے آئین ہند کی دفعہ 35-A کو ختم کوکرانے کی مذموم کوشش کی جا رہی ہے۔ اس دفعہ کے تحت کشمیر کے کئی نسلوں سے آباد باشندوں کو ہی یہ حق حاصل ہے کہ وہ ہی کشمیر میں غیر منقولہ جائدادوں کی خرید و فروخت کا حق رکھتے ہیں۔ ہندوستان کے سُپریم کورٹ میں دائر کی گئی در خواست ہندوستان کے آئین کی شق نمبر 370کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔ہندوستان اسرائیلی انداز پر کشمیریوں کی اکثریت کے خاتمہ کے لئے سر توڑ کوششیں کر رہا ہے۔جو اقوامِ متحدہ کی قرار دادوں کی بھی کھلی مخالفت ہے۔جس کے خلاف کشمیریوں نے اپنا بھر پور ردِ عمل دکھایا ۔تو ہندوستان کے غاصب فوجیوں اور حکومت نے کشمیریوں کی آواز کو دبانے کے لئے اپنے ظلم و تشدد کے حربے آزمانا شروع کر دیئے۔ہندوستانی فوجیوں نے جوریاستی دہشت گردی 71 سال سے جاری رکھی ہوئی ہے،اس کی تازہ کاروائیوں کے دوران 7بے گناہ ،معصوم اور نہتے کشمیریوں کو بر بریت کا نشانہ 4، اگست 2018کو بنا کر شہید کر دیئے۔پیلٹ گنوں سے سینکڑوں کشمیریوں کو زخمی بھی کیا۔مگر عالمی ضمیر سویا ہوا ہے۔ہندوستان کی اس بے رحمانہ کاروائی نے کشمیریوں میں ہندو قابض فوجیوں اور حکومت کے خلاف مزید شدید نفرت پیدا کر دی ہے۔جس کے اگلے دن ایک نہتے کشمیری کو سابق کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ فاروق عبد اﷲ کے گھر میں داخل ہونے پر گولیاں برسا کے شہید کر دیاگیا۔حریت رہنما سید علی گیلانی،میر واعظ عمر فاروق،محمد اشرف صحرائی، محمد یٰسین ملک،ظفر اکبر بٹ،فریدہ بہن جی،شبیر احمد ڈار،محمد اقبال،میر محمد احسن ،امتیاز احمد ریشی اور غلام نبی ڈار نے اپنے بیانات میں ہندوستانی دہشت گردی کی شدید مذمت کرتے ہوئے نو جوان شہداء کو خراجِ تحسین پیش کیا۔اگلے دن مقبوضہ کشمیر کی حیثیت بدلنے کی ہندوستانی کوششوں کے خلاف وادی میں مکمل ہڑتال کی گئی تو ہندو بر بریت کا نشانہ ایک اور نو جوان کو بنا دیا گیا۔جس کی وجہ سے مقبوضہ وادی میں کاروبارِ زندگی مکمل طور پر معطل رہا۔ سید علی گیلانی اور میر واعظ سمیت کئی رہنماؤں کو گھروں میں نظر بند کر دیا گیا،یٰسین ملک سمیت کئی رہنماؤں کو غاصب فوجیوں نے گرفتا کر لیا۔اس دن قابض انتظامیہ نے موبائل فون اور نیٹ سروس بند کرا دی اور ریل سروس کو بھی معطل کر دی گئی تاکہ کشمیری ایک دوسرے سے رابطہ نہ کر سکیں۔

ہندوستانی فوجیوں کی بڑھتی ہوئی بر بریت نے کشمیریوں کو ایک مرتبہ پھر مشتعل کر کے رکھ دیا ہے۔ جس کی وجہ سے ہندوستانی میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں ایک ہندوستان فوجی قافلے پربانڈی پورہ میں نشانہ لگا کر حملہ کیا گیا ۔جس میں ایک میجر سمیت چار ہندوستانی فوجیوں کو جہنم رسید کر دیا گیا۔جس کے بعد ہندوستانی فوجیوں نے ریاستی دہشت گردی کے ذریعے دو اور نو جونوں کو شہید کردیا۔اب تک ہندوستانی غاصب فو جیوں نے 10نے نہتے مسلمان کشمیریوں ظالمانہ کاروائیوں کے ذریعے شق 35-A کی منسوخی کی بھینٹ چڑھا کر شہید کر دیا۔ کشمیر کی بین الاقوامی اکثیریتی حیثیت کو بدلنے کے لئے آج ہندوستان اپنے ہی بنائے ہوئے قوانین بدلنے کی کوشش کر رہا ہے۔تاکہ مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت کو بدل کر دنیا کو کشمیر میں ہندو اکثریت دکھا سکے۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Dr Shabbir Ahmed Khursheed

Read More Articles by Prof Dr Shabbir Ahmed Khursheed: 285 Articles with 119823 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
12 Aug, 2018 Views: 285

Comments

آپ کی رائے