وزیراعظم عمران خان کا مافیاز کیخلاف جنگ

(Haq Nawaz Jilani, Islamabad)

2003سے لے کر 2013کے انتخابات اور نئے وزیراعظم کا چناؤ تو خود دیکھے ہیں لیکن اس سے پہلی کی تاریخ بھی یہی رہی ہے کہ قومی اسمبلی میں وزیراعظم منتخب ہونے پر اپوزیشن کی طرف سے نئے وزیراعظم کو مبارکباد دی جاتی ہے اس کے بعد اپنا احتجاج تقریر میں یا بعض اوقات اپنی سیٹوں پر کھڑے ہوکر نعرہ بازی بھی کچھ وقت کے لئے کی جاتی ہے اس کے بعد وزیراعظم ایوان کو خطاب کرتا ہے تو سب خاموشی سے سنتے ہیں لیکن جمہوریت کے علمبردار ن لیگ نے پارلیمانی کی تمام ریکارڈ توڑ ڈالے ، انہوں نے نہ صرف نعرہ بازی کی بلکہ وزیراعظم کے چناؤ کے بعد اسپیکر ڈائس کا گھیراؤ بھی کیا۔مسلسل نعرہ بازی سے نہ صرف ایوان کا ماحول خراب ہوابلکہ اپنے چورسابق وزیراعظم میاں نواز شریف اور شہباز شریف کے حق میں نعرے لگاتے رہیں اسپیکر کے بار بار منع کرنے کے باوجود شور و چیخ وپکار کی آوازیں آتی رہی۔نئے وزیر اعظم عمران خان کے خطاب میں وہی چیخ وپکار جاری تھی جو پہلے کبھی نہیں ہوا حتی ٰ کہ میاں نواز شریف کو ٹف ٹائم دینے والے تحریک انصاف نے کبھی بھی ان کے تقریر کے دوران ان کاگھیراؤ تو دور کی بات نعرے اور احتجاج بھی نہیں کیا۔
احتجاج کرنا اپوزیشن کا حق ہوتا ہے لیکن اس کا بھی ایک طریقہ کار موجود ہے کچھ لمحے احتجاج ہوتا ہے یا پھر اسمبلی سے واک آوٹ کیا جاتا ہے لیکن افسوس ن لیگ نے جس کی تاریخ گالم کلوچ ، مار پیٹ اور حملوں سے بھری پڑی ہے انہوں نے آج بھی کچھ نہیں سیکھا کہ جمہوری اور پارلیمانی روایات کا تو کم ازکم خیال رکھا جاتا لیکن ن لیگ نے ثابت کیا کہ وہ سیاسی جماعت نہیں بلکہ مافیا کا گروہ ہے جو اب تک عوام کا اور اس غریب ملک کے ساتھ کلواڑ کرتی رہی ۔اب ان کا آخری کھیل شروع ہوا ہے۔ اس کے جواب میں تحریک انصاف کے بعض ارکین کی جانب سے احتجاجی ردعمل بھی قابل تعریف نہیں انہوں نے بھی شہباز شریف کے تقریر میں احتجاج کیا جو مناسب نہیں تھا۔ تحریک انصاف ممبران کواب اپنا دل بڑا کرنا ہوگا ان کو جواب احتجاج کی شکل میں نہیں بلکہ تقریر کی شکل میں دینا چاہیے۔ اب ن لیگ کا کھیل ختم ہونے والا ہے یہ سب کچھ صرف ڈرامہ بازی کے لئے کیا گیا لیکن اس ڈرامہ بازی سے انہوں نے عوام میں اچھا تاثر قائم نہیں کیا۔دیکھنا اب یہ ہے کہ اس طرح ڈرامے مزید کتنے دن چلتے ہیں۔

تحر یک انصاف کے مخالفین کی بات کیا کریں خود پی ٹی آئی کے بعض کارکن بھی یہ کہتے رہتے تھے کہ اگر تحر یک انصاف کی حکومت بنتی ہے تو عمران خان وزیراعظم نہیں ہوں گے ۔ میں ہمیشہ اس بات پر قائم رہا کہ عمران خان 2018کے عام انتخابات میں نہ صرف کامیاب ہوں گے بلکہ وزیراعظم بھی بن جائیں گے۔ تحر یک انصاف کے مخالفین نے اتنا پر وپیگنڈا اور الزام ترشی کی تھی کہ پی ٹی آئی کارکن بھی متاثر ہوئے تھے کہ عمران خان کے ہاتھوں میں وزیراعظم کی لکیر نہیں آج عمران خان بطور وزیراعظم پاکستان بن کر ثابت کیا کہ ان تما م پر وپیگنڈوں ، جھوٹ وفریب سمیت الزامات کے باوجود اپنی 22سالہ جدوجہد سے 22ویں وزیراعظم پاکستان،22کروڑ عوام کے بن گئے۔اب خان صاحب کے خلاف تمام پرو پیگنڈے اور جھوٹے الزامات ختم ہوجائیں گے ۔ اب عمران خان نے ان تمام وعدوں کو پورا کرنا ہے جس کی بنیاد پر نواجون نسل نے ان کو منتخب کیا ۔ عمران خان بطور وزیراعظم بن کر عوام کا خواب پورا نہیں ہوا ۔ عمران خان کو یاد رکھنا چاہیے کہ جس مافیاز سے ان کی لڑائی ہے ان کو شکست ضرور ہوئی ہے لیکن وہ آج بھی سرگرام عمل ہے وہ حکومت کو یا عمران خان کو اتنی آسانی سے کام کرنے نہیں دے گی ۔ اس مافیا ز کو شکست تب ممکن ہے جب عمران خان اپنے وعدوں کو عملی چامہ پہننے کا آغاز کریں ۔ پوری قومی کی امید اب عمران خان سے ہے کہ اسٹسٹس کو کو ہمیشہ کیلئے دفن کرنا ہے ۔ ان کی کسی بھی بلیک ملینگ میں نہیں آنا ہے۔ اداروں کو خود مختار اور آزاد بنانے کیساتھ ساتھ میرٹ پر فیصلے کرنے ہیں ۔ میرٹ کا نظام قائم کرنے سے انصاف کا نظام قائم ہوگا ۔ حقدار کو اس کا حق ملنا ، اقرباپروری سے دور رہنا ، نیک ارادے سے ناصرف نئے پاکستان کا آغاز ہوگا بلکہ تبدیلی کا جو سفر 22سال پہلے عمران خان نے شروع کیا تھا وہ سفر اپنی منزل کو اس طرح رواں دواں ہو سکتا ہے جب قانون سب کیلئے برابر ہو۔تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان تر قی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہوجائے گاجس کا آغاز ہوکیا ہے کہ اب دوسرے ممالک کے سربراہان پاکستان کو وہ مقام اور عزت دینے کیلئے بات کررہے ہیں جس کا خواب علامہ اقبال نے دیکھا تھا اور جو قائداعظم کا وژن تھا کہ پاکستان نہ صرف مسلم ممالک کے لئے رول ماڈل بنے گا بلکہ پوری دنیامیں الگ مقام حاصل کریں گا۔ دعا ہے کہ نئی حکومت کو وہ تمام کامیابیاں عطاکر یں جس کا خواب عمران خان نے اس قوم کو د کھایا ہے۔

کچھ دن پہلے ایک دوست نے وہ میسج کیا جس کا مجھے معلوم تو تھا لیکن اس طرح معلوم نہیں تھا دل چاہتا ہے کہ وہ اپ لوگوں کے ساتھ شیئر کرو۔جب عمران خان اور جمائما خان کمراہ عدالت میں طلاق کی سنوائی میں کھڑے تھے تو ان کی جج سے کیا بات ہوئی...

جج عمران خان سے -جائما کی آدھی جائیداد 12 ہزارکروڑ پونڈ تمھاری ھوئی - (یاد رھے اس وقت پاکستان کے امیر ترین سہگل اور منشا کی کل جائیداد دو ہزارکروڑ پونڈ تھی)

عمران خان جج سے - نہیں مجھے ضرورت نہیں ہے -جج حیرانگی سے عمران کو دیکھتے ھوئے جمائما سے پوچھتا ھے کہ تم اس بہترین شخص سے طلاق کیوں لے رھی ھو؟

جائما- عمران خان اگر لندن میں میرے ساتھ رھے تو مجھے طلاق نہیں چاہیے-جج عمران خان سے -تم لندن کیوں نہیں رھتے؟عمران خان۔میں اپنے پیارے وطن پاکستان کیلئے کچھ کرنا چا ھتا ھوں کیونکہ وھاں غربت، جہالت اور ناانصافی بہت ھے-جج۔ جائما سے۔تم پاکستان کیوں نہی رھتی؟جائما۔پاکستانی سیاستدان مجھ پہ طرح طرح کے جھوٹے الزامات لگاتے ھیں اور حال ھی میں مجھ پر سمگلنگ کا مقدمہ بھی کر دیا۔(یہ مقدمہ نواز شریف نے عمران خان پر دباو ڈالنے کیلئے کروایا تھا)جج عمران خان سے -لیکن بچے ماں کے ساتھ رھیں گے-عمران خان جی میں بھی یہی چا ھتا ھوں کیونکہ جمائما بہترین خاتون ھے اور بہترین ماں ھے - یہ سن کر جمائما عمران خان سے لپٹ گئی اور جج عمران خان کی عظمت میں کھڑا ھو گیا اور ھاتھ ملایا-جج جائما سے -مجھے بھی تمھاری طرح دکھ ھے کہ تم ایک عظیم شخص سے جدا ہورہی ہو-عمران اور جائما نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور اتنے میں جج نے طلاق کا اعلان کر دیا اور پھر عمران خان اور جمائما کی آنکھوں میں آنسوں سے بات ھونے لگی.....
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Haq Nawaz Jillani

Read More Articles by Haq Nawaz Jillani: 268 Articles with 131175 views »
I am a Journalist, writer, broadcaster,alsoWrite a book.
Kia Pakistan dot Jia ka . Great game k pase parda haqeaq. Available all major book shop.
.. View More
20 Aug, 2018 Views: 381

Comments

آپ کی رائے