نئے وزیرِ اعظم کی حوصلہ افزا تقریر

(Muhammad Riaz Aleemi, Karachi)

ملک میں جمہوری نظام کا سفر بغیر کسی تعطل کے جاری ہے۔ اگر چہ موجودہ حکومت کو ’’کنٹرولڈ جمہوریت ‘‘ کہنے میں حرج بھی نہیں ہے ۔ کہنا تو نہیں چاہیے لیکن حقیقت یہی ہے کہ نئی حکومت کو بنانے میں فوج اور اسٹیبلشمنٹ کا بہت بڑا کردار ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان کو وزیرِ اعظم بنانے میں عوام کا کم اور اسٹیبلشمنٹ کا کردار زیادہ رہا۔ عمران خان بائیس سال تک اس کی کوششیں کرتے رہے۔ تحریک انصاف کے نام سے اپنی پارٹی بنانے کے بعد نہ جانے کس کس سے مدد طلب کی ۔ اس سفر میں انہوں نے احتجاج بھی کیے دھرنے بھی دیے بالآخر عمران خان کی بائیس سال کی کوششوں کے بعد انہیں وزیرِ اعظم بنادیا گیا۔ بہر حال عمران خان جیسے بھی وزیر اعظم بنے ، البتہ بن گئے۔ اب مخالفین اور معترضین کو بھی چاروناچار ان کی وزارت عظمیٰ تسلیم کرناپڑے گی۔ چاہے وہ احتجاج کریں دھرنے دیں ، بائیکاٹ کریں یا کچھ بھی کریں ۔ انہیں یہ ماننا پڑے گا کہ عمران خان پاکستان کے وزیر اعظم ہیں۔ اور وہ بحیثیت وزیر اعظم اپنی پہلی تقریر بھی کرچکے ہیں ۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ عوام کو عمران خان سے بہت زیادہ توقعات ہیں کیونکہ عمران خان کی تقاریر میں تبدیلی کا عنصر بہت رہاہے۔ پاکستانی قوم کی چاہت یہی تھی کہ عمران خان آئیں اور ملک میں تبدیلی لائیں۔ اب وہ تبدیلی بھی آچکی ہے۔ عمران خان نے اپنے بائیس سالہ سفر میں بہت سے وعدے کیے۔ سب سے بڑا وعدہ تبدیلی کا تھا اور پاکستان کو ریاستِ مدینہ کی طرز پر بنانے کا وعدہ تھا۔ وزارتِ عظمیٰ کا حلف اٹھانے کے بعد بحیثیت وزیر اعظم عمران خان کی پہلی تقریر اس تقریر سے ملتی جلتی تھی جو انہوں نے انتخابات سے پہلے 30اپریل2018کو پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور کے گریٹر اقبال پارک کے جلسہ میں کی تھی اور گیارہ نکات پیش کیے تھے۔

عمران خان نے اپنی حالیہ تقریر میں باربار ریاستِ مدینہ اور خلفائے راشدین کی مثالیں دیں اور قانون کی نظر میں سب کو ایک برابر قرار دیا۔ انہوں نے سب سے پہلے سادگی پر زور دیا اور اس کا آغاز اپنی ذات سے کرنے کا عزم کیااور کہا کہ وہ اپنے پاس صرف دو گاڑیاں رکھیں گے وہ بھی سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے۔ اور باقی گاڑیوں کو نیلام کریں گے۔ یقینی طور پر یہ اعلان اور اقدام لائق تحسین اور خوش آئند ہے۔ ورنہ صرف پروٹوکول میں ہی ماہانہ کروڑوں روپے کا خرچہ ہوتا رہا ہے ۔ اس کے علاوہ عمران خان نے جن نکات پر زور دیا ان میں تعلیم ، صحت ، صفائی ، پانی کی فراہمی اور کرپشن کا خاتمہ ، پولیس اور عدالتی نظام کی اصلاح انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ اپنی پالیسی بتاتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ تعلیم پر خصوصی توجہ دیں گے اور جو بچے اسکولوں سے باہر ہیں انہیں اسکولوں میں لے کر آئیں گے۔ گورنمنٹ اسکولوں میں معیاری تعلیم کا آغاز کریں گے تاکہ غریب کا بچہ بھی اچھی تعلیم حاصل کرسکے کیونکہ دنیا میں کوئی ملک ترقی نہیں کرسکا جس نے تعلیم پر زور نہیں دیا۔اسی طرح انہوں نے صحت کے متعلق کہا کہ اس کا شعبہ بہتر بنائیں گے اور ایسے اسپتال بناکر دکھائیں گے کہ غریب کو پیسے نہ ہونے کی فکر نہیں ہوگی۔ انہوں نے صحت کے شعبہ کے متعلق یہ وعدہ بھی کیا کہ وہ سارے پاکستان کے لیے ہیلتھ کارڈ لے کر آئیں گے۔انہوں نے اپنی تقریر میں ٹیکس کے نظام کے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک چلانے کے لیے پیسہ نہیں ہوتا جس کے باعث قوم قرضوں میں ڈوبتی چلی جاتی ہے۔ وہ ملک کو قرضوں سے نجات دلائیں گے۔ انتخابات سے پہلے بھی عمران بتاچکے ہیں کہ1990 تک پاکستان برصغیر میں سب سے تیزی سے ترقی کر رہا تھا اور اس کے ذمے 60 سال کی تاریخ میں 6000 ارب روپے قرض تھا۔ تاہم 2008 سے 2013 تک 6000 سے 13 ہزار ارب ہو گیا۔ یوں پانچ سالوں میں دوگنا ہو گیا۔ انکا کہنا تھا کہ ن لیگ کی حکومت میں قرضہ 2013 سے 2018 تک 13 ہزار ارب سے بڑھ کر 28 ہزار ارب تک پہنچ گیا ہے۔ ہم تباہی کی طرف جا رہے ہیں۔ ہم قرضوں کا سود اداکرنے کے لیے مزید قرض لے رہے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ مقروض ملک آزادی کھو بیٹھتا ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ موجودہ حکومت کے مقابلے میں دوگنا ٹیکس حاصل کر کے دکھائیں گے۔اسی طرح انہوں نے کرپشن سے خاتمے کی بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک سے کرپشن کا خاتمہ کریں گے اور ایسا کرنے کے لیے نیب اور عدالتوں کو مضبوط کریں گے ۔ سرمایہ کاری کے متعلق تاجروں کو اعتماد میں لیا کہ سرمایہ کاری بڑھانے میں زیادہ سے زیادہ کردار ادا کریں اور اپنا مال ایکسپورٹ کریں۔ اس راہ میں جو پریشانیاں اور رکاوٹیں ہوں گی تو ہم اس کی مدد کریں گے۔ اس سے پہلے بھی عمران خان نے اپنے ایکشن پلان میں کہا تھا کہ وہ ملک میں سرمایہ کاری لائیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ ایسی پالیسیاں لائیں گے کہ سرمایہ کاری بڑھے۔ سرمایہ کاری لانے والوں کے لیے وزیراعظم ہاؤس میں الگ سیل قائم ہوگا جہاں ان کی رکاوٹیں دور کی جائیں گی۔ انہوں نے نوجوانوں کو نوکریاں دینے کا وعدہ بھی کیا ہے تاکہ بے روزگاری ختم ہو سکے۔ نیز 50 لاکھ سستے گھر بنانے کا عزم کیا تاکہ غریب اپنے گھر کا مالک بن سکے۔ اسی طرح انہوں نے زرعی ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ پاکستان میں کسانوں کا معاشی قتل ہو رہا ہے۔ کسان سارا سال کام کرتا ہے اور پھر اسے اپنی فصل کی مناسب قیمت تک نہیں ملتی۔ فاٹا کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ فاٹا کو خیبر پختونخوا میں انضمام اور جنوبی پنجاب کو انتظامی بنیادوں پر صوبہ بنائیں گے۔ حکومت میں آنے کے بعد وہ وفاق کو مضبوط کریں گے اور صوبوں کو ان کے حقوق دیں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ میں قبائلی علاقوں کے لوگوں سے وعدہ کرتا ہوں کہ ہم فاٹا کو ترقی دیں گے۔ انہوں نے پورے ملک میں بلدیاتی نظام بحال کرنے کا اعلان بھی کیا۔ ماحولیات کی بہتری بھی ان کی ترجیحات میں شامل ہے ۔انہوں نے پاکستان بھر میں دس ارب درخت لگانے اور دریاؤں اور سمندر کے کناروں کو صاف کرنے کا اعلان کیا۔ نیز سمندروں کو خوبصورت پکنک پوائنٹ بنانے کا بھی اعلان کیا تاکہ لوگ اپنی فیملیوں کے ساتھ جاکر سکون اور اطمینان حاصل کریں اور فرحت محسوس کریں۔ ملکی حالت کو بہتر بنانے کے لیے کہا کہ انصاف کی فراہمی اور پولیس نظام کی درستی انتہائی ضروری ہے، لہٰذا اس شعبے میں خصوصی توجہ دیں گے۔ انہوں نے چیف جسٹس سے اپیل کی کہ جن بیوہ عورتوں کی زمینوں پر قبضہ کرلیا گیا ہے انہیں جلد از جلدانصاف فراہم کریں۔ انہوں نے قوم سے اپیل کی کہ وہ پپابندی سے ٹیکس دیں اور ان کے ٹیکس کی حفاظت میں خود کروں گا۔

پاکستان کی نشاۃ ثانیہ کے لیے عمران خان کی یہ تقریر انتہائی اہمیت کے حامل ہے۔ ان سب پر پر نہ سہی ،اگر عمران خان صرف تعلیم ،صحت اور انصاف کی فراہمی اور قرضوں سے نجات حاصل کرنے پر توجہ دیں تو ملک کی قسمت سنور سکتی ہے۔ اپنی تقریر میں عمران خان نے یہ بھی کہا تھا کہ علامہ اقبال نے ایک خواب دیا تھا۔ جب ایک قوم اپنے نظریے سے ہٹتی ہے تو وہ تباہ ہو جاتی ہے۔ قائداعظم کی سوچ تھی کہ پاکستان میں سب برابر کے شہری ہوں گے، نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے مدینہ کی ریاست میں سب سے پہلے انصاف کی بنیاد رکھی۔ جہاں تک پاکستان کو ریاستِ مدینہ بنانے کی بات ہے تو پاکستان کو ریاستِ مدینہ بنانا تو بہت دور کی بات ہے تو یہ پاکستان کی موجودہصورتحال کے پیش نظر بہت مشکل بلکہ ناممکن ہے۔ لہٰذا عمران خان پاکستان کو ریاستِ مدینہ بنانے کی بات کرنے کے بجائے یہاں ریاست مدینہ کا صرف عدل وانصاف کا قانون لاگو کردیں تو پوری قوم اسی پر احسان مند رہے گی۔ کسی بھی ریاست یا ملک کا امن اور سکون عدل وانصاف کے نظام پر منحصر ہوتا ہے۔ اگر یہ نظام بہتر ہو تو امن ، عافیت اور سکون ہوتا ہے۔ اور اگر یہ نظام درست نہ ہو تو انارکی ، بے چینی اور فساد جیسی برائیاں جنم لیتی ہے۔ بہرحال تبدیلی کا نعرہ زبان زدِ عام ہے۔ پوری قوم وزیرِ اعظم عمران خان سے اچھی امیدیں لیے ہوئے ہیں۔ خداکرے کہ مری ارضِ پاک پر اترے وہ فصلِ گل جسے اندیشۂ زوال نہ ہو۔آمین۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Riaz Aleemi

Read More Articles by Muhammad Riaz Aleemi: 75 Articles with 35616 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Aug, 2018 Views: 410

Comments

آپ کی رائے