ڈپریشن

(Tariq Javed, )

عائشہ طارق
آج کل کے دور میں ڈپریشن ایک عام مرض بن چکا ہے جو جسم اور دماغ دونوں کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔ آج کل کے دور میں لوگ ڈپریشن کا شکار بہت زیادہ ہو رہے ہیں۔ اس کی بہت سی وجوہات ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں بیماریوں اور معذوریوں کی ایک بڑی وجہ ڈپریشن ہے۔ دنیا بھر میں ہر تیسرا شخص، اور مجموعی طور پر 30 کروڑ سے زائد افراد اس مرض کا شکار ہیں۔پاکستان میں بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی 34 فیصد آبادی ڈپریشن کا شکار ہے۔

آج کل معاشرے کے بڑھتے ہوئے مسائل ،مختلف گھریلو معاشی پریشانیوں اور ملک کے بگڑتے ہوئے حالات کی وجہ سے ہر شخص پریشان دکھائی دیتا ہے۔ جس کی وجہ سے دن بہ دن ذہنی اور جسمانی بیماریوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ یہ مرض اس قدر عام ہے کہ شاید ہی کوئی شخص اس سے محفوظ ہو۔ ہم ہرروز کسی نہ کسی ایسی صورت حال سے گزرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے انسان ڈپریشن کا شکار ہوجاتا ہے۔عام طورپر بھی ہم اداسی، مایوسی اور بیزاری میں مبتلا ہوتے رہتے ہیں۔ مسلسل مایوس اور اداس رہنے سے انسان ڈپریشن کا شکار ہو جاتا ہے۔

تاہم اس مرض سے بری طرح متاثر ہونے والوں کو علم نہیں ہو پاتا کہ وہ ڈپریشن کا شکار ہیں۔ وہ اسے کام کی زیادتی یا حالات کا نتیجہ سمجھتے ہیں۔ اگر اس مرض کی علامات کو پہچان کر فوری طور پر اس کا علاج نہ کیا جائے تو یہ ناقابل تلافی نقصانات پہنچا سکتا ہے۔ اس کا نتیجہ خودکشی بھی ہو سکتا ہے۔ 2015 کے سروے کے مطابق دنیا میں ایک سال میں 8 لاکھ لوگ خودکشی کرتے ہیں ڈپریشن کی وجہ سے۔ ہر 40 سیکنڈ میں ڈپریشن کی وجہ سے خودکشی ہو رہی ہے۔ اس مرض کی ایک علامت اداسی ہے تاہم اس کا دورانیہ بہت مختصر ہوتا ہے اور یہ صرف ایک ابتدائی علامت ہے۔

کچھ لوگ اپنے دل کی باتیں دل میں رکھتے ہیں، خصوصاً مرد حضرات! محبت میں ناکامی، گھریلو لڑائی جھگڑے اور بے روزگاری۔ رفتہ رفتہ یہ مسائل انھیں ڈپریشن کی طرف لے جاتے ہیں۔ بعض لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں کو خود پر حاوی کرلیتے ہیں اور اپنا دھیان بٹانے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ ایک ہی بات کو باربار سوچتے ہیں مثلاً کسی قریبی عزیز کے انتقال، طلاق یا بے روزگاری کی صورت میں کچھ عرصہ اداس رہنا فطری ہے مگر بعض افراد اس اداسی سے باہر نہیں آپاتے وہ ڈپریشن کا شکار ہوجاتے ہیں۔ جب ہم بہت زیادہ ذہنی دباؤ یا جسمانی تھکن کا شکار ہوں اور بالکل تنہا ہوں توایسی صورت میں ڈپریشن کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔اسی طرح جسمانی طورپر بیمار لوگوں میں بھی ڈپریشن کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے اورہروقت نیٹ استعمال کرنے والے بھی ڈپریشن کا شکار زیادہ ہوتے ہیں۔

مردوں کے مقابلے میں خواتین ڈپریشن کا شکار زیادہ ہوتی ہیں۔ڈپریشن دو طرح کا ہوتا ہے ، سادہ ڈپریشن جوجز وقتی ہوتا ہے اور کلینکل ڈپریشن جو غیر مدتی ہوتا ہے۔ کلینکل ڈپریشن شدید اور خاصا اذیت ناک ہوتا ہے۔ یہ بات یاد رکھیں ڈپریشن کاہلی اور بیکاری سے پیدا ہوتا ہے جن کے پاس کرنے کو کچھ نہیں ہوتا یا وہ کچھ کرنا نہیں چاہتے ایسے لوگ جلدی ڈپریشن کا شکار ہوجاتے ہیں۔

ڈپریشن کی کچھ غیر معمولی علامات ہیں۔ یہ علامات اس وقت ظاہر ہوتی ہیں جب ڈپریشن اپنے عروج پر پہنچ جاتا ہے اور اب یہ وہ وقت ہے کہ مریض کا فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروی ہے۔ اگر آپ اپنے یا اپنے آس پاس موجود افراد میں سے کسی کے اندر ان میں سے کوئی بھی علامت دیکھیں تو اس کی طرف فوری توجہ دینا ضروری ہے۔

پشیمانی یا شرمندگی کا احساس:- ڈپریشن کا شکار افراد شدید پشیمانی اور شرمندگی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ایسی صورت میں یہ ہر برے کام کے لیے اپنے آپ کو قصور وار قرار دیتے ہیں۔ یہ عمل انفردای شخصیت کے لیے نہایت تباہ کن ہے۔ اس رجحان سے کوئی بھی فرد اپنی صلاحیتوں سے بالکل بے پرواہ ہو کر کافی عرصے تک احساس کمتری اور بلا وجہ کی پشیمانی کا شکار رہتا ہے اور اس کیفیت سے نکلنے کے لیے اسے ایک عرصہ درکار ہوتا ہے۔

منفی سوچ:- ڈپریشن کے مریض ہر بات میں منفی پہلو دیکھنے اور اس کے بارے میں منفی سوچنے لگتے ہیں۔ ایسے افراد خوشی کے مواقعوں پر بھی کوئی نہ کوئی منفی پہلو نکال کر سب کو ناخوش کردیتے ہیں۔

تھکاوٹ:- ڈپریشن کے شکنجے میں جکڑے افراد ہر وقت تھکن اور غنودگی محسوس کرتے ہیں۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کیونکہ وہ ہر وقت سوچوں میں غرق رہتے ہیں، منفی سوچتے ہیں اور منفی نتائج اخذ کرتے ہیں۔ یہ عمل انہیں دماغی اور جسمانی طور پر تھکا دیتا ہے اور وہ ہر وقت غنودگی محسوس کرتے ہیں۔

عدم دلچسپی:- اس مرض کا شکار افراد ہر چیز سے غیر دلچسپی محسوس کرتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل تک انہیں نہایت پرجوش کردینے والی چیزیں بھی ان کے لیے کشش کھو دیتی ہیں اور انہیں کسی چیز میں دلچسپی محسوس نہیں ہوتی۔ ان کا عمومی رویہ بظاہر لاپرواہی اور غیر ذمہ داری کا لگتا ہے کیونکہ وہ کسی کام کو کرنے میں دلچسپی محسوس نہیں کر پاتے۔

قوت فیصلہ میں کمی:- اس مرض کے افراد اپنے فیصلہ کرنے کی قوت کھو دیتے ہیں یا اس میں بہت حد تک کمی واقع ہو جاتی۔ جس کی وجہ سے اس صورتحال میں وہ جو فیصلہ کرتے ہیں وہ ان کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ اس لیے کوشش کرنی چاہیے کہ ڈپریشن میں کوئی فیصلہ نہ ہی کرے تو بہتر ہے۔

نفسیاتی طب کے ایک ماہر ڈیوڈبرنر نے ڈپریشن سے بچنے کا طریقہ یہ تجویز کیا ہے کہ ہرروز رات تک کا ایک پلان تیارکریں۔ نہانے، صبح کی سیر، ناشتا کرنے جیسے معمولات بھی نظر انداز نہیں ہونا چاہئیں۔ جوکام مشکل اور پیچیدہ ہوں انھیں چھوٹے چھوٹے حصوں میں بانٹ لیں اس طرح وہ کام آسان ہوجائیں گے۔سماجی سرگرمیوں میں حصہ لیں اس سے نہ صرف آپ دوسروں کے کام آئیں گے بلکہ آپ کی جسمانی اور ذہنی صحت بھی اچھی ہوگی۔ کیونکہ لوگوں سے دوری اور بے نیازی ڈپریشن کا ایک سبب ہے لہٰذا دوسروں کے کام آنے اور ان سے تعلقات بڑھانے سے آپ اس مرض پر قابو پاسکتے ہیں۔روشنی چاہے فطری ہو یا مصنوعی ہماری نفسیاتی حالت پر اچھا اثر ڈالتی ہے سو گھر میں روشنی کا بہتر انتظام کریں۔

ڈپریشن پر قابو پانے کے لیے انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی کی روٹین میں تبدیلیاں کرتا رہے ۔ اپنے لیے کوئی ایسا کام تلاش کرے جس سے اس کو اچھا محسوس ہو۔ اپنے جسم کو پانی سے hydrated رکھے۔ اس سے بھی ڈپریشن کا لیول کم ہوتا ہے۔ روزانہ تھوڑی بہت ایکسرسائز کرنے سے بھی ڈپریشن کے لیول میں کمی واقع ہوتی ہے۔ انسان کا نیچر کے ساتھ کنکشن بھی ڈپریشن میں کمی کی وجہ بنتا ہے۔ اور سب سے اہم عبادت کرنے سے بھی ڈپریشن میں کمی ہوتی ہے۔ انسان کی زندگی میں ایک دو لوگ ایسے ہونے چاہیں جن سے وہ اپنے پرابلم شئیر کر سکے۔ اور بچوں کے ساتھ وقت گزارنے سے بھی ڈپریشن میں کمی واقع ہوتی ہے۔ انسان کو اپنی فیملی لائف اچھی رکھنی چاہیے اس سے بھی ڈپریشن میں کمی ہوتی ہے۔

ڈپریشن کا علاج( سائیکوتھراپی) باتوں کے ذریعے بھی کیا جاتا ہے اور ادویات سے بھی۔شہد ملے دودھ کے ساتھ سیب کھانا ہر طرح کے ڈپریشن میں مفید ہے۔ کاجو بھی ڈپریشن کو ختم کرنے میں حیرت انگیز خوبیوں کا حامل ہے۔ سردیوں میں اس کا استعمال جاری رکھنا چاہیے۔

روزانہ صبح اٹھ کر پروگرام بنائیں اور اس کے مطابق کام کریں۔ جو کام زیادہ اہم اور ضروری ہے اسے پہلے کریں۔ اپنے خیالات کو پراگندہ نہ ہونے دیں۔ نفرت، غصے، پشیمانی اور حسد کے جذبات کو دل سے نکال دیں۔ محبت ،خوشی اور پیار کے جذبات دل میں بسا لیں، اس سے آپ کا دل راضی ہوگا اور آپ خوش وخرم رہیں گے۔ سادہ پہنیں، سادہ کھائیں اور خود کو مختلف مشاغل یا فلاحی کاموں میں مصروف کریں۔ ضرورت مندوں کی مددکریں اس سے دلی سکون ملے گا۔ ماہرین کے مطابق ڈپریشن اور دوسرے نفسیاتی مسائل کے لیے عبادت کرنا بھی بہت مفید ہے۔ خود پر اعتماد رکھیں کہ آپ کو ایک خاص مقصد کے لیے دنیا میں بھیجا گیا ہے۔

ڈپریشن کا شکار افراد کی مدد کریں۔ یاد رکھیں کہ ڈپریشن اور ذہنی دباؤ کا شکار شخص اکیلے اس مرض سے چھٹکارہ حاصل نہیں کرسکتا اور اس کے لیے اسے ماہرین نفسیات کے علاج کے ساتھ ساتھ اپنے قریبی عزیزوں اور دوستوں کا تعاون بھی لازمی درکار ہے۔ اللہ پر توکل رکھے کیونکہ جو لوگ اللہ پر توکل رکھتے ہیں وہ ڈپریشن کا شکار کبھی نہیں ہوتے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tariq Javed

Read More Articles by Tariq Javed: 28 Articles with 11642 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Aug, 2018 Views: 644

Comments

آپ کی رائے