نیا پاکستان ،آئیڈیئے اور ڈیزائننگ پہ کام جاری ہے

(Athar Masood Wani, Rawalpindi)

کیا وہ وقت بھول گئے کہ جب راولپنڈی اسلام آباد میں میٹر و بس کے منصوبے کا تعمیراتی کام جاری تھا۔ ہر طرف ٹریفک بلاک،مٹی دھول چوبیس گھنٹے فضا میں چھائی رہتی تھی،لوگ بیماریوں کا شکار ہو رہے تھے،ذہنی تنائو بڑھ گیا تھا،لگتا تھا کہ ایک عذاب مسلسل ہے جو نہ جانے کب تک اسی طرح جھیلنا پڑے گا۔لیکن ریکارڈ مدت میں منصوبے کی تعمیر مکمل ہوئی تو ایک ایسی سہولت سب کو میسرآئی جو پاکستانی معاشرے کی پبلک ٹرانسپورٹ کے عادی شہریوں کے لئے ایک خوشگوار تبدیلی اور سہولت کا باعث ثابت ہوئی۔ نئے پاکستان کے عزم کے ساتھ ایسی نئی حکومت قائم ہوئی جس کی نظیر ملک میں ڈھونڈنا مشکل ہو جاتی ہے۔لیکن پرانے پاکستان سے اکتائے ہی نہیں تنگ آئے عوام نے نئے پاکستان کی چاہ میں اس کو یوں قبول کر لیا کہ جس طرح اغوا شدہ عورت کچھ عرصہ واویلا کرنے کے بعد خود کو اغوا کرنے والے کے بچوں کی فکر میں مبتلا ہی نہیں بلکہ ہلکان ہو جاتی ہے۔

نیا پاکستان ایسی چیز تو نہیں ہے کہ کسی عہدے پر کسی کے آنے سے بن جائے گا،اس کے لئے تو تباہی کا سا منظر ہو گا،عوام خوار ہوں گے،مصائب اور مشکلات کی دھول ہو گی جو عوامی چہروں کو تاریک کر دے گی۔حیرت ہوتی ہے ان لوگوں پر جو نیا پاکستان بھی چاہتے ہیں اور یہ بھی چاہتے ہیں کہ نیا پاکستان بغیر کسی توڑ پھوڑ ،مصائب اٹھائے بغیر تعمیر ہو جائے۔ابھی تو ٹوٹ پھوٹ کے عمل کا آغاز ہوا ہے،ابھی تو انہدام ہو گا،ملبہ ہٹایا جائے گا،جگہ کو صاف کیا جائے گا،پھر کھدائی شروع ہو گی اور اس کے بعد معلوم ہو گا کہ کیا بنانا مقصود ہے اور کیا بنایا جا رہا ہے۔ابھی تو نئے پاکستان کے دعویدار ڈیزائنگ میں پھنسے ہوئے ہیں ۔نئے پاکستان کا تصور دیتے ہوئے کوئی ماڈل سامنے نہیں رکھا گیا لیکن نئے پاکستان کی تعمیر کیلئے نئی انتظامیہ نے آتے ہی مدینہ کی ریاست کا ماڈل نئے پاکستان کے طور پر عوام کے سامنے پیش کیاہے۔خیال یہی تھا کہ کسی کو نیا ماڈل پسند ہو یا نہ ہو لیکن مذہبی لگاوٹ کی وجہ سے وہ نئے پاکستان کے اس ماڈل پر تنقید سے باز رہے گا۔

نئے پاکستان کے مدینہ ماڈل کا تصور پیش تو کر دیا گیا لیکن پرانی چیزوں کو پسند کرنے والے بار بار معترض ہوتے ہیں کہ نئے پاکستان کی مدینہ ریاست کی تعمیر میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیوں ہو رہا ہے؟ خلیفہ وقت اور صوبوں کے حکام اعلی اپنے گھر سے ایوان اقتدار تک جانے آنے کے لئے ہیلی کاپٹر کیوں استعمال کررہے ہیں؟ عوام تو از خود یہ تصور کئے بیٹھے ہیں کہ نئے خلیفہ وقت، ریاست کی ذمہ داری کا بار اٹھاتے ہی اپنی کرکٹ کٹ کا بیگ اٹھا کر گھر سے نکلنے لگے تو سرکاری منتظمین نے دریافت کیا ہو گا کہ جناب کہاں چل دیئے؟ خلیفہ وقت نے جواب دیا ہو گا کہ اگر کرکٹ کوچنگ نہیں کروں گا تو کھائوں گا کہاں سے؟ اس پر سرکاری منتظمین نے جواب دیا ہو گاکہ جناب آپ کا کھاناپینا سب ریاست کے ذمے ہے۔خلیفہ وقت نے اپنے لئے مقررہ سرکاری اخراجات دریافت کئے تو ان گراں اخراجات پر حیران رہ گئے اور کہا کہ میرے تو اتنے زیادہ اخراجات نہیں ہیں ،میرے سرکاری اخراجات اتنے ہی رکھے جائیں جتنے ملک کے مزدور کو ملتے ہیں ۔لیکن سرکاری منتظمین بھلا کس کی سنتے ہیں جو خلیفہ وقت کی سنتے،انہوں نے یہ کہتے ہوئے خلیفہ کے ذاتی اخراجات کم کر کے لاکھوں میں کر دیئے کہ نئے پاکستان میں مزدور کی جتنی مزدوری ہو گی،اتنے ہی آپ کے اخراجات مقرر کئے گئے ہیں۔

ابھی یہ طے نہیں ہے کہ نئی انتظامیہ کے افراد نئے پاکستان کا تصور دینے والے ہیں یا نئے پاکستان کے دیئے گئے تصور میں رنگ بھرنے والے ہیں؟یہ بات تو نئے پاکستان کے خواہش کنندگان ہی جانتے ہیں کہ نئے پاکستان کے لئے صرف نئی انتظامیہ اور نئے طور طریقوں کی ہی نہیں بلکہ نئے پاکستان کے لئے عوام بھی نئی طرح کے درکار ہوں گے۔ایسے عوام جو سرکاری ہدایات کو ایمان کا درجہ دیتے ہوں،حکومت وقت کی کسی بھی بات سے انحراف کی سوچ کو ملک دشمنی اور غداری سے تعبیر کرتے ہوں۔
نئے پاکستان کی تعمیر کے لئے توڑ پھوڑ،انہدام کے ساتھ ساتھ مدینہ ماڈل کے عوام کی تخلیق بھی از حد ضروری ہے۔اب چاہے مذہب کو ماننے والے ہوں یا سائینس کے معیارات کو اولیت دینے والے، دونوں ہی اس بات پہ متفق ہیں کہ نئے عوام کی تخلیق کے لئے پیدائش اور پرورش کا عشروں پہ محیط عرصہ در کار ہے جس میں شاٹ کٹ کا کوئی راستہ نہیں ہے۔

نئے پاکستان کی تخلیق و تعمیر میں عوام کا بھلا ہو یا نہ ہو لیکن بنانے والوں کا بھلا ہونا اٹل ہے۔اسی لئے عوام کے لئے ملک کے لئے مر جانے مٹ جانے کے جذبات اور ارادوں کی تکمیل کا عمل بھی شروع ہو چکا ہے۔ملک کے لئے قربانی کا جذبہ اور عمل مدینہ ماڈل کے نئے پاکستان کے لئے ناگزیر ہے ۔ اس عظیم مقصد کے لئے عوام کو معاشی دبائو کا بوجھ اٹھانے کے لئے ہمہ وقت تیار رہنا ہو گا،چاہے دو وقت کا کھانا ملے یا نہ ملے لیکن سرکاری واجبات میں اضافے کے باوجو د ہر شہری کو نئے پاکستان کی خاطر اٹھارہ ویلر ٹرالر جتنا وزن اٹھانا ہی پڑے گا، اب عوام کے لئے گدھے کی طرح ملک کا معاشی بوجھ اٹھانے سے بات نہیں بنے گی۔مدینہ ماڈل کا نیا پاکستان بنانے کے لئے عوام کو ہر قربانی کے لئے ہمہ وقت تیار رہنا ہو گا اور اپنی زبانوں کو نئے پاکستان کے احترام میں لگام دینا ہو گی۔مدینہ ریاست میں عوام کا کام اطاعت کرنا ہوتا ہے،نکتہ چینی کرنا نہیں۔اگر تنقید کریں گے تو ان کا شمار مدینہ ریاست کے یہود و ہنود میں کرنا ریاستی مجبوری ہو گی۔ناقدین کو یہ حقیقت بھی ملحوظ خاص رکھنا ہو گی کہ پاکستان کے قیام کے لئے کتنی مالی اور جانی قربانیاں دی گئیں،لہذا نئے پاکستان کے لئے انہیں اس سے بھی بڑھ کر مالی اورجانی قربانیاں پیش کرنا ہوں گی اور یہ بات بھی ازبر کر لی جائے کہ نیا پاکستان کیسا ہو گا ا س کا فیصلہ کرنا ملک کو تھامے افراد اور ان کے منتخب کردہ لیڈران کرام پر چھوڑ دیا جائے،ابھی اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے کیونکہ نئے پاکستان کے منصوبے کے تصورات اور ذیزائیننگ پر ابھی کام جاری ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Athar Massood Wani

Read More Articles by Athar Massood Wani: 621 Articles with 321151 views »
ATHAR MASSOOD WANI ,S/o KH. ABDUL SAMAD WANI
• 2006 to 2009
Press & Publication Officer
Prime minister Secretariat, Govt. of Azad Jammu & Kashm
.. View More
30 Aug, 2018 Views: 752

Comments

آپ کی رائے