چین کی خارجہ پالیسی کا رول ماڈل سفر

(Sami Ullah Malik, )

ایران ہو یا سعودی عرب، چین کی موجودگی بخوبی محسوس کی جاسکتی ہے۔ تہران کی دکانیں چینی مال سے بھری پڑی ہیں۔ سعودی عرب نے 2010 ء میں چائنا ریلوے کنسٹرکشن کارپوریشن کے ذریعے مکۂ مکرمہ میں مونو ریل کا منصوبہ مکمل کرایا۔ حج کے سیزن میں یہ منصوبہ کم و بیش 28 لاکھ افراد کو سفر کی بہترین سہولتیں فراہم کرتا ہے۔ ایران نے بھی چین سے ایک معاہدہ کیا ہے جس کے تحت چائنا ریلوے کنسٹرکشن کارپوریشن تہران سے عراقی سرحد تک ریلوے لائن تعمیر کرے گی۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد عرب دنیا کے سِرے سے وسطِ ایشیا کی سرحد تک رابطے کی سہولت فراہم کرنا ہے۔

چین کئی خطوں سے تیل اور گیس درآمد کر رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ بھی اس کیلئےتیل کے حصول کا ایک اہم ذریعہ ہے مگر چینی قیادت نے پوری کوشش کی ہے کہ مشرق وسطیٰ کی کچھ اور حیثیت بھی ہو۔ چین علاقائی اور عالمی سطح پر اپنی اہمیت منوانا چاہتا ہے۔ وہ اہلِ جہاں کو دکھانا چاہتا ہے کہ معاشی اعتبار سے اس کی قوت غیر معمولی ہے اور وہ اب اپنی حدود سے نکل کر دوسرے خطوں کو اپنے دائرۂ اثر میں لینا چاہتا ہے۔ چین کی قیادت مشرقِ وسطیٰ پر خاص توجہ دے رہی ہے تاکہ دنیا والوں کو معلوم ہو اور وہ اندازہ لگاسکیں کہ چین میں کتنی قوت ہے اور کس حد تک اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکتا ہے۔ چینی قیادت نے مشرقِ وسطیٰ سے تیل درآمد کرنے کا سلسلہ تو جاری رکھا ہے مگر ساتھ ہی ساتھ وہ اس خطے میں اپنی قوت کا مظاہرہ بھی کر رہا ہے۔ یہ قوت عسکری نہیں، معاشی اور تکنیکی ہے۔ چین کے ماہرین مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک کو تیزی سے فروغ دینے اور مستحکم کرنے کیلئےکوشاں ہیں۔ سعودی عرب،ایران، متحدہ عرب امارات، مصر اور کئی دوسرے ممالک میں چین کے ماہرین بنیادی ڈھانچے کو مستحکم کرنے اور دوسرے بہت سے شعبوں میں تکنیکی معاونت فراہم کرنے میں مصروف ہیں۔ جن خطوں میں معدنی ذخائر غیر معمولی ہیں، ان پر چین نے زیادہ توجہ دی ہے تاکہ اپنی معیشت کی تمام ضروریات کو بہت حد تک پورا کرنے کے ساتھ ساتھ متعلقہ ممالک کے عوام کو بھی احساس دلایا جاسکے کہ چینی قیادت محض اقتصادی امور پر توجہ نہیں دیتی بلکہ اُن کی حقیقی ترقی بھی چاہتی ہے۔ افریقا میں چین نے یہی کیاہے۔کئی ممالک سے معدنیات نکالنے پر اکتفا نہ کرتے ہوئے چین نے افرادی قوت کا معیار بلند کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ چین کے بارے میں تمام بڑے ماہرین اور اقتصادی و اسٹریٹجک امور پر نظر رکھنے والے ادارے یہی کہہ رہے ہیں کہ وہ اگلی سپرپاورہے۔ چین کی قیادت چاہتی ہے کہ ان کی سپر پاور والی حیثیت کا کچھ نہ کچھ اندازہ لوگوں کو مشرقِ وسطیٰ میں ہوجائے۔

تین عشروں کے دوران چین تیل کا سب سے بڑا صارف بن چکا ہے۔ غیر معمولی رفتار سے کی جانے والی ترقی اور بیرونی سرمایہ کاری نے چین کو اس قابل بنادیا ہے کہ وہ جب بھی چاہے، اپنی مرضی کی یعنی متوازن قیمت پر تیل خریدے یا خام تیل خرید کر صاف کرے۔ چین کی مستحکم اور متوازن معیشت نے تیل، گیس اور معدنیات کی دولت سے مالا مال کئی ممالک بلکہ خطوں کو اس بات کی تحریک دی ہے کہ وہ چین سے معاملات طے کریں تاکہ انہیں اپنے مال کی وہی قیمت ملے جو وہ چاہتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ قدرے استحکام بھی حاصل ہو۔ اس وقت چین یومیہ 60 لاکھ بیرل خام تیل درآمد کررہا ہے۔ 2040ء تک چین کی توانائی کی طلب میں 70 فیصد اضافے کی توقع ہے۔ یعنی تب تک چین امریکا کے مقابلے میں دگنی توانائی صرف کر رہا ہوگا۔

چین توانائی کے حصول کیلئےوسطِ ایشیا اور دیگر خطوں کی طرف بھی دیکھ رہا ہے مگر اب تک اس کا انحصار سب سے زیادہ مشرقِ وسطیٰ پر ہے۔ 2020ء تک چین اپنی ضرورت کا 70سے زائد تیل مشرقِ وسطیٰ سے درآمد کر رہا ہوگا۔ کئی برسوں کے دوران مشرقِ وسطیٰ سے چین کیلئےتیل کی برآمدات میں غیر معمولی رفتار سے اضافہ ہوا ہے۔ سعودی عرب اس وقت چین کی تیل کی 20 فیصد ضرورت پوری کر رہا ہے۔ انگولا اور ایران 10، 10 فیصد ضرورت پوری کر رہے ہیں۔ بین الاقوامی پابندیوں کی تھوڑی بہت حمایت نے بھی چین اور ایران کے تعلقات کو نقصان پہنچایا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب ایران توانائی کے شعبے میں چین کی ضرورت 16فیصد کی حد تک پوری کر رہا تھا۔

اس میں تو کوئی شک نہیں کہ اس وقت چین ایندھن کے معاملے میں مشرق وسطیٰ پر غیر معمولی انحصار کر رہا ہے مگر یہ بات کم ہی لوگ جانتے ہوں گے کہ چین نے توانائی کے معاملے میں مشرقی وسطیٰ کو بنیادی سہارا بنانے کی کوششیں عشروں پہلے شروع کردی تھیں۔ 1983ء میں چین کی معیشت نے بھرپور کامیابی کی طرف سفر شروع نہیں کیا تھا مگر تب بھی منصوبہ بندی کے محاذ پر چین آگے تھا۔ چائنا نیشنل پٹرولیم کارپوریشن نے کویت میں تیل ذخیرہ کرنے کی ایک تنصیب کا ٹھیکہ حاصل کرنے کی کوشش کی اور1995ء میں یہ ٹھیکہ حاصل کرلیا۔ اس کے بعد سعودی عرب سے چین کے تعلقات میں گہرائی اور گیرائی آئی۔ اب سعودی عرب ہی چین کو تیل فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ اس کے عوض چین نے سعودی عرب کو تیل صاف کرنے کے حوالے سے غیر معمولی تکنیکی معاونت فراہم کرنا جاری رکھا ہے۔ چائنا پٹرولیم اینڈ کیمیکل کارپوریشن نے سعودی آرامکو سے ایک ارب 20کروڑ ڈالر کی لاگت سے چین کے شہر گنگڈو میں تیل صاف کرنے کا کارخانہ قائم کرنے سے متعلق مذاکرات کیے ہیں۔ دونوں ممالک چین کے صوبے فوجیان میں بھی تیل صاف کرنے کا ایک بڑا کارخانہ لگانا چاہتے ہیں جس کی مجموعی لاگت ساڑھے تین ارب ڈالر ہوگی۔

چین نے سعودی عرب کے ساتھ ساتھ ایران سے بھی تعلقات بہتررکھے ہیں۔ایران پرعائد بین الاقوامی پابندیوں کے حوالے سے چین کا رویہ زیادہ سخت نہیں رہا۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ توانائی کے معاملے میں چین حقائق پر مبنی پالیسی اختیار کرتا ہے کہ کسی بھی ناگہانی صورت حال میں کوئی بڑا بحران پیدا نہ ہو۔ جن خطوں میں توانائی کے ذرائع زیادہ تناسب سے موجود ہیں ان پر چین کی زیادہ توجہ ہے۔

تیل کے معاملے میں چین اور مشرق وسطیٰ کا گٹھ جوڑ کچھ اور کہانی بھی سناتا ہے۔ چین چاہتا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی معاونت سے اپنی اقتصادی برتری کے حصول کی خواہش پوری کرے۔ چین نے دیگر خطوں کی طرح مشرق وسطیٰ سے بھی تجارت کے ذریعے اپنے مراسم گہرے کیے ہیں تاکہ مزید تعاون کی راہ ہموار ہو۔ 2005ء سے 2009ء کے دوران مشرق وسطیٰ سے چین کی تجارت میں87 فیصد اضافہ ہوا جس کے بعد یہ 100 ؍ارب ڈالر تک پہنچ گئی اور2012ء میں تجارت کا حجم212؍ارب ڈالر تک پہنچ چکا تھا۔2010ء میں مشرق وسطیٰ کیلئےچین کی برآمدات امریکی برآمدات سے زیادہ تھیں۔ مشرق وسطیٰ کیلئےچین عام طور پر کم لاگت کی ایسی اشیاء برآمد کرتا ہے جو کم آمدنی والے افراد بھی اپنے گھروں میں بروئے کار لاسکتے ہیں۔ مصر کی مثال بہت واضح ہے۔ بیشتر مصری اب چین کی کم لاگت کی کاریں رکھنے کے قابل ہوگئے ہیں۔ اسرائیل کی ناکہ بندی سے تنگ آئے ہوئے غزہ کے شہری بھی چین کی سستی اشیاء کی مدد سے اپنی زندگی میں آسانیاں پیدا کر رہے ہیں۔

مشرق وسطیٰ میں چین کی سرمایہ کاری بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ 2005ء میں یہ سرمایہ کاری ایک ارب ڈالر تھی جو 2009ء تک11؍ارب ڈالر تک پہنچ چکی تھی۔ 2005ء سے 2012ء کے دوران ایران میں چین نے کم وبیش18؍ارب کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ ان میں 13؍ارب90 کروڑڈالر توانائی کے شعبے میں، 2؍ارب 10کروڑ ڈالر ٹرانسپورٹیشن کے شعبے میں اور 2؍ارب 80کروڑ ڈالر دھاتوں کے شعبے میں لگائے گئے ہیں۔

چین نے سعودی عرب میں13؍ارب 60 کروڑڈالرکی سرمایہ کاری کی ہے۔ ان میں سے 5؍ارب20 کروڑ ڈالر دھات، 3؍ارب30کروڑڈالرتوانائی، 2؍ارب20 کروڑڈالرریئل اسٹیٹ اورباقی ٹرانسپورٹیشن اوردیگر شعبوں میں لگائے گئے ہیں۔ چین نے ترکی میں 6؍ارب 40 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے جسمیں سے4؍ارب30کروڑ ڈالر توانائی کے شعبے میں لگائے گئے ہیں۔ایران اور عراق میں سب سے بڑا غیر ملکی سرمایہ کار چین ہے۔ افریقا کی طرح اب مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک نے بھی بڑے تعمیراتی منصوبوں کے ٹھیکے چینیوں کو دینا شروع کر دیے ہیں۔ مصر نے نہر سوئز سے متصل اقتصادی زون کی تعمیر و ترقی میں بھی چین سے بھرپور مدد لی ہے۔ افریقا اور مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک نے اپنے ہاں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں بھی چین سے غیر معمولی معاونت پائی ہے مگر حقیقت اب بھی یہی ہے کہ ان خطوں میں چین کے سرمائے کا غالب حصہ توانائی کے شعبے میں ہے۔

ایشیا اور یورپ کے درمیان دروازے کا کردار ادا کرنے والے دبئی پر چین نے بھی توجہ دی ہے اور اس کی تجارت کا بڑا حصہ دبئی کی معیشت سے وابستہ ہے۔ 2009ء تک چین اور متحدہ عرب امارات کی تجارت کا حجم 21؍ارب ڈالر تھا۔ 2013ء میں یہ حجم 40؍ارب ڈالرتک جاپہنچا۔ 2015ء تک یہ حجم 100؍ارب ڈالر تک پہنچ چکاتھا۔ دبئی انٹر نیشنل فنانس سینٹر کے مطابق 2011ء تک 2300چینی کمپنیوں نے رجسٹریشن کرائی تھی۔ کاروبار اور تجارت کی غرض سے کم و بیش دو لاکھ چینی متحدہ عرب امارات میں رہائش پذیر ہیں۔ انڈسٹریل اینڈ کمرشل بینک آف چائنا سمیت تمام بڑے چینی بینکوں نے متحدہ عرب امارات میں شاخیں قائم کررکھی ہیں۔متحدہ عرب امارات پہنچنے والی 70 فیصد سے زائد چینی برآمدات وہاں سے ایران، سعودی عرب اور دیگر نزدیکی منازل تک روانہ کی جاتی ہیں۔ دبئی کے جبل علی فری زون میں چین کی 170سے زائد کمپنیوں کے دفاتراور گودام ہیں۔ 2012ء میں اس جبل علی فری زون سے چین کی تجارت ۱۱؍ارب ڈالر تھی جو اس زون کی مجموعی تجارت 82؍ارب ڈالرکا 14 فیصد تھی۔

چین نے مشرق وسطیٰ میں تیل سے ہٹ کر مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی رفتار تیز کردی ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ خطے میں اُس کے اثرات کتنی تیزی سے وسعت اختیار کر رہے ہیں اور مضبوط بھی ہو رہے ہیں۔ بنیادی ڈھانچے اور ٹرانسپورٹیشن کے شعبے میں بھی چین نے اپنی موجودگی کابھرپوراحساس دلانا شروع کردیاہے۔ کئی ممالک کو بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اوربڑے پیمانے پرٹرانسپورٹیشن سے متعلق سہولت فراہم کرکے اپنی اہمیت کا احساس دلایا ہے۔چین نے بھرپور کوشش کی ہے کہ توانائی کے شعبے سے ہٹ کر بھی بنیادی شعبوں میں سرمایہ کاری کی جائے۔ کئی ممالک میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے ساتھ ساتھ نقل و حمل کے ذرائع کو فروغ دینے میں بھی چین کاکرداربہت نمایاں رہاہے۔جنوبی ایشیا،مشرق وسطیٰ اورافریقا کے متعدد ممالک میں چین نے مختلف شعبوں میں متوازن سرمایہ کاری کرکے اپنی موجودگی کا احساس دلایا ہے۔ مغربی طاقتوں کیلئےیہ سب کچھ بہت حد تک حیرت انگیز ہے کیونکہ اب تک کسی اور ملک نے اتنے بڑے پیمانے پر خود کو منوانے کی کوشش نہیں کی۔
چین نے اسلامی دنیا میں اپنے اثرات کا دائرہ وسیع کرنے پر خاص توجہ دی ہے۔ وہ تیل کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے کے ساتھ ساتھ ہاؤسنگ،بنیادی ڈھانچہ اوردیگر شعبوں میں بھی اپنی اہمیت متعلقہ ممالک پراجاگرکررہاہے۔ایران سے بھی اقتصادی تعاون بڑھانے پرچینی قیادت نے خاص توجہ دی ہے۔مکۂ مکرمہ،مدینہ منورہ،نجفِ اشرف،کربلائے معلیٰ،قم اورمذہب کے حوالے سے اہمیت رکھنے والے دیگر شہروں میں چین کی بہت سی مصنوعات اہلِ ایمان میں مقبول ہیں۔ چین ڈجیٹل قرآن، مشینی تسبیح، جا نماز، اسکارف، نقاب اور دیگر بہت سی مصنوعات تیار کر رہا ہے جن میں مسلمان غیر معمولی دلچسپی لیتے ہیں۔
اسلامی دنیا میں پائے جانے والے کسی بھی بحران کے حوالے سے چین نے غیر معمولی اعتدال کا مظاہرہ کیا ہے۔ لیبیا، عراق اور شام کے معاملے میں چینی قیادت کا رویہ متوازن رہا ہے تاکہ کوئی بھی فریق جانب داری کا الزام عائد نہ کرسکے۔ شام کے پناہ گزینوں کیلئےاردن میں چین نے طبی سہولتوں کا اہتمام بھی کیا ہے۔ اسرائیل اور فلسطینیوں کے مابین مسلح تصادم کے حوالے سے بھی چین قدرے غیر جانب دار رہا ہے اور فریقین کی نظر میں اس کیلئےبرابر کا احترام ہے۔

2002ء میں قائم کیے جانے والے دی چائنا عرب اسٹیٹس کوآپریشن فورم کے ذریعے چین نے عرب دنیا میں اپنے اثرات کا دائرہ وسیع کرنے پر توجہ دی ہے۔ مصر سمیت کئی ممالک میں چینی زبان، ادب اور ثقافت کی تعلیم دینے کا سلسلہ جاری ہے۔ 2005ء سے 2009ء کے دوران عرب دنیا کے 1200 نوجوانوں نے چین میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی اوراس وقت چھ ہزارسے زائدعرب طلباء چین کی مختلف یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں اوریقیناً نوجوانوں کی یہ وہ تعدادہے جواس سے پہلے یورپ اورامریکاکارخ کرتے تھے۔ چند نئے معاہدوں کے نتیجے میں چینی سیاحوں پر عرب دنیا کے دروازے کھلے ہیں۔ چین کے سیاح نسبتاً پرسکون عرب ممالک کا رخ کر رہے ہیں۔ مصر میں رونما ہونے والی سیاسی تبدیلیوں سے قبل کم و بیش65ہزار چینی سیاحوں نے وہاں کا رخ کیا تھا۔ متحدہ عرب امارات میں چینی سیاحوں کی تعداد ایک کروڑسے کہیں زائدتک پہنچ چکی ہے جوکسی بھی ملک کے سیاحوں کی تعدادسے زیادہ ہے۔ہر سال20ہزار سے زائد چینی حج کرتے ہیں۔ ان تمام باتوں سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ چین محض اقتصادی امور پر توجہ نہیں دے رہا بلکہ اس نے تعلقات کے ثقافتی پہلوکوبھی نظرانداز کرنے سے گریزکیا ہے۔

مشرق وسطیٰ، وسط ایشیا اور جنوبی ایشیا سے چین کا تجارتی اور ثقافتی تعلق بہت پرانا ہے۔ شاہراہِ ریشم کی معرفت چین کامال ان خطوں کی منڈیوں تک پہنچتاتھااوران خطوں کامال چین تک پہنچایا جاتاتھا۔چین نے توانائی کی ضرورت پوری کرنے کیلئےان خطوں سے اپنے روابط کومزید وسعت دی ہے۔ پائپ لائنیں بچھانے پرتوجہ دی جارہی ہے۔ گرڈ بھی قائم کیے جارہے ہیں۔ سیاسی اور اسٹریٹجک نقطۂ نظر سے بھی چین کے ان خطوں سے تعلق میں مزید گہرائی اور گیرائی پیدا ہوئی ہے۔

چین نے قیادت کا جو انداز اپنایا ہے وہ بھی جنوبی ایشیا، وسطِ ایشیا اور مشرق وسطیٰ کیلئےبہت پُرکشش ہے۔ کئی ممالک چین کی بھرپور ترقی سے متاثر اور اُسے نمونہ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ چین کی ترقی کا بلند ہوتا ہوا گراف کئی خطوں کو اس بات کی تحریک دے رہا ہے کہ وہ بھی چینی قیادت کے طے کردہ راستے پر چلیں اور تیزی سے اپنے وجود کو منوائیں۔ چین مسلم دنیا سے اپنے تعلقات کو محض تجارت اور سرمایہ کاری تک محدود نہیں رکھنا چاہتا۔ وہ علم و فن اور ثقافت کے شعبوں میں تعاون کی راہیں بھی تلاش کر رہا ہے۔ وہ سیاسی اور معاشرتی اعتبار سے اپنی پوزیشن کو نقصان پہنچائے بغیر کئی خطوں سے اقتصادی روابط بہتر بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ سفارتی سطح پر بھی چین کی پالیسیاں متوازن ہیں اور اب تک کسی بھی خطے نے کسی بڑی نا انصافی یاغلط رویے کی شکایت نہیں کی ہے۔چین کی سوچ یہ ہے کہ اقتصادی امورکے ساتھ ساتھ ثقافت کے میدان میں بھی تعلقات کو وسعت دی جائے تاکہ معاملات خوش اُسلوبی سے چلتے رہیں۔ مشرق وسطیٰ وہ خطہ ہے جس میں چین کا تیزی سے ابھرنا محسوس کیا جاسکتا ہے۔

اب ضرورت اس امرکی ہے کہ وزیراعظم عمران خان نئے پاکستان بنانے کیلئے پاکستان کے دیرینہ اورمخلص دوست چین سے استفادہ حاصل کرنے کیلئے ایک خصوصی اعلی اختیاراتی کمیٹی کی تشکیل دیکرجہاں نوجوان نسل کومستقبل کے معماربنانے میں مددملے گی وہاں ملک کی انتہائی بگڑی ہوئی معاشی صورتحال کوبہتربنانے میں مددملے گی۔چین کی خارجہ پالیسی سے بھی سیکھنے کی اشدضرورت ہے کہ اس نے کس طرح بیک وقت سعودی عرب،ایران اوراسرائیل سے اپنے تعلقات میں توازن قائم کررکھاہے اوراس میں حیرت کی کوئی بات نہیں کہ بھارت اورچین جو ایک دوسرے کے خلاف ایک خوفناک جنگ کرچکے ہیں اوربھارت اب بھی سی پیک جیسے منصوبے کوامریکاکی شہہ پرناکام کرنے کیلئے نہ صرف عملاً دہشتگردی میں ملوث ہے بلکہ اسکوناکام کرنے کیلئے 250ملین ڈالرمختص کرچکاہے، بھارت اورچین کے دو طرفہ تجارت کی تاریخ 84.44 بلین ڈالر کی بلندترین سطح پرپہنچ گئی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارت جیسے مکار پڑوسی سے مسئلہ کشمیرحل کئے بغیرکسی بھی تجارت کاسوچنابھی کشمیری شہداء کے ساتھ بے وفائی اورزیادتی ہوگی،اس لئے یکطرفہ طورپربھارت کے ایک قدم آگے بڑھنے پردوقدم آگے بڑھنے کااعلان اورارادہ بھی ناکامی سے دوچارہوگا۔وہ بھارت جوعمران خان صاحب کے تقریب حلف وفاداری پران کے دیرینہ دوست مشہورکرکٹرنوجوت سنگھ سدھوپرمحض اس لئے غداری کا مقدمہ قائم کرنے کاواویلاکررہے ہیں کہ پاکستانی فوج کے سپہ سالار نے مہمان نوازی کی اعلی مثال قائم کرتے ہوئے ان کوگلے لگاکرساری دنیاکوامن کاپیغام دیا۔ وزیر خارجہ شاہ محمودقریشی جنہوں نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کاآغازاوراختتام پاکستان سے منسوب کرنے کااعلان کیا،ان سے بھلااورکون بہترجانتاہے کہ جب وہ پی پی کی حکومت میں اسی منصب پرفائزتھے،ان کے ساتھ بھارت میں کیاسلوک ہواتھا۔ شاہ محمودقریشی کے منصب سنبھالتے ہی امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیوکی عمران خان سے فون کال نے کافی ہنگامہ کھڑاکر دیا۔امریکی وزارتِ خارجہ نے اس فون کال کاباقاعدہ اسکرپٹ جاری کردیاجس کے بعدپاکستانی وزارتِ خارجہ نے اس معاملے کو ختم کرنے کااعلان کردیا۔ابھی یہ معاملہ طے نہیں ہواتھاکہ امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیوکے دورۂ پاکستان کا کوئی مشترکہ اعلامیہ جاری نہ ہوسکالیکن دونوں اطراف سے بیانات میں پھرواضح فرق سامنے آگیاہے۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو ایک روزہ دورے پر پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان سمیت اعلی حکام سے ملاقاتیں کرنے کے بعد انڈیا روانہ ہو گئے ہیں۔وزیرِ اعظم سے ملاقات کے دوران پاکستانی وزیرِ خارجہ اور پاکستانی فوج کہ سربراہ قمر جاوید باجوہ بھی شریک تھے۔اس سے پہلے امریکی فوج کے جوائنٹ چیف آف سٹاف جنرل جوزف ڈنفرڈ کے ہمراہ پاکستان آمد کے بعد مائیک پومپیو نے ہم منصب شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی۔امریکی محکم خارجہ کی ترجمان ہیتھر نوریٹ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہاگیاکہ اسلام آباد میں امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل باجوہ سے ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان دہشتگردی کے خلاف دونوں ممالک کے درمیان زیادہ گہرے تعاون کی امید کااظہارکیا۔ بیان کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والے ملاقاتوں میں وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے پیغام دیا کہ پاکستان کو ضرورت ہے کہ وہ علاقائی امن اوراستحکام کے لیے خطرہ بننے والے دہشتگردوں اور شدت پسندوں کے خلاف فیصلہ کن اور مستقل اقدامات کرے۔بیان کے مطابق وزیر خارجہ مائیک پومپیونے زوردیاکہ افغانستان میں بات چیت کے ذریعے امن لانے میں پاکستان اہم کردارادا کرسکتا ہے۔
دوسری جانب امریکی وزیرِخارجہ کے انڈیاچلے جانے کے بعدشاہ محمودقریشی نے صحافیوں کوملاقات سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ یہ تاثرغلط ہے کہ'' ٹف ٹالکنگ''ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ڈو مورکاکوئی مطالبہ نہیں ہوابلکہ اس کے برعکس ہواہے۔میں نے پاکستان کابرد باری،خودداری، ذمہ داری اورحقیقت پسندانہ مؤقف پیش کیا،امریکی اہلکاروں سے ملاقات میں کشیدگی کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے ان کاکہناتھاکہ آپ کوباڈی لینگویج سے اندازہ ہواہوگاکہ یہ ملاقات خوشگوار تھی۔

امریکی وزیرِخارجہ مائیک پومیوسے پاکستانی حکام کی پہلی ملاقات دفترخارجہ میں ہوئی اورپھروزیرِاعظم سکریٹیریٹ میں ملاقات ہوئی۔ دوسری ملاقات میں وزیرِاعظم،آرمی چیف، ڈی جی آئی آئی ایس آئی اورامریکی جنرل سمیت سب نے ایک ساتھ بیٹھ کرتبادلہِ خیال کیاکیونکہ ماضی میں سول اورفوجی الگ الگ ملاقاتیں چہ مگوئیوں کا باعث بنتی تھیں۔آج کی مشترکہ ملاقات سے سول ملٹری یک جہتی کاپیغام گیاہے۔افغانستان میں امن مذاکرات میں پاکستانی کی مدد کے حوالے سے یقینا پاکستان اپناکردااداکرے گا تاہم انھوں نے واضح کیاکہ اگرہم نے اپنی مغرب کو توجہ دینی ہے تو مشرق میں سہولت چاہیے۔

پومپیونے ایک ٹویٹ کرتے ہوئے لکھاپاکستان میں،میں نے جنرل جوڈنفورڈسمیت دوسرے ساتھیوں کے ہمراہ پاکستانی وزیرِاعظم اوروزیرِخارجہ شاہ محمودقریشی سے ملاقات کی اورسفارتی اور فوجی تعلقات پرتبادلہِ خیال کیا۔میرے خیال میں نئے وزیراعظم عمران خان سے ان کے دورِاقتدار کے ابتدائی دنوں میں ملاقات کرنابہت اہم ہے۔یادرہے کہ چین کے وزیرخارجہ بھی تین دن کے دورہ پاکستان پرپہنچ گئے ہیں اوریقیناًامریکی وزیرخارجہ کے دورے کے بعدپیداہونے والی خطے کی صورتحال پربات ہوگی۔اب وقت آگیاہے کہ ہم اپنے اہم دوست اورہمسایہ چین کی خارجہ پالیسی کابھی گہرامطالعہ کریں کہ اس نے کس طرح چین کودنیاکی اہم طاقت منوالیاہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sami Ullah Malik

Read More Articles by Sami Ullah Malik: 466 Articles with 150021 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
11 Sep, 2018 Views: 257

Comments

آپ کی رائے