باکسرعامر خان عُرف کنگ

(Arif Jameel, Lahore)
8ِسمبر2018ء کو پاکستانی نثراد باکسر عامر خان نے ایک دفعہ پھر اُس وقت پاکستانیوں کے دِل جیت لیئے جب برمنگھم میں باکسنگ سُپر ویلٹر ویٹ درجہ کے مقابلے میں کولمبین حریف سیموئیل ورگاس کو زبردست مقابلے کے بعد شکست دے دی۔ ۔۔۔8ِ ستمبر2018ء تک اُنھوں نے37 مقابلوں میں سے33 میں کامیابی حاصل کر لی ہوئی ہے اور اُن میں سے بھی 20 حریفوں کوناک آؤٹ کیا ہے۔۔۔۔ مئی 2013 ء کو ولڈورف ایسٹوریا ہوٹل، نیویارک میں اُنکی اور فریال کی شادی کی تقریب ہو ئی۔ ۔۔۔

باکسرعامر خان مقابل ورگاس۔۔۔باکسر عامر خان اور فریال مخدوم

پاکستانیوں کیلئے یہ بڑے اعزاز کی بات ہے کہ وہ کھیلوں کے میدان میں بھی بحیثیت قوم پاکستانی جھنڈے کے تلے ایک اہم پہچان رکھتی ہے اور اپنے ملک کے کھلاڑیوں کی کامیابی اُن میں خوشی کی لہر بن کے دوڑتی ہے۔لہذا 8ِسمبر2018ء کو پاکستانی نثراد باکسر عامر خان نے ایک دفعہ پھر اُس وقت پاکستانیوں کے دِل جیت لیئے جب برمنگھم میں باکسنگ سُپر ویلٹر ویٹ درجہ کے مقابلے میں کولمبین حریف سیموئیل ورگاس کو زبردست مقابلے کے بعد شکست دے دی۔

12ویں راؤنڈ میں پوائنٹس پر عامر خان کو کامیابی ملی۔ جبکہ اُنکے مقابل ورگاس کی باکسنگ کے کھیل میں عامر خان کے برابر پہچان ہے جسکی عامر خان نے مقابلے کے بعد تعریف بھی کی ۔ یہ مقابلہ ملا کر اب تک وہ صرف 4مقابلوں میں شکست کھا چکے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف عامر خان کو بھی اس مقابلے سے پہلے تک صرف 4مقابلوں میں شکست کا سامنا کر نا پڑا ہے۔دونوں 30سے زائد مقابلوں میں حصہ لے چکے ہیں۔
عامر خان کے بارے میں مختصر معلومات:

بیسویں صدی کے عظیم مسلمان باکسر محمد علی کلے آج اکیسویں صدی کے اُبھرتے ہوئے مسلمان باکسر عامر خان کے آئیڈیل ہیں۔ پاکستانی نژاد برطانوی باکسرعامر اقبال خان برٹش کے پیشہ ور باکسر کی حیثیت میں اپنی کامیابیوں کا سفر جاری رکھے ہوئے ہیں ۔وہ 8ِ دسمبر1986ء کو انگلستان کی شمال مغرب کی کاؤنٹی منچسٹر کے ٹاؤن بولٹن میں پیدا ہوئے ۔ جبکہ ان کا تعلق مٹور گاؤں ،تحصیل کہوٹہ ،ضلع راولپنڈی،پاکستان کے مشہور جنجوعہ خاندان سے ہے۔ تاہم پیدائش اور تعلم و تربیت انگلستان میں ہی ہوئی۔تعلیم سمیتھ ہلز سکول بولٹن اور بولٹن کمیونٹی کالج سے حاصل کی اور کھیلوں میں کرکٹ ، فُٹ بال ، باسکٹ بال اور باکسنگ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے ۔لیکن کامیابی کے جھنڈے باکسنگ کے شعبے میں گاڑھے اور یہی اُنکی دُنیا بھر میں وجہ شہرت بن گئی۔

عامر خان نے پہلا با کسنگ کا مقابلہ 11 سال کی عمر کیا ۔ جس کے بعد وہ اپنے والد شاہ خان کے تعاون سے باکسنگ کے رِنگ میں مسلسل اُترنا شروع ہو گئے اور کامیابیوں نے اُنکے قدم چُومنے شروع کر دیئے۔ 2003 ء میں اُنھوں نے ’اے اے یو‘ اولمپک گیمز میں گولڈ میڈل جتنے کے بعد 2004 ء میں ایتھنز ،یونان میں منعقد ہونے والے اولمپکس میں حصہ لیتے ہوئے 17 سال کی عمر میں باکسنگ کے مقابلوں میں چاندی کا تمغہ حاصل کر لیا۔اس کامیابی پر اُنھیںُ ینگ باکسر آف دی ائیر ‘ کا اعزاز بھی دیا گیا کیونکہ وہ واحد باکسر تھے جنہوں نے یورپی چیمپئن کو شکست دی تھی ۔ اہم یہ ہے کہ1951 ء میں برطانیہ کے باکسر کلب کے قیام کے بعد لائٹ ویٹ سلور میڈلسٹ کہلانے والے وہ پہلے کھلاڑی بھی بنے جنہوں نے کلب کیلئے کوئی اعزاز حاصل کیا۔ بعدازاں اُنھوں نے ڈبلیو بی اے لائٹ ویلٹر ویٹ کا ٹائٹل بھی22 سال کی عمر میں حاصل کر کے برٹش کے نوجوان چیمئینز کی فہرست میں اپنا نام شامل کروا لیا۔

دسمبر 2012 ء میں5 فُٹ 8.6 انچ لمبے قد والے عامر خا ن (عُرف کنگ) نے لاس انجلیس میں ہونے والے ایک اہم مقابلے میں اپنے مدِ مقابل امریکی باکسر کارنوس مولینا کو شکست دے کر ڈبلیو بی سی سلور سُپر لائٹ ویٹ کا ٹائٹل جیت لیا۔ کارنوس مولینا کے کامیاب کیرئیرکی یہ پہلی شکست تھی۔ اس سے پہلے عامر خان ڈینی گارسیا اور لیمونٹ پیٹرسن سے یکے بعد دیگرے شکست کھا کر ڈبلیو بی اے اور آئی بی ایف کے لائٹ ویلٹر ویٹ کے ٹائٹلز کھو چکے تھے۔ حالانکہ دسمبر2011 ء میں عامر خان نے امریکی باکسرلیمونٹ پیٹرسن سے شکست کے بعد ججوں کے فیصلے پر اعتراض کیا تھا اور بعدازاں یہ ثابت بھی ہو گیا تھا کہ امریکی باکسر نے ڈرگز(ممنوع ادویات ) کا استعمال کیا تھا ۔ جس پرورلڈ باکسنگ ایسوسی ایشن نے عامر خان کو لائٹ ویلٹر ویٹ چیمپئن کا خطاب جولائی 2012 ء کو واپس دے دیا تھا لیکن آ ئی بی ایف کی طرف سے ایسا کو ئی اعلان سامنے نہ آسکا ۔

عامر خان نے ان حالات میں بھی اپنا قدم آگے بڑھایا اور باکسنگ کے مقابلوں کا سلسلہ جاری رکھا اور جولیہ ڈیاز سے اپریل2013ء میں مقابلہ جیتا۔ مئی 2014ء میں لوئس کولیزو اور دسمبر2014ء میں ڈیوون الیگزنیڈر کوشکست دی۔ اگلی منزل تھی کرسٹوفر الجیری جسکو مئی 2015ء میں عامر خان نے ہرایا۔
مئی 2016ء میں عامر خان کو میکسکو کے کانیلو الفاریز سے شکست ہوئی تو باکسنگ کی دُنیا میں دلچسپی رکھنے والوں کا خیال تھا کہ اس شکست سے عامر خان کے مستقبل کے مقابلوں پر اثر پڑے گا لیکن فیللو گرکو کو ا پریل2018 ء میں اور اب8ِ ستمبر2018ء کوسمیوئل ورگاس کو شکست دے کر اُنھوں نے فی الوقت واضح کیا کہ" عُرف کنگ" ابھی بھی" رِنگ کے کنگ" ہیں۔

بہرحال 8ِ ستمبر2018ء تک اُنھوں نے37 مقابلوں میں سے33 میں کامیابی حاصل کر لی ہوئی ہے اور اُن میں سے بھی 20 حریفوں کوناک آؤٹ کیا ہے۔

عامر خان کی ازدواجی زندگی:
باکسرعامر خان کی زندگی کی ان کامیابیوں کے دوران جولائی2011 ء میں اُنکی ملاقات پاکستانی نژاد امریکن شہری فریال مخدوم نامی لڑکی سے ہوئی۔ وہ نیویارک میں پیدا ہوئیں اور وہیں پلی بڑھی ۔تاہم اُنکے دادا ،دادی کا تعلق پاکستان سے تھا اور والد کا باقی خاندان بھی پاکستان میں ۔ جب اُن دونوں کی ملاقات ہوئی تو شروع میں فریال کو اُنکا اندازِبیان سمجھ نہ آیا ۔لیکن پھر جلد ہی بولٹن میں جا کر پانچ دِن انکے خاندان کے ساتھ گزارے تو سب اچھا لگا۔بس بولٹن اور نیو یارک میں بڑا فرق نظر آیا۔بولٹن کی گلیاں چھوٹی لگیں۔بہرحال جب معاملہ آگے بڑھا تو فریال کو عامرخان کے مداحوں کے ایس ایم ایس آنے شروع ہو گئے جن میں اُنھیں عامر خان سے تعلقات کی بنا پر سراہا گیا اور کچھ نے تو اُنھیں انگلستان کے شہزادے ولیم چارلس کی بیوی کیٹ میڈیلٹن سے مشابہے قرار دے دیا۔

پانچ فُٹ تین انچ قد کی یہ20 سالہ فریال مخدوم 25 سالہ عامر خان کے دل کو بھا ہی گئی اور پاکستانی نژاد برطانوی باکسر عامر خان نے29 ِ جنوری 2012 ء کو اُس سے منگنی کر لی۔بولٹن کے ونڈررز ریبوک اسٹیڈیم میں منعقد ہونے والی اس منگنی کی تقریب پر ڈیڑھ لاکھ پاؤنڈ خرچ ہوئے اور عامر خان نے اپنی منگیتر کو ایک لاکھ پاونڈ مالیت کی وہ انگوٹھی پہنائی جس میں تین ہیرے جڑے ہوئے تھے۔

ماہِ اکتوبر 2012 میں باکسر عامر خان کو اُس وقت حقیقی زندگی میں ناک آؤٹ ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا جب اُنکی منگیتر فریال مخدوم نے اُنکی سابقہ دوست نتالی فوکس سے ملاقات کی کوشش کی اور ایس ایم ایس بھی بھیجے۔اُن کو شُبہ تھا کہ دونوں کی ملاقاتیں ابھی تک جاری ہیں۔ لیکن نتالی فوکس کے مطابق وہ عامر خان سے اُنکی منگنی سے دو ہفتے پہلے ملی تھیں۔جبکہ باکسر کے مطابق اُن دونوں کے درمیان آخری ملاقات ایک سال پہلے ہوئی تھی۔لہذا اس تردید پر دونوں کے تعلقات بہتر ہو گئے ۔

مئی 2013 ء کو ولڈورف ایسٹوریا ہوٹل، نیویارک میں اُنکی اور فریال کی شادی کی تقریب ہو ئی۔پا نچ روز بعد انگلستان میں دعوتِ ولیمہ ہوا۔ نیا زندگی کا سفر شروع ہوا لیکن پھر سُسرال میں فریال کی عامر خان کے گھر والوں سے بن نہ سکی۔ دونوں طرف سے الزامات لگنے لگے۔ میڈیا نے بھی بڑھ چڑھ کر خبریں نشر کیں۔ اس دوران دونوں کے گھر مئی2014ء میں بیٹی کی پیدائش ہوئی۔ اگست 2017ء میں عامر خان کی طرف سے یہ بھی کہا گیا کہ دونوں میاں بیوی میں علحیدگی بھی ہو سکتی ہے لیکن کچھ عرصے بعد میڈیا کے ذریعے ہی دونوں کے درمیان تعلقات بہتر ہو نے کی خبریں آنا شروع ہو گئیں۔تازہ ترین صورت حال کے مطابق اس وقت عامر خان بحیثیت باکسر اور بحیثیت خاوند اپنی ذمہداریاں بخوبی نبھا رہے ہیں۔ساتھ میں اپریل 2018ء میں اُنکے ہاں دوسری بیٹی کی ولادت ہو ئی ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Arif Jameel

Read More Articles by Arif Jameel: 160 Articles with 169894 views »
Post Graduation in Economics and Islamic St. from University of Punjab. Diploma in American History and Education Training.Job in past on good positio.. View More
12 Sep, 2018 Views: 594

Comments

آپ کی رائے