آبی ذخائر کی صورتحال،ڈیم کے لئے حکومتی فنڈ ریزنگ اور لوٹی ہوئی قومی دولت کی واپسی

(عنایت اللہ کامران, میانوالی)
اس وقت پاکستان کو ایک ڈیم کی فوری ضرورت ہے ،چاہے وہ دیامر بھاشا ڈیم ہو یا کوئی اور ڈیم ،اگر آنے والی ایک دہائی میں پاکستان میں ایک یا دو بڑے ڈیم تعمیر نہ کئے گئے تو ملک میں پانی شدید قلت پیدا ہوجائے گی اور پانی پینے کے لئے بھی مشکل ہی سے دستیاب ہوگا ۔اس ہنگامی صورتحال میں پوری قوم میں شعور بیدار کرنے کے علاوہ حکمرانوں اور تمام سیاسی ،سماجی و مذہبی جماعتوں کو بھی بیدار ہونے اور اپنے اندر شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے ،اس اہم مسئلہ کو سیاست کی نذر نہ کیا جائے اور اسے سیاست کی بھینٹ نہ چڑھایا جائے بلکہ سنجیدگی سے سب مل کر اس مسئلہ کو حل کرنے کوشش کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آبی ذخائر اور ڈیم کی تعمیر کے لئے فنڈ ریزنگ کے حوالے سے خصوصی تحریر
عنایت اللہ کامران/ میرے قلم سے

قبل ازیں چیف جسٹس آف پاکستان نے پاکستان آبی ذخیرہ کے لئے ڈیم کی تعمیر کے لئے ایک فنڈ قائم کیا تھا اور عوام سے اس میں حصہ لینے کی اپیل کی تھی ،بعد ازاں وزیر اعظم پاکستان نے اسے پرائم منسٹر ڈیم فنڈ میں ضم کردیا ،اس وقت ملک و بیرون ملک لوگوں کی ایک بڑی تعداد پرجوش انداز میں فنڈ جمع کرارہی ہے ،تاہم کچھ لوگوں کی طرف سے اگرچہ ڈیم کی مخالفت تو نہیں کی جارہی لیکن اس مقصد کے لئے عوام سے فنڈ ریزنگ کو پسند نہیں کیا جارہا ہے ۔ان لوگوں کا مؤقف یہ ہے کہ موجودہ حکمران چونکہ کرپشن کے خاتمے کانعرہ لگا کر برسراقتدار آئے ہیں اور انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ اقتدار ملتے ہی وہ لوٹی ہوئی قومی دولت وطن واپس لائیں گے اور قومی وسائل کو لوٹنے والوں کے خلا ف سخت کارروائی کرکے انہیں جیل کا راستہ دکھایا جائے گا ،اس لئے حکومت اپنے اس وعدے کی پاسداری کرے اور عوام سے فنڈز لینے کی بجائے کرپٹ لوگوں کے گرد گھیرا تنگ کرکے لوٹی گئی رقم وصول کرے اور ڈیم کی تعمیر کرے ،ان لوگوں کا یہ بھی مؤقف ہے کہ لوٹی گئی رقم اگر وصول کرلی جائے تو کئی ڈیم تعمیر ہوسکتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں آبی ذخائر کی صورتحال انتہائی مخدوش ہے ،ماضی میں سندھ طاس معادے کے تحت پاکستان کو پانی کے ایک بہت بڑے حصہ سے محروم کردیا گیا،اس سندھ طاس معادے پر بھی بھارت عمل نہیں کررہا ہے ،جبکہ ماہرین کے مطابق اس وقت پاکستان کے پاس 30 دن کا پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے جو انتہائی کم ہے جبکہ بہتر صورتحال کم ازکم 120 دن کا پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت تصور کی جاتی ہے۔پاکستان کے پاس اس وقت جن دریا ؤں کا پانی استعمال کے لئے موجود ہے ماضی میں ڈیم نہ بنانے کی وجہ سے پانی کا ایک بہت بڑا ذخیرہ ضائع ہوتا رہا ہے اور اب بھی ہورہا ہے،کالاباغ ڈیم جیسے منصوبے کو سیاست کی بھینٹ اس طرح چڑھایا گیا کہ ابھی تک کوئی حکمران بھی اس کی تعمیر کے لئے ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھا چکا ،مشینری زنگ آلود ہوکر ناکارہ ہوچکی ہے جبکہ ملازمین کے لئے بنائی گئی ہاؤسنگ کالونی بوسیدگی کا شکار ہے ۔افسوس ناک امر یہ ہے کہ حکمران صرف کالاباغ ڈیم پر ہی سیاست چمکاتے رہے جبکہ ملک میں دیگر ڈیم بھی تعمیر کئے جاسکتے تھے جس سے نہ صرف پانی کے ذخائر کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا بلکہ ہم کوشش کرکے سستی بجلی بھی پیدا کرسکتے تھے ،لیکن حکمرانوں نے اس پر کوئی توجہ ہی نہیں دی۔

اس وقت پاکستان کو ایک ڈیم کی فوری ضرورت ہے ،چاہے وہ دیامر بھاشا ڈیم ہو یا کوئی اور ڈیم ،اگر آنے والی ایک دہائی میں پاکستان میں ایک یا دو بڑے ڈیم تعمیر نہ کئے گئے تو ملک میں پانی شدید قلت پیدا ہوجائے گی اور پانی پینے کے لئے بھی مشکل ہی سے دستیاب ہوگا ۔اس ہنگامی صورتحال میں پوری قوم میں شعور بیدار کرنے کے علاوہ حکمرانوں اور تمام سیاسی ،سماجی و مذہبی جماعتوں کو بھی بیدار ہونے اور اپنے اندر شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے ،اس اہم مسئلہ کو سیاست کی نذر نہ کیا جائے اور اسے سیاست کی بھینٹ نہ چڑھایا جائے بلکہ سنجیدگی سے سب مل کر اس مسئلہ کو حل کرنے کوشش کریں ۔تاہم حکومت کی جانب سے ڈیم کی تعمیر کے لئے جہاں تک عوام سے فنڈ لینے کی بات ہے تو ذاتی طور پر میں خود اس کا مخالف ہرگز نہیں لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت عوام پر اپنا اعتماد بھی قائم کرے ،ماضی میں ’’قرض اتارو ملک سنوارو‘‘جیسے حسیں سلوگن کے تحت ملک کی ماؤں بہنوں نے تو اپنے زیور بھی حکومت کو دے دئیے تھے لیکن آج تک اس اسکیم کی کوئی تفصیلات دستیاب نہیں ،کسی کو یہ معلوم نہیں کہ وہ رقم کہاں استعمال کی گئی۔حکومت چونکہ کرپشن کے خاتمے کا نعرہ لگا کر ایوان اقتدار میں آئی ہے اس لئے لوگوں کا یہ مطالبہ بالکل بھی بے جا نہیں کہ لوٹی ہوئی قومی دولت واپس لاکر ڈیموں کی تعمیر اور دیگر عوامی فلاحی منصوبوں پر خرچ کی جائے،اگر حکومت فی الفور کوئی ایسا اقدام اٹھالیتی ہے تو اس سے قوم کا حکومت پر اعتماد بڑھ جائے گا لیکن اسے منفی انداز میں لیا گیا تو اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوگا کہ حکومت کی فنڈ ریزنگ کافی حدتک متاثر ہوسکتی ہے،اسی طرح حکومت کو چاہئیے کہ وہ غیر ضروری اشیائے درآمدات پر پابندی عائد کرے یا پھر ان پر بھاری ٹیکسز عائد کرے تاکہ ملکی زرمبادلہ کی صورت حال بھی بہتر ہو اور ان ٹیکسز کے ذریعے ہونے والی آمدنی کو عوامی فلاحی منصوبوں پر خرچ کیا جائے۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: عنایت اللہ کامران

Read More Articles by عنایت اللہ کامران: 12 Articles with 5504 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Sep, 2018 Views: 259

Comments

آپ کی رائے