نئی حکومت میں نیا بلدیاتی نظام، تیاریاں جاری

(عابد محمود عزام, Lahore)

 تحریک انصاف کی نومنتخب حکومت نیا بلدیاتی نظام لے کر آرہی ہے۔ جس میں پہلے مرحلے میں تمام بلدیاتی اداروں کو ختم کرنے کے بعد ایڈمنسٹریٹر مقرر کیے جائیں گے۔ جس کے بعد نیا بلدیاتی آرڈیننس اسمبلی سے منظور کرایا جائے گا۔ جس میں بلدیاتی اداروں کو خود مختار کرکے وسیع اختیارات دیے جائیں گے۔ ضلع ناظم اور تحصیل ناظم براہ راست عوام سے ووٹ لیں گے۔ پنجاب میں نیا بلدیاتی نظام پہلے سے بالکل مختلف ہو گا۔ 2001 کے قانون میں سیکشن 12 کے تحت اختیارات نچلی سطح تک تھے۔ سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ، ضلع کونسل، تحصیل کونسل، ایڈمنسٹریشن و یونین کونسل ایڈمنسٹریشن تھی۔ 2013 کے بلدیاتی ایکٹ میں سیکشن 11 کے تحت میٹروپولیٹن کارپوریشن قائم کی گئی، جبکہ ضلع کونسل کو اس قانون میں رکھا ہی نہیں گیا۔ ایکٹ 2001 کے مطابق ضلعی حکومت کے پاس 13 ذیلی محکمے تھے۔ 2013 کے قانون میں ایک محکمہ بھی نہیں ہے۔ خیبرپختونخوا میں 2013 کے بلدیاتی ایکٹ کے سیکشن 5 کے مطابق اربن کو تقسیم نہیں کیا گیا۔ سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کا وجود قائم رکھا گیا۔ اختیارات کی منتقلی کے لیے ویلیج کونسل اور رورل کونسلز کا وجود قائم کیا گیا۔ بریفنگ دستاویزات بلدیاتی ایکٹ 2001 میں سیاسی ڈھانچہ مضبوط ترین بنایا گیا اور 2013 بلدیاتی ایکٹ میں سیاسی ڈھانچہ کمزور ترین ہے۔ کے پی کے میں 2013 کے بلدیاتی ایکٹ میں تمام تر پاور ایڈمنسٹریشن کے پاس ہے۔ پرائمری ہیلتھ و ایجوکیشن 2001 بلدیاتی ایکٹ میں ضلع ناظم کے پاس تھی۔ 2013 بلدیاتی ایکٹ میں ڈپٹی کمشنر چیئرمین ہے جو اپنی پاور سیاسی دباؤ کی وجہ سے دہرا نہیں سکتا۔ کے پی کے میں ایسا نہیں ہے۔ 2001 کے بلدیاتی ایکٹ سیکشن 114کے تحت تمام اکاؤنٹس کی ہینڈلنگ ضلع ناظم کے پاس ہے اور سالانہ آڈٹ آڈیٹر جنرل آف پاکستان، جبکہ سالانہ انسپکشن بھی ہو گی۔ 2013 ایکٹ کے سیکشن 100کے مطابق آڈٹ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے ڈائریکٹر آڈٹ کریں گے، جبکہ کے پی کے میں آڈٹ کا اختیار ابھی بھی آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے پاس ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے ملک میں نئے بلدیاتی نظام کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی جو ایک ہفتے میں اپنی تجاویز پیش کرے گی، جس کے بعد یہ معاملہ قانون سازی کے لیے صوبائی اسمبلیوں میں پیش کیا جائے گا۔ وزیراعظم ہاؤس میں ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ ایک ہفتے میں اس سلسلے میں قوانین تشکیل دے دیے جائیں تاکہ انہیں پنجاب اور خیبر پختونخوا میں نافذ کردیا جائے، جہاں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور بلوچستان میں بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کی حکومتوں سے بھی آرٹیکل 140-اے کے تحت مقامی بلدیاتی حکومت کے نئے قوانین پر عمل کرنے کا مطالبہ کیا جائے گا۔ وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور افرادی قوت کو بہتر بنانا پاکستان تحریک انصاف کے اصلاحاتی ایجنڈے میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ نیا بلدیاتی نظام لائیں گے۔ نئے بلدیاتی نظام میں مسائل دہلیز پر حل ہوں گے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ اگلے 3 ماہ میں نیا بلدیاتی نظام متعارف کروائیں گے۔ میئر کا انتخاب براہ راست کروائیں گے۔ ہم اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل کریں گے۔ گورننس کا ڈھانچہ تبدیل نہ کیا تو مسائل پیدا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 140 اے کے تحت صوبے نچلی سطح تک اختیارات منتقل کرنے کے پابند ہیں۔وزیر اعلیٰ کے پاس اختیارات اور اخراجات کی مرکزیت سے خرابی پیدا ہوئی۔ تحصیل اور ضلعی سطح پر بلدیاتی نظام میں بھی مکمل طور پر تبدیلی لائی جائے گی۔ ہم اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل کریں گے۔ تحریک انصاف کی حکومت ملک کی تاریخ کا سب سے شاندار اور فعال بلدیاتی نظام لانا چاہتی ہے جس میں ویلج کونسل یعنی لگ بھگ 2000 ووٹوں تک کی نچلی سطح تک یونٹ بنائے جائیں گے۔ اس کے علاوہ ترقیاتی کاموں کے حوالے سے تقریبا نو سے زائد اداروں کو ان بلدیاتی اداروں کے ماتحت کردیا جائے گا۔ انھیں سیاسی و معاشی فیصلے کرنے کے لیے خود مختار بنا دیا جائے گا۔

قانونی ماہرین کی رائے ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کو بلدیاتی ادارے ختم کرنے میں کوئی رکاوٹ پیش نہیں آئے گی، کیونکہ سابق پنجاب حکومت نے ایک آرڈیننس کے ذریعے صوبے بھر میں بلدیاتی انتخابات کرائے تھے۔ موجودہ حکومت جب وہ آرڈیننس ہی واپس لے لے گی تو بلدیاتی ادارے خود بخود ختم ہوجائیں گے۔ اس لیے تحریک انصاف کی پنجاب حکومت اور سینئر وزیر بلدیات پنجاب علیم خان بہت تیزی سے اس پر کام کررہے ہیں۔ ویسے اگر بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنا کر شفاف انتخابات کرائے جاتے ہیں تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہونا چاہیے۔ بااختیار بلدیاتی اداروں سے جمہوریت مزید مضبوط ہوگی اور عوام کا سسٹم پر اعتماد بڑھے گا۔ آئین پاکستان واضح طور پر بلدیاتی انتخابات ریاست کے لیے ضروری قرا ر دیتا ہے۔ آئین کا آرٹیکل 32 کہتا ہے کہ ملک میں بلدیاتی حکومتیں قائم کی جائیں گی۔ آرٹیکل 219الیکشن کمیشن کو ذمہ داری تفویض کرتا ہے کہ بلدیاتی انتخابات کرانا ان کی ذمہ داری ہے۔اس لیے اگر موجودہ بلدیاتی اداروں کو مزید بااختیار بنانے کی وجہ سے تحلیل کیا جارہا ہے اور نیا لوکل باڈیز آرڈیننس متعارف کروا کر بروقت انتخابات کروانے کا منصوبہ ہے تو اسے سراہنا چاہیے۔

ترقی یافتہ ممالک کی ترقی کا راز ان کے بلدیاتی نظام پر منحصر ہے۔وہاں وفاقی حکومت کے ذمے ملکی دفاع، خارجہ پالیسی اور دیگراہم ریاستی اداروں کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ اختیارات کی تقسیم بتدریج یونین کونسلز کو منتقل کردی گئی ہیں۔ پولیس، صحت، تعلیم غرض کہ عوام کے روزمرہ کی ضروریات اور سہولیات کا ہر شعبہ یونین کونسلز کے زیر نگیں کام کرتا ہے اور یوں حکومتیں صحیح معنوں میں عوام کی امنگوں کے مطابق فیصلے کرتی ہیں اور نظام ِ حکومت احسن طریقے سے چلاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کا اعتماد حکومت پر سوفیصدی قائم رہتا ہے۔ پاکستان کی گزشتہ حکومتوں میں پہلے تو بلدیاتی انتخابات نہ کروائے اور جب سپریم کورٹ کے دباؤ کی وجہ سے انتخابات ہوئے تو منتخب کردہ نمائندوں کو بے آسرا چھوڑے رکھا۔ ان کے حصے کا اختیار بھی ایم این اے اور ایم پی اے کو دیے رکھا۔ چناچہ جسے اپنے محلے میں بھی کوئی ترقیاتی کام کروانا ہو تو وہ بھی اپنے حلقے کے ایم پی اے یا ایم این اے کو ڈھونڈتا پھرے۔حالانکہ دنیا بھر میں ترقیاتی کام کروانا ان منتخب نمائندوں کا کام نہیں ہوتا۔ اگر پاکستان میں صحیح طور پر بلدیاتی نظام رائج کردیا جائے تو پاکستان کے بیشتر مسائل کچھ عرصے میں ہی حل ہوسکتے ہیں۔ پاکستان میں بلدیاتی نظام 1912کے بلدیاتی قوانین کا تسلسل ہے۔ مختلف ادوار میں مختلف حکومتوں نے بلدیاتی انتخابات کروائے۔پرویز مشرف نے یہ نظام مضبوط بنیادوں پر نہ صرف استوار کیا، بلکہ ناظمین کو مفاد عامہ اور انتظامی امور کے میدان میں لامحدود اِختیارات سونپے گئے۔
 
بلدیاتی نظام ایک ایسا نظام ہے جس میں عوام براہ راست منسلک ہوتے ہیں۔ عوام اپنے نمائندوں کا انتخاب خود کرتے ہیں اور انہیں نہ صرف وہ عرصہ دراز سے جانتے ہیں، بلکہ ان پر اعتماد بھی کرتے ہیں، جبکہ قومی و صوبائی نمائندے محض انتخابات کے دنوں میں ہی عوام میں نظر آتے ہیں۔ وہ نہ تو علاقے کے مسائل کو جانتے ہیں اور نہ ہی عوام سے شناسائی رکھتے ہیں۔ عوام اپنے نمائندے اہل علاقہ سے منتخب کرتے ہیں۔ ملکی سطح پر چھوٹے چھوٹے یونٹ میں الیکشن کروائے جاتے ہیں اور وہی امیدوار کامیاب ہوتے ہیں جنہیں عوام براہ راست چنتے ہیں۔ بلدیاتی نظام میں نمائندوں کا اپنے علاقہ سے منتخب ہونے کی وجہ سے وہ نہ صرف چوبیس گھنٹے عوام کی خدمت پر مامور رہتے ہیں، بلکہ اہل علاقہ کی پہنچ ان تک باآسانی رہتی ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: عابد محمود عزام

Read More Articles by عابد محمود عزام: 869 Articles with 417314 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Sep, 2018 Views: 816

Comments

آپ کی رائے