ہاسٹل نامہ

(Aadil Mahmood, Shorkotcantt)

بٹ صاحب کا ایک قول ہے کہ جس نے ہاسٹل لائف نہیں دیکھی اس نے اپنی آدھی زندگی ضائع کردی...

جو لوگ ہاسٹل میں رہ کر اس مختلف اور منفرد زندگی کا تجربہ کر چکے ہیں وہ اس بات کی گہرائی کو بخوبی سمجھ سکتے ہیں...

خیر ہم بھی بھرپور تیاری کے ساتھ تقریباً پانچ سال پہلے میڈیکل کالج کے ہاسٹل میں کھڑے گھبرائی ہوئی نظروں سے قوائد و ضوابط والے بورڈ کو تک رہے تھے،اس دوران آواز دے کر ایک ستر سالہ باباجی نے ہمیں اپنی جانب متوجہ کیا اور اپنا تعارف “ہاسٹل وارڈن” کے نام سے کروایا!!!اس کے ساتھ ہی کسی بھی قسم کی مشکل اور پریشانی کی صورت میں ہر قسم کا ساتھ دینے کا “جھوٹا وعدہ” بھی کیا!!!

خیر شروع کےچند دن ہمارے لیے بہت گھمبیر ثابت ہوئے،سینئر حضرات نے فولنگ کے نام پر ہماری “سیلف ریسپیکٹ” کو اس قدر مجروح کِیا کہ ہمیں “مُنّی کی بدنامی” بہت چھوٹی چیز محسوس ہونے لگی!!!

شروع سے ہی سوچ کر آئے تھے کہ دل لگا کر پڑھیں گے اور زیادہ نہیں تو تین چار گولڈ میڈلز پر تو ہاتھ ضرور صاف کریں گے!!!!اس وقت شائد ہم اس ظالم سماج سے واقف نہیں تھے!!یا پھر یہ سب ہاسٹل میں ہونے والی ان سب “ایکسٹرا کری کُلر” یا غیر نصابی سرگرمیاں جن میں لُڈّو اور تاش سرفہرست تھیں،کا اثر تھا کہ پڑھائی کا خیال تو کہیں دور چلا گیا؟البتہ ہم تاش اور تاش کی “سب سپیشلٹیز” یعنی کہ تین پتی،بھابھی،ٹُھلا,بلف وغیرہ سے بخوبی واقف ہوچکے تھے...

ہمارے سینئر حضرات اپنا رعب ڈالنے کیلئے اپنے بارے میں من گھڑت قصے کہانیاں سنایا کرتے تھے..ایک حضرت سے ہم پوچھ بیٹھے کی کبھی کسی دوشیزہ کو اپنے حسن کے جال میں اتارا ہے،؟ سوچا تھا ہمیں بھی کوئی “جگاڑ” مل جائے گا...موصوف نے جواب دیا “پتے پھینک چکا ہوں،دوسری جانب سے اُٹھانے کا کام رہ گیا ہے”...اُن کی یہ بات تو ہمارے سَر کے اوپر سے گزر گئی البتہ وہ تو بھلا ہو ایک اور سینئر صاحب کا جنہوں نے بعد میں وضاحت کی کہ پتّے پھینکنے سے مراد ان صاحب کا مطلب “فیسبک پر فرینڈ ریکوئسٹ” بھیجنا تھا!!!!

ہاسٹل کے دوسری طرف “پریوں کا محل” واقع تھا...رات کے کھانے کے بعد لڑکوں کا ایک مجمع ان پریوں کی زیارت کیلئے موجود ہوتا،کچھ ہاسٹل کی چھت کا رخ کر لیتے اور کچھ “حافظ صاحب” کے کمرے کا،جس کی کھڑکی اُس جانب کھلتی تھی!!!حافظ صاحب اس معاملے میں بہت سخی واقع ہوئے تھے،اسکی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ صبح سویرے مسواک کرنے کے ساتھ ساتھ کھڑکی کھول کر وہ اپنی آنکھوں کو ٹھنڈک میسر کر چکے ہوتے تھے!!!!!

ہاسٹل کے میس کا باورچی شاید دنیا کا انوکھا ترین باورچی تھا،کھانے میں اس قدر تیل ڈالتا کے ایک پلیٹ سالن کھانے کے بعد اتنا تیل بچ جاتا کہ سر کی مالش کے ساتھ ساتھ آنے والی نسلوں کیلئے ذخیرہ بھی کیا جا سکتا تھا...روٹی کئی بار اتنی سخت ہوتی کہ لڑکے دیوار پر کیل ٹھنونکنے اور لڑائی کے دوران ایک دوسرے کا سر پھاڑنے کیلئے میس کی روٹی کا استعمال کرتے!!!!

ہاسٹل میں رہ کر جہاں رات تین بجے سونے کی عادت پکی ہوجاتی ہے،وہیں صبح جلدی اُٹھ کر باتھ روم کی لائن میں لگنا بھی ایک فن سمجھا جاتا ہے..ان باتھ روموں میں نہانے کے ساتھ ساتھ دیواروں پر لڑکوں کی جانب سے بنائے گئے واہیات قسم کے فن پارے بھی دیکھنے کو ملتے ہیں...اور انہی لڑکوں کی جانب سے کبھی کبھار کسی مختار صاحب کا نمبر لکھ کر “ہیڈنگ” کسے لڑکی کے نام کی ڈال دی جاتی ہے!!!

وارڈن صاحب کا کام ہاسٹل میں صرف “سگرٹ نوش” لڑکوں کو پکڑنا ہوتا تھا،دو چار کش لگا کر سگرٹ واپس کر دیتے اور چلتے بنتے!!!اس سلسلے میں ہمارے ایک دوست کو کسی سینئر شخصیت نے بتایا کہ لڑکیاں سگرٹ نوش لڑکوں کو بہت کُول سمجھتی ہیں...وہ نادان اپنی “کُول نیس” ثابت کرنے کے چکروں میں ساتھی کلاس فیلو کے سامنے سگرٹ سلگا بیٹھے،اور وہ موصوفہ جو کہ “استھما” کی مریضہ تھیں،کجھ دیر میں حواس باختہ ہوکر زمین پر لوٹ پوٹ ہونے لگیں...وہ تو بھلا ہو ایک پروفیسر صاحب کا جنہوں فوری مدد فراہم کر کے صورتحال کو قابو کیا،اور یہ حضرت چپکے سے وہاں سے کھسک لیے!!!

بٹ صاحب شائد سہی کہتے ہیں کہ جو ہاسٹل میں نہیں رہا اس نے اپنی آدھی زندگی ضائع کردی،اور جو ہاسٹل میں رہا اس نے اپنی پوری زندگی ضائع کردی!!!!

ہاسٹل لائف بہت کچھ سکھا کر گئی...مہینے کے شروع کے چند دنوں میں بھری جیب کے ساتھ عیاشی کرنے کے ساتھ ساتھ مہینے کے آخری ایّام میں خالی جیب رہ کر عیاشی کرنا،دوسرے لڑکوں کے صابن،شیمپو اور استری پر ہاتھ صاف کرنا ہاسٹل کے لڑکوں کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہوتا ہے.....

ہاسٹل لائف روک ٹوک سے پاک صاف ہوتی ہے،اسلئے فکروفاقہ اور دوسری مشکلات سے بھرپور اصلی زندگی میں یہ حضرات اپنی اس پچھلی زندگی کو ہر لمحہ یاد کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں!!!!!!

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Aadil Mahmood

Read More Articles by Aadil Mahmood: 6 Articles with 2835 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Sep, 2018 Views: 820

Comments

آپ کی رائے