کیپٹن سید جنید ارشد شہید (ستارہ بسالت)

(Tahir Durrani, )

شہادت کا مقام صرف نصیب والوں کو ملتا ہے ، حدیث پاک کا مفہوم ہے ، حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا جہاد میں شہید ہونے والا قتل کی صرف اتنی تکلیف محسوس کر تا ہے جتنی کہ تم چیونٹی کے کاٹنے کی تکلیف محسوس کر تے ہو۔ شہید کا رتبہ بہت بلند اور اعلیٰ ہے جب شہید اس دنیا انتقال کر کے دوسری دنیا میں چلا جاتا ہے تو روز قیامت تک ان کی روحیں اﷲ کے عرش کے سایہ کے نیچے رہتی ہیں اﷲ جلہ شانہ اپنے ان عظیم بندوں سے پوچھتے ہیں کہ کسی چیز کی ضرورت تو نہیں تو اﷲ کے یہ عظیم بندے عرض کرتے ہیں ’’ مالک تیرے عرش کا سایہ مل گیا اور کیا چاہیے ‘‘ یہ حال قبر کی زندگی کا ہے جب قیامت کے روز سب اٹھائے جائیں گے تو ان عظیم المرتبہ انسانوں کی روحیں ان کے جسد میں لوٹا دی جائیں گی۔قرآن مجید میں کئی مقام پر شہید کے رتبے اور شان پر اﷲ کریم نے ارشا د فرمایا۔ ایک مسلمان کے لیے کیا ہی خوش نصیبی ہے کہ اگر وطن عزیز کی خاطر جان چلی گئی کو شہید اگر سرخرو لوٹا تو غازی۔ والدین کے لیے خوشی کی بات ہوتی ہے کہ اُن کی اولاد کو یہ مرتبہ نصیب ہوتا ہے لیکن وہیں جدائی کا غم بھی کس قدر مشکل مرحلہ ہوتا ہے یہ وہی محسو س کر سکتا ہے جس نے یہ دُکھ دیکھا ہو ۔

شہادت کا جذبہ لیے ایک 21 سالہ جوان جس کے باپ کی خواہش تھی کہ بیٹا انجینئر بنے لیکن بیٹا بضد تھا کہ وہ پاک فوج میں شامل ہو کر وطن عزیز کے لیے عملی طور پر کچھ کرنا چاہتا ہے ۔چھوٹی سی عمر میں شہادت کا رتبہ پانے والا یہ بہادر سپوت لیفٹیننٹ کرنل(ر) سید ارشد حسین شاہ کے گھر 4 مئی 1991ء کو پیدا ہوا۔پورا گھرانہ ہی پاک فوج اور وطن عزیز کی خدمت میں سرشار ہے ۔بڑا بھائی کیپٹن جواد ، چچا بھی فوج میں اعلیٰ عہدے پر فائض ، فوج کی لوریاں لیتا ہوا جوانی کو پہنچا ، ساتویں جماعت تک آرمی کے مختلف سکولوں میں تعلیم حاصل کی اس کے بعد آٹھویں سے ایف ایس سی تک ملٹری کالج جہلم کے طالب علم رہا ۔ وہ ایک ذہین اور ہونہا ر طالب علم تھا، پُر خلوص نرم طبیعت کا مالک ، محبتیں لینے اور بانٹنے والا سادہ انسان تھا۔ کہتے ہیں نا کہ انسان اپنی صحبت سے ہی پہچانا جاتا ہے کیپٹن سید جنید ارشد کی صحبت میں خاکی وردی ہی تھی بڑے بھائی کو فوجی وردی میں دیکھا، چچا جان کو وردی میں والد ِ محترم کو وردی میں دیکھا تو بچپن سے ہی شوق تھا کہ وہ پاک فوج میں شمولیت اختیار کر کے وطن عزیز کے لیے اپنی خدمات سر انجام دے ۔ وطن کی محبت آپ کے دل میں بھری ہوئی تھی، چھوٹی سی عمر میں 2015ء میں والدین کے ساتھ فریضہ حج ادا کیا۔

کیپٹن جیند ارشد انتہائی ذہین طالبعلم تھے 600 پاس ہونے والے کیڈیٹس میں تیسری پوزیشن حاصل کی اور 16 ایس پی (16-SP) یو نٹ میں شمو لیت اختیار کی واضع رہے ان کے والد محترم کرنل (ر) ارشد سید اور سابق صدر پاکستان و چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف کی بھی یہی یونٹ تھی۔جن دنوں آپ حج کر کے واپس لوٹے ان دنوں آ پ کی یو نٹ آپریشن ردلفساد/ المیزان کے لیے سوات جا رہی تھی کیپٹن سید جنید بھی سوات روانہ ہوگئے ، قابل ذکر بات یہ کہ اس مان لخت جگر کو شہادت کی بشار ت خواب کے ذریعے دو بار ہو چکی تھی کہ وہ دوران ڈیوٹی وطن کی عزت پر قربان ہو جاتے ہیں ۔ سوات کے مختلف آپریشنز میں اِنہوں نے بہت بہادری کے ساتھ اپنی خدمات پیش کیں اور کامیابی کے جھنڈے گاڑھے یقیناََ والدین کے لیے ایسی اولاد باعث فخر ہو تی ہے۔وہ اتنے بہادر تھے کی کسی بھی آپریشن میں ہمشیہ آگے سے لیڈ کرتے ہوئے دشمن پر حملہ کرتے اور دشمن کو شکست دے کر ہی لوٹتے ۔

کیپٹن جنید ارشد شہید کے والد محترم کے مطابق اُن کا بیٹا بہت بہادر اور نڈر تھا جس بیٹے نے باپ کی پہچان ہی بدل کیپٹن جنید ارشد کی شہادت سے پہلے لوگ ان کو اِ ن کے والد کے نام سے پہچانتے تھے لیکن شہادت کا مرتبہ پا لینے کے بعد اِ ن کے والد کی پہچان اِ کا بیٹا بن گیا۔ اس نے جوانی میں شہادت کا رتبہ پاکر اپنے ماں باپ کا سر فخر سے بلند کر دیا۔ فرض کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کر نا ہر فوجی کی خواہش ہوتی ہے لیکن یہ عظیم مرتبہ صرف نصیبوں والوں کو ملتا ہے۔

کیپٹن سید جنید ارشد شہید نہ صرف ایک ہونہار طالب علم تھے بلکہ بہت اچھے گُھڑ سوار، ماہر تیراک، اورفٹ بال کی بہت اچھے کھلاڑی بھی تھے اور مطالعہ کا شوق رکھنے والے انسان تھے۔انہوں نے اپنی جان کی قربانی دے کر ملک کو ایک بار پھر آرمی پبلک سکول جیسے واقعے سے بچا کر کئی ماؤں کی گود اجڑنے سے بچا لی، کئی بہنوں کے بھائیوں کی زندگی گُل ہو نے سے بچائی، کئی بزرگوں کے بیٹوں کو ان سے جدا ہونے سے بچا لیا،کئی بیوئیوں کی سہاگ اجڑنے سے بچا لیے ۔دہشتگرد غلام اسحاق خان یونیورسٹی صوابی جوڈیشری کو ٹارگٹ کرنا چاہتے تھے ، اِن کودہشتگردوں کو ڈھونڈنے اور اُن کو پکڑنے اور مذاحمت کرنے کا ٹارگٹ ملا، 7 مارچ 2017ء کو کیپٹن جنید اپنی ٹیم کے ہمراہ ان دہشتگردوں کی تلاش میں نکلے اور ان کے ٹھکانے ڈھونڈنا شروع کیا۔تو ان دہشتگردوں کی مو جودگی کی خبر ملی ، تحقیق سے پتہ چلا کہ ایک پہاڑی پر چند گھر ہیں اور ان میں یہ دہشتگرد رہ رہے ہیں ، پتہ کرایا کہ ان لوگو ں کہ پنا ہ کس نے اور کیوں دے رکھی ، تب معلوم ہوا کہ گھر کے مالک کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ کیپٹن جنید اور ان کے ساتھیوں نے گھروں کو گھیرے میں لے لیا اور دہشتگردوں کو گرفتاری دینے کا حکم دیا جس پر انہوں نے مزاحمت کی اور فائرنگ شروع کر دی فائر نگ اس قدر شدید تھی کہ وہاں کھڑے ہونا مشکل تھا لیکن کیپٹن جنید ارشد شہید پوری ہمت ، جذبے اور دلیری سے لڑتے رہے ، دہشتگردوں کا مقصد دہشتگردی تھا اور شدید نقصان پہنچانا چاہتے تھے وہ جدید ہتھیار وں سے لیس تھے ۔ کیپٹن جنید بہادری سے آگے بڑھتے رہے اور ان سب دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا۔ ان سفاک درندوں کی فائرنگ سے، تبادلے میں ایک بے رحم گولی کیپٹن جنید ارشد کی دائیں رخسار پر لگی او ر وہ زخمی ہوگئے ۔ زخموں کی تاب نہ لا سکے اور اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ۔ انالﷲ وانا الہ راجعون۔

ان کی شہادت پر رب کائنا ت بھی خوش تھا کیونکہ جب ان کا جسد خاکی آخری آرام گاہ کی طرف لے جا رہے تھے تو ہلکی ہلکی بارش نے موسم کو چار چاند لگا دیے ۔آپ کو مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ رسول پور سیداں میں سپردخاک کیا گیا۔ اﷲ تعالیٰ آپ کے درجات بلند فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین ۔ جب تک مائیں ایسے سپوت پید ا کرتی رہیں گی میرے پیارے ملک کو کوئی میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرأ ت بھی نہیں کر سکتا۔
پاک فوج زندہ باد۔ پاکستان پائندہ باد

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: M Tahir Tabassum Durrani

Read More Articles by M Tahir Tabassum Durrani: 53 Articles with 27139 views »
Freelance Column Writer
Columnist, Author of وعدوں سے تکمیل تک
Spokes Person .All Pakistan Writer Welfare Association (APWWA)
Editor @ http://paigh
.. View More
26 Sep, 2018 Views: 384

Comments

آپ کی رائے