جن کا بیان

(Hafiza Ayesha, sahiwal)

جن ایک قسم کی مخلوق ہے ، جو آگ سے پیدا کی گئی ہے- بنی آدم یعنی نوعٍ انسانی کی طرح ذی عقل اور ارواح و اجسام (رُوح و جسم) والی ہے- ان میں توالد و تناسل بھی ہوتا ہے ، یعنی انسانوں کی طرح، ان کی نسل بڑھتی اور پھولتی پھیلتی ہے ، کھاتے پیتے ، جیتے مرتے ہیں ، مگر ان کی عمریں بہت طو یل ہوتی ہیں-

فرشتوں کی طرح جنوں میں بھی بعض کو یہ طاقت دی گئی ہےکہ جو شکل چاہیں بن جائیں- حدیثوں سے ثابت ہے کہ ان میں کسی کسی کے پر بھی ہوتے ہیں اور وہ ہوا میں اُڑتے پھرتے ہیں- اور بعض سانپوں ، اور کتوں کی شکل میں گشت لگاتے پھرتے ہیں اور بعض انسانوں کی طرح رہتے سہتے ہیں- لیکن اکثر ان کی رہائش بیابان یا ویران مکان اور جنگل، پہاڑ ہیں-

ان میں مسلمان بھی ہیں کافر بھی، مگر ان کے کفار ، انسان کی نسبت بہت زیادہ ہیں- ان کے مسلمان نیک بھی ہیں اور فاسق بھی- سنی بھی ہیں ، بد مذہب بھی- البتہ ان میں فاسقوں ، بدکاروں کی تعداد بہ نسبت انسان کے زائد ہے- شریر جنوں کو شیطان کہتے ہیں ، ان سب کا سرگروہ ابلیس ہے جس نے حضرت آدم علیہ السلام کو غرور میں آکر سجدہ کرنے سے انکار کر دیا تھا اور حکمٍ خداوندی کی نافرمانی کی تھی جس کی وجہ سے وہ راندۃ بارگاہٍ الٰی ہوا اور ہمیشہ ہمیش کے لیے مردود کیا گیا- قیامت تک کے لیے اسے مہلت دی گئی- شیطان کے مُردہ رہنے کی مدت نفخہء اولٰی سے نفخہء ثانیہ تک چالیس برس ہے اور اسے اس قدر مہلت دینا اس کے اکرام کے لیے نہیں ، بلکہ اس کی بلاوشقاوت اور عذاب کی زیادتی کے لیے ہے-

ابلیس کی طرح کی اس کی ذریت بھی مردود ہے- یہ سب شیاطین ہیں اور انسانوں کو بہکانا ان کا کام ہے- طرح طرح کی ترکیبوں کے ذریعے نیک کام کرنے سے باز رکھتے اور برے کاموں کی طرف ترغیب دلاتے ہیں- خدا کے نیک بندے ان کے مکرواغوا میں نہیں آتے ، بلکہ لاحول بھیج کر نیک کاموں میں مصروف رہتے ہیں ، لیکن جو ان کے بہکانے میں آجاتے ہیں ، وہ آخر کار گمراہ ہو جاتے ہیں- اللہ تعالٰی اپنی پناہ میں رکھے اور ان کے مکرواغوا سے بچائے- آمین

جن و شیطان کے وجود کا انکار ، یا بدی کی قوت ، جو ہر انسان میں پوشیدہ ہے ، اس کا نام جن و شیطان رکھنا اور یہ سمجھنا کہ شیطان کا کوئی خارجی وجود نہیں ، یہ سب باتیں کفر ہیں اور ایمان واسلام کے منافی و بر خلاف-
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Hafiza Ayesha

Read More Articles by Hafiza Ayesha: 18 Articles with 9018 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
25 Sep, 2018 Views: 340

Comments

آپ کی رائے