بھارت کی ہٹ دھرمی

(Ch Tanweer Sarwar, Lahore)

پاکستان نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ اپنے پڑوسیوں کے ساتھ بہتر تعلقات استوار کئے جائیں اور پاکستان نے کئی بار بھارت سے تعلقات کی بہتری کے لئے مذاکرات پر زور دیا لیکن بھارت ہے کہ مانتا ہی نہیں نہ جانے کس بات کا گھمنڈ ہے بھارت اچھی طرح جانتا ہے کہ اس کے خواب کو پاکستان کتنی بار چکنا چور کر چکا ہے اب بھارت کو خوابوں کی دنیا سے باہر آ جانا چاہیئے اور آنکھیں کھول لینی چاہیں آخر کب تک پاکستان کا امتحان لیتا رہے گا اور کب تک پاکستان بھارت کی باتیں سنتا رہے گا کیونکہ پاکستان کوئی عام ملک نہیں ہے بلکہ دنیا کا طاقتور ایٹمی ملک ہے جس کے ساتھ جنگ کئی نسلوں کو یاد رہے گی بھارت کے آرمی چیف کا بیان بھی کسی جاہل کا بیان لگتا ہے اس کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ساتھ محدود جنگ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں لیکن پاکستان کا کہنا ہے کہ ہم اسے محدود جنگ تسلیم نہیں کریں گے ہم اسے باقاعدہ پاکستان پر حملہ تصور کریں گے اور بھارت کو منہ توڑ جواب دیں گے بھارت کو یاد رکھنا چاہیئے کہ پاکستانی قوم سیسہ پلائی دیوار کی مانند ہے جس کا زوال ناگزیر ہے ہم اپنی پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں ہمارا ہر سپاہی فولاد ہے جو بھی دشمن اس سے ٹکرائے گا وہ پاش پاش ہو جائے گا بھارت ہم پر دہشت گردی کا الزام لگاتا ہے کہ ہم مقبوضہ کشمیر میں ملوث ہیں اب تو ساری دنیا جان چکی ہے کہ کشمیری اپنے حق خود ارادیت کی جنگ لڑ رہے ہیں جو اس وقت تک لڑتے رہیں گے جب تک مقبوضہ کشمیر بھارت کے تسلط سے آزاد نہیں ہو جاتا بھارت پاکستان میں دہشت گردی کروانے میں پیش پیش ہے حال ہی میں کلبھوشن یادیو جاسوس کی گرفتاری اس کا منہ بولتا ثبوت ہے جب سے کلبھوشن گرفتار ہوا ہے تب سے بھارت بوکھلاہٹ کا شکار ہے ہم جانتے ہیں کہ کون دشمن ہمارے ملک کے امن کو خراب کر رہا ہے ہم اپنے دشمنوں سے لڑنا بخوبی جانتے ہیں اب بھارت کو پاکستان میں ریاستی دہشت گردی اور انتشار ختم کرنا ہو گا اور مذاکرات کے ذریعے ہی امن بحال کرنا ہو گا جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے اگر جنگ مسئلے کا حل ہوتی تو بھارت اور پاکستان کے درمیان جو جنگیں ہوئی ہیں وہ کسی نتیجہ پر نہیں پہنچی اور مسائل جوں کہ توں ہی ہیں سب سے بڑا مسئلہ کشمیر کا ہے جس کا پر امن حل تلاش کیا جانا چاہیئے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا بحال ہو سکے جب تک کشمیر آزاد نہیں ہو جاتا تب تک پاکستان اور بھارت کے تعلقات اچھے نہیں ہوں گے پاکستان کی ہمیشہ خواہش رہی ہے کہ بھارت کے ساتھ برابری کی سطح پر تعلقات ہوں اب ہمیں نفرتوں کو بھلا کر محبت کی فصلیں بونی ہوں گی تا کہ ہماری نئی نسل کا مستقبل محفوظ رہ سکے تا کہ دونوں ممالک ترقی کی منزلیں طے کر سکیں تا کہ غربت کا مکمل خاتمہ ہو سکے تا کہ تعلیم عام کی جا سکے تاکہ بے روز گاری کا خاتمہ ہو تا کہ ملک میں خوشحالی کا دور دورہ ہو لیکن بھارت شاید یہ سب نہیں چاہتا خدا نخواستہ اب اگر جنگ ہوتی ہے تو یہ بھارت کو کھنڈرات میں تبدیل کر دے گی بھارت ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا یقیناً بھارت ایسی غلطی کھبی نہیں دھرائے گا کل کا واقعہ ہی دیکھ لیں ا ٓزاد کشمیر کے وزیر اعظم کے ہیلی کاپٹر پر بھارت کی جانب سے فائرنگ کی گئی اور بھارتی میڈیا میں یہ پراپیگنڈہ کیا گیا کہ پاکستان فوج کا ہیلی کاپٹر بھارت کی حدود میں داخل ہو گیا تھا ھالانکہ ہیلی کاپٹر پاکستانی حدود کے اندر تھا لیکن پھر بھی اس پر فائرنگ کی گئی وہ تو خدا کا شکر ہے کہ ہیلی کاپٹر کو بحفاظت زمین پر اتار لیا گیا اور وزیر اعظم آزادکشمیر محفوظ رہے اب اس طرح کی اگر حرکتیں کی جائیں گی تو امن کہاں سے آئے گا امن کے لئے دونوں ممالک کو مل جل کر آگے بڑھنا ہو گا تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی پاکستان امن کے لئے تعلقات اور مذاکرات چاہتاہے یکن بھارت اسے ہماری کمزوری نہ سمجھے ہم دشمن سے اچھی طرح نمٹنا جانتے ہیں ہمیں اپنی فوج پر پورا بھروسہ ہے حال ہی میں ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا ہے اب جو بھی دہشت گردی ہو رہی ہے وہ افغانستان سے ہو رہی ہے جس میں بھارت ہی ملوث ہے کیونکہ ماضی میں بھی دہشت گردی کی وارداتوں میں بھارت کے ملوث ہونے کے ثبوت مل چکے ہیں جس میں آرمی پبلک سکول کا واقعہ ہو یا مستونگ کا حملہ ہو تمام شواہد بھارت کی جانب جاتے ہیں سب جانتے ہیں کہ بھارت بلوچستان میں دہشت گردی کی وارداتوں میں پوری طرح ملوث ہے بھارت کو اب ان اوچھے ہتھکنڈوں سے باز رہناہو گا لیکن اس کے باوجود اگر بھارت کی جانب سے کوئی بھی شرارت کی جاتی ہے تو اسے ہم اپنے ملک پر حملہ تصور کرتے ہوئے بھارت کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے مجھے امید ہے کہ بھارت ایسی کوئی غلطی نہیں دھرائے گا جس کا خمیازہ اس کی عوام کو بھگتنا پڑے بھارت میں پہلے ہی غربت ہے بھارت کو جنگ کی بجائے اپنی عوام کی غربت پر توجہ دینے کی ضرورت ہے تا کہ بھارت سے بھوک کو مٹایا جائے وہاں لوگ جانوروں سے بھی برتر زندگی گذارنے پر مجبور ہیں جنگ کی صورت میں بھارت میں زور پکڑتی ہوئی آزادی کی تحریکیں بھی جنگ میں شامل ہو جائیں گی اور یوں بھارت کئی ٹکڑوں میں تقسیم ہو جائے گا یہ بھارت بھی اچھی طرح جانتا ہے کہ جنگ کی صورت میں اسے کیا کیا نقصان اٹھانے پڑھیں گے پہلے اپنے گھر میں لگی آگ کو بجا لو پھر ہم سے بات کرنا ہم ہر وقت تیار ہیں اور سر پر کفن باندھ کر اپنے ملک کی حفاظت کے لئے اپنی پاک فوج کے کندھوں کے ساتھ کندھا ملا کر کھڑے ہیں جب تک ہماری آخری سانس چل رہی ہے میرے وطن کی طرف کوئی بھی میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا آؤ ہم تمہیں امن کی دعوت دیتے ہیں تا کہ تماری عوام جو اندھیروں میں ڈوبی ہوئی ہے اسے روشنی مل سکے ہم امن کے داعی ہیں اور دنیا بھر میں امن چاہتے ہیں ۔پاکستان زندہ باد پاک آرمی پائیندہ باد
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: H/Dr Ch Tanweer Sarwar

Read More Articles by H/Dr Ch Tanweer Sarwar: 287 Articles with 1340042 views »
I am homeo physician,writer,author,graphic designer and poet.I have written five computer books.I like also read islamic books.I love recite Quran dai.. View More
02 Oct, 2018 Views: 479

Comments

آپ کی رائے