وزیراعظم کا ہنی مون

(Rohail Akbar, Lahore)

پی ٹی آئی حکومت کا ہنی مون ٹائم بہت تیزی سے گذر رہا ہے اور اس کے لیے کپتان نے خود ہی تین ماہ کا وقت لیا تھا جسکے بعد ہی اندازہ ہوگا کہ عمران احمد خان نیازی کھلاڑی زیادہ اچھے ہیں یا سیاستدان؟ کھلاڑی تو سب مانتے ہیں اور اس کا بڑا ثبوت 1992 کا کرکٹ ورلڈ کپ ہے۔ ان کے بارے میں ایک بات بڑی واضح ہے کہ اپنی دھن کے پکے ہیں۔ جو ہدف اپنے لیے چن لیتے ہیں اسے پورا کیے بغیر آرام سے نہیں بیٹھتے۔ 1992 میں ٹارگٹ اگر ورلڈ کپ جیتنا تھا تو اس کے لیے کسے ٹیم میں رکھنا ہے کسے نہیں اس کا فیصلہ کر کے اس پر ڈٹ جاتے تھے۔ ساری دنیا اور سینیئرز چاہیں مزاحمت کرتے رہیں جیسے کہ میانداد کے بارے میں ایک مرتبہ تنازع کھڑا ہوا تھا لیکن وہ اپنی ہی منواتے تھے۔ اسے دھن کے پکے کہیں یا ضدی پن، وہ جو ہدف بنا لیتے تھے اسے سے ہٹتے نہیں تھے بلکل ایسے ہی جیسے خان صاحب عثمان بزدار کی وزارت اعلی کے حوالہ سے ڈٹ گئے حالانکہ اس حوالہ سے انہیں بہت سی باتیں سننے کو ملی کہ جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے پارٹی میں شامل ہوئے اور وزیر اعلی بنا دیے گئے جبکہ پارٹی کے لیے اپنا خون حتی کہ جانیں تک دینے والے خان کی نظروں میں کیوں نہ سما سکے پارٹی ٹکٹ بھی جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کو دیدیے گئے کیونکہ وہ ریس جیتنے والے گھوڑے ہر میدان میں کامیاب رہتے ہیں خواہ ایدھر ہو یا اودھرمگر حکومت بنانا کپتان کی ضد تھی اس لیے یہ سب کچھ بھی کرنا پڑا ۔اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ سیاست میں بطور وزیر اعظم ان کا یہ خاصہ ان کے لیے مفید ثابت ہو گا یا نہیں۔ 22 سال قبل ابتدائی نہ نہ کے بعد اچانک سیاست کے میدان میں اترنے کے بعد حکومت بنانا یا وزیر اعظم بننا ان کا ہدف بن گیا تھا اور بالآخر یہ ہدف انھوں نے حاصل کر لیا ہے۔ایک اچھے کھلاڑی کے لیے سب سے بڑی بات جیت ہوتی ہے جسکے لیے وہ کامیابی کے لیے طویل مشقت اور تن من دھن کی بازی لگا دیتا ہے۔ جیت اس کے لیے کسی بھی کھیل کی انتہا ہوتی ہے اس کا آغاز نہیں۔ مرکز میں حکومت کے بڑے ہدف کے راہ میں انھیں چھوٹی چھوٹی کامیابیاں صوبہ خیبر پختونخوا میں 2013 کے انتخابات میں اقتدار کا ملنا بھی تھا۔اگرچہ تحریک انصاف تو اس صوبے میں زبردست ترقی کے گن گاتی ہے اور 25 جولائی کی بڑی کامیابی کو اسی کا مرہون منت قرار دیتی ہے لیکن عمران کے ناقدین کے مطابق انھوں نے پشاور میں نیٹ پریکٹس کا موقع گنوایا۔ پشاور کو بنی گالہ سے چلایا اور وہاں جا کر معاملات کو اپنے ہاتھوں میں لینے میں بظاہر کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی۔عمران کی سابق زوجہ ریحام خان نے اپنی کتاب میں بھی لکھا کہ انھوں نے عمران خان سے پشاور رہ کر صوبے کی ترقی میں بھرپور کردار ادا کرنے کی تجویز کئی مرتبہ دی لیکن خان صاحب نے ایک نہ سنی اور اس کی بظاہر ایک ہی وجہ بنتی تھی کہ پھر وہ مرکز میں توجہ نہ دے سکتے۔ یعنی بڑا ہدف ان کے نزدیک ہمیشہ سے مرکز رہا ہے۔عمران خان نے اگر کچھ سیکھا تو وہ یہ تھا کہ احتساب کے لیے نئے ادارے نہیں چل پائیں گے۔ کرپشن کا اس صوبے میں خاتمہ تو نہیں ہوا ہاں تحریک انصاف کو سمجھ آ گئی کہ پرانے ناکارہ پرزوں کو ہی دوبارہ کارآمد بنانا بہتر ہے۔پاکستان کا 22 واں وزیر اعظم بنے والا65سالہ نوجوان عمران خان کون سا عمران ہو گا، کھلاڑی یا سیاستدان؟ امید ہی کی جا سکتی ہے کہ وہ کھلاڑی نہیں ہوں گے جو صرف جیت کے لیے کھیلتا ہے۔ کیا وہ جیت کے بعد بھی حکومتی سرگرمیوں کو سنجیدگی سے لیں گے یا نہیں۔ ایک کھلاڑی نہیں بلکہ وزیر اعظم کی طرح اجلاس در اجلاس شرکت کرنی ہو گی، ملکی اور غیرملکی وفود سے ملاقاتیں کرنا ہوں گی، ماضی کے برعکس جیب میں شناختی کارڈ پڑی واسکٹ میں قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں باقاعدگی سے جانا بھی ہو گا اور معلوم نہیں کیا کچھ کرنا ہو گا۔ اب تک تو انھیں دن میں ایک پارٹی میٹنگ ہی کرتے دیکھا ہے۔گذشتہ دنوں ایک برطانوی اخبار سے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ وہ سوشل لائف کے لیے اب بہت بوڑھے ہو چکے ہیں۔ ان کے حامی ایک سینیئر صحافی نے یہ کہہ کر خطرے کی گھنٹی بجا دی کہ انھیں ’خیرخواہ جتنی زیادہ احتیاط کی تلقین کرتے ہیں، اتنی ہی بے احتیاطی موصوف کرتے ہیں‘۔عمران خان کی ایک اور عادت جو انھیں مشکل میں ڈال سکتی ہے وہ ان کی کسی سے ’ڈکٹیشن‘ نہ لینے کی ہے۔ سنتے تو وہ شاید سب کی ہیں لیکن ہمیشہ کرتے اپنی ہی ہیں۔ اس صورت حال میں وہ دیگر ریاستی اداروں کے لیے کتنے قابل قبول ہوں گے یہ واضح نہیں۔عمران خان کے ساتھ جڑا ایک سوال یہ بھی ہے کہ انھیں آخر سیاست کے دشت میں منزل تک پہنچنے میں اتنا وقت کیوں لگا۔ پاکستان میں تو کئی بڑے سیاستدان آنا فاناً یا تو موروثی سیاست یا پھر اسٹیبلشمنٹ کے راستے اقتدار کے ایوانوں کی سیر کرنا شروع کر دیتے ہیں تو پھر انھیں یہاں پہنچنے میں اتنی دیر کیوں لگی؟کچھ مبصرین کے خیال میں اپنی سیاست کی ابتدائی نرسری میں وہ شاید کتابی نظریات کے قیدی رہے۔ آئیڈیلزم کے گرویدہ رہے۔ اپنے نظریات پر کسی قسم کی سودے بازی کی کوشش سے باز رہے لیکن 2013 کے عام انتخابات میں جیت کو اتنا قریب سے دیکھنے کے بعد شاید انھوں نے اس سے دوبارہ دور نہ جانے کا تہیہ کر لیا تھا۔ پھر کیا تھا نظریات اور اپنے ہی بنائے ہوئے اصولوں میں دھیرے دھیرے نرمی دکھانا شروع کی اور آخر میں ’الیکٹیبلز‘ کو بھی اپنی صف میں لا کھڑا کیا۔ یہی سمجھوتے شاید انھیں وزیراعظم ہاؤس کی دہلیز پر لے آئے ہیں۔وہ مزید کتنا بدلتے ہیں یا نہیں اس کے لیے ہمیں زیادہ انتظار شاید نہ کرنا پڑے۔ ان کے ہنی مون پیریڈ میں ہی اس کے اشارے مل جائیں گے۔ جیتنا شاید آسان تھا لیکن عوام کی توقعات کا پہاڑ سر کرنا اب اس کھلاڑی کا اگلا ہدف ہونا چاہیے اور اس کے لیے کپتان کو خود ہی کپتانی کے فرائض انجام دیتے ہوئے غریب عوام کے لیے ہنگامی بنیادوں پر خوشحالی کے پیکج کا اعلان کرنا ہوگا نہ کہ بجلی ،گیس اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کرکے سابقہ حکومتوں کی پالیسیوں کا آگے بڑھا کر عوام کو خودکشیوں پر مجبور کیا جائے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: rohailakbar

Read More Articles by rohailakbar: 464 Articles with 185880 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
09 Oct, 2018 Views: 481

Comments

آپ کی رائے
Since the day one the PTI has assumed the office a hurly-burly propaganda has started to accounting the performance of the PTI. Among the leaders of the accountability looks the GEO and its anchors and the reporters highly worried on the issues of the economy and the foreign debt and the issues related to pay back the loans and asking the PTI to do the things as it had committed to the nation.
The question is that whether the PTI was in the government for the last 36 years and responsible for looting billions of dollars, drainage of billions of dollars, corruption of billions and trillions at home and abroad, the Aven fields apartments, the Swiss Banks accounts of millions of dollars and much more the nation knows very well.
Who looted the Pakistan and made it the Grey listed and the nation the beggars and the people the shudders are quite calm and enjoying all the facilities at home and abroad. Thus in the same conditions whether the PTI will be charged of doing nothing and asked for its performance or the looters are quickly booked and get the looted money back to Pakistan to get rid of the default and the debt and give a helping hand to the dying people.
In these circumstances we can agree on just one point and that is to get back the looted money as soon as possible, do the open trails of the looters and possibly hang then who hanged the nation and the Pakistan and made the people the Shudders by their corrupt government that had never been asked nor accounted for their crimes and corruption.
The Pakistan at the moment have the only choice to get back the looted money at speedy procedures before the looters make their union more strong and do their things repeated. Let me quote here a shameful comments of the Khawaja Asif master of shamelessness who called the PTI government shamefully that how it would go to the IMF since they had looted the Pakistan worth billions and trillions shamefully.
If he had a little shame he would call the nation get back the looted money and hang the traitors and trail the looters with article,6, though the application of the article 6 for such people is very less punishment as compare to their crimes and the nature of the crimes that killed the 22 Krore people, deprived them of their constitutional rights and made them the beggars and the country almost pledged to the IMF and others.
By: Mohammad Baig, Rawalpindi on Oct, 09 2018
Reply Reply
0 Like