قہرِ الٰہی کے سامنے ہر چیز ہیچ۰۰۰ انسانوں کو اپنے محاسبہ کی ضرورت

(Muhammad Abdul Rasheed Junaid, India)

قہرِ الٰہی کے سامنے ہر چیز ہیچ ہے۔ اﷲ تعالیٰ کا قانون ہے کہ وہ اپنے بندوں کو جتنا ممکن ہوسکتا ہے ڈھیل دیتے ہیں اور جب بندوں کی جانب سے گناہوں کی کثرت انتہائی بلندی کو پہنچ جاتی ہے تو پھرقانونِ الٰہی کے مطابق بندوں پر اس طرح قہرو غضب نازل ہوتا ہے کہ دیکھتے ہی دیکھتے سب کچھ تباہ و برباد ہوجاتا ہے۔ عذاب الٰہی کیوں آتا ہے اور کب آتا ہے اس سلسلہ اﷲ تعالیٰ کا کلام پڑھنے اور پیارے حبیب پاک ﷺ کی احادیث و واقعات پڑھنے سے معلومات ہوتے ہیں۔ گذشتہ چند دہائیوں کی تاریخ کا مشاہدہ کرنے سے بھی پتہ چلتا ہے کہ کئی ممالک میں جن کا رعب و دبدبہ بین الاقوامی سطح پر نمایاں ہونے کے باوجود وہ قہرالٰہی کے سامنے بے بس و ناتواں دکھائی دیئے ۔ کبھی جنگلوں میں آگ نے شعلہ بن کر کئی کئی ماہ تک حیران و پریشان کن صورتحال سے دوچار کیا اور ہزاروں افراد کونقلِ مکان کرنے کیلئے مجبور کیا تو کبھی سیلابوں نے آگھیرا ، کبھی سمندروں میں ایسی طغیابی یا سونامی آئی کے دیکھتے ہی دیکھتے سب کچھ تباہ و برباد ہوکرذروں کی شکل اختیار کرگئے۔ انسانوں کی لاشوں کے انبار پڑ گئے اور پھر اس کے بعد بھی کئی کئی ماہ تک مردہ انسانوں اور جانوروں کی باقیات کی وجہ سے تعفن نے انسانوں کو وہاں جانے سے روکے رکھا۔ اس طرح کبھی زمینی عذاب نازل ہوتاہے تو کبھی آسمانی عذاب۔ چند دن قبل پھر سے ایک مرتبہ انڈونیشیا میں زلزلہ نے اور پھر سونامی نے بھیانک تباہی مچائی ۔ تفصیلات کے مطابق انڈونیشیا کے جزیرے سولاویسی میں زلزلے کے بعد تباہ کن سونامی سے ہلاکتوں کی تعداد 1234 سے تجاوز کر گئی۔ذرائع ابلاغ کے مطابق انڈونیشیا کی حکومت کی جانب سے ہلاکتوں کے حوالے سے جاری تازہ اعداد و شمارمیں بتایاگیاکہ جزیرہ سولاویسی میں ہلاکتوں کی تعداد 844 سے بڑھ کر 1234 ہوگئی ہے۔نیشنل ڈیزاسٹر ایجنسی کے ترجمان سوٹوپو پروو نگروہو کا کہنا ہیکہ 1234 ہلاکتیں ہوگئی ہیں۔واضح رہے کہ 28؍ ستمبر کو وسطی انڈونیشیا کے جزیرے سولاویسی میں آنے والے زلزلے کی شدت 7.5 ریکارڈ کی گئی تھی بتایا جارہا ہے کہ یہ زلزلہ اتنا شدید تھا کہ کئی کلو میٹر دور علاقوں میں موجود افراد نے بھی اس کے جھٹکے محسوس کیے۔زلزلے سے سب سے زیادہ شہر پالو متاثر ہوا جس کی آبادی ساڑھے 3 لاکھ نفوسپر مشتمل تھی۔ بلند وبالا اور عالیشان عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں جبکہ کئی گھر مکمل طور پر زمین بوس بتائے جارہے ہیں۔ابھی زلزلہ سے ہونے والی تباہی و بربادی سے لوگ نکل بھی نہ پائے تھے کہ خالقِ الٰہی کا قہر و غضب سونامی کی شکل میں نازل ہوا۔ بتایا جارہا ہے کہ سونامی کے بعد بھی سمندر میں 5 فٹ بلند لہریں اٹھتی رہیں اور شہر میں داخل ہوئیں۔نیشنل ڈیزاسٹر ایجنسی کے ترجمان کا کہنا تھا کہ سونامی کے وقت شہر میں 61 غیر ملکی بھی موجود تھے جن میں سے جنوبی کوریا کا ایک شہری ہوٹل کے ملبے تلے دبا ہوا ہے اور دیگر 50 بھی اسی علاقے میں ملبے کے نیچے ہیں جبکہ ملائیشیا کا ایک اور فرانس کے 2 سیاح بھی لاپتہ بتائے جارہے ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔انڈونیشیا میں اس سے قبل 26؍ ڈسمبر 2004کو دنیا میں ریکارڈ کیا گیا سب سے بڑا زلزلہ انڈونیشیا کے ساحل کے قریب آیا تھا جس سے جنم لینے والی سونامی کی خطرناک لہریں بحرہند کے ساحلی علاقوں میں رہنے والی آبادیوں کو بہا لے گئی تھیں۔یہ سونامی کی خطرناک لہریں ملائیشیا، تھائی لینڈ، برما اور بنگلہ دیش سے ہوتی ہوئی چند گھنٹوں میں سری لنکا اور ہمارے ملک ہندوستان تک پہنچ گئی تھیں۔ریکٹرا سکیل پر 9.1 شدت کے زلزلے اور اس کے بعد دیوہیکل لہروں کے ساحلی علاقوں سے ٹکرانے کی وجہ سے کم از کم 2 لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔14 سال قبل آنے والی سونامی سے انڈونیشیا کا صوبہ آچے سب سے زیادہ متاثر ہوا تھا جہاں پونے 2 لاکھ افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔ارضیاتی ماہرین کے مطابق انڈونیشیا اور جاپان ایسے خطے میں واقع ہیں، جہاں زیر زمین اور زیر آب ارضیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے اکثر زلزلے آتے رہتے ہیں۔ان واقعات کے رونما ہونے کے بعد بھی ہم انسان اپنا محاسبہ نہیں کر پاتے کیونکہ ہم کو دنیا کی عیش و آرام اور راحتوں کی وجہ سے اتنا وقت ہی نہیں ملتا کہ ہم اپنا محاسبہ کرکے گناہوں اور خطاؤں سے باز رہے۔ خیر انڈونیشیا ان دنوں آفات الٰہی کی گرفت میں ہے ابھی بھی کہیں نہ کہیں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے جارہے ہیں اور لوگ کھلے آسمان کے نیچے رات گزارنے پر مجبور۰۰۰

امریکی صدر نے آخر شاہ سعودی عرب سے آیسا کیوں کہا۔؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے قریبی اتحادی ملک سعودی عرب کے بادشاہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز کو آخر کب اور کہاں وارننگ دی تھی اس سلسلہ میں ابھی کوئی واضح نہیں ہوا۔ گذشتہ دنوں امریکی صدر ریاست میسیپی کے شہر ساؤتھ ہیون میں ایک ریلی سے خطاب کے دوران کہا کہ ’’ہم سعودی عرب کی حفاظت کرتے ہیں اور انہوں نے شاہ سلمان بن عبدالعزیز کو کسی وقت یہ باور کرانے کی کہ امریکہ سعودی شاہی حکومت کی حفاظت کرتا ہے اور اس کے بغیر شاہی حکومت دو ہفتے بھی نہیں چل سکتی۔ اسی لئے انہیں اپنی فوج کے لئے معاوضہ ادا کرنا ہوگا۔ سعودی عرب عالمی سطح پرسب سے زیادہ تیل برآمد کرنے والا ملک ہے۔ اور اوپیک کا اہم رکن ہے ۔ اس سے قبل امریکی صدر نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنے خطاب کے دوران کہا تھا کہ اوپیک رکن ممالک معمول کے مطابق پوری دنیا کو لوٹ رہے ہیں۔ صدر امریکہ کا کہنا تھاکہ ہم ان میں سے بیشتر ممالک کا بلاوجہ دفاع کررہے ہیں اور وہ ہم سے اس کا فائدہ بھاری قیمتوں میں ہمیں تیل دے کر حاصل کررہے ہیں یہ اچھا نہیں ہے، ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اوپیک ممالک قیمتیں نہ بڑھائیں بلکہ اس میں کمی کرنے کی بات کی تھی۔ اس طرح ہوسکتا ہیکہ امریکی صدر تیل کی قیمتوں کے سلسلہ میں سعودی عرب کو وارننگ دی ہو ۔ ان دنوں سعودی عرب کو امریکہ کی اشد ضرورت ہے کیونکہ ایک طرف سعودی عرب یمن میں اتحادی فوج کی قیادت کررہا ہے تو دوسری جانب شام کے حالات کی وجہ سے بھی پریشان کن صورتحال سے دوچار ہے ۔ ایسے میں اگر سعودی عرب ، امریکہ سے تعلقات خراب کرلیتا ہے تو اسے بھاری قیمت چکانی پڑے گی اس لئے سعودی عرب امریکی صدر کی کسی بھی بات کا بُرا مانے بغیر اور جواب دیئے بغیر خاموشی اختیار کرنے میں بہتری سمجھے گا۰۰۰

ترکی اور روس کے درمیان تعلقات میں مزید وسعت
ترکی اور روس کے درمیان تعلقات میں مزید وسعت دینے کی خبریں ہیں۔ صدر ترکی رجب طیب اردغان نے اپنے ایک خطاب کے دوران کہا کہ امریکہ نے ترکی کے ساتھ مذاکرات کے بجائے بلیک میل کرنے اور اسے دھمکانے کی روش اختیار کی اور اس راستہ کو چن کر اس نے غلطی کی ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق صدر ترکی نے کہاکہ اقتصادی جنگ شروع کرکے امریکہ نے دنیا میں اپنا اعتماد کھودیا ہے۔ پارلیمان کی افتتاحی تقریب سے اپنے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ انقرہ اور واشنگٹن حکومت کے درمیان تعلقات رفتہ رفتہ بہتر ہو رہے ہیں، جو امریکی پادری اینڈریو برونسن پر ترکی میں چلائے جانے والے مقدمے کی وجہ سے کشیدگی کا شکار ہوئے۔ اپنے خطاب کے دوران رجب طیب اردغان نے کہا کہ ترکی روس کے ساتھ تعلقات کو مزید وسعت دے گا۔ترکی اور روس کے درمیان بہتر تعلقات امریکہ کیلئے تکلیف دہ ہونگے کیونکہ امریکہ نہیں چاہتا کہ اس کے آگے کوئی اور سوپرپاور بننے کی کوشش کریں۔

خادم الحرمین الشریفین کی جانب سے یمن کے بنک کو امداد
ایک طرف یمن میں سعودی اتحادی فورسس حوثی باغیوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنے اور یمن میں عبد ربہ منصور ہادی کی حکومت کو استحکام پہنچانے کے لئے ہر ممکنہ کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں ، کئی مقامات پر حوثیوں کی بغاوت کو کچلنے کے لئے فضائی حملے کئے گئے جن میں کئی ہزار عام شہری ہلاک و زخمی ہوچکے ہیں۔ حوثی باغیوں کی جانب سے بھی سعودی عرب کے شہروں کو میزائلوں کے ذریعہ نشانہ بنایا جاتا رہا ہے اور آج بھی گذشتہ تین سال سے جاری اس خانہ جنگی کی صورتحال کی وجہ سے یمن میں لاکھوں بچے و بڑے بھوک و پیاس سے بلکتے ہوئے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ لاکھوں افراد بشمول معصوم بچوں کو ادویات کی کمی کی وجہ سے مزید کئی طرح کی بیماریوں کا شکار ہونا پڑرہا ہے۔رصدات پہنچانے میں دقت پیش آرہی ہے۔ یمن پہلے ہی ایک غربت زدہ ملک ہے اسے حوثی بغاوت نے مزید غربت زدہ کردیا۔ کیونکہ حوثی بغاوت سے قبل سعودی عرب نے جس طرح یمنی عوام کیلئے بہت ساری مراعات دے رکھی تھی بغاوت کے نتیجہ میں سعودی امداد اور دیگر مراعات مسدود کی جاچکی ہیں ۔ اقوام متحدہ نے کئی بار یمن کی صورتحال کو انتہائی خطرناک بتایا ۔ذرائع ابلاغ کے مطابق ایک طرف حوثی بغاوت کو کچلنے کیلئے سعودی عرب کے اتحادی ممالک اس کی سرپرستی میں صدر یمن منصور ہادی کا تعاون کررہے ہیں تودوسری جانب ایران اور شیعہ ملیشیاء کی جانب سے یمن میں حوثیوں کو ہتھیار اور دیگر فوجی سازو سامان فراہم کرنے کررہے ہیں جس کی وجہ سے حوثیوں کو مزید تقویت حاصل ہورہی ہے اور سعودی اتحاد کا مقابلہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ سعودی عرب یمن میں حوثی بغاوت کو کچلنے کی کوشش کے ساتھ ساتھ یمن کے مظلوم عوام کیلئے اشیاء خوردونوش اور دیگر ضروریات زندگی فراہم کرنے کی سعی کررہا ہے جس کی خبریں وقتاب فوقتاً ذرائع ابلاغ کے ذریعہ منظر عام آتی رہی ہیں۔ ان دنوں شاہی فرمان کے ذریعہ سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز خادم الحرمین الشریفین نے یمن کے مرکزی بنک کو مالی بحران سے بچانے کیلئے 20 کروڑ ڈالر کی فوری امداد فراہم کرنے کی ہدایت دی ہے۔عرب ٹیلی ویژن کے مطابق یہ امداد ایک ایسے وقت میں جاری کرنے کیلئے کہا گیا ہے جب دوسری جانب سعودی عرب یمن میں جنگ سے متاثرہ شہریوں کی امداد اور بحالی کے لیے کئی دوسرے منصوبوں اور امدادی کارروائیوں میں بھی پیش پیش ہے۔ شاہ سلمان کی جانب سے یمن کے مرکزی بنک کو امداد فراہم کرنے کا مقصد یمنی کرنسی کی قیمت میں کمی کو روکنا اور بنک کو مالی بحران سے بچانا ہے۔سعودی عرب نے اس سے قبل بھی یمنی عوام کو درپیش اقتصادی بحران سے نجات دلانے کیلئے مرکزی بنک کو تین ارب ڈالر کی امداد فراہم کرچکا ہے ۔شاہ سلمان کا یہ اقدام یمن کیلئے اہمیت کا حامل ہے اور اسے دیکھ کر دیگر ممالک بھی یمن کو امداد فراہم کرسکتے ہیں اب دیکھنا ہے کہ یمن کی حوثی بغاوت ابھی کب تک جاری رہے گی اور اس میں مزید کتنے معصوم جانیں تلف ہونگی۰۰۰

فلسطینی پناہ گزینوں کیلئے یورپی امداد
فلسطینی پناہ گزینوں کیلئے عالمی سطح پر امداد مہیا کی جاتی ہے۔ اس امداد کا کس طرح صحیح استعمال ہوتا ہے کہ اس سلسلہ میں کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ البتہ اتناضرور ہے کہ اقوام متحدہ بھی فلسطینی پناہ گزینوں کی امداد کیلئے تعاون کی اپیل کرتا ہے۔ گذشتہ دنوں یورپی ہائی کمیشن نے فلسطینی پناہ گزینوں کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی ’’اونروا‘‘ کیلئے 40 ملین ڈالر کی اضافی امداد کا اعلان کیا ہے۔ذرائع ابلاغ کے مطابق یورپی یونین کی جانب سے اونروا کیلئے اضافی امداد کا اعلان نیویارک میں فلسطینی پناہ گزین ایجنسی کے اجلاس کے موقع پر کیا گیا۔اونروا کو دی جانے والی اس امداد کے سلسلہ میں بتایا جاتا ہے یورپی یونین کی جانب سے دی جانے والی امداد فلسطینی پناہ گزینوں کے بچوں کی تعلیم، ان کی صحت اوردیگر بنیادی اہمیت کے حامل منصوبوں پر صرف کی جائے گی۔ریلیف ایجنسی اونروا کا کہناتھا کہ فلسطینی پناہ گزینوں کے اسکولوں میں زیرتعلیم بچوں کی تعداد پانچ لاکھ سے زائد ہے اور ان کے لیے تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولیات کیلئے بجٹ کی فراہمی ناگزیر ہے۔ یورپی یونین کی جانب سے دی جانے والی امداد میں سے ساڑھے تین ملین پناہ گزینوں کی طبی امداد اورڈھائی لاکھ پناہ گزینوں کی غربت کے خاتمہ کے لیے صرف کی جائے گی۔قبل ازیں نیو یارک میں اقوام متحدہ کے اجلاس کے موقع پر فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے 10 کروڑ 18 لاکھ ڈالر کی امداد کا وعدہ کیا گیا ہے۔ یہ رقم فلسطینی پناہ گزینوں کی ریلیف ایجنسی اونروا کو درپیش 68 ملین ڈالر کی قلت کو پورا کرنے کے لیے دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔اونروا کے ترجمان سامی مشعشع نے ایک بیان میں کہا کہ گذشتہ روز اقوام متحدہ کی اپیل پر امداد دینے والے ملکوں کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں اردن، ترکی، جاپان، سویڈن اور یورپی گروپ نے شرکت کی۔ یہ اجلاس اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر منعقد ہوا۔اجلاس میں شریک ملکوں نے فلسطینی پناہ گزینوں کی ریلیف کے ذمہ دار ادارے اونروا کو 118 ملین ڈالر کی امداد دینے کے وعدے کئے ۔ اس موقع پر بعض ممالک کی جانب سے کہاگیا کہ وہ اونروا کے لیے امدادی رقم کا بعد میں اعلان کریں گے۔ اس سے قبل امریکہ کی جانب سے دی جانے والی امداد کو معطل کردیا گیا جس کی وجہ فلسطینی عوام کا اسرائیلیوں کے خلاف کارروائیاں بتایا گیا تھا۔ اب دیکھنا ہے کہ امریکہ اپنے فیصلہ میں بدلاؤ لاتا ہے یا نہیں کیونکہ امریکی امداد روکے جانے کی وجہ سے اونروا کو کئی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے گا ۔

ترکی صدر نے جرمنی کے شہر کلون میں شاندار مسجد کا افتتاح کیا
جرمنی کے شہر کلون میں یورپ کی سب سے بڑی مساجد میں شمار ہونے والی ایک مسجد کا افتتاح ترکی کے صدر رجب طیب اردغان نے اپنے سہ روزہ دورے کے اختتام پر کیا اس موقع پر انہوں نے جرمن حکومت کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے مختلف حلقوں کی جانب سے دباؤ اور مظاہروں کے باوجود اس مسجد کی تعمیر جاری رکھی۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ جرمنی میں کم و بیش تیس لاکھ ترک افراد رہائش پذیر ہیں۔جن میں کئی افراد ترکی صدر رجب طیب اردغان کے مخالفین بھی ہیں۔ اس سلسلہ میں ترکی صدر نے جرمنی پر دہشت گردوں کو پناہ دینے کا الزام لگایا ہے۔ اور انہوں نے جرمن چانسلر انگیلا میرکل پر زور دیا کہ وہ ان ترک افراد کو ملک بدر کرکے ترکی بھیجیں جو انکی حکومت کے مخالفین ہیں اور جنہیں وہ دہشت گرد قرار دیتے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق ترکی صدر کی تقریر پر جرمنی کے سب سے زیادہ بکنے والے اخبار بائلڈ نے اپنے پہلے صفحے پر اس طرح کی سرخی لگائی’’ جرمنی کے خلاف نفرت انگیز گفتگو‘‘ ۔ اس طرح رجب طیب اردغان نے جرمن میں موجود انکے مخالفین کو سزا دینے کیلئے انہیں ترکی بھیجنے کیلئے کہا اب دیکھنا ہے کہ جرمن صدر ترکی کا کس طرح جواب دیتا ہے ۰۰۰
***
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Abdul Rasheed Junaid

Read More Articles by Muhammad Abdul Rasheed Junaid: 255 Articles with 96275 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
09 Oct, 2018 Views: 352

Comments

آپ کی رائے