گاندھی جی کے افکار و نظریات کی عصری معنویت

(محمد سالم غزالی, Rampur,India)

ہندوستان کی تحریک آزادی کے روح رواں اور انسانی حقوق کے محافظ موہن داس کرم چند گاندھی کی پیدائش٢-اکتوبر-١٨٦٩ کو صوبہ گجرات کے ایک ساحلی شہر پوربندر میں واقع ہوئی. موہن کرم چند داس گاندھی ایک عھد ساز بلکہ ایک تاریخ ساز شخصیت کا نام ہے جس نے اپنے قول وفعل ، مضبوط عزائم اور اصولوں کی پابندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہندوستان کی ظلم زدہ قوم کو غربت وغلامی کی زنجیروں سے آزاد ہونے کی سیدھی راہ دکھائی. گاندھی جی نے’’سرو دھرم سمبھاؤ‘‘ یعنی تمام مذہبوں کو کھلی فضا میں پرواز کرنے کی مکمل آزادی کا مجرب عمل تعلیم فرمایا جو کہ ملک کے متنفر ماحول کو خوشگوار و پر امن بنانے میں نیک فال ثابت ہوا . یہ گاندھی جی کا ہی کام تھا کہ آپ نے ذات، مذہبیت، علاقائیت، رنگ و نسل اور زبان کی بنیاد پر مختلف طبقوں کے درمیان پھیلی نحوست کو ہم آہنگی و بھائی چارگی میں بدلنے کا تاریخی منصوبہ تیار کیا اور رنگ و نسل، ذات- پات اور علاقائیت کےبےجا امتیازات سےکہیں اپر اٹھ کر سوچنے- سمجھنے کی تحریک دی.

انکی اس تحریک نے انسان دوستی کے پاکیزہ نظریے کو جِلا بخشی جس پر وہ تا دم آخر کاربند رہے. گاندھی جی کو اس بات کا شدید احساس تھا کہ وطن عزیز کو جب تک آزادی نہیں مل سکتی کہ جبتک ہندو و مسلم اپنے ذاتی مفادات کو بالاے طاق رکھ کر خود کو اخوت، بھائی چارگی، ہم آہنگی اور یکجہتی جیسی آعلی صفات سے آراستہ و پیراستہ نا کر لیں. گاندھی جی ہندو مسلم اتحاد کے زبردست حامی وپیروکار تھے ان پریہ حقیقت روز روشن کی مانند آشکرا تھی کہ ملک کے ان دو بڑے فرقوں کے باہم اشتراک و اتحاد کے بغیر آزادی کی تمنّا کرنا بے سود ہے.

گاندھی جی نے تشدد کی پراگندگی کو دور کرنے کے لئے مختلف مذاھب و ادیان کا گہرا مطالعہ کیا اور تمام طبقوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کی بھرپور کوشش کی، قومی ایکتا کا یہی نظریہ اُن کی فکرکا بنیادی پتھر ہے، جس پر وہ ایک خوشحال قوم کی تعمیر کرنا چاہتے تھے، باپو کواس بات کا بخوبی اندازہ تھا کہ ان پراگندگیوں کو دور کئے بغیر ایک پاکیزہ معاشرے کی تشکیل قریب محال ہے. اِسی طرح گاندھی جی نے ہندوستانی سماج و معاشرے کو غائرانہ نظر سے دیکھا اور سمجھا حتی کہ ہندوستان کی سماجی زندگی کے ’’نبض آشنا‘‘ قرار پاۓ. باپو کی تحریک سچائی،عدم تشد اور امن و امان جیسے نا قابل گریز عناصر پر مشتمل تھی جو کسی، ملک کسی قوم،اور کسی بھی تحریک کے لئے جزو لازم کا درجہ رکھتے ہیں

گاندھی جی فرقہ وارانہ فسادات کےروز اول سے سخت خلاف تھے،جب بہار کے نواکھالی علاقے میں فساد رونما ہوئے تو آپکی منصفانہ طبیعت بےچین و بے قرار ہو گئی اور ان فسادات کی بیخ کنی کے لئے فوری طور پر بہار تشریف لے گئے اور ناہموار حالات کو استوار کرنے کی ہر ممکن کوشش کی. آزادی کے بعد ملکی سطح پر پھوٹ پڑنے والے فرقہ وارانہ فسادات کے دل سوز واقعات نےباپو کو اندر سے جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا ان فرقہ وارانہ فسادات کے خلاف آپنے شدید احتجاج کیا تھا.

باباۓ ملک موہن داس کرم چند گاندھی یعنی بابو کے قومی اتحاد ، فرقہ وارانہ خیرسگالی، اورعدم تشدد کے نظریہ پراگر پوری دیانت داری کے ساتھ عمل پیرا ہو جائیں تو اندرون ملک پنپنے والے تشدد او عدم برداشت کے زہر آلود ماحول کو ہمیشہ ہمیش کے لئے دور کیا جا سکتا ہے.

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: محمد سالم غزالی

Read More Articles by محمد سالم غزالی: 2 Articles with 2249 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
10 Oct, 2018 Views: 1489

Comments

آپ کی رائے