جن کا بچہ

(Noman Baqi Siddiqi, Karachi)

وہ جن کا بچہ تھا وہ اپنے بچے کو لاڈ سے پال رہے تھے اور لاڈو صابن سے نہلاتے دھُلاتے اور اُس کی ہر جائز نا جائز خواہش پوری کرتے۔ نتیجتاً وہ بگڑتا جا رہا تھا لیکن اُن کے لئے وہ سنورتا جا رہا تھا، جنوں نے اُس سے کوئ کام لینا تھا۔
جِنوں کی ایک بستی کے سرداروں نےفیصلہ کیا کہ انسانوں کی ایک بستی بہت آگے نکلنے کی کوشش میں ہے اور وہ اتنی آگے نہ نکل جاۓ اور اتنی خوشحال نہ ہو جاۓ کہ ہماری محتاج ہی نہ رہے اور ہم سے بھاری قرضہ بھی نہ لے ۔
جو خود مُختار بن کر ہمارے جائز نا جائز حکم سے روگردانی کرنے لگے ۔

ایسا ایک دوسری بستی میں وہ دیکھ چُکے تھے جہاں ایک مرد مومن نے ایسا ہی کیا تھا اور اپنے پیروں پر کھڑا ہو گیا تھا ۔

یہاں ایسا نہ ہو اس پر اُنہوں نے کام شروع کیا اور جنوں کو بھیس بدل کر انسانوں کی اُس بستی میں بھیجا ۔
اُنہوں نے دیکھا کہ اُن کی ہمسایہ بستی بھی اُب اُن کی مدد کر رہی ہے اور وہاں تیزی سے بڑے بڑے منصوبے بنا رہی ہے جو اُس کے دُشمنوں کوبھی پسند نہیں آرہا ۔ کیوں نہ اُن دشمنوں کے ساتھ ملا جاۓ۔
ایک اچھا بچہ انہوں نے انسانوں میں سے انتخاب کیا جو معصوم بھی ہو اور اُن کی باتوں میں آجاے ۔
اُس کو خوبصورت باتیں کرنا سکھائیں اور وہ خود بھی خوبصورت تھا اور عوام کے لئے کشش رکھتا تھا ۔

آہستہ آہستہ وہ سیاسی بچہ بڑا ہونے لگا ۔ اُس نے کہا مُجھے تبدیلی پسند ہے
چنانچہ تبدیلی نامی لڑکی سے اُس کی شادی کرا دی گئ اور تبدیلی گھر آگئ ۔

اب اُس کو الزامات کی سیاست میں اُتارا گیا ۔
کئ لوگوں کو خرید کر اُس کی ٹیم بنوای گئ
۔اُس نے کہا میں نے جیتنا ہے ۔
اُس کو جِتانے کے لئے طاقتور حریفوں کو دھمکایا گیا جن کی کارکردگی امن اور معیشت میں اچھی رہی تھی ، اور ڈٹے رہنے پر اُنہیں جیل میں ڈال دیا گیا ۔

اب راستہ صاف ہو گیا ۔
لاڈلے بچے کو بادشاہ بنادیا گیا۔

بہت جلد تبدیلی صاحبہ سے اُس کا دل بھر گیا اور تبدیلی کو فارغ کر دیا گیا ۔

پھر عام نگر کی اکلوتی لڑکی " سادگی "سے اُس کی بڑی سادگی سے شادی کر دی گئ ۔

منصوبوں کو سادہ بنانے کے لئے منصوبوں کو روکنے کا منصوبہ بنایا جانے لگا اور اس کے لئے قرضہ نہ لینے کا سابقہ تبدیلی بیگم کا مشورہ رد کر کے قرضہ لینا شروع کر دیا گیا۔

ڈالر مہنگا ، تیل مہنگا گیس مہنگی ہونے لگی ۔ عام اشیاء کی قیمت بڑھنے لگی ۔
سستی روٹی کو مہنگا کر دیا گیا۔ مہنگائ کا سونامی آگیا اور پھر عوام کو تبدیلی کا مطلب سمجھ آگیا ۔

اس کے بعد عوام نے اعلان کروا دیا۔
"جِن کا بچہ ہو وہ آ کر لے جائیں "

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Noman Baqi Siddiqi

Read More Articles by Noman Baqi Siddiqi: 232 Articles with 87657 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
11 Oct, 2018 Views: 189

Comments

آپ کی رائے