ہاتھ دھوئیے صحت کیلئے

(Zain Siddiqui, Karachi)
اسلام میں صفائی کو نصف ایمان کادرجہ حاصل ہے ،یہ ضروری یے کہ اس کی اتن بڑی اہمیت کے پیش نظر ہم صفائی کا خیال رکھیں اوراپنی زندگیوں کو خوشگوار اور بیماریوں سے پاک بنائیں ۔ ہم ہاتھ دھو کر اورصحت وصافائی کا خیال رکھ کر امراض کو اپنے قریب انے سے روکیں ۔

ہرسال دنیا بھر میں 15اکتوبرکو ہاتھ دھونے کا عالمی دن منایا جا تا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد لوگوں میں ان بیماریوں کے بارے میں آگاہی پید اکرنا ہے جو ہاتھ نہ دھونے کی وجہ سے جنم لے سکتی ہیں۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 2008ءکو صحت و صفائی (سینیٹیشن) کا سال قرار دیا تھا اور ہاتھ دھونے کا عالمی دن اسی کی ایک کڑی ہے۔ رواں برس یہ د ن یہ دن ”ہاتھ دھوئیے صحت کیلئے “کے عنوان کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد حفظان صحت کے اصولوں کی پابندی کرنا سکھانا ہے۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں سالانہ، لاکھوں افراد بیکٹیریاسے پیدا ہونے والی بیماریوں سے متاثر ہوتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں اسہال سے مرنے والے بچوں کی سالانہ تعداد 20 لاکھ ہے۔ پاکستان میں اسہال کے سالانہ 2 کروڑ 50 لاکھ کیسز سامنے آتے ہیں۔۔اسہال ایک خطرناک بیماری ہے جس کی وجہ بغیر ہاتھ دھوئے کھانا پینا ہے ۔ پانی کی کمی اوردست کے باعث سالانہ پانچ سال سے کم عمر کے ایک لاکھ 16ہزار بچے جان سے چلے جاتے ہیں

ماہرین کے مطابق بیکٹیریا متعدد بیماریوں کے پھیلاؤ میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں، ان میں خناق، ہیضہ، کالی کھانسی اور تپ دق بھی شامل ہیں۔ایک سینٹی میٹر پر ایک ہزار سے 10 ہزار تک بیکٹیریا جمع ہو سکتے ہیں۔ بیکٹیریاصرف ایک خلیے یا سیل پر مشتمل ہوتے ہیں۔ بیکٹیریا صرف صحت کو نقصان ہی نہیں پہنچاتے بلکہ یہ فائدہ مند بھی ہوتے ہیں۔ تاہم اس انتہائی ننھے سے جسم کے باوجود ان میں وہ سب چیزیں موجود ہوتی ہیں، جس کی جسم کو ضرورت ہوتی ہے۔ مثال کے طور بیکٹیریاکھانے کے ساتھ بدن میں جانے والی چربی کو حل کرنے میں فائدہ مند ہوتے ہیں، اس کے علاوہ ہاضمے میں بھی ان کا مفید کردار ہے۔ماہرین کے مطابق صابن کے ساتھ اچھی طرح ہاتھ دھونے سے اسہال کا خطرہ 30سے 50فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق جراثیم زیادہ تر کھانے پینے کے دوران انسانی جسم میں داخل ہوتے ہیں اورہاتھ، پیر اور منہ کے امراض ،جلدی انفیکشن،ہیپاٹائٹس اے، پیٹ کے امراض بھی ہاتھ نہ دھونے کی عادت کی وجہ سے ہمیں نشانہ بنا سکتے ہیں۔

اسلامی معاشرے میں صفائی کی بہت اہمیت ہے اور اسے نصف ایمانکا درجہ حاصل ہے بلکہ سائنسی نقطہ نظر سے بھی ہاتھوں کی صفائی پر بہت زور دیا گیا ہے ۔دنیا بھر میں ہاتھ دھو نے کا عالمی دن منایا جاتا ہے اوراس حوالے سے غیر سرکاری تنظیمیں کانفرنسز ،ورکشاپس اورلیکچر زمنعقد کرتی ہیں ۔تعلیمی اداروں میں بھی ہاتھ دھونے کی اہمیت اور فوائد سے متعلق آگاہ کیا جاتا ہے ۔پاکستان میں اس سلسلے میں الخدمت بھرپورکام کر رہی ہے۔

الخدمت تعلیم ،صحت ،روزگار،کفالت یتامی ٰ سمیت زندگی کے دیگر 7شعبہ جات میں کام کررہی ہے ۔اس کے تحت ملک اسٹڈی سینٹرز،مدارس قائم ہیں جہاں بچوں کو تعلیم کے ساتھ ان کی اخلاق اورکردارسازی کی جاتی ہے ۔اسٹڈی سینٹرز میں یتیم بچوں ،ان کی ماؤں اور سرپرستوں کیلئے تربیتی ورکشاپس کی جاتی ہیں اور یوں کہیں تو بے جا نہیں ہوگا کہ الخدمت شعورآگہی کیلئے بھی بھرپورکام کررہی ہے ۔

الخدمت گزشتہ کئی برسوں سے ہینڈ واشنگ ڈے پر بچوں میں شعورآگہی پیدا کرنے کی جدوجہد کر رہی ہے،اس سلسلے میں مختلف تقاریب کا اہتمام کیا جاتا ہے ،مدارس،اسٹڈی سینٹرز،آغوش ہومز میں خصوصی نشستیں منعقد کی جاتی ہیں جن میں بچوں کو صحت مند زندگی سے متعلق آگہی دی جاتی ہے ،ہاتھ دھونے کے عالمی دن پر منعقد ہونے والے پروگرامز میں بچوں کو ہاتھ نہ دھونے سے پیدا ہونے والے امراض سے متعلق آگہی اوراحتیاطی تدابیر بتائی جاتی ہیں ۔اس موموقع پر بچوں کو ہائی جین کٹس اورسوپ تقسیم کیے گئے۔اس پورے وعل کا مقصد یہ ہے کہ بچوں کو اچھی صحت اوربیماریوں سے بچنے کیلئے احساس ذمہ داری پیدا کرنا ہے ۔الخدمت کراچی نے گزشتہ برس اسکول اور مدارس کے 3500بچوں کو ہاتھ دھونے کے طریقے سکھا ئے گئے اورصابن بھی تقسیم کیے۔

الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان نے عالمی ہینڈ واشنگ ڈے کی مناسبت سے”قومی حسن ہماری ذمہ داری “کے عنوان سے صفائی مہم کا آغاز کر رہی ہے ،جس کیلئے لیکچرز،تقریر،ڈارائینگ ،کوئز مقابلوں ،مباحثوں اور دیگر پروگرامز کا انعقاد کیا جائےگا اوربچوں کیلئے صحت وصفائی سے متعلق دیگر سرگرمیوں کا اہتمام کیا جا رہا ہے ۔پاکستان بھر سے مقابلوں میں منتخب ہونے والوں کیلئے مرکزی پرگرام منعقد کیا جائے گااوراس میں انہیں ایوارڈز دیئے جائیں گے۔یہ ملک میں کسی این جی او کا بڑااورمستحن عمل ہے جو بحیثیت پاکستانی ہمیں دعوت دیتا ہے کہا کہ ہم صفائی کی اصولوں کوا پنائیں اوران سے دوسروں کو بھی آگا ہ کریں تاکہ ہمارہ پاک سرزمین امراض سے پاک ہو سکے ۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Zain Siddiqui

Read More Articles by Zain Siddiqui: 27 Articles with 9944 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
13 Oct, 2018 Views: 651

Comments

آپ کی رائے