روس، پاکستان، بھارت تعلقات کی نئی مثلث

(Asif Khurshid, Islamabad)

بسم اﷲ الرحمن الرحیم
روس کے صدر ولادی میر پوٹن کی جانب سے بھارت کے حالیہ دورے کے دوران ایس 400میزائل سسٹم کی فروخت کے معاہدہ کے بعد جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن پھر سے خراب کر دیا ہے ۔5.2ارب ڈالرکی مالیت کے اس میزائل سسٹم کاشمار دنیا کے مہلک ترین ہتھیاروں میں ہوتا ہے۔بھارت نے یہ میزائل سستم خریدتے ہوئے ان امریکی دھمکیوں کو بھی نظر انداز کر دیا جس میں کہا گیا تھا کہ اس معاہدے کے بعد بھارت پرامریکہ کی جانب سے ممکنہ پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں۔گزشتہ سال اگست میں شام میں ہونے والی خانہ جنگی میں بشار الاسد کی حمایت اور یوکرائن تنازعہ کی وجہ سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس کے خلاف ایک قانون پردستخط کیے تھے جسے ’’کاٹسا( سی اے اے ٹی ایس اے) کا نام دیا گیا تھا اس کے تحت روس، شمالی کوریا یا ایران سے ہتھیار خریدنے والوں پر مختلف قسم کی پابندیاں عاید کی جا سکتی ہیں۔اس قانون کا پہلا شکار چین بنا جب گزشتہ ماہ اس نے روس سے جنگی طیاروں اوریہی میزائل سسٹم روس سے خریدا۔اس قبل نیٹو کا اتحادی ترکی بھی روس سے یہ میزائل خریدنے کا معاہد ہ کر چکا ہے جس کی وجہ سے اسے بھی امریکی دھمکیوں کا سامنا ہے ۔البتہ بھارت کے ساتھ امریکی تعلقات کی نوعیت کچھ مختلف قسم کی ہے ۔

روس اور بھارت کے تعلقات سمجھنے کے لیے ان کا پس منظر بہت اہمیت رکھتا ہے ۔دنیا میں مختلف ممالک کے تعلقات جذبات ، مذہب ، نظریات پراستوار ہونے کی بجائے مفادات کی بنیاد پر طے کیے جاتے ہیں۔سرد جنگ کے دوران دنیا میں دو بڑے بلاک بن چکے تھے جن میں ایک کی کمان امریکہ کر رہا تھا جبکہ دوسرا بلاک روس کے اتحادیوں کا تھا ۔یہ وہ دور تھا جب دنیا میں جدید اورایٹمی اسلحہ کے حصول کی دوڑ شروع ہوئی۔اس موقع پر جنوبی ایشا میں موجوددو ممالک پاکستان اور بھارت ایسے تھے جن کے لیے کسی ایک بلاک کا حصہ ہونا اس لیے ضروری تھا کہ ملکی بقاء اور سیکورٹی کے لحاظ دونوں ممالک ایک دوسرے سے خطرہ محسوس کرتے تھے اگرچہ بھارت جیسے بڑے ملک کے لیے پاکستان کوئی بڑا خطرہ پیدا نہیں کر سکتا تھا تاہم اس کے باوجود بھارت کے اندر جاری آزادی کی تحریکوں کے باعث بھارت کافی خائف تھا ۔چنانچہ دونوں ممالک نے اپنے مفادات کو دیکھتے ہوئے اپنے اپنے حلیف کا تعین کیا ۔پاکستان کا جھکاؤ فوری طور پر روس کی بجائے امریکہ کی طرف ہو گیا جس کی ایک بڑی وجہ بھارت کا روس کے ساتھ تعلقات کا بڑھنا بھی تھا۔تاہم اس موقع پر روس کی جانب دیکھنے کی بجائے پاکستان نے امریکہ کے ساتھ معاہدوں میں شامل ہونا ذیادہ مفید سمجھا۔دوسری جانب بھارت نے امریکہ و روس کی چپقلش میں براہ راست کسی ایک طرف جھکاؤ کی بجائے غیر جانبدارانہ تنظیم کا رکن بننے کو ترجیح دی جبکہ دوسری طرف روس کو بھی اپنے تعاون کی یقین دہانی کروا دی گئی ۔ امریکہ کے ساتھ سینٹو اور سیٹو معاہدہ میں شمولیت کے بعد پاکستان اور روس کا جغرافیائی راستہ کم ہونے کے باوجود بہت بڑھ گیا۔ سرد جنگ کے دوران جہاں ہمیں امریکہ کی دوستی نے ہمیں کوئی نفع نہیں پہنچایا وہاں حلیف ہونے کی وجہ سے روس نے بھارت کو اسلحہ کے میدان میں بھرپور مدد دی جس کی وجہ سے پاکستان کے لیے مسائل میں اضافہ ہو گیا ۔اسی دوران پاکستان کے ہمسایہ ملک افغانستان میں روسی جارحیت کی وجہ سے مغربی سرحد پر نئے خطرات منڈلانے لگے ۔امریکہ جس نے پاکستان کے خلاف تعلقات اور معاہدے ہونے کے باجود پابندیاں کا سلسلہ بند نہیں کیا تھا اس موقع پر مہربان ہوگیا اور پاکستان نے امریکی تعاون سے افغانستان سے روس کونکال کر ایک طرف اپنی مغربی سرحد کو محفوظ کر لیا جبکہ دوسری طرف روس کے ساتھ تعلقات بھی کشیدگی کی آخری حد تک پہنچ چکے تھے ۔اس موقع پر امریکہ نے ہمیشہ کی طرح پاکستان پر مختلف حیلوں بہانوں سے پابندیاں جاری رکھیں ۔ سرد جنگ کا اختتام روس کی شکست کی صورت میں ہوا ۔امریکہ نے ہمیشہ کی طرح مفاد ختم ہوجانے کے بعد پھر پاکستان پر پابندیاں مختلف صورتوں میں جاری رکھیں۔پاکستان کے لیے امریکہ کا مسلسل یہ رویہ دیکھ کر کچھ دوست ممالک نے ماسکو کے ساتھ تعلقات کی بحالی کا مشورہ دیا۔ سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے دورہ روس کے دوران ماسکو اسلام آباد کے تعلقات کا نیا سفر شروع ہو گیا۔دونوں ممالک نے ماضی کی تلخیوں کا ذکر کیے بغیر ایک دوسرے سے تعاون کو فروض دینے پر رضا مندی ظاہر کردی ۔ اگرچہ اس موقع پر بھارت کی جانب سے مختلف اشتعال انگیز بیانات بھی دیے گئے لیکن روس نے بھارتی تحفظات کو نظر انداز کرکے پاکستان کے ساتھ نہ صرف جنگی مشقوں کا آغاز کیا بلکہ دفاعی میدان میں بھی ممکنہ تعاون پر مثبت پیش رفت ہوئی ۔اس سے قبل شنگھائی تعاون تنظیم میں پاکستان کی شمولیت کی مخالفت کرنے والے روس نے یہاں بھی حمایت کا اعلان کر دیا جو ثابت کررہا تھا کہ دونوں ممالک کے تعلقات ایک مثبت سمت میں گامزن ہو چکے ہیں ۔

بھارت دنیا میں روسی اسلحہ کا سب سے بڑا خریدار ہے جبکہ امریکہ روس کے بعد دوسرا بڑا ملک ہے جس سے بھارت اسلحہ خریدتا ہے ۔بھارت گزشتہ سال روس سے تقریبا2بلین ڈالر کا اسلحہ خرید چکا ہے ۔جب ہم کہتے ہیں کہ دنیا کے تعلقات کی بنیاد مفادات ہیں تو یہ کیونکر ممکن ہے کہ روس اور امریکہ بھارت کی شکل میں اسلحہ کی اتنی بڑی مارکیٹ کوہاتھ سے جانے دے۔یہی وجہ ہے کہ امریکی قانون ( کاٹسا) کے باوجود امریکہ بھارت پرپابندیاں عاید کرنے سے گریز کر رہا ہے ۔دوسری طرف امریکہ کو خطہ میں چین کے مدمقابل ایک ایسی طاقت کی بھی اشد ضرورت ہے جو اس کے لیے خطرہ بن کر موجود رہے جو بھارت کی شکل میں موجود ہے ۔

ایسی صورتحال میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس معاہدے کے بعد پاکستان کے ساتھ روس کے تعلقات پھر سرد دور میں چلے جائیں گے جیسا کہ بھارت کے کچھ تجزیہ نگار یہ ظاہر کر رہے ہیں تو ایسا ہر گز نہیں ہے ۔تاہم دنیا کے حالات جس تیزی کے ساتھ بدل رہے ہیں پاکستان کوبھی اپنی خارجہ پالیسی میں اسی تیزی سے کارکردگی دکھانے کی ضرورت ہے ۔بدقسمتی سے خارجہ پالیسی میں پاکستان کی کارکردگی مایوس کن رہی ہے ۔عالمی تعلقات عامہ پر نظر رکھنے والے تجزیہ نگاروں کے نگاہیں موجودہ نئی حکومت کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی پرلگی ہوئی ہیں کہ وہ کس طرح خارجہ پالیسی کے اس چیلنج پر پورا اترتے ہیں ۔اگرچہ ابھی تک ان کی کارکردگی کافی تسلی بخش نظر آتی ہے لیکن اس پر مطمئن ہونا کافی نہیں ہوگا ۔پاکستان روس اور بھارت کے تعلقات کی جو نئی مثلث بن رہی ہے اس میں پاکستان کو اپنے مفادات سمیٹنے کے لیے بہت محنت درکار ہے۔پاکستان چین کے ساتھ اپنے مضبوط تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے اس مثلث سے فائدہ اٹھا سکتا ہے لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ ہمارا فارن ڈیسک بھی اپنا موثر کردار اداکرے۔کپتان وزیر اعظم کو اس وقت اندرونی محاذ پر مختلف پریشانیوں کاسامنا کرنا پڑ رہا ہے لیکن ان اندرونی مسائل کو اپنی خارجہ پالیسی پر اثر انداز ہونے سے روکنا چاہیے جو اگرچہ کافی مشکل ٹاسک ہے تاہم ناممکن نہیں ہے ۔وزیر اعظم کا آئندہ ماہ دورہ چین اس سلسلہ میں نہایت اہم کردار ادا کر سکتا ہے لیکن ضروری ہے کہ ابھی سے اس پر ہوم ورک کیا جائے ۔ اگر ہم نے اس مثلث سے فائدہ اٹھانے کی کوشش نہ کی تو شاید یہ مثلث ہمارے لیے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتی ہے ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Asif Khurshid

Read More Articles by Asif Khurshid: 87 Articles with 33478 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Oct, 2018 Views: 783

Comments

آپ کی رائے