نیٹ ورک مارکیٹنگ کا شرعی حکم

(Maqbool Ahmed, Saudi Arab)

آج کے ترقی یافتہ دور میں تجارت کی مختلف شکلیں رائج ہیں ان میں نٹورک مارکیٹنگ بھی ہے ۔ اسے نٹورک مارکیٹنگ اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس میں ہرممبر کو ممبربنانا پڑتا ہے اس طرح ممبروں کی تعداد بڑھتی چلی جاتی ہے ، اس صورت کو نٹورک یعنی جال سے تعبیر کیا گیا ہے ، جال نما تجارت ۔ ملٹی لیول مارکیٹنگ بھی کہتے ہیں کیونکہ اس میں ہر ممبر کو کمپنی کی شرط کے مطابق ممبر بنانا ہوتا ہے جس سے مختلف لیول بنتے ہیں مثلا کسی شخص نے دو ممبر بنایا پھر ان دونوں نے دو دو ممبر بنائے ، اس طرح پہلے لیول میں ہم دیکھتے ہیں ایک آدمی ہے پھر دوسرے لیول میں دو آدمی ہیں اور تیسرے لیول میں چار آدمی ہوگئے ۔ اس طرح لیول بنتے چلے جاتے ہیں ، لیول کی وجہ سے ملٹی لیول مارکیٹنگ کہا جاتا ہے۔
اسلام نے مسلمانوں کو حلال طریقے سے تجارت کرنے کا حکم دیا اورحلال تجارت کے خدوخال بھی ہمارے لئے واضح کردئیجس میں جھوٹ، دھوکہ، لوٹ مار، غبن، سودخوری، کالا بازاری، حرام کاری ، قماربازی وغیرہ کی قطعا کوئی گنجائش نہیں ہے ، ہمیں حلال طریقے سے مباح چیزوں کی تجارت کا حکم دیا گیا ہے۔
نٹورک مارکیٹنگ فردومعاشرہ اور قوم وملت کی تباہی کے ساتھ شرعی طور پر کئی خامیوں کو شامل ہے ۔ کہنے کو یہ تجارت ہے مگر حقیقت میں تجارت کے نام پہ قماربازی کا ایک ایسا کھیل ہے جس میں کم پیسے اور کم وقت میں زیادہ سے زیادہ کمانے کی ہوس ہے ۔ ہرممبر ہوس کا شکار ہوکر ممبر بنتا ہے ، کوئی خود سے نہیں آتا بلکہ زیادہ تر اپنوں کی وجہ سے پھنستے ہیں۔ جب کوئی ممبر بنتا ہے تو دوسرے کو ممبر بنانے کے لئے چرب زبانی، کمپنی کی بے جا تعریف، تجارت کی ملع سازی اور جھوٹ وفریب دے کر باربار ذہن کوٹارچر کرکے ایک طرح سے جبرا کمپنی میں شامل کیا جاتا ہے ۔ ایک لفظ میں یہ کہیں کہ باتوں میں پھنساکر اور سبزباغ دکھا کر ممبر بنایا جاتا ہے، دنیا کی اور کسی تجارت میں اس طرح باتوں میں نہیں پھنسایا جاتا ہے۔اسلام میں بیع وشرا ء کے لئے دور دور تک اس قسم کی تجارت کا نمونہ نہیں ملتا۔
آئیے دیکھتے ہیں کیا ملٹی لیول مارکیٹنگ واقعی تجارت ہے ؟ اورکیا اسلامی شریعت کی رو سے اس میں شمولیت کی ہمارے لئے گنجائش ہے ؟
یہ کمپنی واقعتا سامان بیچتی ہے ، جو اس کا ممبر بنتا ہے اسے کمپنی کا سامان خریدنا ہوتا ہے ۔ اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک شخص کو سامان خریدنے کی ضرورت ہے تو اس کا ممبر کیوں بنتا ہے اور اس کے ذمہ دوسروں کو لازمی طور پر ممبربنانے کی شرط کیوں لگائی جاتی ہے ؟ اور اگر کمپنی کو اپنے پروڈکٹ کی تجارت کے لئے ملازم چاہئے تو ملازم کو ہی سامان کیوں فروخت کیا جاتا ہے ؟ سامان بھی مارکیٹ ریٹ سے کئی گنا مہنگا ، ممبر اس لئے خریدتا ہیکیونکہ اس کمپنی سے جڑنا چاہتا ہے ورنہ جڑ نہیں سکتا۔ اکثر سامان بھی ممبر کے کام کا نہیں ہوتامگر کم وقت میں زیادہ پیسے کمانے کی ہوس میں غیرضروری سامان بھی برداشت کرتا ہے ۔ مثال کے طور پر مان لیتے ہیں ایک شخص ممبر بنا تو تقریبا بیس سامان خرید میں ملا ، ان بیس میں سے دس کام کے نہیں ہیں ۔ ذرا اندازہ لگائیں بقیہ دس سامان کی قیمت مارکیٹ سے کئی گنا اور بلاضرورت خرید کس قدر نقصان کا باعث ہے؟ ۔اگر کمپنی سے پچاس ہزار آدمی بھی جڑے ہوں تو اتنے افراد کے نقصان کی منجملہ مالیت کروڑوں میں ہوگی مگر ممبران میں اس کا احساس تک نہیں ہوتا، اگر کچھ احساس ہوتا بھی ہوگا تو کمیشن کی ہوس میں زبان پر خاموشی کا پہرہ لگا ہوگا۔
اس پس منظر سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کمپنی کا مقصد یا اس کے کسی ممبر کا مقصد تجارت کرنا نہیں ہوتا ۔ اس کمپنی کا سامان کھلے عام مارکیٹ میں نہیں بیچا جاتا ، صرف ممبران ہی خرید کرسکتے ہیں ۔
اس کمپنی میں ممبرسازی کافی خطرناک معاملہ ہے ، پورے شہر کے لوگوں کو یرغمال بنایا جاتا ہے ۔ یہ سراسر زیادتی ہے۔ آپ کے پاس کمپنی ہے یا آپ کسی کمپنی سے جڑے ہیں تو اپنی کمپنی اور اس کی تجارت کامبنی برحق تعارف کرادیں مگر لفاظی اور چرب زبانی کے ذریعہ کسی پر دباؤ نہ بنائیں ۔
اس کمپنی میں مزید کئی خامیاں اور نقصانات ہیں ۔ اس کی سب سے بڑی سچائی یہ ہے کہ اس کمپنی کو استمرار حاصل نہیں ہے کیونکہ اس کی حیات ممبرسازی پہ موقوف ہے جس شہر میں ممبران کا کوٹہ فل ہوجائے یا ممبرسازی کا سلسلہ منقطع ہوجائے تو یہ کمپنی اس کے بعد دیوالیہ کا شکار ہوجائے گی اورپھر اس کا ذمہ دار لوگوں کاسارا مال لیکر فرار ہوجائے گا جیساکہ بہت سارے شہروں میں ایسا حادثہ ہوچکا ہے اور حکومتی پیمانے پر مختلف ممالک میں ایسی کمپنیوں کے خلاف کاروائی کی گئی ہے۔ ہرممبر کا منافع ممبرسازی سے ہی آتا ہے ، ذرا حساب لگائیں کہ پہلی بارجب کوئی ممبر بنتا ہے اس وقت اس کو سامان خریدکرخسارہ ہی ہوتاہے مزید کوئی منافع نہیں ملتا، منافع اس وقت ملنا شروع ہوگا جب ممبران کی مطلوبہ تعداد اور مطلوبہ شرائط پوری کرے گا ، اس لیول کے سارے ممبران پہلی بار نقصان اٹھاتے ہیں ، پھر شروع کے لیول میں منافع زیادہ اور بعد میں آنے والوں کو کم ملتا ہے کیونکہ شروع والوں کی وجہ سے ممبران بڑھتے ہیں لہذا بڑھنے والے سارے ممبران کا منافع شروع والوں کو بھی جاتا ہے۔جہاں کمپنی کا لیول مکمل ہوجائے تو آخری لیول والے منافع سے محروم ہوں گے کیونکہ وہ مزید ممبر بنانے سے قاصر ہیں اور آخری لیول میں ممبران ہزاروں کی تعداد میں ہوتے ہیں جبکہ شروع کا لیول دوچار سو کے آس پاس ہوگا۔ اس طرح آخری مرحلے میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ ممبر بنتے ہیں اور کروڑوں کا نقصان اٹھاتے ہیں بلکہ جو ممبران چرب زبان اور لفاظ نہ ہو ں اور ممبر نہ بناسکیں وہ بھی منافع سے محروم ہوتے ہیں ۔ گویا چند لوگوں کو منافع ملتا ہے اور کثیر تعداد میں لوگ منافع سے محروم رہتے ہیں بلکہ نقصان اٹھاتے ہیں ۔
نٹورک مارکیٹنگ کے تعارف وخطرات پہ مشتمل تمہیدی باتوں کے بعد اب سطور ذیل میں اس مارکیٹنگ میں پائی جانے والی شرعی قباحتیں آپ کے سامنے بیان کرتا ہوں تاکہ آپ بھی اس سے بچیں اور دوسروں کو بھی اس سے بچائیں اور محنت وعمل کی بنیاد پر حلال طریقے سیخود بھی روزی کمائیں اور دوسروں کو بھی اس کی نصیحت کریں ۔
پہلی خامی : دولت کی غیرمنصفانہ تقسیم : جس طرح سرمایہ دارانہ نظام میں دولت چند لوگوں کی مٹھی میں سمٹ جاتی ہے اسی طرح اس تجارت میں بھی شروع کے چند ممبران کے ہاتھوں دولت سمٹ جاتی ہے اور آخر کے کئی مرحلوں میں یا تو سرے سے نقصان ہوتا ہے ، یا منافع نہیں ملتا یا بالکل معمولی فائدہ ہوتا ہے جبکہ شروع کے چند ممبرا ن ان نقصانات سے مامون ہوتے ہیں حالانکہ سارے لیول میں محنت وعمل کے بقدر اعتدال وتوازن ہونا چاہئے تھا۔ اسلامی نظام معیشت کی خوبی ہے کہ اس میں سرمایہ دارانہ نظام کی طرح نہ دولت کی غیرمنصفانہ تقسیم ہے اور نہ ہی اشتراکیت کی طرح مساوات کا ناقابل قبول دعوی بلکہ اسلام ان دونوں کے بیچ لوگوں کے درمیان عدل کے ساتھ اعتدال وتوازن قائم کرتا ہے۔ اﷲ تعالی کا فرمان ہے : کَیْ لَا یَکُونَ دُولَۃً بَیْنَ الْأَغْنِیَاء ِ مِنکُمْ (الحشر:7)
ترجمہ: تاکہ تمہارے دولت مندوں کے ہاتھ میں ہی مال گردش کرتا نہ رہے ۔
دوسری خامی : مصنوعات کا ارتکاز:یہ کمپنی اپنی مصنوعات کو عام لوگوں پر پیش نہیں کرتی بلکہ صرف ممبران کے دائرے تک محدود رکھتی ہے ۔ یہ ایک طرح ارتکاز کے زمرے میں داخل ہے۔ سامان کو گھروں میں جمع کرکے رکھنا اور مارکیٹ کا بھاؤ زیادہ ہونے پر بیچنا اسلام میں منع ہے ، اس صورت میں اور نٹورک مارکیٹنگ کی صورت میں مماثلث نظر آتی ہے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے : لا یَحْتَکِرُ إلَّا خاطءٌ(صحیح مسلم:1605)
ترجمہ: ذخیرہ اندوزی کرنے والاگنہگارہے۔
زمانہ جاہلیت میں جب کوئی دیہاتی شہر میں تجارت کرنے آتا تو چند تاجر سارا مال خرید لیتے اور لوگوں کو براہ راست ان سے نہیں خریدنے دیتے حالانکہ یہ سامان پھر شہر میں بیچا جاتا مگر ان شہری تاجروں کے ہاتھوں مہنگے داموں میں تو نبی ﷺ نے اس سے منع فرمایا۔عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَہَی أَنْ یَبِیعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ وَإِنْ کَانَ أَبَاہُ أَوْ أَخَاہُ(صحیح النسائی: 4508)
ترجمہ: حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے منع فرمایا کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال بیچے اگرچہ وہ اس کا باپ یا بھائی ہو۔
جب یہ صورت ممنوع ہے تو مصنوعا ت چند لوگوں میں محدود کرنا کیسے صحیح ہوگا؟۔
تیسری خامی : بیع کو مشروط کرنا: اس کمپنی سے جو کوئی چیز خریدتا ہے اور وہ اصطلاح میں ایک خریدار کہلاتا ہے ، اصولا اس کی بیع پیسہ دے کر سامان خریدنے سے مکمل ہوگئی مگر اس کمپنی میں بیع کا معاملہ مشروط ہوتا ہے۔ جب کوئی اس کمپنی سے کچھ خریدتا ہے تو اس کے ذمہ یہ شرط ہوتی ہے کہ وہ اتنے ممبر بنائے اور اس ممبرسازی پہ منافع اور کمیشن ملے گا۔ نبی ﷺ نے ایک سودے میں کوئی دوسرامعاملہ طے کرنے سے منع کیا ہے ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ بیان کرتے ہیں :نہی رسولُ اﷲِ صلَّی اﷲُ علیہِ وسلَّمَ عن بیعتینِ فی بَیعۃٍ(ٌصحیح الترمذی:1231، صحیھ النسائی :4646)
ترجمہ:رسول اﷲﷺ نے ایک سودے میں دو سودوں سے منع فرمایا۔
اسی طرح آپ ﷺ کا فرمان ہے : ولا شَرطانِ فی بیعٍ(صحیح أبی داود:3504)
ترجمہ:اور نہ ایک بیع میں دو شرطیں جائز ہیں۔
بیع میں دو شرط کی مثال یہ ہوگی کہ بیچنے والا کہے کہ میں یہ سامان تمہیں اس شرط پہ بیچوں گا کہ تمہیں فلاں کام بھی کرنا پڑے گا۔ یہ صورت نٹورک مارکٹنگ میں پائی جاتی ہے۔
چوتھی خامی: دھوکہ دینا اور نقصان پہنچانا: اسلامی تجارت میں دھوکہ دینا منع ہے اور اسی طرح کسی کو تجارت کے ذریعہ لوٹنا بھی سخت منع ہے ۔ حکومت سے لیکرممبران تک کو مختلف طریقے سیدھوکہ دیا جاتا ہے اور باطل طریقے سے مال لوٹ کر انہیں نقصان پہنچایا جاتا ہے۔تجارت تو حکومت اور عوام کی نظر میں ایک دکھاوا ہے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے : لا ضررَ ولا ضِرارَ(صحیح ابن ماجہ:1910)
ترجمہ: نہ تو کسی کو نقصان دو، اور نہ ہی نقصان اٹھاؤ۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے:نہی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم عن بیع الحصاۃ، وعن بیع الغرر(صحیح مسلم:1513)
ترجمہ: منع کیا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے کنکری کی بیع سے اور دھوکے کی بیع سے۔
اور اﷲ تعالی کا فرمان ہے: یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لَا تَأْکُلُوا أَمْوَالَکُم بَیْنَکُم بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَن تَکُونَ تِجَارَۃً عَن تَرَاضٍ مِّنکُمْ(النساء : 29)
ترجمہ: اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق مت کھاؤ لیکن کوئی تجارت ہو جو باہمی رضامندی سے واقع ہو۔
یہاں تجارت کا جو دکھاوا ہے وہ لوگوں کو لفاظی کا شکار بناکرہے، رضامندی کا پہلو مفقود ہے۔
پانچویں خامی: قمار بازی: جس طرح لوگ جوا میں پیسہ لگاکر ہار وچیت کی امیدوخوف کے درمیان ہوتے ہیں اسی طرح یہاں بھی معاملہ ہوتا ہے ۔ سستی چیز مہنگے داموں میں خریدکر مستقبل میں کمیشن اور منافع کی امید ہوتی ہے ۔ کیا پتہ ممبر بناپائے گا کہ نہیں اور بنائے گابھی تو کس مقدار میں ؟ اس طرح تو اپنا مال داؤ پر لگانا ہوا بالکل جوا کی طرح ۔ اﷲ تعالی نے لفظ میسر(المائدہ:90) کے ذریعہ جوا کو حرام قرار دیا ۔ یہ میسر یسر سے ہے یعنی جوا میں آدمی کو آسانی سے اور کم محنت اور کم وقت میں زیادہ کمائی کی امید ہوتی ہے وہی امید اس نٹورک مارکیٹنگ میں نظر آتی ہے۔
چھٹی خامی : بغیر عمل منافع : اس میں شرعی طور پر ایک بڑی خامی یہ ہے کہ آدمی اپنے طور پر صرف پہلے لیول پر چند ممبر بناتا ہے جبکہ اس کا منافع محض اس وجہ سے چالو رہتا ہے کہ اس کے بنائے ہوئے ممبران دوسروں کو ممبر بناتے ہیں ۔ پہلے لیول میں محنت وعمل کی اجرت ومنافع تو معقول کہا جاسکتا ہے مگر دوسرے لیول میں دوسروں کی ممبرسازی کا منافع غیرمعقول ہے۔ منافع کی جائز تین صورتیں بنتی ہیں ۔ (۱)یاتو ہم نے کاروبار میں رقم لگائی ہو اور محنت بھی کرتے ہوں ، یہ شرکت ہے (۲)یا صرف رقم لگائی ہو محنت کوئی دوسراکرے، یہ مضاربت ہے۔(۳)یا بغیر رقم کے محنت کرتے ہوں اسے اجارہ یعنی مزدوری کہتے ہیں ۔ اس تجارت میں ممبر اپنا پیسہ لگاکر سامان خریدلیتا ہے اس وجہ سے شرکت اور مضاربت کی شکل نہیں پائی جاتی، رہی محنت ومزدوی توایک ممبر محدود لیول تک محنت کرتاہے مگر منافع بعد کے تمام لیول سے ملتے ہیں ۔اس لئے یہ شرعا جائز نہیں ہے۔
ساتویں خامی : حیلہ والی تجارت : اوپر واضح کیا گیا ہے کہ اس کمپنی کا مقصد تجارت بالکل نہیں ، اس کے تعارفی پمفلیٹ سیبھی بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے جس میں تجارت کے متعلق چند سطریں اور ممبرسازی کے کمیشن پہ صفحات در صفحات لکھے گئے ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اس تجارت میں غیرضروری اشیاء فروخت کی جاتی ہیں وہ بھی عام لوگوں سے چھپاکر صرف ممبران میں اور مارکیٹ سطح سے کئی گنا مہنگے داموں پر۔ اس طرح حیلہ کرکے مصنوعات بیچنا بھی منع ہے ۔ حضرت ابن عمرؓ سے مروی ہے:
أنَّ النبیَّ صلَّی اﷲُ علیہِ وسلَّمَ نہی عن النجْشِ(صحیح النسائی:4517)
نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے حیلے کے ساتھ بھاؤ بڑھانے سے منع فرمایاہے۔
اس مارکیٹ میں یہ مذکورہ بالا شرعی خامیاں مجھے نظر آتی ہیں اس وجہ سے کسی مسلمان کے لئے ایسی کمپنی چلانا یا ایسی کمپنی میں شمولیت اختیار کرنا جائز نہیں ہے ۔ بعض ممبران یہ کہتے ہیں کہ جب اسلام میں دلالی کی اجرت جائز ہے تو یہاں ممبرسازی کا کمیشن کیوں نہیں جائز ہے ؟ اس بات کا جواب چھٹی خامی میں ملاحظہ کرسکتے ہیں کہ ممبرسازی میں کس حد تک ہمارے لئے منافع کا حق بنتا ہے؟۔ ایک دوسرا اشکال یہ پیدا کیا جاتا ہے کہ ممبر حضرات پہلے لیول کے علاوہ بھی دیگرلوگوں پر محنت کرتے ہیں ، ان کا مارکیٹنگ حال دریافت کرتے ہیں ، روابط رکھتے ہیں اور اچھی سوجھاؤ بھی دیتے ہیں ۔ اس اشکال کا جواب یہ ہے کہ شروع والے ممبران بعد والے ممبروں سے رابطہ کریں یا نہ کریں کمیشن موجود ہوتا ہے گویا یہ روابط کوئی معنی نہیں رکھتے ۔ کچھ ممبران کہتے ہیں کہ کمپنی ہمیں انعام کے طور پر فائدہ دیتی ہے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ انعام تسلسل کے ساتھ طے شدہ منافع کے نام پرہرگز نہیں ہوسکتا۔ بعض لوگ یہ حیلہ بناتے ہیں کہ شروع والے ممبر بعد والوں کے لئے ذریعہ بنتے اس ذریعہ کی وجہ سے مسلسل منافع ملتا ہے تو کیا حرج ہے ؟ حرج تو ہے مالی منفعت کا اسلام نے معیار بنایا ہے جس کا ذکر اوپر کیا گیا ہے اس لئے معیار اسلام سے ہٹ کر منافع لینے کا جواز نہیں نکل سکتا ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maqbool Ahmed

Read More Articles by Maqbool Ahmed: 303 Articles with 170696 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Oct, 2018 Views: 441

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ