عمران خان نے فرمایا تھا

(Hammad Hassan, Peshawar)

ایک بھرے جلسے میں جب ہواؤں کے گھوڑوں پر سوار اس کے جذباتی کارکن اس کے سامنے تھے تو سٹیج پر آکر عمران خان نے حسب معمول بلوچستان کے ایک غریب بچے کی بھوک اورپیاس کی کہانی سنائی پھر ورلڈ کپ اور شوکت خانم سے ہوتا ہوا اپنے ہر مخالف کو چور ڈاکو کرپٹ (صرف سیاستدان فوجی ڈکٹیٹر اور موصوف کے ساتھی نہیں ) کے القابات اور خطابات دینے کے بعد فرمایا ۔۔۔

میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں اپنی قوم سے جھوٹ نہیں بولوں گا اور دھوکہ یا جھوٹا وعدہ نہیں کروں گا۔اور پھر وہ دن اورآج کا دن یہ بد نصیب قوم اس دن کا منتظر ہے کہ وعدے کا پاس کب ہوگا کیونکہ عمران خان نے فرمایا تھا کہ جیسے ہی میں اقتدار سنبھال لوں گا تو باہر کے ملکوں میں پڑا چوری کا پیسہ (جو کھبی تین ہزار ارب بن جاتا ہے کبھی تیس ہزار ارب کھبی ایک لاکھ ارب بھرحال جتنا بھی ہے ) اسے فوری طور پر واپس لا کر سارا قرضہ اُتار دونگا اور باقی دولت قوم پر لگا دونگا اور ان کی حالت بہتر کرونگا ۔

اب پیسہ تو خیر کیا واپس آتا اور قوم کی حالت کیا سدھرتی لیکن بلوچستان کے جس بھوکے بچے کی کہانی سے وہ اپنے کارکنوں اور جلسوں کو گرماتا رہتا اس بھوکے بچے کو دیکھنے کے لئے اب دور آفتادہ بلوچستان نہیں جانا پڑتا بلکہ اس جیسے بچے اب گلی گلی دستیاب ہیں ۔

عمران خان نے مزید فرمایا تھا کہ میں خودکشی کر لونگا لیکن قرض نہیں لونگا ۔ سامنے کے مجمع میں سوال و سوچ کی طاقت پرواز مفقود تھی ورنہ پوچھا جاتا کہ حضور قرض لینا کونسا گناہ کبیرہ ہے ۔دنیا کے تمام ممالک اپنے پراجیکٹس اور منصوبوں کی تکمیل کے لئے ایسا ہی کرتے ہیں ۔امریکہ ،چین ،روس اور سعودی عرب جیسے ممالک ہزاروں ارب ڈالرز قرض لے کر کامیابی کے ساتھ اپنے اپنے منصوبے چلا رہے ہیں اس لئے آپ (عمران خان )یہ بتائیں کہ عالمی مالیاتی اداروں سے معاملات کیسے طے ہونگے اور آئندہ قومی منصوبوں کی فزیبیلٹی کیا ہوگی ؟

اگر کوئی سوال ہوتا بھی تو وہ تالیوں ،سیٹیوں اور بھنگڑوں کی شور میں دب جاتا پھر بھی ہم جیسے نافرمان اور بد تمیز کوئی سوال اُٹھاتے بھی تو بہتان طرازی ،طنز اور گالیوں کا سیلاب بلا خیز اسے بہا کر لے جاتا اور اب صورتحال یہ ہے کہ ہر اس دروازے پر دستک دی جا رہی ہے جہاں سے معمولی سی مدد ملنے کی موھوم سی اُمید بھی باقی ہو اور تو اور سعودی عرب نے قرض پر تین ارب ڈالرز کا تیل دینے پر رضامندگی ظاھر کی تو وزیراعظم صاحب نے قوم کو خصوصی طور پر “خوشخبری “ سنائی (براہ کرم خوشخبری کو ماضی میں کی گئی تقاریر کے حوالے سے نہ دیکھا جائے )

اب سوال یہ ہے کہ یہ سلسلہ تو گزشتہ پچاس سال سے دونوں ممالک کے درمیان جاری وساری ہے یا یہ سوال کہ جمال خاشقجی کے قتل اور سعودی عرب کی سیاسی تنہائی کا فائدہ اٹھا کر سفارتی سطح پر بہتر انداز میں ڈیل کیا جاتا تو کہیں ذیادہ بڑا پیکج ملتا ۔

عمرانخان نے یہ بھی فرمایا تھا کہ میں کسی کرپٹ کو نہیں چھوڑونگا ۔اب اگر ہم اس جملے میں تھوڑی سی ترمیم کرکے کرپٹ کی جگہ مخالف کا لفظ لگا لیں تو پھر خان صاحب نے واقعی سچ کہا تھا کیونکہ شریف خاندان کی نیب عدالتوں میں پیشیاں ،جیل یاترا وغیرہ جاری و ساری ہیں لیکن اگر لفظ کرپٹ ہی خان صاحب نے کہا تھا تو پھر اس لولی پاپ سے بہلنے والوں کی تعداد اس ملک میں تیزی کے ساتھ دن بدن کم ہوتی جارہی ہے کیونکہ ھیلی کاپٹر کیس سے پشاور بی آر ٹی اور فارن فنڈنگ کیس سے جھانگیر ترین ،علیم خان ،بابر اعوان اور پرویز خٹک تک ہر وہ طبقہ و فرد محضوظ و مامون ہے جس نے “غیر ممنوعہ” سیاست میں حصہ بقدر جثہ ڈالا ہے۔

عمرانخان نے فرمایا تھا کہ میں پولیس کو غیر سیاسی اور عوام کا خادم بناؤنگا اور پھر واقعی پولیس کو بنایا بھی ایساہی ، صرف پاکپٹن کا واقعہ ہی مثال کے لئے کافی ہے کیونکہ پولیس کی یہ جرات کہ خاور مانیکا کی گاڑی کو چیکنگ کے لئے روک لے تبھی تو رات گئے پولیس افسر کی وزیراعلی ھاؤس طلبی اور پیشی ہوئی جھاں جمیل احسن گجر نامی شخص نے پولیس افسرسے باز پرس کی ( یاد رھے کہ جمیل گجر اور خاور مانیکا کے قریبی فیمیلی تعلقات ہیں ) اور دونوں “ عوام “ہی تو ہیں ۔

اس کے علاوہ ضمنی انتخابات کے دوران آئی جی پنجاب کی ٹرانسفر اور اپنےگراتے گھروں کا تماشہ کرنے کی بجائے عوام کا احتجاج اور ان پر برستے پولیس کی لا ٹھیاں ثابت کر رہی ہیں کہ واقعی پولیس غیر سیاسی بھی بن گئی ہے اور عوام کی خادم بھی ۔

عمرانخان نے فرمایا تھا کہ میں سو دن کے اندر اندر تبدیلی لے آؤنگا اور واقعی تبدیلی آگئی لیکن ایک اور قرینے سے بس اس حوالے سے ایک چھوٹا سا واقعہ ہی سن لیں ،

میرے ایک قریبی دوست کل شام کو گپ شپ کے لئے آئے تو خلاف معمول اپنی گاڑی کی بجائے ٹیکسی لی تھی میں نے وجہ پوچھی تو بتایا کہ اب گاڑی صرف گیراج میں کھڑی کرنے کے لئے ہے ،میں نے پوچھا کہ کیا ٹیکس مقت میں آتی ہے ؟

تو اس نے کہا یہی تو مسلہ ہے پہلے یہاں تک آنے کے پچاس روپے لیتے تھے لیکن اآج سو روپے لئے میں نے ٹیکسی والے سے کہا کہ یہ تو ذیادتی ہے تو ٹیکسی والے نے سی این جی سے لے کر دال ماش اور بجلی سے لے کر چینی تک ایک ایک چیز کی نئی قیمتیں گنوائیں اور یہ بھی کہا کہ ان اشیا کی قیمتیں پرانے پاکستان کی سطح پر آئیں تو کرایہ پچاس سے بھی کر لوں گالیکن ایک فائدہ بھی ہوا ۔
فائدہ؟
میں نے حیرت سے پوچھا تو دوست نے جواب دیا کہ ٹیکسی والے نے میرے علم میں ایسے ایسے گالیوں کا اضافہ کیا جو ایک زمانے سے معدوم اور متروک ہوچکے ہیں ۔ تا ھم یہ گا لیاں کس کو پڑ رھی ہیں مرحوم مشتاق احمد یوسفی کے بقول اس کے لئے پشتو میں بہت برا لفظ ھے !

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Hammad Hassan

Read More Articles by Hammad Hassan: 29 Articles with 9173 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Oct, 2018 Views: 487

Comments

آپ کی رائے