کراچی کا پاکستان کوارٹرز اور نیا پاکستان۔

چیونٹی کی حیثیت ایک انسان کے آگے کچھ نہیں لیکن کبھی چیونیٹی کے رہنے والے بل کو بھی چھیڑا جائے تو وہ کمزور ہونے کے باوجود اپنی پوری طاقت جمع کرکے اپنے گھر اور بچوں کا دفاع کرنے کے لیے انسان کے سامنے مزاحمت کرتی ہے ۔اگر سن 1972 کا جاری کردہ صدارتی حکم کی تشریح میں 1984 کے سپریم کورٹ کے آرڈر کا بغور مطالعہ کرلیا جائے تو اس مسئلہ کا حل نکل آئے گا جس میں واضح کیا گیا ہے کہ ریٹائرڈ سرکاری ملازمین ، بیواؤں اور ان کے بچوں کی ری ہیبلی ٹیشن کے لیے ان کے رہائشی مکانوں کی لیز دے کر مالکانہ حقوق دئیے جائیں

پاکستان کوارٹرز کا علاقہ جنگ کا منظر پیش کررہا ہے

گذشتہ دنوں پاکستان کوارٹرز کراچی میں جو آپریشن کیا گیااس سے گمان ہورہا تھا کہ کسی علاقے پر حملہ کرکے اسے فتح کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جس طرح بزرگوں کو مارا پیٹا گیا ان کی تذلیل کی گئی کہ سر شرم سے جھک گیا ۔ کئی گھنٹوں تک علاقہ میدانِ جنگ کا منظر پیش کرتا رہا لوگ اپنے آشیانوں کو بچانے کے لیے مزاحمت کرتے رہے جن لوگوں نے اپنا گھر بارلٹا کر پاکستان پر قربان کردیا اپنی ذاتی رہائش کو جوتوں کی نوک پر رکھ کرقائد کے پاکستان آگئے اس لیے کہ اب تمام عمر وہ اور ان کی آنے والی نسلیں سکھ چین سے زندگی بسر کریں گی ۔

پاکستان کوارٹرز اور اس طرز کے کراچی میں کئی سرکاری کوارٹرز ہیں جو قائدِ اعظم محمد علی جناح کے احکامات کے پیش نظر متروکہ املاک پر تعمیر کیئے گئے تھے جہاں قیام پاکستان کے وقت ہندوستان سے ہجرت کرکے آنے والے سرکاری ملازمین کو آباد کیا گیا تھا۔ان میں پاکستان کوارٹرز، مارٹن کوارٹرز، کلیٹن کوارٹرز، جہانگیر کوارٹرز وغیرہ شامل ہیں ۔حیرت اس امر پر بھی ہے کہ ان کوارٹرز کے مکینوں کے خلاف ایک این جی او کی درخواست پر فیصلہ سنایا گیا اور حقیقت یہ ہے کہ عدالت سے کئی حقائق چھپا کر ان متاثرین کے اس مسئلے کو غلط انداز سے پیش کیا گیا، ان کوارٹرز میں رہنے والے درحقیقت نہ ہی کرائے دار ہیں اور نہ ہی قابضین کے زمرے میں آتے ہیں ، بلکہ یہ اس وقت کے وہ سرکاری ملازم ہیں جو سینکڑوں ایکڑ اراضی چھوڑ کر وطن کی محبت میں اس لیے ان کوراٹرز میں آبسے تھے کہ جس وقت وطن عزیز کے امور چلانے کے لیے سرکاری محکموں میں ملازمین کا قحط پڑا ہوا تھا اور قائد کو یہ فکر کھائے جارہی تھی کہ ریاست کے سرکاری امور کس طرح چلیں گے ۔بانی پاکستان نے ان سرکاری ملازمین کو پاکستان ہجرت کرکے آنے کے بعد یہاں آباد کیا تھا جسے بعد میں 1953 میں پاکستان کے وزیرِ اعظم محمد علی بوگرہ نے یہاں آباد سرکاری ملازمین میں باقاعدہ تقسیم کی جو اس وقت 49 سرکاری کوارٹرز پر مشتمل تھی ۔جہاں اب ہجرت کرکے کے آنے والے سرکاری ملازمین کی اولادیں رہائش پذیر ہیں ۔ ان کواٹرز کی زمینوں کے بارے میں یہ بات بھی ریکارڈ پر موجود ہے کہ یہ زمین کسی بھی سرکاری ادارے یا وفاقی حکومت کی ملکیت نہیں بلکہ یہ متروکہ املاک ہے۔ جبکہ ان سرکاری کوارٹرز میں رہائش پذیر لوگ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کو اس کا باقاعدہ کرایہ بھی ادا کرتے ہیں اور کرایہ کی مد میں پیسے جمع کرنے کے باوجود اس کی مرمت رنگ روغن کا کام بھی مکین خود کراتے رہے ہیں ۔ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے دورِ اقتدار میں یہاں کے مکینوں کو باور کرایا تھا کہ یہ آپ کی ملکیت ہے اور جلد اسے ریگولرائز کردیا جائے گا لیکن ایسا نہ ہوسکا۔ سن 2007 میں ایم کیو ایم کے دورِ حکومت میں سرٹیفکیٹ تقسیم کیے گئے ان کوارٹرز میں رہنے والوں کے پاس اسٹینٹ دپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کردہ ملکیتی سرٹیفکیٹ اور دیگر قانونی دستاویزات بھی موجود ہیں ۔اس سرٹیفکیٹ کے اجراء کے بعد یہاں کے مکینوں نے اپنی تمام جمع پونجی ان خستہ حال کوارٹرز کی از سر نو نعمیر اور مرمت پر لگادی۔

کراچی کے اسی علاقے سے منتخب ہونے والے ایم این اے عامر لیاقت حسین نے انتخابی مہم کے دوران یہاں کے مکینوں سے وعدہ کیا تھا کہ انہیں ووٹ دیں اگر انہیں کامیاب کرادیا گیا تو منتخب ہوتے ہی وہ یہاں کے مکینوں کو مالکانہ حقوق دلوائیں گے اگر ان کو بے گھر کرنے کے لیے کوئی آپریشن ہوا تو بلڈوزر کے آگے سب سے پہلے وہ کھڑے ہوں گے ، مگر گذشتہ دنوں اس کے برعکس جب یہاں کے مکینوں کو لہولہان کیا جارہا تھا ریاستی ظلم ڈھائے جارہے تھے تو وہ کہیں نظر نہیں آئے ۔ان علاقوں پر ہر جماعت انتخابات کے قریب سیاست چمکاتی رہی یہاں کے مکینوں کو سبز باغ دیکھاتی رہی اور اپنا کام نکل جانے اور اقتدار میں آنے کے بعد ان ہی پر لشکر کشی بھی کرتی رہے ۔ اس وقت بھی یہاں کے مکین سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں ایم کیوایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار یہاں کے مکینوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے بار بار علاقے کا دورہ کررہے ہیں ۔ جب کہ ایم کیوایم ہی ان کے موجودہ حالات کی سب سے بڑی ذمہ دار ہے 80 کی دہائی سے یہاں کے ووٹرز قومی، صوبائی اور بلدیاتی انتخابات میں انہیں کامیاب کراتے رہے تیس سال کا طویل عرصہ گذر جانے کے باوجود ان لوگوں کو لیز لیٹر کیوں نہیں دئیے گئے ایم کیوایم کو مشرف کے دور میں پوری طاقت سے اقتدار ملا صوبائی حکومت ان کی رہی بلدیاتی نظام ان کے پاس رہا مئیر ان کا رہا پھر یہاں کے مکینوں کے مسائل کیوں حل نہیں کیئے گئے ۔

آج نئی آنے والے حکومت کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جارہاہے یہی سیاست دانوں اور پارٹیوں کا وطیرہ رہا ہے کہ ذمہ داری قبول کرنے اور ناہلی کا اعتراف کرنے کے بجائے ایک دوسرے کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے ۔ وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان صاحب کو اس حوالے سے سنجیدگی سے سوچنا ہوگا یہا ں کے لوگوں نے ان کی پارٹی پر بھروسہ کرتے ہوئے انہیں ووٹ دیا ہے ان کی ذمہ داری ہے کہ یہاں کے مسائل کو حل کریں ورنہ یہاں کے لوگوں میں مایوسی مزید بڑھے گی لوگ سوچتے ہیں کہ وزیرِ اعظم نے کراچی سے نشست جیتی ، صدر ِ پاکستان کراچی سے گورنر سندھ کراچی سے اور نئے پاکستان میں ہی پاکستان کوارٹرز کے لوگوں سے یہ سلوک کیوں ۔

یہاں ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ اس مسئلے کو باریک بینی سے دیکھا جائے اور اصل حقائق عدالت کے سامنے پیش کیئے جائیں نہ کہ عجلت میں لوگوں پر لشکر کشی کی جائے اور بعد میں اسے روک کر ہمدردیاں وصول کی جائیں ۔ مکان کی اہمیت وہ ہی جانتے ہیں جن کی دسترس میں سر چھپانے کی جگہ نہیں ۔ چیونٹی کی حیثیت ایک انسان کے آگے کچھ نہیں لیکن کبھی چیونیٹی کے رہنے والے بل کو بھی چھیڑا جائے تو وہ کمزور ہونے کے باوجود اپنی پوری طاقت جمع کرکے اپنے گھر اور بچوں کا دفاع کرنے کے لیے انسان کے سامنے مزاحمت کرتی ہے ۔اگر سن 1972 کا جاری کردہ صدارتی حکم کی تشریح میں 1984 کے سپریم کورٹ کے آرڈر کا بغور مطالعہ کرلیا جائے تو اس مسئلہ کا حل نکل آئے گا جس میں واضح کیا گیا ہے کہ ریٹائرڈ سرکاری ملازمین ، بیواؤں اور ان کے بچوں کی ری ہیبلی ٹیشن کے لیے ان کے رہائشی مکانوں کی لیز دے کر مالکانہ حقوق دئیے جائیں ۔

 

 Arshad Qureshi
About the Author: Arshad Qureshi Read More Articles by Arshad Qureshi: 141 Articles with 149995 views My name is Muhammad Arshad Qureshi (Arshi) belong to Karachi Pakistan I am
Freelance Journalist, Columnist, Blogger and Poet, CEO/ Editor Hum Samaj
.. View More