12مئی کا کیس ایک بار پھر نہ داخل دفتر ہونے پائے

(Amjad Siddique, Lahore)

متحدہ اپنے انجام سے گزررہی ہے۔ اس کی اصل طاقت الطاف حسین تھے۔انہیں منظر سے ہٹادیا جاچکا۔یہ نیکی انہیں کے ہاتھ آئی جو انہیں منظر پر لائے تھے۔متحدہ پر ایک دہشت گرد جماعت ہونے کا لیبل لگتارہاہے۔کراچی کے امن امان کی بحالی اس کی تائید کرتی ہے۔جب تک یہ جماعت طاقت میں تھی۔تب تک یہاں حالات خراب رہے۔ اس کی طاقت جوں جوں گھٹتی جارہی ہے ۔کراچی میں حالات نارمل ہوتے چلے جارہے ہیں۔متحدہ پر دہشت گرد جماعت ہونے کا لیبل مشرف دو رمیں لگا۔اس سے قبل کبھی بھی کھل کر اس جماعت کودہشت گرد جماعت قرارنہیں دیا گیا۔تب یہ جماعت پوری طرح شہر پر قابض تھی۔مرکز اور سندھ کی حکومت کا وہ بظاہر تو ایک چھوٹا سا حصہ تھی مگر کراچی میں اس کا اتناہولڈ تھاکہ مرکزاورصوبائی حکومت کا کوئی بھی بڑا اس کی مرضی کے بغیر کچھ نہ کرپاتا۔یہاں کے فیصلے کلی طورپر متحدہ کے ہاتھ رہے۔12مئی 2007کا وقوعہ بھی اسی دور کی ایک یادگارہے۔مشرف نے ملک کے سب سے بڑے شہر کے سارا دن مقتل بنے رہنے کو اپنی طاقت کا اظہا رقراردیا تھا۔اس دن تب کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کراچی میں وکلاء سے خطاب کرنا تھا۔کچھ غنڈوں نے ایسا نہ ہونے دیا۔کراچی کی عوام چیف جسٹس کے استقبال کے لیے جانا چاہتی تھی۔زبردستی گھروں میں مقید کردی گئیں۔سڑکوں پر لاٹھیاں بندوقوں والوں کا راج تھا۔تب ایک ہی مشن تھا۔جو باہر نکلے اسے ماردوں ۔سارادن شہر غنڈوں کے ہاتھوں یرغمال بنارہا۔اس واقعہ کے بعد جب بھی اس کی تحقیقات کی کوشش ہوئی۔عوام کا ایک انبوہ تحقیقات کرنے والوں کا گھیراؤ کرنے جاپہنچا۔تحقیق کا کام کبھی بھی مکمل نہیں کیا جاسکا۔

ان دنوں ایک بار پھر یہ کیس اوپن ہے۔دیکھیں اس بار یہ کیس کسی نتیجے پر پہنچتاہے۔یا پھر اس کی سماعت غیر معین مدت تک ملتوی کردی جاتی ہے۔چیف جسٹس ثاقب نثار سے امید کی جانی چاہیے کہ وہ جس طرح دوسرے کیسز میں توجہ دے رہے ہیں۔اس کیس پر بھی دھیان دیں گے۔چیف جسٹس ثاقب نثار ان دنوں منی لانڈرنگ کیس میں خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔کراچی کا ھالیہ دورہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ علم میں آیا تھا کہ منی لانڈرنگ کیس میں تحقیقات میں سندھ حکومت مناسب تعاون نہیں کررہی جس پر چیف جسٹس کی برہمی سامنے آئی ایک اطلاع کے مطابق انہوں نے وزیر اعلی سندھ جناب مراد علی شاہ کو بھی طلب کرلیاہے۔چیف جسٹس ثاقب نثار کی انصاف کی فراہمی کے لیے بھاگ دوڑ دیدنی ہے۔افتخار محمد چوہدر ی کے بعد ووسرے چیف جسٹس ہیں جو غیر روایتی منصفی کا فریضہ نبھارہے ہیں۔ان دونوں چیف صاحبان کے فیصلے بھی نظر آئے اور یہ خو دبھی۔عدلیہ میں دونوں کا نام غیرروایتی ججز میں لیا جائے گاالبتہ دونوں کے ٹاسک کی نوعیت قدرے مختلف ہے۔ افتخار محمد چوہدر ی کا دور مشرف او رزرداری کے خلاف زیادہ کسیز کے حوالے سے الگ حیثیث رکھتاہے۔انہوں نے نوازشریف کمپنی کو ٹچ نہیں کیا۔حیران کن طور پر ثاقب نثار کا معاملہ بالکل برعکس ہے۔ان کے دور میں صرف اور صرف نوازشریف کے خلاف کیسز کا چرچا رہا۔سابق وزیر اعظم پاکستانی تاریخ میں سب سے زیادہ پیشیاں بھگتنے والے فرد گنے جاسکتے ہیں۔پانامہ بینچ میں وہ حاضر ہوئے۔جے آئی ٹی میں پیش ہوئے۔پھر احتساب عدالت میں گذشتہ کئی ماہ سے روزانہ کی بنیا د پر حاضرکیے جارہے ہیں۔جہاں تک اب مشرف اور زرداری گروپس کی بات ہے۔وہ بچے ہوئے ہیں۔معالات تو ان کے خلاف بھی عدالتوں میں پائے جاتے ہیں۔مگر اگر ان کی کاروائیوں کا موازنہ اگر نوازشریف کے کیسز میں ہونے والی کاروائیوں سے کیا جائے تو ناقابل موازنہ ریشو نکلتی ہے۔جتنی سرعت سے نوازشریف کے کیسز روسٹرم پر آرہے ہیں۔کسی دوسرے کے نہیں آرہے۔جتنے فیصلے نوازشریف کے خلاف اپیلوں کے پچھلے ایک سال میں آئے کسی دوسرے کے نہیں آئے۔

12مئی کاکیس ایک بار پھر زیر سماعت ہے۔اس واقعہ میں تب کے صوبائی او رمرکزی حکمران ذمہ دارگردانے جاسکتے ہیں۔کچھ بے ایمان اسے ماڈل ٹاؤن کے واقعہ سے جوڑنے کی فنکاری کیا کرتے ہیں۔حالانکہ دونوں وقوعوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ماڈل ٹاؤں میں تو ایک عدالتی حکمنامے پر پویس رکاوٹیں ہٹانے گئی تھی۔وہاں سے بار بار مزاحمت ہوئی ۔گھنٹوں پولیس کو روکے رکھا گیا۔ پولیس کو ریاستی رٹ قائم رکھنے کے لیے سختی کرنا پڑی۔اگر ماڈل ٹاؤن میں کارسرکار میں مداخلت نہ ہوتی تو تشدد کی نوبت نہ آتی۔کراچی میں توصورت حال بالکل مختلف تھی۔وہاں لوگوں کے جان ومال کو غنڈوں سے خطرہ تھا۔ان غنڈوں کو بھگانے کے لیے سرکاری مشینری موجود تھی اسے قصدا غیر فعال کیا گیا۔اس کے بعد بھی یہ غنڈے حاوی رہے۔سرکاری مشینری ان کے آگے بے بس رہی۔جب بھی اس معاملے کے ذمہ داران کا تعین کرنے کے لیے کوئی فورم یا بینچ بنا ۔غنڈوں نے اس کے کام میں مداخلت ڈالی۔کبھی بھی یہ تحقیقات کسی کروٹ نہ بیٹھ پائیں۔آج پھر آزمائش کا وقت ہے۔ایک بار پھراس کیس کی سماعت جاری ہے۔اس بار کوشش ہونی چاہیے کہ درست نتائج اخذ ہوپائیں۔یہ اہم مسئلہ ایک بار پھر نہ داخل دفتر ہوپائے
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Amjad Siddique

Read More Articles by Amjad Siddique: 222 Articles with 68780 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Oct, 2018 Views: 340

Comments

آپ کی رائے