27 اکتوبر، یوم سیاہ

(Muhammad Naeem Shehzad, )

انکشاف: عشاء نعیم

14 اگست 2018 کو پاکستان کو بنے اکہتر برس ہو گئے۔
جی ہاں آج سے اکہتر سال پہلے 14اکست 1947 میں پاکستان وجود میں آیا تھا۔
پاکستان جن علاقوں پہ مشتمل ہونا طے پایا وہ علاقے مسلم اکثریت والے علاقے تھے۔
لیکن ہندو بنیا جو انتہائی چالاک اور شاطر ہے جس کی مثل بھی مشہور ہے کہ بغل میں چھری منہ میں رام رام ، اس نے انگریز کے ساتھ مل کر ساز باز کی اور پاکستان کے کچھ علاقے ہتھیا لئے جیسا کہ مناوادر، جونا گڑھ، حیدر آباد، اور گورداس پور بھی پاکستان کے حصے میں آئے تھے۔ کشمیر ایک الگ ریاست تھی لیکن یہ بھی مسلم اکثریت والی ریاست تھی 87 فیصد مسلم آبادی والا کشمیر جنت نظیر ایک ایسا علاقہ تھا جو پاکستان کے لئے جغرافیائی طور پر بھی ناگزیر تھا۔ اس کی جغرافیائی حیثیت ہی ایسی ہے کہ پاکستان اس کو چھوڑ ہی نہیں سکتا۔ کیونکہ پاکستان میں بہنے والے دریا کشمیر سے نکلتے ہیں تو دفاعی لحاظ سے بھی کشمیر کو شہ رگ کی حیثیت حاصل ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا۔
اس کی پاکستان کے ساتھ سات سو کلو میٹر سرحد لگتی ہے اور بھارت کے ساتھ صرف دو سو کلو میٹر جو ملتی ہے وہ بھی پاکستان کے دفاع کے لحاظ سے بہت اہم ہے کیونکہ اس میں سے بھی چند کلو میٹر کے بعد پہاڑی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔
کشمیر سیاحتی لحاظ سے بھی بہت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس میں پھلوں اور پھولوں کی کثرت، اس کے پہاڑوں پہ دلکش نظارے، اس کے ندیوں اور جھیلوں کے رنگ برنگ کہیں نیلا کہیں سبز پانی، اس کا زعفران سب اس کو خوابوں کی وادی بنا دیتے ہیں۔ اسی لئے تو لوگ اس کو جنت نظیر کہتے ہیں۔
دوسری طرف بھارت کے ساتھ اس کی کوئی سرحد نہیں بنتی تھی تو بھارت نے دھوکہ کر کے گورداس پور لے لیا اور گورداس پور کے ذریعے اس کو راستہ مل گیا۔ کشمیریوں کو حق دیا گیا تھا کہ وہ جس کے ساتھ چاہیں رہیں اور کشمیر کی اکثریت چونکہ مسلمان تھی تو اس کا الحاق بھی پاکستان کے ساتھ بنتا تھا۔
کشمیریوں نے فیصلہ پاکستان کے حق میں دیا لیکن کشمیر پر اس وقت ایک ہندو راجہ حاکم تھا
سو ہندوؤں نے اس کو اپنے ساتھ ملا لیا اور اس نے کشمیر کا الحاق کشمیری عوام کی امنگوں کے خلاف بھارت کے ساتھ کر دیا۔
لیکن کشمیریوں نے اس الحاق کو تسلیم نہیں کیا۔ انھوں نے اس کے خلاف جدو جہد شروع کر دی کیونکہ وہ پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں۔ اس تحریک کو، کچلنے کے لئے بھارت نے ستائیس اکتوبر 1947 کو کشمیر میں اپنی فوجیں اتار دیں۔ لیکن کشمیریوں نے جدوجہد کو ترک کرنا تو دور کی بات اس کو باقاعدہ تحریک آزادی میں بدل دیا۔
کشمیریوں نے اس قبضے کو تسلیم کرنا تو دور کی بات بھارتی افواج کو نکالنے کے لئے ہزاروں قربانیاں دیں۔ جو آج تک ہر روز دیتے ہیں اور پہلے سے زیادہ دیتے ہیں۔
کشمیریوں نے تو باقاعدہ ستائیس اکتوبر کو یوم سیاہ کا نام دیا اور اب یہ ہر سال یوم سیاہ مناتے ہیں۔
کیونکہ کشمیری خود کو پاکستانی تسلیم کرتے ہیں اور بھارت کو نا جائز قابض۔
کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو اقوام متحدہ کا ادارہ بھی تسلیم کر چکا ہے اور اسے ایک متنازعہ علاقہ مانتے ہوئے یہاں حق خودارادیت کے لئے ریفرنڈم کرانے کی منظوری دے چکا ہے۔
لیکن بھارت جانتا ہے کہ کشمیری پاکستان کے حق میں فیصلہ دیں گے کیونکہ کشمیریوں کی تو ایک ایک ادا پاکستانی ہے ان کی ایک ایک حرکت پاکستان کے ساتھ والہانہ محبت کا ایک ایسا ثبوت ہے جس کی مثال تاریخ انسانی میں دیکھنے کو نہیں ملتی۔ وہ لوگ موت سے بے خوف انڈیا کی ظالم فوج کے سامنے پاکستان کے پرچم لہراتے ہیں گولی چلتی ہے شہید ہوتے ہیں پا کستان زندہ باد کے نعرہ پھر بھی لگتے ہیں۔ ان کے کفن پاکستان کے پرچم کے ہوتے ہیں۔پھر شہادت کے بعد قبروں پہ بھی پاکستان کا پرچم ڈال کر دنیا کے دہشت گردوں کو بتاتے ہیں کہ تمہاری دہشت گردی نے ہمارے ارادے بدلنے تو درکنار، متزلزل بھی نہیں کر سکی بلکہ اور پختگی دی ہے۔
پیچھے رہنے والے نہ چھپتے ہیں نہ پرچم پھینکتے ہیں، نہ پاکستان زندہ باد کا نعرہ چھوڑتے ہیں بلکہ شہدا کے جنازوں میں سینکڑوں لوگ پاکستان کا پرچم لہراتے ہوئے نکل آتے ہیں۔
اور دہشت گرد ظالم انڈین فوج جنازوں پہ بھی گولی چلاتی ہے پیلٹ گن جیسا ہتھیار چلا کر ان کو زخمی و اندھا کرتی ہے۔
یوں تو ہر جگہ مسلمانوں کو کاٹا جا رہا ہے چاہے وہ برما ہو یا فلسطین، شام ہو یا عراق افغانستان لیکن پوری دنیا میں سب سے زیادہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی خطہ کشمیر میں جاری ہے۔
کئی بار اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی تنظیمیں آ کر دورہ کر کے حالات کا مشاہدہ کر چکی اور انڈیا کا ظلم و ستم اپنی آنکھوں سے دیکھ کر تسلیم بھی کر چکی ہیں کہ یہاں انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزی ہو رہی ہے۔
لیکن بھارت ڈھیٹ بنا اپنی ہٹ دھرمی پہ قائم ہے۔
اہنے قبضے کو برقرار رکھنے اور اپنے تئیں کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو کچلنے کے لئے نت نئے حربے بھی آزماتا رہتا ہے۔
آنسو گیس، گولی، دستی بم، پیلٹ گن، کیمیائی ہتھیار، گرفتاریاں، عام لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنانا ،بچوں بوڑھوں اور عورتوں کا اغوا ، جوان لڑکیوں کی عصمت دری ،اور ساتھ لے جانا ،گھروں کو جلانا ، بموں سے اڑانا ، بہن کے سامنے بھائی پہ تشدد تو بھائی کے سامنے بہن پہ تشدد ہر حربہ آزما چکا بھارت ہر ستم ڈھاتا ہے نہتے کشمیریوں پہ۔
بھارت کا ظلم و ستم کم ہونے کی بجائے بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے اور اب تو گولیاں چلانے اور شہادتوں کا سلسلہ بھی بڑھ چکا ہے۔ پچھلے دنوں سے مسلسل ظلم کا ایک ایسا بازار گرم ہے کہ جس کی نظیر نہیں ملتی۔
بھارت ایک طرف کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ کہتا ہے تو دوسری طرف کشمیریوں پہ جینا حرام کئے ہوئے ہے۔
اور اب تو کیمیکل ہتھیاروں کا بھی استعمال کرتا ہے۔ جو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
افسوس کہ بھارت پہ کوئی پابندی نہیں لگائی جا رہی۔حالانکہ بھارت کو دہشت گرد ملک قرار دینا چاہیے کیونکہ بھارت کے اندر بھی اقلیتیں اس کے ظلم و ستم ستم محفوظ نہیں ہیں۔ خاص طور پر مسلمان۔ اس ملک کو لیڈ کرنے والا مودی بین الاقوامی سطح پر ایک مرتبہ تو سب سے بڑا دہشت گرد قرار دیا جا چکا ہے۔ یہ ظالم بھارت کے اندر گجرات میں مسلمانوں کو اپنے گھروں میں زندہ جلانے کے علاوہ جگہ جگہ مسلمانوں پہ ظلم و ستم کرتا ہے ۔
ظلم و ستم بھارت کا وطیرہ ہے سو 27 اکتوبر کے بعد اس نے جو فوج کشمیر میں داخل کی تو وہاں کشمیریوں نے کبھی سکھ کا سانس نہیں لیا ۔اگر کشمیر بھارت کا حصہ ہوتا تو فوج اپنے ملک کے عوام کو محفوظ بناتی ہے یہ بھی محافظ ہوتی جیسا کہ ہم پاکستانی اپنی فوج کی وجہ سے رب پر توکل کر کے بے خوف سوتے ہیں لیکن کشمیری اس فوج کی وجہ سے بے شمار آلام و مصائب کا شکار ہیں اور وہ اسی لئے اس دن کو یوم سیاہ کہتے ہیں جس دن یہ ظالم فوج کشمیرکی پاک زمین پر اتری تھی ۔اور کیوں نہ منائیں وہ اس دن کو یوم سیاہ اس دن کے بعد
ان کی بیٹیوں کی عزتیں محفوظ نہیں رہیں۔
اس دن کے بعد صرف آٹھ سالہ بچیاں بھی محفوظ نہیں رہیں ۔آٹھ سالہ آصفہ باہر جاتی ہے تو ماں کو اس کی بچی جس حال میں ملتی ہے وہ قلم لکھنے سے بھی کانپتا ہے۔
کیوں نہ منائیں اس دن کو یوم سیاہ کہ اس دن کے بعد اگر بیٹیاں تعزیت کرنے نکلیں تو گرفتار ہو جاتی ہیں۔
کیوں نہ منائیں اس دن کو یوم سیاہ کہ اس دن کے بعد کشمیری کی آنکھوں کو پیلٹ گن سے چھلنی کر کے آنکھوں میں مستقبل کے خواب ہی نوچے جانے لگے بلکہ روشنی بھی چھین کر آنکھوں میں درد بھر دئیے جاتے ہیں۔
کیوں نہ منائیں اس دن یوم سیاہ کہ اس دن کے بعد
پرھے لکھے ڈاکٹرز کو اپنی تعلیم چھوڑ کر بندوق اٹھانی پڑتی ہے۔اور پھر اس ظالم دہشت گرد فوج کا نشانہ بن جاتا ہے۔
اس دن کے بعد وہ کشمیر جنت نظیر جو زعفران کی خوشبو و رنگ سے مہکتا تھا اب آگ و خون میں نہاتا ہے۔
جہاں ہر روز ماؤں کے جگر کٹتے ہیں۔جہاں کیمکل ہتھیار چلا کر ان کو راکھ کا ڈھیر بنا دیا جاتا ہے ۔
مائیں محفوظ ہیں نہ باپ ،جوان محفوظ ہیں نہ بوڑھے ، جہاں بھائی محفوظ ہیں نہ بہنیں اور یہ سب انڈین آرمی کرتی ہے۔
ہاں یہ دن یوم سیاہ ہے صرف کشمیر کے لئے نہیں صرف پورے پاکستان کے لئے نہیں بلکہ پورے عالم کے لئے یوم سیاہ ہے۔
کہ امت کی بیٹیاں اس کے بعد غیر محفوظ ہوگئیں۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Naeem Shehzad

Read More Articles by Muhammad Naeem Shehzad: 138 Articles with 43852 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Oct, 2018 Views: 245

Comments

آپ کی رائے