سی ای جے (CEJ) اور آئی سی آر سی (ICRC) کے ساتھ چند ایام

(Shireen hussain, Karachi)

جب کیرئیر کاآغاز ہی ایک اہم اورنا مور پلیٹ فارم کے تحت ہوتو سیکھنے کا عمل نہایت آسا ن ہو جا تا ہے، ایسا ہی کچھ اس وقت ہوا جب فیس بک پر IBAکے ادارے CEJ کے page پر گئی اور انٹرن شپ کے لئے دستیاب مواقع دیکھے اور اسی وقت اپنی سی ویCV) (بھیج دی ،ای میل کا جواب جلد ہی موصول ہوا اورپھر کچھ دنوں بعد CEJکی طرف سے ایک کال آئی۔ ایک ہفتے کی انٹرنشپ کے لئے منتخب کر لیا گیا تھااورIBAمیں CEJاور ICRCکے تعاون سے ہو نے والی "Humanitarian Reporting Worskhop"کی انتظامی ٹیم کا حصہ بنایا گیا ۔

اس سے یہ فائدہ ہوا کہ بیک وقت دواہم اداروں کے حوالے سے معلومات حاصل ہوئیں۔ CEJجوصحافیوں کی عملی تربیت کو یقینی بناتا ہے اور ICRC(انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈکراس)جو 80سے زائد ممالک میں انسانی ہمدردی کے تحت مختلف معاملا ت میں اہم کردار ادا کر ر ہا ہے ۔ان دونوں اداروں کے باہمی اشتراک سے "Humanitarian Reporting"کے موضوع کوزیربحث لایا گیا،اس سے مرادصحافت کی دنیا میں ایسی خبرکی کوریج کرنا جس میں انسانی ہمدردی کا پہلو شامل ہو۔بلاشبہ CEJ صحافیوں کو سیکھنے اور سکھانے کے کئی مواقع فراہم کرتا ہے اور صحافت میں انسانیت کے پہلوکو بھی نظراندازنہیں کیاجا سکتا اس لئے ICRCکے تعاون سے ہونے والی اس ورکشاپ میں مختلف سیشن رکھے گئے۔ICRCایک طرح IHL(International Humanitarian Law) کا داعی ہے اور اسی قانون کے تحت مختلف یونیورسٹی میں ورکشاپ کا انعقا دبھی کرتا ہے اور یہ قدم یقیناًقابل تعریف ہے۔

ورکشاپ کا آغاز دونوں اداروں، ورکشاپ کے شرکاء اورماہرین کے تعارف سے ہوا۔کمال صدیقی ، نجم عباسی، سحر ہارون سمیت مختلف ماہرین نے صحافیوں کو عملی تربیت فراہم کی۔تربیت کے پہلے دن موضوع پروشنی ڈالی گئی جبکہ ڈاکٹر سروش ہشمت (وائس چانسلر،این ای ڈی یونیورسٹی)کو بطورمہمان مدعو کیا گیا۔ ان کا موضوع پاکستان میں زلزلے سے متعلق تھااور ایسے علاقے زیر بحث آئے جہاں وقتاٌفوقتاٌزلزلے آتے ہیں۔ان زلزلوں کی وجوہات اور نقصانا ت تک تمام تر معلوما ت فراہم کی گئیں۔یہ ایک ایسا ہال تھا جہاں 19مختلف چینلز سے تعلق رکھنے والے صحافی موجود تھے،جن میں بعض کا تجربہ 20سال سے بھی زائد عرصے پر محیط ہے ۔یہ تمام صحافی ہرسیشن کے دوران اپنے تجربہ کی بنیادپر موضوعات کومزید دلچسپ بناتے رہے اور اس سے دوسروں کو ان کے خیالات جا ننے کابھی موقع ملا۔ معلومات کا یہ تسلسل 3روزتک جاری رہا۔

صحافیوں کا کہنا تھاکہ اس تربیتی ورکشاپ سے انھیں اپنی پیشہ وارانہ ذمے داریاں نبھانے کے لئے اہم گر سکھائے گئے۔ یہ ورکشاپ انھیں صحافت کے میدان میں خبروں کو نئے زاویوں سے پرکھنے اوربحیثیت رپورٹر،ایڈیٹر ان میں انسانی پہلوتلاش کرنے کا موقع فراہم کرے گی۔

یوں 2اہم اداروں کے تعاون سے ایک ایسے موضوع پرورکشاپ کا انعقاد کیا گیا جو وقت کی ضرورت تھااور یقیناًتربیت پانے والے یہ صحافی اپنے تمام تر وسیع تجربے کی بنیاد پر پہلے کی نسبت مزید بہتر کام کر سکیں گے۔ ورکشاپ کے اختتام پر تمام صحافیوں میں سرٹیفکیٹ تقسیم کئے گئے۔

بحیثیت انٹرنی مجھ سمیت تمام افراد معلوما ت کا خزانہ سمیٹ کراپنی اپنی منزل کی جانب روانہ ہوئے۔یہاں CEJکی مینجمنٹ کا شکریہ ادا کرنا بھی ضروری ہے جو مختصر مدتی انٹرنی کے لئے سیکھنے اور سمجھنے کا سازگار ماحول مہیا کرتے ہیں وگرنہ جو کچھ یہاں تین روزہ ورکشاپ میں سیکھنے کوملاوہ شاید اگلے چند سالوں میں ملتا۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shireen hussain

Read More Articles by Shireen hussain: 5 Articles with 4964 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Oct, 2018 Views: 810

Comments

آپ کی رائے
یہ ایک بہترین تحریر ہے ۔ جسے پڑھنے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ لکھاری بھرپور اندار میں لگن و محنت سے کچھ سیکھنا چاہتی ہے
By: ذیشان انور, Peshawar on Oct, 29 2018
Reply Reply
0 Like
bht shukryaa Aap ki hosla afzaai ka..
By: Shireen hussain, karachi on Nov, 03 2018
0 Like