اک ذرا انتظار

(Amjad Siddique, Lahore)

سابق صدر آصف زرداری کا کہناہے کہ مجھ پر حملے 18ویں ترمیم کا جھگڑا ہے۔مسئلہ مجھ سے ہے اور اٹھا دوستوں کو رہے ہیں۔ٹریڈنگ اکاؤنٹس کو جعلی کہاگیا۔اس سے قبل بھی گرفتار ہوا میری گرفتاری نئی بات نہ ہوگی۔حکومت گرانا مشکل نہیں مگر چاہتے ہیں کہ یہ لوگ خود تھکیں۔آج آمریت سے بد تر دور ہے۔یہ جیسا کریں گے ویسا بھریں گے۔یہ آپ کا کام نہیں سیاست دان لڑ جھگڑ کر مسائل حل کرلیں گے۔پہلے نوازشریف لاڈلا تھا اب عمران خاں لاڈلا ہے۔نوازشریف کومیری اور مجھے ان کی ضرورت نہیں۔اگر وہ اے پی سی میں آئے تو ضرورملاقات ہوگی۔ سابق صدر اپوزیشن کی اے پی سی کے حوالے سے ان دنوں متحرک ہیں۔میڈیا سے بات چیت اسی سلسلے میں میں ہوئی۔یہ اے پی سی عین دنوں ہورہی ہے جب لیگی قیادت زرداری صاحب کے ساتھ بیٹھنے پر آمادہ نہیں ہورہی۔خاص کرآصف زرداری کے ساتھ ون آن ون ملاقات سے میاں نوازشریف بالکل کترا رہے ہیں۔انہیں جنرل الیکشن کے بعد کے پی پی رول پر تحفظات ہیں۔وہ پی پی سے کسی قسم کے تعاون پر مولانا فضل الرحمان سے ضمانت مانگ سکتے ہیں۔اس لیے اے پی سی کے اثرات کا اندازہ لگانا قبل از وقت ہے۔صدارتی الیکشن اور پنجاب میں حکومت سازی کے موقع پر پی پی کی طرف سے وعدہ خلافیاں کی گئیں۔اسی سبب دونوں بڑی جماعتوں میں دوریاں ہیں ایسے میں حکومت پر دباؤ ڈالنا آسان نہ ہوگا ۔حکومت اس وقت بڑی مضبوط پوزیشن میں ہے۔اسے ریاستی ادروں کا مکمل اعتماد حاصل ہے۔عدلیہ اور فوج کے اپنے پشت پر ہونے کا وزیر اطلاعا ت دعوی کرچکے۔یہ دعوی عملاًبھی سچا لگ رہاہے۔ نوازشریف اس لحاظ سے بد قسمت رہے کہ ان کے دو رمیں حکومت او راداروں کی سوچ میں ہر گز ہر گز یکسوئی نہ تھی۔آج تو سب ایک دوسرے کے لیے ہاتھ پاؤں بنے ہوئے ہیں۔تب سبھی طرف سے حکومت کو ناں ناں کی آوازیں تھیں۔ پولیس کو پیش قدمی کا کہتی تو پولیس افیسران حیلے بہانے شروع کردیتے ۔فوج کو طلب کرنے پر جواب آیا کہ ہم اپنے لوگوں پر سختی نہیں کریں گے۔عمران خاں اور طاہر القادری نوازشریف حکومت کو برابر تھرڈ ایمپائر کا ڈراوہ دیتے رہے۔یہی تاثر دیا جاتارہاکہ اس جوڑی کو درپردہ فوج کی سرپرستی حاصل ہے۔جہاں تک عدلیہ سے تال میل کی بات ہے۔وہ نہ ہونے کے برابر تھا۔خو دوزیراعظم نوازشریف عدالتوں میں پیشیاں بھگتتے رہے۔اپنے ہی دور میں عدلیہ کی طرف سے نااہل ہوئے۔اسی جماعت کی ھکومت کے دورا ن نوازشریف کے قریبی ساتھیوں کی طنابیں کھینچی جاتی رہیں۔

اپوزیشن کی ا ے پی سی سے متعلق حکومتی لوگوں کا منفی پراپیگنڈا شروع ہے۔توہین آمیز بیانا ت جاری ہیں۔یہ چوروں اور ڈوکوؤں کی پریس کارنفرنس قراردی جارہی ہے۔کہا جارہا ہے کہ یہ ناکام ہوگی۔حکومت کا پراپیگنڈا اپنی جگہ مگر کیا یہ حقیقت نہیں کہ اپوزیشن ہمیشہ کی طرح نفسا نفسی کی شکار ہے۔بلا کی بد اعتمادی ہے۔ایک دوسرے کو مسلسل بائی پاس کرنے کی کوششیں ہورہی ہیں۔اگر یہ سب جماعتیں ایک دن کے لیے ایک جگہ بیٹھ بھی جاتی ہیں تو کوئی ضمانت نہیں کہ اگلے دن ان کی نیت اورسوچ نہ بدل جائے گی۔نوازشریف اسی سبب عدم اطمینان کے شکارہیں۔بے ایمان اور کرپٹ سسٹم جو ستر سال سے اپنا گندہ کھیل کھیل رہا ہے۔نوازشریف اسے جڑسے اکھاڑ پھینکنے کے مطمنی ہیں۔یہ بے ایمان اور کرپٹ سسٹم بڑا طاقت ورہوچکا۔جب تک اسے چاروں طرف سے گھیرانہ گیا۔قابو نہیں کیا جاسکے گا۔نوازشریف اور ان کے کچھ ساتھیوں کی تعداد اس نبوہ کے مقابلے مین کچھ نہیں جو اس کرپٹ سسٹم کی تابعداری پر آمادہ ہے۔جو اس کے دفاع کی جنگ میں خدمات پیش کرنے کو بے چین ہیں۔پی پی قیادت کی طرف سے صدارتی الیکشن ار پنجاب میں حکومت سازی کے دوران وعدہ خلافیوں پر نوازشریف مایوس ہیں۔وہ پی پی سے کسی بڑا رول پلے کرنے کی توقع کرتے ہیں۔مگر پی پی قیادت سنجیدگی اختیارکرنے پر آمادہ نہیں۔وہ اب بھی روایتی سیاست پر کاربند ہے۔وہ سیاست کو کسی نہ کسی طرح اقتدار تک پہنچنے کا ایک ذریعہ ہی سمجھتی ہے۔اس سے زیادہ سیاست نہ وہ کرنا چاہتی ہے۔نہ اس کی ضروت محسوس کرتی ہے۔نوازشریف پی پی قیادت سے مایوس ہیں۔مسلسل اس کی طرف دیکھ رہے ہیں۔اسے ایک ہاتھ موقع دے رہے ہیں مگر کبھی بھی مناسب جواب نا پاسکے۔یہ ا ے پی سی بھی ایسے ہی ناامیدی کے دور میں ہورہی ہے۔بلاشبہ پی پی اور کچھ دوسری جماعتیں اس کانفرنس میں بڑی ایکٹو نظر آئیں گی۔مگر فائدہ بعد میں پھر نفسانفسی ہی چلنی ہے تو اس ایک روزہ تماشے کامقصد۔نوازشریف مایوس ہیں۔ان کی مایوسی جائز ہے۔انہیں اس طرح کے ایک روزہ تماشوں کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔ساتھ بیٹھنے میں حرج نہیں مگر کسی کے وقتی مفادات کے لیے استعمال ہونا غلط ہے۔نوازشریف ذرا صبر کریں۔وہ اس وقت تک کسی سے امیدنہ باندھیں جب تک وہ 70سالہ کرپٹ اور بے ایمان سسٹم کے خاتمے پر آمادہ نہیں ہوتا۔وہ ایک کارعظیم کا بیڑا اٹھائے ہوئے ہیں۔انہیں اپنا صبر اور حوصلہ بھی اسی قدر عظیم رکھناہوگا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Amjad Siddique

Read More Articles by Amjad Siddique: 222 Articles with 65978 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
29 Oct, 2018 Views: 331

Comments

آپ کی رائے