سی پیک منصوبوں پر 14فی صد سود ۔۔۔۔۔۔۔

(Waqar Fani, )

پاکستان اور چین کے درمیان باقاعدہ تعلقات کا آغاز 1950ء میں ہوتا ہے ۔ پاکستان اسلامی دنیا کا پہلا اور غیر کمیونسٹ ممالک میں تیسرا ملک تھاجس نے چین کو آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کیا۔ تاہم دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات ایک برس بعد 31مئی 1951ء میں قائم ہوتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں نمایاں گرم جوشی 1962ء کی چین بھارت سرحدی جنگ کے بعد پیدا ہوتی ہے۔1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران چین نے پاکستان کو خاصی مدد فراہم کی جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان فوجی اور اقتصادی رابطوں میں مزید شدت آجاتی ہے۔ 1966ء میں دوطرفہ فوجی تعاون کے آغاز سے اب تک چین پاکستان کو دفاعی پیداوار میں اپنے پاؤں پر کھڑا کر نے میں ممدو معاون ہے ۔اسلحہ ہو یا کوئی اور ضرورت کی شے ’’مشترکہ تیار‘‘ کر لی جاتی ہے۔جنگوں میں بھی چین کا کردار بڑے بھائی ایسا تھا اور زمانہ امن میں بھی وہ بڑے بھائی ہیں۔ پاکستان نے بھی ہمیشہ چین کی خیر سگالی کا مثبت جواب دیا اور دے بھی رہا ہے۔ 1978ء میں چین اور پاکستان کے درمیان واحد زمینی راستے قراقرم ہائی وے کا باقاعدہ افتتاح ہوا۔ 1984ء میں پاکستان اور چین کے درمیان جوہری توانائی کے میدان میں تعاون کے سمجھوتے پر دستخط کیے گئے۔ دونوں ممالک کے درمیان فوجی تعاون کے اہم منصوبوں میں 2001ء میں الخالد ٹینک ، 2007ء میں لڑاکا طیارے ’’جے ایف ۔ 17 تھنڈر‘‘ ، 2008ء میں ایف ۔ 22 پی فریگیٹ اور کے 8۔پی قراقرم جدید تربیتی طیاروں کی تیاری اور دفاعی میزائل پروگرام میں قریبی اشتراک شامل ہے۔ دونوں ممالک کی افواج کئی مشترکہ فوجی مشقیں بھی کر چکی ہیں۔ 2005ء اور 2010ء میں دکھ کی گھڑی میں چین پاکستان میں آئے ہوئے سیلاب اور زلزلے کی تباہ کاریوں کے مداوے کے لیے 247ملین ڈالرز کی امداد بھی دیتا ہے۔صدر زرداری چین کا دورہ کر کے یادیں تازہ اور تعلقات مضبوط بناتے ہیں۔پھر اس کے بعد چینی صدر آنا چاہتے ہیں مگر وفاقی دارالحکومت میں موجودہ وزیر اعظم دھرنا دیئے بیٹھے ہیں اس لئے اس شخصیت کا دورہ منسوخ کر دیا جاتا ہے۔نئی تاریخ کا اعلان ہوتا ہے اور چینی صدر شی جن پنگ دو دروز کے لئے پاک دھرتی پر قدم رنجاں فرماتے ہیں۔پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب ہوتا ہے اور یوں آصف علی زرداری کے دورہ چین میں سرمایہ کاری کی بات آگے بڑھ کر چین پاکستان اقتصادی راہداری کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ اس دورے میں متعدد مفاہمت کی یاد داشتوں اور معاہدات پر دستخط ہوتے ہیں لیکن 46ارب ڈالر مالیت کی سرمایہ کاری کی گونج دنیا بھر میں سنائی دیتی ہے۔مخالف قوتوں کے کان کھڑے ہو جاتے ہیں۔توانائی بحران کے شکار پاکستان کے لیے توانائی اور انفراسٹرکچر کے لیے متعدد منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا جاتا ہے۔ سڑکوں،موٹرویز،ڈرائی پورٹ کے علاوہ بجلی پیدا کرنے کے منصوبے بھی شامل ہیں۔ ان سارے منصوبوں میں توانائی کے منصوبوں کو اہمیت حاصل رہی ہے۔ یہ معاہدے درحقیقت دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مستحکم بنانے اور دونوں ملکوں کے عوام کی ترقی و خوشحالی کے راستہ کو ہموار کرنے میں معاون ثابت گرادنے جاتے ہیں۔2018میں نیا پاکستان کا نعرہ مقبول ہوتا ہے اور عمران خان اپنی تقاریر اور انٹرویوز میں سی پیک پر تحفظات کا اظہار کر جاتے ہیں چہ جائیکہ سول ملٹری لیڈرشپ ایک پیج پر نظر آتی ہے۔وزیر اعظم عمران خان چند دنوں میں چین جارہے ہیں اس حوالے سے چین کے سفارتخانہ نے ایک بریفنگ کا اہتما م کیا جس میں چینی کمپنیوں کی جانب سے تعارفی معلومات کے علاوہ پاکستان میں متعین چین کے سفیر یاؤ ژنگ کا کہنا تھا کہ کچھ قوتوں کو پاکستان اور چین کے درمیان تعاون، تعلقات اور دوستی کھٹکتی ہے،پاکستان نے افغان امن کے لیے کلیدی تجاویز دیں، چین خطے میں امن اور بہترین ہمسائیگی کے وژن میں پاکستان کیساتھ ہے، سی پیک پر معلومات کی فراہمی کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں، سی پیک پر پاکستان اور پاکستانیوں کے تمام خدشات کا ازالہ کریں گے، پاکستان کی نئی حکومت معاشی، سماجی اور خارجہ پالیسی کی ترقی چاہتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سی پیک اقتصادی و صنعتی تعاون کا کلیدی حصہ ہے۔ پاکستان کی نئی حکومت معاشی، سماجی اور خارجہ پالیسی کی ترقی چاہتی ہے، معاشی طور پر مضبوط پاکستان، عوام اور خطے کے لیے اہم ہے، پاکستان کی حکومت علاقائی امن و استحکام کے لیے مثبت اور متحرک ہے۔ چین خطے میں امن اور بہترین ہمسائیگی کے وژن میں پاکستان کے ساتھ ہے۔ پاک،چین تعلقات کا دائرہ کار انتہائی وسیع ہے۔ دونوں ممالک سماجی، اقتصادی، تجارتی، دفاعی و ثقافتی ترقی کے لیے یکجا ہیں۔ پاکستان اور چینی قیادت کا وژن اور سوچ یکساں ہے۔ دونوں ممالک پالیسی سطح پر باہمی اشتراک اور تعاون سے آگے بڑھیں گے۔ سفیر کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان شنگھائی کانفرنس میں مہمان خصوصی ہوں گے۔ ابھرتا ہوا پاکستان چین اور بین الاقوامی دنیا کے لیے اہم ہے۔ پاکستان کے اقتصادی مسائل سے آگاہ ہیں۔ پاکستان کی تکنیکی،معاشی اور صنعتی استعداد کار میں اضافے کے لیے تعاون کریں گے۔ چین کی بڑی معاشی و تجارتی منڈی پاکستان کے لیے کلیدی فائدہ پہنچا سکتی ہے۔ سی پیک منصوبہ پاکستان پر چین کے اعتماد کا مظہر ہے۔ پاکستان کی ترقی کے لیے پرعزم ہیں۔ سی پیک سے متعلق تحفظات دور کرنے کے لیے تیار ہیں۔ واضح کرتا ہوں کہ سی پیک ون روڈ اینڈ ون بیلٹ منصوبے کا حصہ ہے۔ سی پیک صرف چین کے لیے نہیں بلکہ پاکستان کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ صرف چینی کمپنیاں سی پیک سے فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ سی پیک پر معلومات کی فراہمی کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔ سی پیک پر پاکستان اور پاکستانیوں کے تمام خدشات کا ازالہ کریں گے۔ چینی سفیر بریفنگ میں بتاتے ہیں کہ سی پیک کے 22 منصوبوں پر 19 ارب ڈالر خرچ کر رہے ہیں۔ پاکستان کی تیار کنندہ صنعت اور برآمدات کو بہترین بنانا اور بڑھانا چاہتے ہیں۔ دنیا کی کچھ طاقتیں چین کو ابھرتا ہوا خوشحال ملک نہیں دیکھنا چاہتیں جب کہ کچھ قوتوں کو پاکستان اور چین کے درمیان تعاون۔ تعلقات اور دوستی کھٹکتی ہے اور دونوں ممالک علاقائی تعاون و ترقی کے لیے یکساں طور پر آگے بڑھ رہے ہیں۔پاک چین اقتصادی تعاون میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ سی پیک سے متعلق مختلف آرا آرہی ہیں جن کا جواب ضروری ہے۔ چینی حکومت وزیر اعظم عمران خان کے دورہ چین کی منتظر ہے۔ چین معاشی اور اقتصادی طور پر مضبوط پاکستان کا خواہاں ہے۔ پاکستان نے بھارت اور افغانستان کی طرف امن کے لیے ہاتھ بڑھایا، پاکستان کی جانب سے خطے میں امن کے لیے ہاتھ بڑھانا قابل ستائش ہے۔ دونوں ممالک کو گورننس بہتر کرنے کے لیے تجربات سے استفادہ کرنا ہے۔ چین نے فیصلہ کیا ہے پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھائیں گے۔ سرمایہ کاری کے ساتھ پاکستانی مصنوعات کی خریداری بھی بڑھائی جائے گی۔ سی پیک کے ذریعے چین نے پاکستان پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا۔ ہمیں پتہ ہے پاکستانی قوم محنتی اور باصلاحیت ہے۔ دونوں ممالک پالیسی سطح پر باہمی اشتراک اور تعاون سے آگے بڑھیں گے۔ چین پاکستان کو دو طرفہ اور کثیر الجہتی شعبوں میں تعاون کرے گا۔ تکنیکی، معاشی اور صنعتی استعداد کار میں اضافے کے لیے تعاون کیا جائے گا۔ اس موقع پر چین کے ڈٖپٹی چیف آف مشن لیجیان چاؤ کہتے ہیں کہ سی پیک منصوبوں پر 14 فیصد سود کی خبریں جھوٹ ہیں۔ اورنج لائن اور آپٹیکل فائبر پر آسان شرائط پر قرض دیا ۔ پاکستان کا کل بیرونی قرضہ 95 ارب ڈالر ہے۔ چین کا قرض پاکستان پر واجب الادا کل قرض کا 6.3 فیصد ہے۔ پاکستان کو تعمیری دورانیے میں قرض یا سود کی ادائیگی نہیں کرنی۔ پاکستان کو صرف 2 فیصد سود ادا کرنا ہے۔ پاکستان کے لیے قرض کی واپسی کا وقت 15 سے 20 سال ہے۔ سی پیک کے کل 22 منصوبے ہیں۔ ارلی ہارویسٹ پروگرام کے تحت 19 ارب ڈالرز کے جاری منصوبوں میں سے 10 مکمل ہوگئے ہیں، 12 پر کام جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ کے کے ایچ فیز تھری پر کام شروع کیا جا رہا ہے۔ سکھر ملتان موٹر وے پر کام تیزی سے جاری ہے۔ گوادر سمارٹ سٹی ماسٹر پلان رواں سال کے آخر میں مکمل ہوگا۔پاکستان 2020 سے 2021 میں سالانہ 300 سے 400 ملین ڈالر قرض واپس کرے گا۔ سی پیک کے 22 منصوبوں میں 75 ہزار پاکستانیوں کو براہ راست روزگار میسر آیا۔ سی پیک سے 12 لاکھ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ سی پیک سے 2030 تک مزید 7 لاکھ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، پاکستان کی 2022 تک توانائی کی ضروریات پوری ہوجائیں گی۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Waqar Fani

Read More Articles by Waqar Fani: 69 Articles with 35137 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
29 Oct, 2018 Views: 428

Comments

آپ کی رائے