جمال خاشقجی کا قتل ۔سعودی معیشت میں دراڑ

(Muhammad Abdul Rasheed Junaid, India)

کیا واقعی سعودی عرب کو عالمی سطح پر بدنام کرنے کی سازش رچی جارہی ہے؟ کیا جمال خاشقجی کا قتل یمن اور شام کے حوالے سے شاہی حکومت کے خلاف تنقید کرنے کی وجہ سے نہیں کیا گیا؟ کیا مظلوم انسانیت کے خلاف لکھنے والوں کا انجام اسی طرح ہونا چاہیے؟ کیا عرب میں پھر سے جہالت کا بازار گرم ہوچکاہے؟ جو لوگ پندرہ دن سے زائد عرصہ تک جمال خاشقجی کے قتل کا انکار کرتے رہے کیا ان کے بیان پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے؟ کیا میڈیا نمائندوں کی جان کی کوئی قیمت بھی ہوتی ہے؟انسانیت کے علمبردار تو جمال خاشقجی کے قتل پر آواز اٹھارہے ہیں اور اسکے ذمہ داروں کو کیفرکردار تک پہنچانے کی بات کررہے ہیں لیکن جس مذہب ِ اسلام نے امن و امان کی سلامتی اور انسانیت کی حفاظت کا درس دیا ہے اسی مذہب کے ماننے والے آج اپنے ہی ایک بھائی کو(ذرائع ابلاغ کے مطابق) بے دردی سے موت کے گھاٹ اتاردیتے ہیں۔اس کی نماز جنازہ تک پڑھنے کی ضرورت محسوس نہیں کئے۔ کیا جمال خاشقجی کا قتل کرنے والے اسلام سے تعلق نہیں رکھتے ؟۔ جب عراق، افغانستان، پاکستان، شام، یمن وغیرہ میں نام نہاد جہادی تنظیمیں (دہشت گردوں) کی جانب سے مسلمانوں کو ہی نشانہ بنایا جاتا ہے تو سمجھا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ ان شدت پسندوں یا دہشت گردوں کا تعلق اسلام سے کسی طرح بھی نہیں ہوسکتا۔ پھر جب استنبول کے سعودی قونصل خانہ میں کسی مسلمان صحافی کا بہیمانہ قتل ہوتا ہے اور اسکے جسم کا پتہ تک نہ چلتا ہے تو اس کے پیچھے کس کو موردِ الزام ٹھہرایا جائے گا۔؟مملکت سعودی عرب کے شاہ جنہیں خادمِ الحرمین الشریفین کہا جاتا ہے ، جن کی قدر دنیا بھر میں کی جاتی ہے۔ انکے ایک ناقد کا انجام کسی دوسرے ملک میں اتنا بُرا ہوسکتا ہے تو پھر ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کردیتا ہے کہ انکے اپنے ملک میں انسانیت کی کیا قدر و قیمت ہوگی اور وہاں کے شہری شاہی حکومت میں کس قسم کی زندگی گزاررہے ہونگے۔شاہی حکومت جو اس الزام سے مسلسل 17روز تک انکار کرتی رہی تھی، عالمی دباؤ کے بعد اب وہ تسلیم کرچکی ہے کہ جمال خاشقجی کا قونصل خانے میں قتل کیا گیا تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہ حکام بالا کی اجازت کے بغیر کی گئی ایک ’’باغیانہ‘‘ کارروائی تھی۔سعودی حکومت نے اس حوالے سے دو سینئر حکام کی برطرفی کے علاوہ 18دیگر عہدیداروں کو تفتیش کیلئے حراست میں لے لیا ہے۔دو اہم عہدیداروں میں نائب انٹیلی جنس چیف احمد العسیری اور رائل کورٹ کے میڈیا ایڈوائزر سعود القحطانی کو شاہ سلمان نے انکے عہدوں سے برطرف کردیا ہے۔ذرائع ابلاغ کے مطابق ولیعہد محمد بن سلمان نے بھی ۲۴؍ اکٹوبر کو پہلی بار سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بارے میں براہ راست بیان دیتے ہوئے عہد کیا کہ اس جرم میں ملوث تمام ’’مجرموں ‘‘ کو سزا دی جائے گی۔ ریاض میں سرمایہ کاری کانفرنس کے موقع اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ یہ نہایت گھناؤنا جرم ہے اور اس کی کوئی معافی نہیں ہے، اور ساتھ ساتھ عہد کیا کہ وہ تمام لوگ جو اس جرم میں ملوث ہیں ان سب کو سزا ملے گی اور انصاف کا بول بالا ہوگا۔

21؍ اکٹوبر کو ترک صدر رجب طیب اردغان نے ایک ریالی سے خطاب کرتے ہوئے کہاتھا کہ وہ سعودی عرب کی جانب سے دی گئی وضاحتوں کا پردہ چاک کردیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک میں وہ 15لوگ کیوں آئے؟ انہوں نے اُن 18افراد کی گرفتاری پر بھی سوال کھڑا کیا کہ انہیں کیوں گرفتار کیا گیا؟ اور ان سب کی انہیں مکمل طور پر وضاحت ہونی چاہیے ۔ رجب طیب اردغان نے23؍ اکٹوبر کو اپنی سیاسی جماعت کے ارکان پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہیکہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کی منصوبہ بندی کئی دن پہلے کی گئی تھی۔ ترک صدر کا کہنا تھا کہ انکے پاس ٹھوس ثبوت موجود ہیں کہ 2؍ اکٹوبر کو سعودی قونصل خانے میں خاشقجی کے وحشیانہ قتل کی منصوبہ بندی پہلے سے کی گئی تھی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مشتبہ افراد پر استنبول میں مقدمہ چلایا جائے ، رجب طیب اردغان نے سعودی عرب سے جواب طلب کیا ہے کہ جمال خاشقجی کی لاش کہاں ہے اور اس کارروائی کا حکم کس نے دیا۔تین ہفتے گزرجانے کے باوجود جمال خاشقجی کی لاش کا پتہ نہیں چل سکا ۔اگر واقعی انکے جسم کے تکڑے کردیئے گئے ہیں اور انکی نعش کو مسخ کردیا گیا ہے تو سعودی عرب کے خلاف مزید دباؤ میں اضافہ ہوگا۔ادھر ڈیلی پاکستان آن لائن لندن سے جاری برطانوی میڈیا نے استنبول سعودی قونصل خانے میں قتل کئے گئے صحافی جمال خاشقجی کی باقیات ملنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جمال خاشقجی کا چہرہ مسخ کیا گیا ہے۔ برطانوی میڈیا کا دعویٰ ہیکہ جمال خاشقجی کی لاش کی باقیات ترکی میں سعودی قونصل جنرل کے گھر کے باغ سے ملے ہیں جبکہ ان کا چہرہ بھی مسخ کیا گیا ہے۔اب مزید تفصیلات انکے ڈی این اے ٹسٹ کے بعد ہی منظر عام پر آسکتے ہیں کہ واقعی یہ جمال خاشقجی کی نعش کے باقیات ہیں یا نہیں ۔صدر ترکی کا کہنا تھا کہ اب تک ملنے والے شواہد کے مطابق خاشقجی کو بہیمانہ طریقے سے قتل کیا گیا ، انہوں نے سوال کیا کہ ابھی تک خاشقجی کی لاش حوالے کیوں نہیں کی گئی۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کی ڈائرکٹر جینا ہیسپل بھی تحقیقات کے سلسلے میں استنبول پہنچی۔خبروں کے مطابق جینا ہیسپل نے صدر ٹرمپ کو صحافی جمال خاشقجی کو قتل کے حوالے سے اب تک کی کی جانے والی تحقیقات پر بریفنگ دی ہے اورجینا ہیسپل کو سعودی قونصلیٹ استنبول میں جمال خاشقجی کے قتل کے وقت کی آڈیوریکارڈنگ بھی سنوائی گئی ۔ذرائع کے مطابق اس ریکارڈنگ میں جمال خاشقجی کے ساتھ تفتیش اور بعد میں قتل کرنے کے دوران ہونے والی گفتگو موجود ہے۔تجزیہ نگاروں کے مطابق جمال خاشقجی کے قتل کی تحقیقات کا دائرہ وسیع ہوتا جارہا ہے انکے اصل قاتلوں کو سعودی شاہی حکومت منظرِعام پر لائے گی یا نہیں یہ تو الگ بات ہے لیکن جن عہدیداروں کو منظر عام پر لایا گیا ہے ، کیا ان کا تعلق جمال خاشقجی کے قتل سے جڑا ہوا ہے؟ کیونکہ ترکی حکام نے جن پندرہ افراد کی تصاویر مع ناموں اور تفصیلات کے ساتھ شائع کی ہیں ان 18افراد میں ان کا شمار ہے یا نہیں اس سلسلہ میں سعودی شاہی حکومت ہی تبصرہ کرسکتی ہے۔ ورنہ سمجھا جائیگا کہ یہ دو اعلیٰ عہدیدار اور دیگر 18افراد بھی شاہی حکومت کے عتاب کا شکار ہوسکتے ہیں ۔ترک صدر اردغان نے خاشقجی کے قتل کے سلسلہ میں کہا کہ قتل ہمارے ملک میں ہوا ، اس لئے ہم پر تحقیقات کی ذمہ داری ہے اور ہم حقیقت کا پتہ چلاکر رہیں گے ، ہمیں کوئی روک نہیں سکتا، خاشقجی کے قتل میں ملوث 18افراد کی شناخت ظاہر کرنے کا بھی انہو ں نے مطالبہ کیا ہے۔اور کہا ہے کہ قتل کا الزام انٹیلی جنس ایجنسیوں کے لوگوں پر لگانے سے ہم مطمئن نہیں ہیں انکا کہنا ہے کہ انکی انٹیلی جنس ایجنسی اس معاملے میں باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے ، سعودی قونصلیٹ ترک سرزمین پر ہے اور جنیوا کنونشن کسی کو سفارتی استثنیٰ فراہم نہیں کرتا، معاملہ اب آگے بڑھ گیا ہے ، خاشقجی کا قتل بین الاقوامی معاملہ ہے اس کا بین الاقوامی سطح پر قتل کا نوٹس لیا گیا ، مشترکہ ورکنگ گروپ اس معاملے پر بات کررہا ہے، سفارتی استثنیٰ کے باوجود قتل کی تحقیقات ہماری ذمہ داری ہے۔اب دیکھنا ہے کہ جمال خاشقجی قتل کا مسئلہ کن کن ممالک کے لئے فائدہ مند اورکن کیلئے نقصاندہ ثابت ہوگا۔
سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے انڈونیشیا کے دورے کے دوران جکارتہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ سعودی بادشاہ شاہ سلمان اور ولیعہد محمد بن سلمان پرعزم ہیں کہ جمال خاشقجی کے قتل کی تحقیقات مفصل اور مکمل ہوں اور سچ سامنے آئے اور اس کے ذمہ داروں کو سزاملے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ مستقبل میں ایسے واقعات پیش نہ آسکیں۔ اس سے قبل وزیر خارجہ نے جمال خاشقجی کے قتل سے متعلق کہا کہ جمال خاشقجی کا قتل ایک بڑی غلطی تھی تاہم ان کا اصرار تھا کہ سعودی ولیعہد محمد بن سلمان نے صحافی کی ہلاکت کا حکم نہیں دیا اور وہ اس ساری کارروائی سے لاعلم تھے۔ انکا کہنا تھا کہ ہماری انٹلی جنس سروس کے اعلیٰ افسروں کو بھی اس آپریشن کا علم نہیں تھا۔ یہ ایک بلااجازت کی جانے والی کارروائی تھی۔عادل الجبیر کا کہنا تھا کہ جن لوگوں نے یہ کیا ہے انہو ں نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے، ظاہر ہے کہ ایک بہت بڑی غلطی ہوئی اور اس کے بعد اسے چھپانے کے سلسلے میں یہ غلطی کئی گنا بڑھ گئی۔اب جبکہ شاہی حکومت کی جانب سے صحافی جمال خاشقجی کا قتل استنبول کے سعودی قونصل خانے میں ہونے کو تسلیم کرلیا ہے اور میڈیا کی جانب سے حقیقت منظرعام پر لائی جارہی ہے تو اس دوران سعودی مجلسِ شوری اسے سعودی عرب کے خلاف ’’میڈیا مہم‘‘ قرار دے رہی ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق سعودی عرب مجلسِ شوریٰ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں جمال خاشقجی کے قتل کے حوالے سے عالمی ـذرائع ابلاغ میں ہونیو الی تنقید کا نام لئے بغیر کہا گیا ہے کہ مملکت کے خلاف جاری موجودہ میڈیا مہم کا مقدر ناکامی کے سوا کچھ نہیں۔ مجلس شوریٰ کے اسپیکر ڈاکٹر عبداﷲ بن محمد بن ابراہیم الشیخ کا کہنا ہے کہ اس وقت سعودی عرب کی علاقائی اور بین الاقوامی شبیہ کو ہدف بناکر ایک شدید متعصبانہ مہم چلائی جارہی ہے اور عوام اور قیادت کے درمیان خلیج پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ مجلس شوریٰ کی جانب سے اس قسم کا بیان جاری کرنے کے بجائے حقیقت سے پردہ اٹھانے کی بات کرنی چاہیے تھی کیونکہ سعودی عرب ایک اسلامی ملک ہے اور مجلسِ شوریٰ سعودی عرب کا ایک باوقار ادارہ ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد سعودی حکام کی جانب سے دی گئی وضاحتوں کو تاریخ میں حقائق چھپانے کی سب سے بری کوشش قرار دیا ہے۔ صدر نے کہا کہ جس کسی نے بھی اس قتل کی منصوبہ بندی کی اس کو سخت مشکل میں ہونا چاہیے۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے بھی کہا ہے کہ امریکہ اس قتل کے ذمہ داروں کو سزا دے گا اور اس معاملے میں ملوث 21ملزمان کے ویزے منسوخ کئے جارہے ہیں اور مستقبل میں ان کے امریکہ میں داخلے پر پابندی عائد کی جارہی ہے امریکی وزیر خارجہ کے مطابق ان افراد کا تعلق سعودی خفیہ اداروں، رائل کورٹ اور وزارتِ خارجہ سے بتایا جارہا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق ادھر سعودی عرب میں 23؍ اکٹوبر کو سعودی شاہ سلمان نے کابینہ کے اجلاس کی صدارت کی جس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب اس قتل کے ذمہ داروں کو سزا دے گا چاہے وہ کوئی ہوں۔ ذرائع کے مطابق شاہ سلمان اور ولیعہد محمد بن سلمان نے ریاض میں جمال خاشقجی کے اہلخانہ سے بھی ملاقات کی جن میں جمال خاشقجی کے بیٹے صلاح بن جمال بھی شامل تھے۔ سوال پیدا ہوتا ہیکہ اتنے افراد کی گرفتاری کے باوجود ابھی تک سعودی عرب نے جمال خاشقجی کی نعش کے سلسلہ میں کوئی واضح بات نہیں بتائی کہ جمال خاشقجی کی نعش کے ساتھ کس قسم کا برتاؤ کیا گیا اور انکے باقیات واقعی ہیں یانہیں ۰۰۰

23؍ اکٹوبر کو سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ملک میں سرمایہ کاری کے حوالے سے اہم ترین سہ روزہ سالانہ کانفرنس ولیعہد محمد بن سلمان کی صدارت میں شروع ہوچکی ہے ۔ذرائع ابلاغ کے مطابق سرمایہ کاری کانفرنس میں 140بین الاقوامی کارپوریشنز کی 150نامور شخصیات کو کانفرنس میں تقریریں کرنا تھیں لیکن کانفرنس کے منتظمین کے مطابق40نے کہا کہ وہ اس میں شریک نہیں ہونگے ، شریک نہ ہونے والوں میں جے پی مورگن، سیمینز اور بلیک روک جیسے عالمی شہرت یافتہ کارپوریشنز کے علاوہ بین الاقوام مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی سربراہ کرسٹین لیگارڈ بھی شامل ہیں۔ ورجن کمپنی کے سربراہ سررچرڈ بینسن نے سعودی عرب میں ایک ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کے منصوبے پر بات چیت معطل کردی ہے۔میڈیا آرگنائزیشنز بلومبرگ، سی این این اور فینانشیل ٹائمز نے اس کانفرنس سے دستبرداری کا اعلان کیا ہے۔اس سے قبل امریکہ، برطانیہ،فرانس، جرمنی ، آسٹریلیا ، نیوزی لینڈ، ہالینڈ کے وزراء سمیت کئی اہم شراکت دار ممالک و اداروں نے خاشقجی کے قتل کے تناظر میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا جبکہ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کانفرنس میں شرکت کیلئے سعودی عرب آئے ۔ انکے ہمراہ وزیر خارجہ صاہ محمود قریشی ،وزیر خزانہ اسد عمر، وزیر اطلاعات فواد چودھری ، مشیر تجارت رزاق داود، وزیر مملکت اور چیرمین سرمایہ کاری بورڈ ہارون شریف بھی موجود ہیں ان کے علاوہ پیپسی انٹرنیشنل کے نائب چیرمین محمود خان، ارنسٹ اینڈ ینگ کے جارج عطا شریک ہوئے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق پاکستانی وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ پاکستان معاشی بحران سے نمٹنے کیلئے آئی ایم ایف سے قرض لینے کے بجائے دوست ملکوں کا دروازہ کھٹکھٹانے کو ترجیح دیں گے ۔غرض کہ یہ کانفرنس سعودی عرب کے ویژن 2030کا ایک حصہ ہے اس ویژن کا مقصد سعودی عرب کی معیشت میں تنوع پیدا کرکے تیل کی آمدنی پر مکمل انحصار کو کم کرنا ہے۔ یہ کانفرنس ایک فورم ہے جس میں بزنس مین، سیاستداں، سول سوسائٹی کے گروپس ،ٹکنالوجی، عالمی معاملات اور ماحولیات کے موضوعات سمیت اقتصادی ترقی امور پر تقاریر اور تبادلہ خیال ہوتا ہے لیکن جمال خاشقجی کا بہیمانہ قتل سعودی عرب کی شاہی حکومت خصوصاً ولیعہد محمد بن سلمان کے ویژن 2030کے لئے بڑی رکاوٹ بن چکا ہے اب آگے دیکھنا ہے کہ سعودی عرب جمال خاشقجی قتل مسئلہ کو کس طرح نمٹانے کی کوشش کرتا ہے ۔امریکی صدر کی جانب سے شائد سعودی عرب پر زیادہ دباؤ نہیں پڑیگا کیونکہ سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان گذشتہ جو بڑے معاہدے ہوئے ہیں اس سے امریکہ کو کروڑوں ڈالرز کی آمدنی ہوگی اور اسکے ہزاروں شہریوں کو روزگار ملے گا ، یہی وجہ ہے کہ امریکی صدر جمال خاشقجی قتل معاملہ میں سعودی عرب کے خلاف کوئی سخت کارروائی نہیں کرینگے۔ ادھر جرمن چانسلر میرکل نے سعودی صحافی کے قتل کے باعث سعودی عرب کو جرمن ہتھیاروں کی فراہمی معطل کردی ہے جبکہ جرمن وزیر اقتصادیات پیٹراَلٹمائر نے مطالبہ کیا ہیکہ خاشقجی کے قتل کے معاملے میں پورے یورپ کو متحد ہوجانا چاہیے۔سال رواں کے دوران برلن حکومت سعودی عرب کو 400ملین یورو سے زائد مالیت کے ہتھیاروں کی فروخت کی منظوری دے چکی ہے یہ رقم قریب 462ملین امریکی ڈالر کے برابر ہوتی ہے ۔ اس سے قبل جرمن چانسلر انگیلا میرکل اور جرمن وزیر خارجہ ہائیکو ماس کی جانب سے جاری ہونیو الے مشترکہ بیان میں جمال خاشقجی کے قتل پر سعودی عرب سے کہا گیا تھا کہ ہم سخت ترین الفاظ میں اس عمل کی مذمت کرتے ہیں۔انکا مزید کہنا تھا کہ اس ہلاکت کی وجوہات کے بارے میں سعودی عرب سے شفافیت کی توقع کرتے ہیں اور یہ بھی کہا گیا تھا کہ استنبول میں پیش آنے والے واقعات کے بارے میں دستیاب معلومات ناکافی ہے۔اس طرح شدید عالمی دباؤ کے بعد سعودی عرب نے جمال خاشقجی کا استنبول کے سعودی قونصل خانے میں قتل کو تسلیم کیا ہے لیکن ابھی تک انکی نعش کے سلسلہ میں کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا کہ آیا جمال کی نعش موجود ہے یا اسے مسخ کردیا گیا۔اب دیکھنا ہیکہ شاہی حکومت جو اسلامی قوانین کی پاسدار سمجھی جاتی ہے ایک مظلوم صحافی اور سفاک ظالموں کے درمیان کیا فیصلہ کرپاتی ہے۰۰۰
***

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 266 Print Article Print
About the Author: Muhammad Abdul Rasheed Junaid

Read More Articles by Muhammad Abdul Rasheed Junaid: 198 Articles with 61590 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: