تبصرۂ کتب

(Amna Khatoon, Karachi)

جمیل ، ڈاکٹر محمدخاور جمیل ۔ مرتب
ڈاکٹر جمیل جالبی: بڑی مشکل سے ہوتاہے چمن میں دیدہ ور پیدا ‘کراچی۔
الیٹ پبلشرز، ۲۰۱۶ء،۷۶۰ ص

میر ے پیش نظر ایسی کتاب ہے جس کا موضوع ادب کی ایک قدآور شخصیت ڈاکٹر جمیل جالبی ہیں جن کی تحریروں کی اعلیٰ قدر وقیمت کا اعتراف نہ صرف قومی بلکہ بین الاقومی طور پر تمام اعلیٰ پایہ کے ادیبوں نے کیا ہے ۔ان کی تعریف و توصیف میں منظوم خراج عقیدت بھی پیش کیا گیا ہے ۔
ڈاکٹر جمیل جالبی کثیر الجہات ادبی شخصیت کے مالک ہیں،ان کی خداداد صلاحیتوں کا حلقہ ادب معترف ہے ۔کوئی انھیں ماہر دکنیات کہتا ہے تو کوئی نابغہ روزگار ادیب، صاحب اسلوب نقد نگار ، کوئی تاریخ ساز تو کوئی نئی جہات تنقید کا حامل قرار دیتا ہے ۔بقول عزیز حامد مدنی :
’’ان کی شخصیت ہماری بہترین تہذیبی روایات کی پروردہ ہے وہ ایک باہمت آگاہ دانشور کی حیثیت سے قبیلہ ادبیات کے چشم و چراغ ہیں ۔ان کے کاموں کی ایک تاریخی نوعیت ہے ۔ڈاکٹر جمیل جالبی ہمارے ادبی و علمی تہذیبی اور ثقافتی زندگی کے باوقار نمائندہ ہیں۔‘‘
زیر تبصرہ کتاب ان کے بیٹے ڈاکٹر محمد خاور جمیل کی مرتب کردہ ہے جوان کے والد کی محبت اور ان کی کاوشوں کے اعتراف کا نتیجہ ہے ۔اس تصنیف میں ڈاکٹر خاور جمیل نے اپنے والد کے علمی و ادبی کارناموں ،ان کی تصانیف ،ان پر خراج تحسین پیش کرنے والوں کی تحریروں ،ان سے وابستہ شاعر اور ادیبوں کے خطوط کو شامل کیا ہے۔پروفیسر ڈاکٹر غلام مصطفی خان کے مطابق :
’’ڈاکٹر جمیل جالبی نے اس قدر اچھا علمی کام کیا کہ بڑے بڑے پختہ کار ادیبوں اور محققوں کو ان پر رشک آتا ہے ۔‘‘
ڈاکٹر جمیل جالبی نے جس ماحول میں آنکھ کھولی وہ خالص ادبی تھالہٰذا بچپن ہی سے ان میں ادبی ذوق پیدا ہوا اور ان کی تخلیقی سرگرمیاں شروع ہو گئیں۔ ابتدا میں انگریزی اور اردو زبان میں شاعری کی مگر جلد ہی یہ شوق معدوم ہو گیا پھر آپ نے کہانیاں لکھنا شروع کیں۔آ پ کی سب سے پہلی تخلیق ’’سکندر اور ڈاکو‘‘ تھی جو انھوں نے گیارہ سال کی عمر میں لکھی۔اساتذہ نے اسے پسند کیا اور اسٹیج بھی کیا ۔ آپ کی پہلی تحریر بنات دہلی میں چھپی یہ وہ زمانہ تھا جب آپ اسکول کے طالب علم تھے اور اآپ کا نام محمدجمیل خان تھا ۔آپ کی تحریریں بعد ازاں ’عصمت‘ اور ’مصنف ‘ علی گڑھ میں شائع ہوئیں۔
آپ نے ابتدا ہی میں کرشن چندر، بیدی، عصمت چغتائی، اوپندر ناتھ اشک، سعادت حسن منٹو، حیات اللہ انصاری، قرۃ العین حیدر، شاعروں میں میر اجی، ن م راشد، فیض احمد فیض اور اختر الایمان کی شاعری کا مطالعہ کیا ۔ تنقید میں فراق گورکھپوری کا مجموعہ مضامین ’’اندازے‘‘ اختر حسین رائے پوری کی ’ادب و انقلاب‘ پروفیسر احتشام حسین کی ’تنقیدی جائزے‘ جیسی تحریروں کا مطالعہ کیا ۔انھوں نے اپنے مطالعے میں نظریاتی وابستگی سے زیادہ فن کو اہمیت دی ۔
آپ نے انگریزی کتابوں کے تراجم بھی کیے ،ان کی کتاب ’’پاکستانی کلچر‘‘ بے مثال کتاب ہے ۔ان کا بہت بڑا کارنامہ ’’تاریخ ادب اردو‘‘ ہے جو ایک پہاڑ کی چوٹی سر کرنے کے برابر ہے ۔ تواریخ تو بہت لکھی جا چکیں ہیں مگر ان کا اصل کام حالات و واقعات کا اصل مآخذسے مطالعہ کرکے تحقیق و تصدیق کے ساتھ رقم کرنا ہے ۔
تاریخ ادب اردو کے بار ے میں وہ لکھتے ہیں:
’’میں نے ادبی تاریخ نویسی کی بنیاد دسروں کی آرا یا سنی سنائی باتوں پر نہیں کی بلکہ سارے کلیات ساری تصانیف اور کم وبیش سارے اصلی تاریخی ادبی ،غیر ادبی مآخذسے براہ راست استفادہ کر کے روح ادب تک پہنچنے کی کوشش کی ہے ۔‘‘[تاریخ ادب اردو، جلد دوم، حصہ اول، ص ۱۱]
زیر تبصرہ کتاب کی فہرست میں مختلف عنوانات ہیں جن کے تحت مضامین کو ترتیب دیا گیا ہے ۔
’ شخصیت ‘ کے تحت ایسے مضامین کو رکھا ہے جن میں نامور ادبی شخصیات نے ان کے کردار پر قابل قدر روشنی ڈالی ہے ۔
’فن‘ کے تحت ان کی تصنیفات ،تحقیقات اور انداز تحریر ،علمی کارناموں پر مصنفین اور محققین کی آرا دی گئی ہیں۔
’مکالمہ ‘کے تحت ان سے گفتگو ،مصاحبات شامل کیے گئے ہیں۔
’ڈاکٹر جمیل جالبی کی تحریریں ‘ اس موضوع کے تحت ماریشس میں عالمی اردو کانفرنس کا کلیدی خطبہ، عالمی ارد و کانفرنس پر تاثرات شامل ہیں۔
’یادیں اور ملاقاتیں‘ اس موضوع کے تحت ایسی تحریریں شامل ہیں جن سے ڈاکٹر صاحب کے مکمل حالات زندگی کا علم ہوتا ہے ،دوستوں اور ہم جماعتوں کے بارے میں بھی معلومات ملتی ہیں۔
’’خراج عقیدت‘ کے حوالے سے ساحر شیوی، ڈاکٹر احمد حسین قلعہ داری کی نظمیں ہیں جن میں ڈاکٹر جمیل جالبی کی تعریف و توصیف بیان کی گئی ہے۔
’تحقیق و تنقید‘کے تحت ’دیوان حسن شوقی، پاکستان کلچر۔ دوسری تصنیف ’ادب کلچر اور مسائل ‘ پر اظہار خیال کیا گیا ہے ۔
’درون خانہ‘ کے عنوان کے تحت جالبی صاحب کے اپنے گھر میں رویہ ،کردار، نجی زندگی اہل خانہ کے ساتھ ان کی محبت، شفقت ،رکھ رکھاؤ اور تعلقات کو بیان کیا گیا ہے ۔
’بحیثیت نقاد‘ کے موضوع کے تحت ڈاکٹر جمیل جالبی کی تنقید نگاری اور ان کی تحریروں پر ادبی شخصیات کی آرااور نظریات پیش کیے گئے ہیں کہ کس طرح انھوں نے تحقیق و تنقید میں اپنا مقام پیدا کیا اور یہ کہ ان کی تحقیق میں تخلیقی رنگ پایا جاتا ہے ۔
’بحیثیت ادبی مورخ ‘ تاریخ ادب اردو پر اعلیٰ پایہ کے ادیبوں اور محققین کی رائے اور جائزہ پیش کیا گیا ہے کہ اس طرح انھوں نے اردو ادب کی تاریخ میں گراں قدر اضافہ کیا
’بحیثیت کلچر شناس ‘ اس موضوع کے تحت کلچر کے حوالے سے تحریروں پر ادیبوں کے خیالات و نظریات پیش کیے گئے ہیں اور یہ کہ انھوں نے دانشوروں کو ایک اہم مسئلے پر غور کرنے پر آمادہ کیا جس کا ہماری قومی زندگی سے گہرا تعلق ہے ۔
’بحیثیت مترجم ‘آپ نے جن کتابوں کا ترجمہ کیا ان پر ادیبوں کی رائے بیان کی گئی ہے ۔
’بحیثیت لغت نگار‘ اس عنوان کے تحت آپ کی فرہنگ اصطلاحات قومی انگریزی اردو لغت کی تدوین میں ڈاکٹر صاحب کی کاوشوں کا ذکر کیا گیا ہے کہ انھوں نے عصری ضروریات اور تقاضوں کو محسوس کرتے ہوئے انگریزی اردو لغت کی بنیا د رکھی اور جدید ترین الفاظ شامل کر کے علمی و سائنسی ضروریات کو بھی پورا کیا ہے ۔
’بحیثیت مدیر‘ ڈاکٹر صاحب نے ’نیا دور‘ کی ادارت کی اس حوالے سے ادیبوں کی رائے بیان کی گئی ہے ۔’نیا دور‘ کی خصوصیت یہ ہے کہ اسے پڑھ کر معلوم ہوجاتا ہے کہ ایڈیٹر نے ہر صفحہ پر توجہ دی ہے ۔سارے پرچہ میں اہتما م کا پتہ چلتا ہے ۔معروف تعلیم یافتہ کے ساتھ کم معروف لوگوں کی تحریریں بھی شامل کی جاتی تھیں۔ علم و فضل ادارتی سوجھ بوجھ کے اعتبار سے ادبی رسائل کے ان مدیروں میں نہایت ممتاز مقام رکھتے ہیں جن کو عظیم کہا جاتا ہے۔
’بحیثیت بچوں کے ادیب‘ اس موضوع کے تحت بچوں پر لکھے جانے والے ادب کا تذکرہ ہے ۔آپ نے بچوں کے لیے بہت دلچسپ کہانیاں لکھی ہیں ۔
’خطوط مشاہیر بنام جمیل جالبی ‘ اس عنوان کے تحت مختلف ادیبوں ،عالموں کے خطوط ہیں جن سے ڈاکٹر صاحب کی شخصیت اور حالات و واقعات کا انداز ہ ہوتا ہے ۔
غرض یہ کتاب ڈاکٹر جمیل جالبی کی شخصیت اور فن کے ہر پہلو کا احاطہ کرتی ہے ۔اس کے باوجود ان کی شخصیت ایسی ہے کہ کئی کتابیں مزید لکھی جا سکتی ہیں ۔طلبہ اور محققین کے لیے یہ ایک گراں قدر تصنیف ہے ۔ طلبہ ، اردودان، محققین کے لیے بہترین حوالہ جاتی مآخذ ہے ۔اسے ہر کتب خانے میں ہونا چاہیے ۔جلد مضبوط ،کتاب عمدہ ہے اور قیمت بھی مناسب ہے ۔
آمنہ خاتون
مدیرہ: پی ایل آئی ایس جے

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Amna Khatoon

Read More Articles by Amna Khatoon: 17 Articles with 20061 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 Oct, 2018 Views: 1010

Comments

آپ کی رائے