کبھی نہ آنچ آ پائے گی ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم پر

(Isha Naim, )

ایک مسلمان کے گھر جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو تو اس کی کوشش اور خواہش ہوتی ہے میرے بچے کے کان میں سب سے پہلے جو الفاظ پڑیں وہ لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ ہوں۔
جب بچے کو پہلی خوراک دیتا ہے تو بھی اس کی خواہش ہوتی ہے کہ کھجور یا شہد ہو۔
کیوں ؟
کھجور اور شہد کے فوائد کو جانتا ہے یا نہیں وہ یہی چیز پسند کرتا ہے تو صرف اس لئے کہ یہ چیزیں اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند تھیں ۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھائی تھیں اور اسی محبت میں وہ اپنے بچے کو اپنے نبی کی گھٹی میں جو پہلی چیز دیتا ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہوتی ہے۔
ساتویں دن اس کے سر کے بال اتارے جاتے ہیں تو اس لئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا پھر عقیقہ کیا جاتا تو اس لئے کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسا کرنے کو۔
پھر نام رکھنے تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ ان کے بچے اور فرامین کا خیال رکھا جاتا ہے۔
پھر مسلمان بچہ جوں جوں بڑا ہوتا ہے اسے سب سے پہلے کلمہ سکھایا جاتا ہے۔صبح اٹھتے ہی اسے اللہ و محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لینا سکھایا جاتا ہے
اس کی ایک ایک چیز ایک ایک کام میں اتنا خیال رکھا جاتا ہے کہ اس کا ہر کام اللہ کے نبی کے طریقہ کار کے مطابق ہو حتی کہ
جہاں اسے صحیح سمجھ نہ آئے وہ علما سے رابطہ کرتا ہے۔
گویا بچپن سے ہی خون میں جو محبت شامل ہوتی ہے وہ محبت اللہ اور اس کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہوتی ہے۔
اتنی عزت اور محبت کہ الفاظ میں بیان کرنا بھی مشکل۔
اسے بتایا جاتا ہے کہ ماں باپ کا بہت احترام اور عزت کرنی کے لیکن جہاں نبی کی بات آ جائے وہاں کسی کی بات بھی ترجیح نہیں رکھتی۔
ایک مسلمان اپنے نبی سے ساری کائنات سے بڑھ کر محبت کرتا ہے اپنے مال اولاد جان سے بھی بڑھ کر۔
پھر اتنی محبت و عزت والے کی شان میں کوئی جو مرضی کہہ دے یہ کیسے ممکن ہے۔
مسلمان تو زیادہ پڑھا لکھا نہ بھی ہو بظاہر وہ زیادہ اچھا مسلم نظر نہ بھی آتا ہو لیکن جب حرف آئےنبی کی حرمت پہ تو پھر اس کی محبت شعلے کی طرح بھڑک اٹھتی ہے اور گستاخوں کو بھسم کر دیتی ہے۔
وہ محسن انسانیت ، وہ اعلی و ارفع رحمت العالمین ، وہ جس کی تعلیمات نے زمانے میں امن پیدا کیا ، وہ جس نے دنیا کو جینے کا ڈھنگ سکھایا وہ جس نے جانوروں کے بھی حقوق رکھ دیئے وہ جس کا کردار بھی بے مثال وہ جس کے اقوال بھی بے مثال اس شخصیت کی شان میں کوئی گستاخی کرے گا تو پھر اس کو جینے کیسے دیا جائے۔
ایسے ہی 1929 میں ہندوستان میں ایک ہندو راج پال نے ایک کتاب لکھی رنگیلا رسول (استغفراللہ ) کے نام سے کتاب لکھ کر مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کیا تو اس وقت تین مسلمانوں نے اس ملعون کو ختم کرنے کی کوشش کی۔
لیکن چونکہ اس وقت میڈیا کا دور نہ تھا سو ہر کوئی اس گستاخ کو پہچانتا نہ تھا سو پہلے دو مسلمان کسی اور کو راج پال سمجھ کر قتل کر بیٹھے تھے شاید اس لئے کہ اللہ نے یہ اعزاز ہندوستان کے ایک ترکھان غازی علم دین کے حصے میں لکھا تھا۔
غازی علم دین نے جب سنا کہ میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی گئی ہے تو وہ بے چین ہو گیا۔اس کی محبت رسول نے اسے بے چین کر دیا اس کا ایمان اسے کہتا تھا کہ ایسے رذیل انسان کو زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔
سو اس نے 31 اکتوبر کو اس خبیث کی خباثت سے دنیا کو پاک کرنے کا فیصلہ کر لیا اور ایک تیز چھری لے کر راج پال کو ڈھونڈنے نکلا جب وہ ملعون مل گیا تو چھری سیدھی اس کے سینے میں اتار دی۔
اس مردود کو جہنم وصل کر کے غازی علم دین نہ خوف زدہ ہوا نہ پریشان ہوا نہ گھبرایا بلکہ وہیں کھڑا رہا اور فخریہ اعلان کیا کہ میں نے اپنے نبی کے گستاخ کو جہنم رسید کر دیا ہے ۔
اس طرح اس نے دنیا کو پیغام دیا کہ کبھی نہ آنچ آ پائے گی ناموس رسالت پر اگر کوئی کرے ایسا تو عذابوں میں وہ گھر جائے گا۔
اس مرد مجاھد نے جو کارنامہ سر انجام دیا وہ ایسا تھا کہ علامہ اقبال جیسی عظیم شخصیت پہ حسرت کرتی تھی انھوں نے علم دین کی شہادت پہ کہا تھا
" اسی گلاں کردے رہ گئے تے ترکھاناں دا منڈا بازی لے گیا "
غازی علم دین نے وہ کارنامہ سر انجام دیا جو دنیا میں چند خوش نصیب ہی سر انجام دے پائے۔وہ دنیا کے ان چند روشن دمکتے ستاروں میں شامل ہو گئے جو اپنی نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کو برداشت نہ کر پائے اور گستاخوں کو جہنم رسید کرتے ہوئے خود جنت کے راہی بنے اور دنیا کو بھی پیغام سے گئے کہ ہمارے نبی کی گستاخی کر کے تم لوگ بھی پچھتاوگے نبی کے دیوانے نبی کے غلام اور امتی نہ پھر جئیں گے نہ جینے دیں گے۔
غازی علم دین کو مسلمانوں کی جانب سے بچانے کی کوششیں کی گئیں لیکن علم دین کی خواہش شہادت تھی۔
یہی وجہ ہے کہ جب اس کی پھانسی کا فیصلہ ہوا تو اس نے دو رکعت شکرانے کے ادا کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔
اور جب یہ مرد مجاھد یہ جری جوان شہید ہو گیا تو تا قیامت اس کا نام امر ہو گیا۔
قیامت تک آنے والے ہر مسلمان کے دل میں زندہ و جاوید ہو گیا ، بس گیا۔
لوگ آج بھی اس کا نام احترام سے لیتے ہیں۔اور قیامت تک لیں گے۔گستاخ رسول کے کے قاتلوں کا نام آتے ہی علم دین کا نام بھی آنکھوں میں جگمگانے لگتا ہے۔
دل اس کی شہادت کی قبولیت کی دعا کرتا ہے۔
تو آنکھوں میں احترام اتر آتا ہے۔
آج بھی دنیا کے کفار گاہے بگاہے گستاخی کرتے رہتے ہیں لیکن غازی علم دین کی مثال جو عامر چیمہ پاکستان کا سپوت دہرا چکا ہے اب بھی دہرائی جاتی رہے گی۔
شروع سے ہی رذیل انسان گستاخیاں کرتے آئے لیکن الحمداللہ مسلمانوں نے اپنے نبی کی حرمت پہ کبھی بھی سمجھوتا نہیں کیا۔
غازی علم دین وہ روشن چراغ ہے جس کہ کہانیاں آج بھی مائیں اپنے بچوں کو فخریہ سنا کر ان کے ذہن منور کرتی ہیں۔
آج مائیں اپنے بچوں کو غازی علم دین کا پیروکار بنانا چاہتی ہیں۔اور رہتی دنیا تک یہ نام حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پہ قربان ہونے والوں کے ناموں میں جگمگانے گا۔
ایک مثال ہے غازی علم دین۔
ایک چراغ ہے غازی علم دین
کسی گستاخ کو جرات سے پہلے

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Isha Naim

Read More Articles by Isha Naim: 13 Articles with 5871 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
31 Oct, 2018 Views: 585

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ