بدھا کے دیس میں قسط نمبر 5

(Raina Naqi Syed, Riyadh)

² چائے کے باغات اورفیکٹری
سفر پھر سے شروع ہوا۔ باہر سر سبز پہاڑوں اور چائے کے باغات کو دیکھ کر احساس ہوا کہ ہم نوارہ علیا ڈسٹرکٹ میں داخل ہو چکے ہیں۔یہاں اپنے ہوٹل پہنچنے سے قبل راستے میں ہم نے چائے کے باغات ،فیکٹری اور رامبودا فالز کو دیکھنا تھا۔

چائےسری لنکا کی پہچان سمجھی جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ 1824ء میں کسی انگریز نے سب سے پہلے چین سےچائے کا ایک پودا منگوا کر پیرادینیا کے نباتاتی باغ میں لگوایا۔لیکن تاریخ میں جیمز ٹیلر نامی انگریز کو سری لنکا میں چائے کی کاشت کا بانی قرار دیا جاتا ہے جنہوں نے 1867ء میں چائے کا پہلا باغ لگایا اگرچہ تجرباتی طور پرچھوٹے پیمانے پر چائے کی کاشت اس سے پہلے سےکی جا رہی تھی۔ اب سری لنکا چائے کا تیسرا بڑا پیداواری ملک ہے اور چائے یہاں کی ثقافت کا حصہ بن چکی ہے۔عوام الناس دن میں کئی مرتبہ چائے نوش فرماتے ہیں اور وہ چائے ہماری چائے سے کئی گنا اسٹرونگ ہوتی ہے۔ہم تو چائے کے نام پر دودھ پیتے ہیں ۔دنیا کی تقریباً 23 فی صدچائے سری لنکا برآمد کرتا ہے۔ یہاں کی تقریباً 5 فی صدآبادی اربوں ڈالر مالیت کی چائے کی صنعت سے وابستہ ہے، جس میں پہاڑیوں سے پتے توڑنا اور کارخانوں میں اس کی تیاری کا کام شامل ہے۔
ہم چائے کے دلفریب باغات کے ساتھ Glenloch نامی برانڈ کی چائے کی فیکڑی بھی دیکھنے کے لئے گئے۔ فیکڑی کے استقبالیے سے ایک خاتون ہمارے ہمراہ کر دی گئی۔جس نے ہمیں فیکڑی کا دورہ کروایا اور بہت کارآمد معلومات دیں۔ کسی قسم کےمیک اپ سے عاری اور بالوں میں تیل لگائے ہوئے ان خاتون نےرواں انگریزی میں ہمیں بریف کرنا شروع کر دیا ۔وہ بہت معمولی قدرےبوسیدہ سی ساڑھی میں ملبوس تھیں ۔وہاں کے لوگوں کی اِسی سادگی نے ہمیں ان کا گرویدہ کر دیا تھا۔ میرے نزدیک وہ اور وہاں کام کرنے والی دیگر خواتین بہت غیر معمولی اور قابل صداحترام تھیں کیونکہ وہ اپنی محنت سے اپنا اور اپنے خاندان کا بوجھ اٹھائے ہوئے تھیں۔

ان خاتون سے مجھے پہلی بار پتہ چلا کہ سیلون بلیک، وائٹ اور گرین ٹی ایک ہی پودے سے حاصل ہوتی ہے، لیکن چائے کے پتوں کی عمر اور سائز میں فرق ہوتا ہے، جس بنیاد پر اسے 3 مختلف گیٹیگریز میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس نے بتایا کہ چائے کا پودا سدا بہار ہوتا ہے اسکی پتیاں ہر سات سے 14 دن بعد میں ہاتھوں سے توڑی جاتی ہیں اس سے پہلے کہ وہ بہت زیادہ بڑی ہو جائیں۔ اگر جڑوں میں پانی زیادہ دیر تک کھڑا رہے تو چائے کا پودا مُرجھانا شروع کردیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چائے کے باغات ڈھلوان پہاڑی علاقے میں ہوتے ہیں تاکہ زمین ناہموار ہونے کی وجہ سے پانی نیچے کی طرف بہتا رہے۔ اس نے ہمیں چائے تیار کرنے کے مراحل سے بھی آگاہ کیا۔پہلا مرحلہ ’ودرنگwithering‘ کہلاتا ہے جس میں پتوں کی نمی دور کرنے کے لیے ہوا کے ذریعے خشک کیا جاتا ہے، جس سے ان کی سطح نرم ہو جاتی ہے۔پھر ایک رولنگ مشین میں ان پتیوں کو تروڑا مروڑا جاتا ہے اور فرمنٹیشن پراسسfermentation process شروع کیا جاتا ہے، جس سے ان کے مختلف ذائقے پیدا ہونا شروع ہوتے ہیں۔ اس کے بعد چائےکوپیکنگ کے لئے روانہ کر دیا جاتا ہے۔

چائے کی تیاری میں استعمال ہونے والی مشینیری کافی پرانی لگ رہی تھی۔یہاں بھی پوری فیکڑی میں خواتین کو ہی کام کرتے دیکھا۔کافی مشقت طلب کام تھامگر وہ سب تیز تیز اپنی اپنی ڈیوٹی میں مصروف تھیں۔آج احساس ہوا کہ ہماری ایک چائے کی پیالی کے پیچھے کتنے لوگوں کی محنت شامل ہوتی ہے۔فیکڑی کے دورے کے بعد ہمیں ٹی لاؤنج لے جایا گیا جہاں مختلف رنگوں اور ذائقے کی چائے سے ہماری تواضع کی گئی۔پھر ان کے سٹور سے چائے کی خریداری کے بعد ہم باہر آ گئے۔

باہر تا حد نگاہ پھیلے ہوئے باغات کا منظر کسی دیومالائی دنیا کا لگ رہا تھا ۔ہر طرف سبز ڈھلوانیں، فرحت بخش اور معطر ہوا اور باغات میں کہیں کہیں چائے چننے والی عورتوں کے رنگین پیرہن ۔۔۔۔بارش کے بعد آسمان پر پھیلی ہوئی قوس و قزح نے اس منظر کو اور بھی جادوئی بنا دیا۔دل میں یکایک اس خواہش نے جنم لیا کہ کاش ادھر ہی ایک ہٹ بنا کر رہائش کر لوں۔پیچھے سے بچوں کے بلانے کی آوازیں مجھے اس دیو مالائی دنیا سے باہر لے آئیں اور ہم گاڑی میں بیٹھ کر حیرتوں سے بھرپور اگلے مناظردیکھنے روانہ ہو گئے۔

ایک سیاح کے لئے ایسے نظارے بہت حسین اور تفریح بخش ہوتے ہیں مگر ان مناظر کی اسٹیج کے حقیقی کرداروں کے لئے یہ سب شاید اتنا خوبصورت اورپُر راحت نہ ہو۔اس بات کا احساس مجھے اس وقت ہوا جب مجھے چائے کی انڈسٹری میں کام کرنے والوں کے حالات کا علم ہوا۔

پتیاں چننے کےکام کا آغاز صبح ساڑھے سات بجے کیا جاتا ہے۔پتیاں چننے والی خواتین اِن پتیوں کو اپنی پشت پر اٹھائے ہوئے ترپال کے تھیلوں میں جمع کرتی ہیں ۔ اس کام کی مشکل نوعیت کی وجہ سے چائے کی پتیاں چننے والے افراد کے ہاتھ عموماً بہت سخت ہوجاتے ہیں۔ سارا دن ان پتوں کا وزن ہوتا رہتا ہے اور چائے کے پتے چننے والے اگر دن میں 18 کلوگرام کا کوٹہ پورا کر لیں تو انھیں اس کی اجرت 600 سری لنکن روپے ملتی ہے۔اگر وہ یہ ہدف پورا نہ کر سکیں تو انھیں 300 سری لنکن روپے ملتے ہیں۔

جن گھروں میں یہ مزدور خاندان رہتے ہیں ان میں سے کچھ برطانویوں کے تعمیر کردہ ہیں جن کو 1920 کی دہائی میں تعمیر کیا گیا تھا۔اس وقت سے یہ عمارتیں کم ہی تبدیل ہوئی ہیں۔ بہت ساری عمارتوں میں صرف بجلی یا پانی دن میں چند گھنٹے کے لیے میسر ہوتا ہے، یا پھر بالکل نہیں ہوتا۔

خواتین اس مزدوری کے ساتھ ساتھ روزمرہ کےگھریلو کام بھی سر انجام دیتی ہیں جیسا کہ کھانا پکانا، صفائی کرنا اور بچوں کی دیکھ بھال کرنا۔کپڑے دھونا یا نہانا، ندیوں اور دریاؤں کے کنارے کیے جاتے ہیں کیونکہ کچھ علاقوں کے گھروں میں صرف تین دن کے بعد پانی مہیا کیا جاتا ہے جسے کنٹینروں میں جمع کرنا ہوتا ہے۔ایسے علاقوں میں بچےکئی کئی میل پیدل چل کر سکول جاتے ہیں۔۔(بشکریہ:اردو پوسٹ)

دنیا کے اس حسین خطے کے محنت کش باسیوں کے حالات جان کر میرا دل دکھ سے بھر گیا۔۔بے شک امیر اور غریب کا یہ فرق اور وسائل زندگی کا یہ تفاوت ہمیں دنیا میں ہر جگہ نظر آتا ہے مگرخالق کائنات نے رزق اور وسائل کی فراہمی میں کوئی فرق نہیں رکھا،وہ تو ربّ العالمین یعنی سب جہان والوں کا پالنے والاہے ۔۔۔۔ یہ فرق انسانوں کا پیدا کردہ ہے اور مجموعی طور پراس کا حل بھی اسی وقت ہو سکتا ہے جب اس کو اجتماعی انسانی مسئلہ جان کر اس کے حل کے لئے پالیسیاں تشکیل دیں جائیں گی۔

بے شک امارت و غربت کی رنگا رنگی قدرت کے نظامِ آزمائش کا حصہ ہے لیکن کم از کم ہر انسان کوبنیادی ضروریاتِ زندگی کی فراہمی ضرور ممکن ہونی چاہیے جیسا کہ ترقی یافتہ اقوام میں نظر آتا ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں اصل مسئلہ وسائل کا فقدان نہیں بلکہ وسائل کی درست تقسیم کا ہے دنیا میں افلاس اور معاشی ناہمواری کی ذمہ داری خود انسانی برادری پر عائد ہوتی ہے جس میں ہم میں سے ہر ایک کا اپنے اپنے درجہ میں حصہ شامل ہے ۔

گاڑی سےباہر اب بھی الف لیلوی دنیا کے حسین مناظر آنکھوں کے سامنے تھے مگر میرے اندر کی آنکھ اب کچھ اور دیکھ رہی تھی۔۔۔دُور عورتیں اب بھی پتیاں چُنتی دکھائی دے رہی تھیں۔۔میں نے سوچا یوں بھی تو ہو سکتا تھا کہ میں وہاں اور ان میں سے کوئی میری جگہ پرہوتی !!!میری جاہ نہ کوئی میرا کمال اور ان کی جگہ نہ ان کا کوئی قصور!!! دونوں ہی قدرت کی طرف سے آزمائش ہیں۔ دنیا میں کسی کو دے کر آزمایا جارہا ہے اور کسی کونہ دے کر۔۔۔
جاری ہے

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Raina Naqi Syed

Read More Articles by Raina Naqi Syed: 8 Articles with 5598 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
13 Nov, 2018 Views: 887

Comments

آپ کی رائے