خان صاحب اندھیری راہ پہ نہ جائیے

(Isha Naim, Lahore)

پی ٹی آئی نے پاکستانی قوم کو نیا پاکستان کا خواب دکھایا۔
ساری قوم پی ٹی آئی کی محبت میں غرق ہونے لگی۔
اس کو چن لیا گیا دو چار قدم ایسے چلی کہ مذہبی طبقہ بھی اش اش کر اٹھا۔
نئے راستے تلاش کیے گئے لیکن نئے راستے وہی ہونے چاہئیں جن پہ چل کر روشنیوں میں پہنچ جائیں نہ کہ اندھیروں میں اتر جائیں۔ جن پہ چل کر پھولوں کی وادیوں میں اتر جائیں نہ کہ کانٹوں میں الجھ کر لہو لہان ہو جائیں۔
پی ٹی آئی کی محترمہ عاصمہ صاحبہ فرماتی ہیں کہ
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز شروع کی تو خانہ کعبہ کی طرف رخ کرتے تھے پھر یہودیوں کو خوش کرنے کے لئے اپنا منہ اقصی کی طرف کر لیا،
پھر قرآن پاک میں حکم آیا کہ خانہ کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھو تو مسلمانوں کی آسانی کے لئے یہ فیصلہ کر دیا گیا کہ بیت المقدس یہودیوں کا ہے اور خانہ کعبہ مسلمانوں کا۔اور اس دن مسلمان اور یہودیوں کی لڑائی ختم ہو جانی چاہیے تھی۔
ہم یہاں اپنے دلائل تو دے ہی نہیں سکتے بلکہ قرآن سے ہی رجوع کرنا بہتر ہے
جہاں اللہ رب العزت فرما تے ہیں
عنقریب یہ نادان لوگ کہیں گے کہ جس قبلہ پر یہ تھے اس سے کس چیز نے ہٹایا؟ آپ کہہ دیجیے کہ مشرق و مغرب کا مالک اللہ تعالی ہی ہے۔ وہ جسے چاہے سیدھی راہ کی ہدایت کردے ۔
(سورہ بقرہ آیت نمبر 141)
ابن کثیر اس کی تفسیر یوں کرتے ہیں
تحویل کعبہ بھی ایک امتحان تھا۔ نادان سے مراد مشرکین عرب اور علما یہود تھے۔
حضرت برا رضی اللہ تعالی سے روایت ہے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سولہ سترہ ماہ تک بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے رہے لیکن آپ کی خواہش تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قبلہ بیت اللہ ہو۔
چنانچہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز پڑھ رہے تھے تو اللہ کا حکم آ گیا تو آپ نے عصر کی نماز اسی طرف منہ کر کے پڑھی ۔
محترمہ فرماتی ہیں کہ پہلے خانہ کعبہ کی طرف منہ کر کے پڑھتے تھے۔
حالانکہ اللہ کے حکم کے سوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی کام نہ کرتے تھے۔ خود سےکعبہ کیسے چن لیتے اور اس بات کا وجود سرے سے ہے ہی نہیں ۔
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہودیوں کو خوش کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا
اگر غور کریں تو بہت بڑی بات کہہ دی محترمہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عبادت کرتے بھی یہود کی خوشنودی کو ملحوظ رکھتے تھے۔
محترمہ نے کہا کہ اللہ نے یہود کا کعبہ بیت المقدس کو کہا اس کا مطلب کہ دین اسلام کے علاوہ پچھلے مذہب بھی قابل قبول ہیں
جبکہ اللہ رب العزت نے کہہ دیا کہ اللہ نے تمہارے لئے دین اسلام ہی پسند کیا ہے ۔
محترمہ کہ بات مان لی جائے تو اللہ نے یہودی مذہب کو بھی قیامت تک قبول کر لیا۔
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سارے جہاں کے نبی نہ ہوئے (استغفراللہ)
آگے فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ نے بھی یہود کے ساتھ مل کر کام کیا تھا کام نہیں بتایا جبکہ یہود ہمیشہ سے دھوکے باز رہے ہیں جنگ خندق میں بھی دھوکا کیا۔ اس کا ذکر نہیں کیا بی بی نے۔
اور پھر قرآن پاک کے پارہ نمبر دو میں ہے
ترجمہ: ہم نے اسی طرح تمہیں عادل امت بنایا ہے تاکہ تم گواہ ہو جاؤ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم پر گواہ ہو جائیں۔ جس قبلہ پر تم پہلے تھے اسے ہم نے صرف اس لئے مقرر کیا تھا تاکہ ہم جان لیں کہ کون رسول کا سچا تابعدار ہے اور کون اپنی ایڑیوں پہ پلٹ جاتا ہے گو کہ یہ کام مشکل ہے۔ مگر جنھیں اللہ نے ھدایت دی۔
اللہ تعالی تمہارے ایمان ضائع نہیں کرے گا اور اللہ لوگوں پر شفقت اور مہربانی کرنے والا ہے۔
عادل امت سے مراد ہے کہ یہ امت اب دنیا کی حکمران ہو گی اچھائی کو پھیلائے گی اور برائی سے روکے گی۔
دنیا میں ہونے والے ظلم و ستم اور برائیوں کا جواب دے گی اور نیکی پھیلائے گی۔
تفسیر ابن کثیر میں ابن کثیر فرما تے ہیں
اس آیت میں اللہ نے عرب کے مشرکین اور یہود علما کے ایمان جاننے کی بات کی کیونکہ عرب بھی اپنے آپ کو اعلی سمجھتے تھے اور وہ خانہ کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا پسند کرتے تھے تو پہلے جو منہ بیت المقدس کی طرف تھا تو یہ ان کا امتحان تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری کرتے ہیں یا نہیں اور پھر جو خانہ کعبہ کی طرف کیا تو یہ یہودیوں کا امتحان تھا جو مسلمان ہو گئے تھے کہ اپنا رخ خانہ کعبہ کی طرف کرتے ہیں یا اپنی ایڑیوں پر پلٹ جاتے ہیں مطلب مرتد ہو جاتے ہیں؟
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی خواہش تھی کہ اب رخ خانہ کعبہ کی طرف ہونا چاہیئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے وقت بار بار آسمان کی طرف دیکھتے تھے۔ اور اللہ کے حکم کے منتظر رہتے تھے۔
چنانچہ سورہ بقرہ کی آیت نمبر 144 میں اللہ فرما تے ہیں
ترجمہ ۔
ہم آپ کے چہرے کو بار بار آسمان کی طرف اٹھتا ہوا دیکھ رہے ہیں اب ہم آپ کو اس قبلہ کی طرف متوجہ کریں گے جس سے آپ خوش ہو جائیں آپ اپنا منہ مسجد حرام کی طرف پھیر لیں اور آپ جہاں کہیں بھی ہوں اپنا منہ اسی طرف پھیرا کریں۔اہل کتاب کو اس بات کا اللہ کی طرف سے ہونے کا قطعی علم ہے
اور اللہ تعالی اس بات سے غافل نہیں جو یہ کرتے ہیں ۔
اس کی تفسیر محترمہ عاصمہ صاحبہ نے کچھ کی کچھ کی۔
جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کی طرف منہ کرنا چاہتے تھے تو اس کا مطلب یہ بھی تھا کہ اب یہود کی شریعت و امامت ختم ہو چکی تھی اب مسمانوں کو امامت مل چکی تھی سو قبلہ بھی مسلمانوں کا اپنا ہونا چاہیے تھا۔
پا کستان میں لبرل طبقہ کبھی قرآن و حدیث کی بات کو قبول نہیں کرتا لیکن عوام کی اکثریت قرآن و حدیث سے پیار کرنے والی ہے سو جب بھی عوام کو الٹی سیدھی بات سکھانی ہو تو یہ لوگ فورا قرآن و حدیث اٹھا کر اپنے پاس سے تشریح و تفسیر شروع کر دیتے ہیں تاکہ عوام کو بےوقوف بنایا جا سکے ۔
یہاں محترمہ جانتی تھی کہ اسرائیل کا تسلیم کرنے کی بات ایک ایسے دہشت گرد ظالم ملک کو تسلیم کرنے کی بات کرنا آسان نہیں جو مسلمانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ رہا ہے سو عاجزانہ انداز بھی اختیار کیا اور مسلمانوں کو کٹنے سے بچانے کے لئے اسرائیل کے ساتھ دوستی کا پیغام دیا ۔
اور تو اور فرماتی ہیں کہ ہم نماز میں درود پڑھتے ہیں تو یہود پہ بھی درود بھیجتے ہیں دعائیں دیتے ۔
اللہ ھدایت دے ۔
جبکہ ہم تو نماز کے آغاز میں ہی پڑھتے ہیں
اهدنا الصراط المستقيم صراط الذين أنعمت عليهم غير المغضوب عليهم ولا الضالين
ہمیں چلا سیدھے راستے پہ ان لوگوں کے راستے پہ جن پہ تو نے انعام کیا
نہ کہ ان کہ جن پہ تونے غضب کیا اور نہ ان کی جو گمراہ ہوئے ۔
علما اس کی تفسیر کرتے ہیں کہ اس سے مراد یہود و نصاری ہیں ۔
جن کی راہ سے ہم شروع میں اللہ سے بچنے کہ دعا کرتے ہیں ، جو غضب کئے گئے ہیں ،جو گمراہ ہوئے ہیں آخر میں جا کر ہم ان پہ درود پڑھتے ہیں اور دعائیں کرتے ہیں ان کے لئے ؟
آپ ہی کچھ بتلائیے کہ ہم بتائیں کیا ؟
ہم مان سکتے ہیں کہ شاید محترمہ کا علم دین کے متعلق کم ہے ۔پہلا تو سوال یہ کہ کم ہے تو بات ہی کیوں کی ؟
دوسرا سوال ہے کہ بات صرف یہود کے حق میں سمجھ آئی ساری ؟
تیسرا سوال ہے کہ اسمبلی میں جو لوگ اپنے لیڈر کو برا کہنے پہ چیخ و پکار شروع کر دیتے ہیں کبھی مسودوں کی کاپیاں پھاڑ دیتے ہیں تو قرآن کی تعلیم سے اسلام سے سبھی بے بہرہ تھے کسی کو سمجھ نہیں آئی کہ کیسے غلط مطلب نکالے جا رہے ہیں؟
کیسے مسلمانوں کو نیچا ظاہر کرنے کہ کوشش کی گئی کہ ان قوموں پہ ہم درود و سلام بھیجتے ہیں ۔
محترمہ تسلیم کرتی ہیں کہ مسلمان ہی کٹ رہے ہیں لیکن ہمیں یہود کو برا نہیں کہنا چاہیئے جبکہ مسلمانوں کو جگہ جگہ خون میں نہلا کر بھی دہشت گرد کہا جاتا ہے وہ نظر نہیں آیا؟
یہود پہ تو اللہ بھی لعنت کرتا ہے ہم کیسے اعلی مان لیں ؟
اور محترمہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا شجرہ نسب ہی بدل دیا اور کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تو بنی اسرائیل سے ہیں ۔
جبکہ ابراہیم علیہ السلام کے پوتے یعقوب علیہ السلام جو حضرت اسحاق علیہ السلام کے بیٹے تھے عبرانی لقب اسرائیل تھا لہذا ان کی اولاد بنی اسرائیل کہلائی ۔
جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دوسرے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔
رہ گئی درود کی بات تو اسلام میں صرف دین کے رشتے ہیں جو گمراہ ہو جائے اس کے ساتھ تعلق بھی نہیں ہوتا وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں بھی شامل نہ ہوگا ۔جیسا کہ اللہ نے حضرت نوح علیہ السلام کو کہا تھا کہ یہ تمہاری اولاد نہیں ۔
سو یہ جو بڑے ہی میٹھے اور بھولے بھولے انداز سے خنجر اتارنے کی مذموم کوشش کی جارہی ہے اس سے باز رہیں ورنہ اللہ کے غضب سے کوئی نہیں بچ سکتا ۔
پہلے آسیہ کہ رہائی اب نظر ثانی کیس چلنے سے پہلے ہی وزرا فرما تے ہیں فیصلے کے بعد آسیہ جہاں چاہے گی رہے گی ۔ اس کا کیا مطلب ؟
اور دوسرے صاحب فرما تے ہیں آسیہ کا فیصلہ غور سے پڑھا ہی نہیں گیا ؟
ہمیں بات کی سمجھ آ رہی ہے لیکن ہم خان صاحب سے کہتے ہیں یہ سب چلتا رہا تو آپ کا انجام نواز شریف سے بھی بدتر ہوگا ۔سو اپنی راہ متعین کیجیے اپنے وطن و دین کے مطابق ۔مدینہ جیسی ریاست کا نعرہ لگا کر ہمیں پاگل بنانے کی کوشش کی بجائے اخرت کا سو چیے ۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Isha Naim

Read More Articles by Isha Naim: 13 Articles with 5885 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 Nov, 2018 Views: 221

Comments

آپ کی رائے