کیا ہمیں اسرائیلی ریاست کو تسلیم کرنا چاہئیے؟

(Sohail Ahmed Zia, Karachi)

پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والی رکن قومی اسمبلی عاصمہ حدید کی ہاؤس میں اسرائیل کے ساتھ مل کر چلنے والی تقریر کے بعد سے سوشل میڈیا پر صارفین کا سب سے زیادہ زیرِ بحث یہی موضوع رہا ہے. اور تقریباً ہر کس و ناکس نے اس حوالے سے اپنی رائے اور تجزیہ پیش کیا ہے. اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے حامی اور خواہاں حضرات نے عقلی دلائل اور اخلاقیات کا درس دیتے ہوئے تعلقات قائم کرنے کے حق میں بہت کچھ لکھا جبکہ دوسری طرف اس تعلقات کے مخالفین نے بھی اس ناجائز ریاست اور اس کے فلسطینی علاقوں کو زبردستی قبضہ کرنے کی وجہ سے زبردست مخالفت بھی کی ہے.

اسرائیل کو تسلیم کرنے اور یہود و نصاریٰ کو دوست بنانے کے حوالے سے تبدیلی کے دعوے دار پی ٹی آئی کے کئی دوستوں نے علماء کرام کو آسان ہدف سمجھ کر نہ جانے کیا کچھ کہا. مسلم ہسٹری سے ناواقف اور تاریخ اسرائیل سے نابلد ایسے دوستوں کی خدمت میں صرف یہ ایک آیت کریمہ ، ایک حدیث مبارک اور بابائے قوم کا اس حوالے سے مؤقف پیش کرتا ہوں کہ شاید ان کو کچھ حقیقت حال معلوم ہوجائے اور اپنی سوچ کا زاویہ درست کریں۔.
یہود و نصاریٰ سے دوستی کرنے کے حوالے سے اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر فرمایا ہے :
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوا الۡیَہُوۡدَ وَ النَّصٰرٰۤی اَوۡلِیَآءَ ۘؔ بَعۡضُہُمۡ اَوۡلِیَآءُ بَعۡضٍ ؕ وَ مَنۡ یَّتَوَلَّہُمۡ مِّنۡکُمۡ فَاِنَّہٗ مِنۡہُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۵۱﴾ (المائدہ 51)
اے ایمان والو! تم یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ (١) یہ تو آپس میں ہی ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ (٢) تم میں سے جو بھی ان میں سے کسی سے دوستی کرے وہ بیشک انہی میں سے ہے، ظالموں کو اللہ تعالیٰ ہرگز راہ راست نہیں دکھاتا۔ (٣)
اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی روایت ہے :
عن ابن عباس رضي الله عنهما أن النبي عليه الصلاة والسلام قال:
" أَخْرِجُوا الْمُشْرِكِينَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ"
وفي صحيح مسلم من حديث عمر رضي الله عنه أنه عليه الصلاة والسلام أمر بذلك :
" لَئِنْ عِشْتُ إِنْ شَاءَ اللهُ، لَأُخْرِجَنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ"
وجاء في حديث عائشة عند أحمد:
" لَا يَجْتَمِعُ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ دِينَانِ"
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مشرکین (یہود و نصاریٰ) کو جزیرہ عرب سے باہر نکالو.

اور صحیح مسلم میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
" اگر میں زندہ رہا تو ان شاءاللہ جزیرہ عرب سے یہود و نصاریٰ کو نکال کر باہر کردوں گا".
اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ :
" جزیرہ عرب میں دو دین جمع نہیں ہوسکتے".

اسی طرح جب اسرائیل نے سفارتی تعلقات کے لیے بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کو ٹیلی گرام پیغام بھیجا تو ان کا جواب تھا :
" یہ امت کے قلب میں خنجر گھسایا گیا ہے، یہ ایک ناجائز ریاست ہے جسے پاکستان کبھی تسلیم نہیں کرے گا ‘‘
قائداعظم نے اسرائیل کو سفارتی تعلقات کے لیے بھیجے گئے ٹیلی گرام کے جواب میں یہ سخت ترین الفاظ تحریر کئے تھے۔ .

اب آپ ذرا غور سے اسرائیل کا نقشہ دیکھئے یہ کسی خنجر سے ہی مشابہ محسوس ہوتا ہے، دلچسپ بات یہ ہے کہ اسرائیل نے یہ شکل قائداعظم کی وفات کے کئی عشرے بعد اختیار کی ۔آج یہ خنجر امت کو لہو لہان کر رہا ہے۔ زیرک، دور اندیش اور دانا قائداعظم محمد علی جناح نے 1937ء میں ہی فلسطین کو درپیش خطرات کو محسوس کرتے ہوئے ممکنہ یہودی ریاست کے خلاف آواز اٹھانی شروع کر دی تھی اور غالباً برصغیر میں وہ اس وقت سب سے طاقتور آواز تھی۔ دوسری جنگ عظیم میں قائداعظم نے یہودیوں کو فلسطین میں بسانے کی کوشش کرنے پر امریکہ پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا:
’’ یہ نہایت ہی بے ایمانی کا فیصلہ ہے اور اس میں انصاف کا خون کیا گیا ہے‘‘

اس وقت قائداعظم نے عربوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اپنے حقوق کے لیے ڈٹ جائیں اورخبردار ایک یہودی کو بھی فلسطین میں داخل نہ ہونے دیں۔قیام پاکستان کے بعد اقوام متحدہ کی طرف سے تقسیم فلسطین کے فیصلے پر نکتہ چینی کرتے ہوئے بانی پاکستان نے بی بی سی کے نمائندے کو بتایا کہ برصغیر کے مسلمان تقسیم فلسطین کے متعلق اقوام متحدہ کے ظالمانہ، ناجائز اور غیر منصفانہ فیصلے کے خلاف شدید ترین لب و لہجہ میں احتجاج کرتے ہیں۔ ہماری حس انصاف ہمیں مجبور کرتی ہے کہ ہم فلسطین میں اپنے عرب بھائیوں کی ہر ممکن طریقے سے مدد کریں.

قائداعظم نے اندیشہ ظاہر کیا کہ:
" اگر تقسیم فلسطین کا منصوبہ مسترد نہیں کیا گیا تو ایک خوفناک ترین اور بے مثال چپقلش کا شروع ہو جانا ناگزیر اور لازمی امر ہے ایسی صورت حال میں پاکستان کے پاس اس کے سوا اور کوئی چارہ کار نہ ہوگا کہ عربوں کی مکمل اور غیرمشروط حمایت کرے‘‘

اسرائیل کے خلاف قائداعظم کی اس پالیسی پر عمل کیا گیا جب پہلی عرب اسرائیل جنگ چھڑی تو پاکستان نے چیکوسلاواکیہ سے ڈھائی لاکھ رائفلیں خرید کر عربوں کو دیں اور تین جنگی جہاز اٹلی سے خرید کر مصر کے حوالے کیے تاکہ وہ اسرائیل سے اپنا دفاع کر سکیں۔ جبکہ ابھی پاکستان خود بھی ایک نوزائیدہ ریاست تھی.
یہ چند سطور اس غرض سے تحریر کی کہ شاید تبدیلی کے خواہاں دوست حضرات بھی ذرا اسرائیل کے حوالے سے اپنا مؤقف درست کرکے واضح کر لیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sohail Ahmed Zia

Read More Articles by Sohail Ahmed Zia: 5 Articles with 2637 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
15 Nov, 2018 Views: 332

Comments

آپ کی رائے