آزادحکومت عدلیہ کی اچھی مثالیں اورکرسیوں پہ بیٹھی بھینسیں

(Tahir Farooqi, muzaffrabad azad kashmir)
آزادحکومت عدلیہ کی اچھی مثالیں اورکرسیوں پہ بیٹھی بھینسیں

صدر مملکت عارف علوی کا پہلا انٹرویو حامد میر کر رہے تھے جن کا سوال تھا ایوان صدر میں بھی کوئی بھینس تھی جواب نفی میں ملا مگر سادہ لباس سادہ کرسی ‘ دوستانہ انداز میں سب سوالات کا مدبرانہ جواب عام آدمی کے ایشوز ان کے حل کیلئے قابل عمل خیالات خصوصاً تعلیم ‘ صحت ‘ ماحولیات پر فکر مندی ایوان صدر کو مستقبل کے معمار نونہالوں کے دوروں ‘ ملاقاتوں کیلئے کھولنے عید میلاد النبی ؐ کے تناظر میں یتیمٰا ‘ مساکین بچوں کے ساتھ محفل میلاد کے انعقاد کے فیصلے سے عیاں ہوتا تھا ‘ قدرت نے ملک و ملت پر مہربانی کی ہے تو عمران خان نے ماضی کی طرح بے زبان ہیں بلکہ قرآنی علم دنیاوی تعلیمات ملک و عالم نو کے احوال سے باخبر درد انسانیت عجز و انکساری کے پیکر صدر مملکت کا انتخاب کیا ہے جس کا انکشاف واقعہ سناتے ہوئے حامد میر نے کیا،بطورایم این اے عارف علوی نے پنجاب میں سرکاری زمین قبضے سے بچاتے ہوئے بے سہارا یتیم مساکین بچوں کی پرورش تعلیم کا ادارہ قائم کرایا جو کامیابی سے چل رہا ہے ‘ بچوں کی پرورش تعلیم کا ادارہ قائم کرایا جو کامیابی سے چل رہا ہے یہ جذبہ خیر توفیق اللہ بغیر ممکن نہیں ہے جس کی باعمل موجودگی ‘ بھلائی ‘ روشنی کی اُمیدیں ہیں اور بھینس بکریوں کی طرح کے ذاتی وفاداری کی بنیاد پر کرسیوں پر بٹھانے والے ظلم کرتے رہے ہیں جس کے باعث قدرت کی تمام تر عنائیات ‘ ضیافتوں کے باوجود ملک مسائل کی دلدل بن گیا ‘ عورتوں کے بطور بیٹی بہن حق جائیداد محفوظ بنانے کیلئے ایک سال تک کسی دوسرے کو منتقل نہ کرنے موٹر سائیکل سواروں کو ہلمٹ نہ رکھنے پر بطور جرمانہ ہلمٹ خریدنے کا جرمانہ شاندار فیصلے ہیں ایک انصاف دوسرا زندگی سے عبارت ہے اور رعایا کے ساتھ انصاف انکی زندگیوں کے تحفظ کافر حکومت بھی کرے تو رب ترقی خوشحالی کامیابیاں عطافرماتا ہے ‘ ایک وقت تھا سیاست عوامی مزاج تعلیمی شرح خواندگی کے حوالے سے پورے ملک کیلئے آزادکشمیر کی فخریہ مثالیں پیش کیں جاتی تھیں ‘ پنجاب اسلام آباد آگے جا چکے ہیں مگر یہاں وہی رٹا رٹایا جملہ چل رہا ہے ‘ ٹھیکہ سسٹم قائم اور قرابت ذاتی ‘ وفاداری یا دام شرائط چلی آ رہی ہیں گو کہ وزیراعظم فاروق حیدر نے این ٹی ایس نافذ کر کے بیریئر لگا دیا تھا اور آغاز میں واقعتا غریب مزدور کم آمدنی سفارش ‘ اثرورسوخ سے محروم گھرانوں کے بچوں کو انصاف ملا مگر اس نیک نامی شہرت کی آڑ میں ناجائز استفادہ بیڑہ غرق کر رہا ہے جس پر سینئر وزیر طارق فاروق بھی حیران رہ گئے کیا گل کھلائے جا رہے ہیں دوسرے ہلمٹ کے نام پر سارے آزادکشمیر خصوصاً دارالحکومت کے ہر چوک چوراہے پر ٹریفک پولیس کے ناکے ٹریفک رش کو مزید گھمبیر بناتے ہوئے جرمانوں کی تاریخ کا نیا باب رقم کر رہے ہیں کیوں کہ اس پر کمیشن رکھ دیا گیا ہے کوئی شک نہیں جس طرح موٹر سائیکلوں کی برق رفتاری بے شمار حادثات اور قیمتی جانوں کے ضیاع کا سبب بنی ہوئی ہے اس کے بعد موٹر سائیکل ضبط کر کے نیلام بھی کر دیے جائیں تو ماں باپ پر احسان ہو گا مگر اس کی آڑ میں بھی معمولی بات پر جرمانے کے بجائے ٹریفک پولیس شہر میں ناقص ہلمٹ فروخت کے تدارک کیلئے خود معیاری ہلمٹ خلاف ورزی کرنے والے کو جرمانہ کرتے ہوئے تھمائے زیادہ بہتر ہو گا ‘ نیز پولیس انتظامیہ سمیت تمام محکموں اداروں کے اوپر سے نیچے تک آفیسران کو پابند کیا جائے اپنے فرائض اُمور قانون ضابطے کے مطابق بروقت یقینی بنائیں نہ کہ وزیراعظم وزیر مشیر برائے آفیسر فون ‘ پرچی سفارش کا انتظار کرے رائج عمل معذور مفلوج نفسیات کے باعث جنگلات سے لے کر قیمتی اراضیوں پر قبضے لاقانونیت ظلم نے نظام سماج کو ہجڑہ بنا رکھا ہے جس کے ذمہ دار آفیسر ہو یا کھڑبینچ ہو اس کو جیل سڑنا چاہیے اور کارکردگی ترقی تبادلے کی شرط ہو فاروق حیدر حکومت کا حالیہ ڈاکٹرز میڈیکل طلبہ کیلئے نئی داخلہ اور سروس پالیسی کا نفاذ بڑا کام ہے‘ آزادکشمیر کے کوٹہ پر ملک کی تمام میڈیکل یونیورسٹیز کالجز میں مختص سیٹوں اور یہاں تینوں میڈیکل کالجز میں داخلے تعیناتی قابل عمل تجربہ کیا جا رہا ہے طلبہ کے داخلے کے وقت ضمانتی بانڈز لیے جائیں کہ تعلیم ہاؤس جاب کے اختتام پر سروس میں آنے کے بعد پہلے دو سال اپنے آبائی ضلع دیہات میں ڈیوٹی لازمی کریگا جس کے بعد میڈیکل کونسل اور یونیورسٹی کالج کی ڈگری ‘ لائسنس صحت عامہ سیکرٹریٹ کی این او سی سے ملے گی بصورت دیگر تعلیمی اخراجات داخل خزانہ کرانے ہوں گے گو کہ یہ معیوب فیصلہ ہے مگر معاشرتی مزاج کیفیت کی بدحالی کا نتیجہ ہے جب ہر شخص غلط بات غلام کام پر شکایت کرے اور اسے غلط کہنے کے بجائے قرابت داری ‘ تعلق داری اور ذاتی چھوٹے چھوٹے مفاد دلچسپی کو فوقیت دے گا تو اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے ہائی کورٹ میرپور ‘ کوٹلی ‘ راولاکوٹ سرکٹ میں ایک ماہ کے اندر بارہ سو مقدمات کا فیصلہ تاریخی ریکارڈ ہے جن میں 1970 اور 1968 سے زیر سماعت مقدمے شامل ہیں ‘ یہ فاروق حیدر حکومت اور عدلیہ کا مشترکہ سہرا ہے جوججز کی کمی پوری کرنے کا نتیجہ ہے ‘ جسے قائم دائم رکھتے ہوئے کم از کم تعمیراتی منصوبوں فلاحی کاموں میں ماضی کی فروخت کردہ زمینوں کے دوبارہ معاوضہ جات کے حصول قبضوں بغیر کام کاج گھر بیٹھے تنخواہیں لینے والوں سے متعلق حکومت عدلیہ کی سطح پر انصاف قانون کا ناجائز استفادہ کرنے کے تدارک کا اہتمام ناگزیر ہے ‘ ایوان صدر وزیراعظم کابینہ محکموں سمیت تمام اداروں میں انفرادی کارکردگی کو یک نکاتی ثبوت معیار بنانا چاہیے تاکہ مسائل مشکلات کا حل خود کار ہو جائے اور بیرون ملک کشمیر کاز دوروں سمیت عدلیہ محکموں کی کارکردگی پر رپورٹس پر بحث کا اہتمام خود احتسابی کے آغاز سے کیا جائے ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tahir Farooqi

Read More Articles by Tahir Farooqi: 205 Articles with 71133 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
19 Nov, 2018 Views: 504

Comments

آپ کی رائے