غاصب کون اسرائیلی یا فلسطینی ؟

(محمد اعظم, لاہور)
غاصب یہودی ریاست کو بعض مسلم ممالک بطور ایک آزاد ملک تسلیم بھی کرچکے ہوئے ہیں شائد پاکستانی حکومت بھی قرضے لینے کے بہانے سےاپنے ایجنڈے کو تبدیل کر چکی ہے لیکن پی ٹی آئی حکومت کو مسلمان امت اور قائداعظم محمد علی جناح کے موقف کو دیکھنا چاہئےجو قرآن و سنت کا موقف ہے اور حکومت کو یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ پاکستان کے مسلمان کبھی بھی اپنے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ خیانت نہیں کر یں گے ۔

غاصب اسرائیلی ریاست نا منظور

یہود و نصاریٰ سے دوستی کے حوالے سے اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر فرمایا ہے :
اے ایمان والو! تم یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ (١) یہ صرف آپس میں ہی ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ (٢) تم میں سے جو بھی ان میں سے کسی سے دوستی کرے وہ بیشک انہی میں سے ہے، ظالموں کو اللہ تعالیٰ ہرگز راہ راست نہیں دکھاتا۔ (المائدہ 51)
آج کل بعض مسلم ممالک میں مقبوضہ فلسطین کوایک آزاد اور خود مختار یہودی ریاست تسلیم کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں، جس کی تازہ ترین مثال رکن قومی اسمبلی عاصمہ حدید کی حالیہ تقریر ہے جس میں انہوں نے اسرائیل کو تسلیم کرنے اور اسرائیل کی دوستی کی طرف ہاتھ بڑھانے کا کہا ہے اس عورت کے بیان سے صاف پتا چل رہا ہے کہ یہ زبان سے تو اپنے آپ کو مسلمان کہہ سکتی ہے لیکن اس کے دماغ اور سوچ میں صرف یہودیت بھری ہوئی ہے ۔
غاصب یہودی ریاست کو بعض مسلم ممالک بطور ایک آزاد ملک تسلیم بھی کرچکے ہوئے ہیں شائد پاکستانی حکومت بھی قرضے لینے کے بہانے سےاپنے ایجنڈے کو تبدیل کر چکی ہے لیکن پی ٹی آئی حکومت کو مسلمان امت اور قائداعظم محمد علی جناح کے موقف کو دیکھنا چاہئےجو قرآن و سنت کا موقف ہے اور حکومت کو یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ پاکستان کے مسلمان کبھی بھی اپنے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ خیانت نہیں کر یں گے ۔
اس یہودی ریاست کو تسلیم کرنے کا مطلب بہت واضح ہے
1۔ ہم نے یہودیوں کے عالمی اقتدار کے حصول کے صدیو ں پرانے منصوبے اور پروٹوکولز (Protocols) کی حمایت کا اعلان کر دیا اور مان لیا کہ دنیا پر حکمرانی کا حق صرف یہود کو ہے۔
2۔ ہم نے مقدس سر زمین پرقابض یہودی درندوں کے توسیع پسندانہ عزائم کی بھی حمایت کر دی، جو وہ نیل(مصر)سے لے کر فرات (عراق) تک، جس میں مدینہ منورہ سمیت تقریباً تمام عرب علاقے شامل ہیں، پر مشتمل گریٹر اسرائیل نامی ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں۔
3۔ ہم نے اسرائیل کو تسلیم کر کے گویا یہ مان لیا کہ اسرائیل ایک آزاد اور خود مختار ملک ہے۔ یہ فلسطینی سرزمین پر قابض نہیں ہے۔
4۔ اسرائیل کو ایک آزاد ملک مان کر گویا ہم نے تسلیم کر لیا کہ یہ ریاست جس جگہ پر قائم ہے یہ یہودیوں ہی کی ملکیت ہے، یہود ہی اس کے حقیقی مالک ہیں۔
5۔ ہم نے مقبوضہ عرب اور فلسطینی علاقوں پر قابض ریاست کو تسلیم کر کے گویا یہ اقرار کر لیا کہ اب مقبوضہ علاقوں پر فلسطینی مسلمانوں کا کوئی حق نہیں۔
6۔ ہم نے اسرائیل کو تسلیم کر کے گویا یہ اعلان کر دیا کہ فلسطینی مسلمان اسرائیل سے آزاری کی جنگ بیکار لڑ رہے ہیں، بیکار شہادتیں دے ہیں۔
7۔ اسرائیل کو ایک آزاد اور خود مختار ملک مان کر گویا ہم نے یہ بھی تسلیم کر لیا کہ اسرائیل فلسطینی مسلمانوں پر جو ظلم کے پہاڑ توڑ رہا ہے وہ درست ہے کیونکہ اسرائیل ایک آزاد اور خود مختار ملک ہے اور اسے اپنے دفاع کا پورا حق حاصل ہے۔
8۔ ہم نے فلسطینی مسلمان بھائیوں کے خون سے غدّاری کی ۔
9۔ ہم نے حق اور انصاف کو چھوڑ کر باطل اور ظلم کا ساتھ دیا ۔
10۔ ہم نے یہودیوں کے مسجد اقصیٰ ( بیت المقدس ) کی جگہ ہیکل سلیمانی قائم کرنے کے منصوبے کو مان لیا اوراس کی حمایت کردی ۔
11۔ ہم نے اسلام کے بدترین دشمنوں اور نسل پرستوں کومشرقی وسطیٰ میں من مانی کرنے کی اجازت دے دی۔
12۔ ہم نے اللہ عزوجل اور اس کے پیارے رسول ﷺ کے دشمنوں سے دوستی کرکے انہی میں شمولیت اختیار کر کے اللہ عزوجل کے غضب کو دعوت دے دی۔
13۔ ہم نے حضورنبی کریم ﷺ کی سنت مطہرہ اوراحکامات وہدایات کی نفی کرتے ہوئے صراط مستقیم کی بجائے گمراہی کاراستہ اختیار کیا۔
14۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہم مسلمان ہوتے ہوئے خود ہی قرآن و سنت کی نفی کر رہے ہیں کیونکہ قرآن کہہ رہا ہے کہ یہود و نصاری اس وقت تک تمہارے دوست نہیں ہو سکتے جب تک تمہیں تمہارے دین سے ہٹا نہ دیں اور ہم ناجائز اسرائیل کو تسلیم کر کے قرآنی آیات کی نفی کر رہے ہیں ۔
ایسا قطعاً نہیں ہوگا، یہودیوں کو ہرحال میں یہاں سے نکلنا ہوگا ،فلسطین (بیت المقدس) ہر حال میں آزاد ہو کر رہے گا۔ نہ ہی دنیا میں اسرائیل نام کی کوئی ریاست تھی، نہ ہے اور نہ رہے گی ۔
ان سب باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے فیصلہ آپ کو کرنا ہے کہ غاصب کون ہے فلسطینی مسلمان غاصب ہیں یا یہودی جو عرصہ دراز سے مسلمانوں کا خون بہا رہے ہیں ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: محمد اعظم

Read More Articles by محمد اعظم: 41 Articles with 29415 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
19 Nov, 2018 Views: 548

Comments

آپ کی رائے